قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاکستان میں ڈیمز پر انحصار کی وجوہات

(قسط:2)

معاشی ترقی کے لئے جو بھی راستے اختیار کرنے پڑتے ہیں اُن سب کے لئے قومی ضروریات اور وسائل کا پورا دراک ضروری ہے۔ پاکستان کو ایک عظیم دریائی نظام (دریائے سندھ اور اس کے معاونین) وراثت میں ملاجو اوسطاً سالانہ 13 کروڑ 78 لاکھ ایکڑ فٹ پانی لاتا ہے اور ساتھ ایک بہت بڑا آبپاشی کا نظام بھی ملا جو دنیامیں عظیم ترین مربوط نظام مانا جاتا ہے۔ خدانے موسم ایسا دیا ہے کہ پورے سال میں زراعت کی جاسکتی ہے۔ لیکن ہماری زراعت Productive نہیں بلکہ Subsistance کی ہے۔ کیونکہ اوسطاً پورے سال کا 83 فیصد پانی(11 کروڑ47لاکھ ایکڑ فٹ) صرف موسم گرما میں آتا ہے اور باقی چھ مہینوں کے موسم سرما میں اوسطاً صرف17 فیصد(2 کروڑ31 لاکھ ایکڑ فٹ) پانی ہوتا ہے۔
چونکہ ہمارے دریاؤں کے پانی کا بہت بڑا حصہ(85 فیصد) زراعت کے لئے استعمال ہوتا ہے اس لئے اس کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ موسم گرما (فصلِ خریف) میں دریاؤں میں 11 کروڑ41 لاکھ ایکڑ فٹ کے مقابلے میں زراعت کی ضرورت سات کروڑ91 لاکھ ایکڑ فٹ ہوتی ہے۔ یعنی 3 کروڑ 50 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے اور اس کا زیادہ حصہ سیلابوں کی شکل میں سمندر میں جاگرتا ہے۔ لیکن موسم سرما (فصلِ ربیع) میں حالت مختلف ہو جاتی ہے۔ اس موسم میں دریاؤں میں2 کروڑ 31 لاکھ ایکڑ فٹ پانی میسر ہوتا ہے۔ لیکن زراعت کی ضرورت3 کروڑ82 لاکھ ایکڑ فٹ ہوتی ہے۔ یعنی ایک کروڑ51 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کی کمی ہوتی ہے۔ اس ناہموار پانی کی دستیابی اور ضروریات میں فرق سے دو نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ پانی سے سیلاب بنتے ہیں۔ اگر2010 کے سیلاب کی طرح ہو تو نقصانات تقریباً1,200 ارب روپے تک پہنچ جاتے ہیں اور اگر پانی ضرورت سے کم ہو تو فصل کی ضروریات پوری نہ ہونے کی وجہ سے پیداوار بہت کم ہو جاتی ہے اور یہی وجہ کہ ہماری فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار دنیامیں بہت کم شمار کی جاتی ہے۔ یہ دونوں نقصات (سیلاب اور کم پیداوار) پاکستان اور اس کے عوام کے لئے بے حد خطرناک اور ناقابلِ برداشت ہیں۔ ان کا تدارک پاکستان کے Developmentایجنڈا میں تقریباً سب سے پہلے نمبر پر ہے۔
اس کمی کو پور ا کرنے کے لئے بارشوں کو اس طریقے سے کنٹرول کیا جائے کہ موسم گرما میں بارشیں کم ہو جائیں تاکہ فصل خریف میں دریاؤں میں اتنا ہی پانی آئے جو ضرورت ہو اور سیلاب کا قلع قمع ہو جائے اور موسم سرم میں بارشیں زیادہ ہو جائیں کہ فصل ربیع میں بھی پانی کی کمی نہ رہے اور فصل کی فی ایکڑ پیدا وار بہتر ہو۔ لیکن بارشوں پر کنٹرول توانسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ کم از کم اب تک تو نہیں ہے۔ اس مسئلے کا حل انسان نے ہزاروں سالوں کے تجربات کے بعد سیکھا ہے۔ وہ یہ ہے کہ موسم گرما کے فاضل پانی کو ذخیرہ کرکے اُس کو موسم سرما میں فصل ربیع میں استعمال کرکے موسمی خسارے کو ختم کیا جائے۔ دریامیں پانی کے بڑے ذخیرے کرنے کے لئے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کو بند کرنا پڑتا ہے۔ جو صرف ڈیم (Dam) بنانے سے ہو سکتا ہے۔ یہ وہی راستہ ہے جو بیسویں صدی میں42 ہزار بڑے ڈیم بنا کر دنیا کے مختلف ممالک نے استعمال کیا اور ترقی کر گئے۔
پاکستان کے اوسط درجے کا سیلاب تو ہر سال جولائی‘ اگست اور ستمبر کے پہلے ہفتوں میں آتا رہتا ہے۔ پاکستان میں 1947 سے2012 کے65 سالوں میں 12 بڑے اور بہت بڑے سیلاب آئے یعنی تاریخی لحاظ سے اوسطاً ساڑھے پانچ سال فی سیلاب۔ جن میں جولائی‘ اگست2010 کا سیلاب بھی تھا جو تاریخی لحاظ سے Super Mega Flood کہا جاسکتا ہے۔ بعض دفعہ تو ایسا ہوتا ہے کہ تواتر سے ہر سال بڑا سیلاب آجاتا ہے‘ جیسے1976‘ 1977 اور 1978 میں یا1995‘ 1996‘ 1998 میں ہوا۔ ہر سیلاب میں نقصان ہوتا ہے جس میں انسانی ہلاکت‘ مویشیوں کی ہلاکت‘ سڑکوں‘ پلوں کے ساتھ گھر‘ سکول‘ ہسپتال‘ مارکیٹ‘ بازار‘ بجلی کی ٹرانسمیشن لائنز‘ گرڈاسٹیشن‘ فصلیں ‘ باغات‘ آبپاشی کا نظام شامل ہیں۔ جولائی‘ اگست2010 کے نقصان کا تخمینہ کوئی1,200 ارب روپے ہے۔ ایسا سیلاب5 یا6 سال میں ایک دفعہ بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے سیلاب پر قابو رکھنا پاکستان کی دوسری اہم ضرورت ہے۔
بیسیویں صدی میں انسانی تاریخ کی بے مثال ترقی نے ثابت کیا کہ ترقی کی کے لئے بجلی کی دستیابی بہت ہی ضروری ہے۔ فی کس بجلی کی کھپت دنیا میں ترقی یافتہ ہونے کا ایک معیار خیال کیا جاتا ہے۔ لیکن اس اہم معاملے میں بھی ہم پیچھے تھے۔ کیونکہ پاکستان بنتے وقت پورے مغربی پاکستان (آج کا پاکستان) میں صرف 62 میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی تھی۔ اس لئے بہت زیادہ بجلی بنانے کی ضرورت تھی۔ نہ صرف بجلی کی مقدار میں اضافہ بلکہ سستی بجلی کی پیداوار قومی ضرورت تھی۔ پاکستان میں آج بھی تربیلا‘ منگلا اور غازی بروتھا میں پن بجلی ایک روپے 54پیسے فی یونٹ ہے۔ اس کے مقابلے میں گیس سے6 روپے 50 پیسے فی یونٹ اور اورفرنس آئل سے16 روپے50 پیسے فی یونٹ بنتی ہے۔ اگر قیمتوں کا یہی فرق ہو تو پھرپن بجلی (منگلا ڈیم‘ تربیلا ڈیم کی طرح) کے مقابلے میں کسی دوسرے وسیلے کا سوچنا بھی عوام دشمن کام ہوگا۔ کیونکہ مہنگی بجلی کی پیداوار کے لئے پاکستان کے پاس وسائل نہیں ہوتے جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔ پچھلے چند سالوں میں بے تحاشا لوڈشیڈنگ کی وجہ اُن وسائل کی کمی تھی جس سے حکومت تیل خرید کر بجلی بنانے کے لئے استعمال کرے۔
مختصراً پاکستان کی قومی ضروریات اس طرح بنتی تھیں
پہلی: موسمِ گرما میں دریاؤں کا فاضل پانی ذخیرہ کرکے موسم سرما سمیت اُن مہینوں میں استعمال کے لئے مہیا کرنا جن میں پانی کی کمی ہو۔
دوسری: پاکستان کے قومی اور عوام کے ذاتی Assets اوراملاک کو سیلاب کے نقصان سے بچایا جائے۔
تیسری: سستی بجلی کو زیادہ مقدار میں بنایا جائے تاکہ گزشتہ سالوں کی کمی اورعدم توجہی اور مستقبل کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے ساتھ نمٹا جاسکے۔
بیسویں صدی متعدد وجوہات کی بنا پر ایک بہت ہی Distinguished صدی گِنی جاتی ہے۔ ان میں سے ایک وجہ پانی کی Development کے لئے ڈیمز بنانا ہے۔ تقریباً42 ہزار بڑے ڈیم اُس صدی میں بنے اور ان بنے ہوئے ڈیمز کے آدھے سے زیادہ حصہ 1950 کے بعد بنے اور مکمل ہوئے یہ 42,000 ڈیمز اُن ہی مقاصد کے لئے بنے جو کہ پاکستان کی قومی ضرورت تھی اور ہے۔ کچھ صرف بجلی کی پیداوار کے لئے‘ کچھ صرف پانی کی Storage کے لئے۔ اور کچھ کثیر المقاصد منصوبے تھے جو ان تینوں مقاصد کے حصول کے لئے بنے۔ اسی مثال کو سامنے رکھ کر پاکستان نے بھی اپنے لئے یہی راستہ منتخب کیا اور اپنے دریاؤں پر کثیر المقاصد ڈیمز بنانے کا فیصلہ کیاکیونکہ پاکستان کی اپنی تینوں ضروریات (پانی کا ذخیرہ کرنا‘ بجلی پیدا کرنا ‘ سیلاب پر قابو پانا) صرف اس طریقے سے حاصل کی جاسکتی تھیں۔
اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر مناسب جگہوں پر سروے کا کام شروع کیاگیا تاکہ ڈیمز کے لئے مناسب جگہوں کا انتخاب کیا جاسکے۔ یہ کام سنٹرل انجینئرنگ اتھارٹی کے زیرِاختیار ابھی جاری تھا کہ1958 میں واپڈا بنایا گیا اور یہ ذمہ داری واپڈا کو دی گئی۔
صوبائی اسمبلیوں کی قرار داد
ایک اہم بات جو کالاباغ ڈیم کے خلاف کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ملک کے چار صوبوں میں سے تین صوبوں نے اس منصوبے کے خلاف قرار دادیں پاس کی ہیں۔ جمہوری نظام میں اسمبلیاں عوام کی نمائندہInstitution سمجھی جاتی ہیں اور ان کے فیصلوں کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ یہ میں بھی سمجھتا ہوں اور اس کا اقرار کرتا ہوں۔ لیکن اس کے ساتھ میں نے یہ بھی دیکھا کہ انسان نے اپنی زندگی کے نظام کے لئے جتنے بھیInstitution بنائے ہیں اُن میں ہر ایک کی Limitations بھی ہوتی ہیں۔ میں اس کی ایک مثال بیان کرتا ہوں۔
1947ء میں جب برٹش انڈیا تقسیم ہو رہا تھا تو ہر ایک صوبے کی اسمبلی کو اختیاردیا گیا کہ وہ ہندوستان اور پاکستان میں کسی ایک کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں۔ اسمبلیاں ملیں اور ووٹوں کے ذریعے انہوں نے یہ فیصلے کئے۔ لیکن یہ اختیار خیبرپختونخوا (اُس وقت صوبہ سرحد) اسمبلی کو نہیں دیا گیا۔ جب کہ اسمبلی موجود تھی۔ صوبائی حکومت ڈاکٹرخان صاحب مرحوم کی راہنمائی میں موجود تھی اور اسمبلی میں مسلم لیگی( جو پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے تھے) اقلیت میں تھے۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس لئے کہ الحاق کے فیصلے کے لئے خیبر پختونخوا کی اسمبلی مناسب فورم نہیں سمجھی گئی اور اس فیصلے کے لئے ریفرنڈم ہوا جس کے فیصلے پر صوبے کا پاکستان کے ساتھ الحاق کیا گیا۔
مسئلے اور بھی ہیں اور اسی صوبے کی اسمبلی کو لیتے ہیں۔2008 کے الیکشن میں صوبائی اسمبلی کے لئے اے این پی نے پانچ لاکھ 78 ہزار ووٹ لئے۔ اسی اسمبلی کے لئے اگر مسلم لیگ (ق )اور مسلم لیگ (ن )کے ووٹوں کو جمع کریں تو 7 لاکھ 13 ہزار ووٹ بنتے ہیں جو ANP سے تقریباً1 لاکھ35 ہزار زیادہ ہیں۔ لیکن ANP نے48 سیٹیں حاصل کیں اور دونوں مسلم لیگیوں کو ملا کر 15 سیٹیں ملیں۔ عوامی ووٹ زیادہ لیکن اسمبلی کی سیٹیںANP کے مقابلے میں ایک تہائی۔
دوسرا مسئلہ اسی اسمبلی کے انتخاب میں کل ووٹ سب پارٹیوں کے نام پر 33 لاکھ98 ہزار پڑے۔ جو کل رجسٹرڈ ووٹروں کا31 فیصد بنتا ہے۔ یعنی69 فیصد لوگوں نے کسی کو بھی ووٹ نہیں دیا۔ لیکن ووٹ نہ دینے کے باوجود پاکستانی شہریت سے تو نہیں نکلے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر پوری کی پوری اسمبلی ایک فیصلہ کی حمایت کرتی ہے تووہ اسمبلی کا فیصلہ تو ہو سکتا ہے مگر عوام کا نہیں۔1947 میں برطانوی حکومت نے شاید ان وجوہات کی بنا پر عوام کی مرضی معلوم کرنے کے لئے ریفرنڈم کا فیصلہ کیا ہو گا۔
کیا یہ راستہ پھر اختیار نہیں کیا جاسکتا جو کچھ میں نے اوپر لکھا ہے۔ اس سے نہ تو کالاباغ ڈیم کے مخالفین کی دل آزاری مقصود ہے جن میں کچھ میرے دوست بھی ہیں اورکچھ گھرانے ہیں جن کے لئے میرے دل میں احترام ہے۔ کیونکہ پشتونوں کی سیاسی جدوجہد میں ان کا ایک اہم کردار رہا ہے۔ اور نہ ایک اہم سیاسی ادارے کی کم عزتی مدعا ہے اور نہ میں اتنی تفصیل میں کبھی جاتا کہ میں الیکشن کمیشن2008 کے انتخابات کی تفصیلات مانگتا۔ اگر یہ مخالفین دن رات اسمبلی کی قرار داد کا ڈھنڈورا نہ پیٹتے۔ وہ اب دیکھ سکتے ہیں کہ اُس ڈھنڈورے کی وقعت کیا رہ گئی ہے؟
لیکن میرا کالاباغ ڈیم مخالفین سے گلہ ہے اور شکایت ہے کہ واپڈا اور حکومت کی درخواست پر ورلڈبنک جیسے اہم ادارے کے زیرِ سایہ Indus Special Study کے عنوان سے ایک عظیم انجینئرنگ و زراعتی معاشی رپورٹ تیار کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اگر پاکستان اپنی ترقی کی رفتار تیز کرنا چاہتا ہے تو 1992 سے پہلے ایک بڑا ڈیم بنائے جو کالاباغ ڈیم ہو۔ اسی لئے کالاباغ ڈیم کی انجینئرنگ Studies پر تقریباً 5 سال پاکستان‘ انگلینڈ اور امریکہ کے ماہرین اور انجینئروں نے کام کرکے اس کی ڈیزائننگ مکمل کی تھی۔ اس پر تقریباً100 کروڑ روپے پاکستان کا خرچ ہوا تھا۔ لیکن اسمبلی میں کالاباغ ڈیم مخالف قرارداد پیش ہوئی۔ اُس پر اسمبلی کوکوئی Briefing نہیں دی گئی‘ کوئی ماہر پیش نہیں ہوا‘ کوئی مخالف پیش نہیں ہوا‘ کوئی بحث نہیں کی گئی اور قراردار چند منٹوں میں پاس ہوئی۔ یہ ایسا ہے کہ پولیس کی دی گئی FIR پر گواہان اور وکیلوں کو سنے بغیر عدالت نامزد ملزمان کو سزائے موت دے دے۔ کیا یہ فیصلہ ملک میں مانا جائے گا‘ کیا ایسی عدالت کی عزت کی جائے گی؟ جواب ظاہر ہے اور میرا گلہ یہی ہے۔ ایسے فیصلے سے اسمبلی کی عزت تو نہیں بڑھ سکتی۔ اگر کم ہوتی ہے تو اس کے ذمہ دار یہی لوگ ہیں جنہوں نے یہ قرار داد پیش کی۔ بدقسمی سے یہ ایک اسمبلی کی کہانی نہیں تقریباً سب کی ہے جہاں یہ قرار داد پاس ہوئی کیونکہ ایک بہت اہم اور باعزت Institution پر ایسے فیصلے ٹھونسے جاتے ہیں جو عوام کے نہیں ہوتے کیونکہ وہ صریحاً عوامی فوائد کی نفی کرتے ہیں۔
مخالفت پر تبصرہ
آپ نے دیکھا ہوگا کہ جو اعتراضات کالاباغ ڈیم کے منصوبے پر مخالفین کررہے ہیں اُن میں کوئی وزن ہے نہ کوئی حقیقت۔ پھر اس کی مخالفت کیوں ہے؟ کیا کالاباغ ڈیم کی بجلی مہنگی ہے؟ جی نہیں۔ بہت سستی ہے۔ کیونکہ کالاباغ ڈیم کی بجلی ڈیڑھ روپے فی یونٹ ہوتی جو تھرمل (تیل) کی فی یونٹ ساڑھے سولہ روپے کے مقابلے میں تقریباً مفت ہے۔ کیا بجلی کی پیداوار کی مقدار بہت کم ہے؟ جی نہیں۔ یہ منگلا Reservior سے زیادہ ہے۔ کیا کالاباغ ڈیم کا منصوبہ سیلاب سے نہیں بچائے گا۔ بلکہ ڈیرہ اسماعیل خان‘ سنٹرل پنجاب اورصوبہ سندھ کو سیلاب سے بچانے میں کالا باغ ڈیم ایک بہت اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ کہ سستی بجلی‘ زراعت کے لئے ہے۔ وافر پانی اور سیلاب سے بچاؤ پاکستان کے عوام کی ضرورت نہیں ہے؟ اشد ضرورت ہے۔ پاکستان کے لوگ وطن سے محبت کرتے ہیں۔ پاکستان کا سیاسی ڈھانچہ بھی اپنے آپ کو محبِ وطن سمجھتا ہے۔ لیکن یہ پورا ڈھانچہ کیوں کالاباغ ڈیم کے متعلق اتنے تذبذب میں ہے؟ بعض اوقات تو وہ ایک دوسرے سے کالاباغ ڈیم سے دُوری میں سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عام طور پر سنا جاتا ہے کہ اگر Consensus نہ ہوا تو کالاباغ ڈیم نہیں بن سکتا۔ اور اگر بغیر Consensus کے اس منصوبے کو بنانے کا فیصلہ ہوا تو یہ فیڈریشن کے لئے خطرناک ہوگا۔ کیا واپڈا کی Overall Ieadership ورلڈ بنک کی Technical راہنمائی میں امریکہ‘ انگلستان اور پاکستان کی سرکردہ Consulting Firms کا 5 سال کا کام پاکستان کے 100 کروڑ روپے کا خرچ 1990-1980) کے دنوں کے100 کروڑ روپے) پاکستان کے دشمنوں کے ایما پر ہو رہا تھا؟ اور اس کو بھی چھوڑیئے اور سوچئے کہ پاکستان کی فیڈریشن کس قسم کی ہے جو ڈیڑھ روپے فی یونٹ بجلی بنانے والے پاور ہاؤس سے ٹوٹ جاتی ہے لیکن ساڑھے سولہ روپے فی یونٹ والے پاور ہاؤس سے مضبوط ہوجاتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ڈیڑھ روپے فی یونٹ والی بجلی سے پاکستان کے دشمنوں کو ہی خطرہ ہو سکتا ہے۔ پاکستانی عوام کو نہیں۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ کالاباغ ڈیم نے پاکستانی عوام دشمن طاقتوں کو بے نقاب کیا ہے۔
کالاباغ ڈیم کے نہ بنانے کے نقصانات
پاکستان میں آج کل بجلی مختلف ذارئع سے بنتی ہے اور ہر ذریعے سے بنی ہوئی بجلی کی پیدواری لاگت کچھ اس طرح ہے : 
پن بجلی (تربیلا‘ منگلا‘ غازی بروتھا) ڈیڑھ روپے فی یونٹ۔
گیس سے بنی ہوئی بجلی ساڑھے چھ روپے فی یونٹ
فرنس آئل سے بنی ہوئی بجلی ساڑھے سولہ روپے فی یونٹ
نیوکلیئر اور کوئلہ تقریباً ساڑھے پانچ روپے فی یونٹ
اگر کالاباغ ڈیم ہوتا تو اس کی بجلی ہمیں اس قیمت پر ملتی جس سے تربیلا‘ منگلاسے ملتی ہے۔ یعنی ڈیڑھ روپے پر۔ چونکہ کالا باغ ڈیم نہیں بنا تو اس کی جگہ ہم اس کمی کو پورا کرنے کے لئے وہ بجلی فرنس آئل سے بناتے ہیں یعنی ساڑھے سولہ روپے فی یونٹ۔ زیادہ خرچ ساڑھے سولہ روپے ڈیڑھ روپے سے منفی کرلیں تو‘ پندرہ روپے آتا ہے۔ کالاباغ ڈیم کے12 ارب یونٹ بجلی کی کمی کے لئے زیادہ خرچہ 15 روپے12x ارب یونٹ جوبرابر ہے 180 ارب روپے سالانہ۔ یہ نقصان پاکستان کے عوام بجلی کے بلوں میں ادا کرتے ہیں تقریباً1000 روپے فی کس سالانہ ہے۔
چھوٹے ڈیم
ڈیم ایسا Structure ہے جو ہر جگہ نہیں بن سکتا۔ مثلاً سکول‘ ہسپتال وغیرہ تو تھر کے صحرا میں بھی بن سکتے ہیں اور پشاور اور کراچی میں بھی۔ لیکن ڈیم نہ تو پشاور میں بن سکتے ہیں‘ نہ تھرکے صحرا میں کیونکہ سب سے پہلے اس کے لئے بہتے ہوئے پانی کی ندی چاہئے۔ ندی کے دونوں طرف پہاڑ چاہئیں تاکہ ڈیم کا بند ایک طرف بنانا پڑے۔ اس کے بعد اس کی بنیاد اور دو طرف کے پہاڑ ایسے ہوں جن سے پانی Seepageسے نہ جاسکے۔ ایسے حالات ہر جگہ نہیں ملتے۔ اسی لئے نہ بندر گاہ ہر جگہ بن سکتی ہے اور نہ ڈیم۔
پاکستان میں پچھلے پچاس ساٹھ سال میں Medium Height اور چھوٹے68ڈیم بنے ہیں جن کی اوسطاًStorage تقریباً 8000 ایکڑ فٹ فی ڈیم ہے۔ اگر ہم کالاباغ ڈیم جتنا سٹوریج چاہتے ہیں تو750 چھوٹے ڈیموں کی ضرورت ہوگی۔60 سال میں تو صرف68 ڈیم بنے تو750 ڈیموں کے لئے تو صدیوں کا انتظار رہے گا۔ اس کے علاوہ دریائے سندھ اور اس کے معاونین میں Silt بہت زیادہ ہے۔ دریائے سندھ میں یہ اوسطاً6 لاکھ ٹن یومیہ ہوتا ہے۔ اتنے Silt سے تو ایک چھوٹا یادرمیانہ ڈیم چند مہینوں میں بھر جائے گا۔
اس کے علاوہ ان ڈیموں میں ایک میگاواٹ بجلی بھی پیدا نہیں ہوئی جو ہماری ضرورت ہے۔ پھر یہ ڈیم سیلاب سے بچاؤ کے لئے بھی نہیں بنے۔ یہ ڈیم ایسی جگہوں پر بنائے جاتے ہیں جہاں چھوٹی ندیوں سے کچھ ہزار ایکڑ زمین لوگوں کی زراعت کے لئے تیار کی جاسکے۔ لہٰذا یہ کبھی بھی بڑے ڈیموں کے متبادل نہیں ہوتے۔
سیلاب کی وجوہات
پشاور نوشہرہ وادی میں سے دریائے کابل گزرتا ہے جو ہر سال اوسطاً دو کروڑ سولہ لاکھ ساٹھ ہزار ایکڑ فٹ پانی لاتا ہے۔ (ایک ایکڑ فٹ پانی کی وہ مقدار ہے جو تقریباً1230 کیوبک میٹر یا 2 لاکھ 70 ہزار گیلن کے برابر ہوتا ہے) جس میں 36 فیصد پانی دریائے چترال سے اور25 فیصد پانی دریائے سوات سے آتا ہے۔ یعنی تقریباً دو تہائی پانی پاکستان کے مختلف علاقوں سے آتاہے۔ ہمارے پاس موقع ہے کہ ہم دریائے سوات اور دریائے چترال پر سیلاب روکنے کے لئے جھیل یعنی Flood Control Reserviors بنا سکتے ہیں جو نوشہرہ‘ چار سدہ اور ان علاقوں کے دیہات کو سیلاب کے نقصانات سے بچا سکتے ہیں۔1997-98 میں چیئرمین واپڈا کی حیثیت سے میں نے دریائے سوات پر منڈا ڈیم بنانے کے لئے ابتدائی کارروائی شروع کی تھی۔ جس کی Feasibility تو مکمل ہوگئی لیکن آگے کچھ نہیں ہوسکا کیونکہ کالاباغ ڈیم کے مخالفین کا مقصد ڈیم کے خلاف جھوٹ کا بازار گرم رکھنا تھا‘ نہ کہ چار سدہ اور نوشہرہ کے علاقوں پر سیلاب کی یلغار کی صحیح وجہ معلوم کرنا اور اس کا تدارک کرنا۔ 
جس کی وجہ سے منڈا ڈیم کی فوقیت(Priority) ختم ہوگئی۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ کاش یہ جھوٹ نہ بولا جاتا اور منڈا ڈیم منصوبہ سیلاب کی رکاوٹ کے منصوبے کی حیثیت بن جاتا تو2010 کے سیلاب سے جو جانی و مالی نقصان ہوا اس کو کافی کم کیا جاسکتا تھا۔میں ایک بار پھر یہ کہتا ہوں کہ خدانخواستہ اگر کالاباغ ڈیم نہ بنے تو پھر بھی چارسدہ اور نوشہرہ کے علاقوں کو سیلاب میں بہت خطرات ہوں گے اور ہمیں دریائے سوات اور کابل کے سیلابوں کو قابوکرنے کے لئے سنجیدہ کام کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ڈر یہ ہے کہ موسموں کی تبدیلی کی وجہ سے بڑے اور بہت بڑے سیلاب آسکتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے دریائے کابل کی وادی میں سیلاب کی روک تھام ایک بہت ہی اہم ضرورت ہے اور جب تک اس کو کالاباغ ڈیم سے جوڑا جائے گا اس منصوبے پر کام نہیں ہوسکے گا۔ سیلاب آتے رہیں گے اور نقصان ہوتا رہے گا۔
دریائے کابل پر افغانستان کے ساتھJoint Development کی بات ہونی چاہئے اور پانی کی جو جائز ضروریات ہیں وہ نہ صرف خوش دلی سے افغانستان کو دینا چاہئے بلکہ اُس پانی کو افغانستان میں فائدہ مند استعمال کے لئے منصوبے بنانے اور اُن کو مکمل کرنے میں امداد دینی چاہئے۔ اس تعاون کو ہم ایک مثالی برادرانہ تعلقات کی بنیاد بناسکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے نقصان
میں کئی دفعہ ٹی وی کے مباحثوں میں یہ کہہ چکا ہوں کہ کالاباغ ڈیم کے نہ بنانے سے چاروں صوبوں کو نقصان پہنچے گا۔ لیکن پختون خوا کا نقصان اُن تین صوبوں سے زیادہ ہوگا۔ ادھر میں اس کی تفصیل دیتا ہوں جو بھی نیا ڈیم بنے گا اُس کا Store کیا ہوا پانیAccord 1991 کے مطابق چاروں صوبوں میں تقسیم ہوگا۔ پنجاب‘ سندھ اور بلوچستان کا پانی دریائے سندھ میں بہتے ہوئے مختلف بیراجوں تک پہنچے گا اور وہ تین صوبے اپنے حصے کا پانی بیراج سے اپنی نہروں میں منتقل کرکے زمینوں کو سیراب کریں گے۔ صوبہ پختونخوا ایسا نہیں کرسکے گا۔ کیونکہ اس کے حصے کا پانی بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کی اُس 8 لاکھ ایکڑ زمین کے لئے استعمال ہوگا جو قابلِ کاشت تو ہے لیکن پانی کے نہ ہونے کی وجہ سے ایسے ہی پڑی ہے۔ لیکن وہ زمین جو دریائے سندھ سے 50 فٹ سے150 فٹ تک اونچی ہے اُس کو سیراب کرنے کے لئے دو ہی طریقے ہیں۔ پانی کو پمپ کیا جائے یا کالاباغ ڈیم بنا کر جھیل سے نہر بنا کر اُس اونچی زمین کو سیراب کیا جائے۔ اگر پمپ کریں تو آج سے کوئی 5 سال پہلے کے واپڈا کے بجلی ٹیرف کے مطابق فی ایکڑ خرچRS. 3,500 آتا تھا۔ آج کل یہ7,000 روپے ہوگا اور وقت کے ساتھ زیادہ ہوتاجائے گا۔ اور یہ تو صرف 50 فٹ کی Pumping کا خرچ ہوگا۔ 100 فٹ کا14,000 روپے فی ایکڑ خرچ ہوگا۔ ان سب کے مقابلے میں اگر نہروں سے یہ سیراب ہو جائے جو کالاباغ ڈیم کے بننے سے ممکن ہو جائے گا تو سالانہ آبیانہ 500 روپے ہوگا۔
یہ علاقہ (بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان) صوبہ خیبر پختونخوا کے غریب ترین لوگوں پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے لئے رزقِ حلال کا یہی ایک ذریعہ ہوسکتا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا ایسے بھی Food Deficit صوبہ ہے اور اس Deficit کو کم کرنے کے لئے کوئی بھی موقع ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ اگر کالاباغ ڈیم کی مخالفت نہ کی جاتی تو یہ آبپاشی 1995سے شروع ہوسکتی تھی اور ان غریب لوگوں کے رزقِ حلال کا بندوبست ہو جاتا۔ 18 سال ضائع ہوگئے۔ کوئی اس کا جواب دے؟
ایک سوال 
پچھلے چھ سال سے پاکستان میں جمہوری عمل چل رہا ہے۔ کچھ لوگ اس بات سے اتفاق نہیں کریں گے لیکن کم ازکم یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ جمہوریت کے راستے پر سفر کا آغاز ہوگیا ہے۔ مختلف سمتوں سے آوازیںآتی ہیں کہ پارلیمنٹ ہے۔ عوام کی نمائندہ ہے اور سپریم ہے۔ اﷲ کرے کہ یہ ہو اور اگر ہے توکیا پاکستان کے لوگ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ نہیں چاہتے؟ کیا وہ سستی بجلی نہیں چاہتے؟ کیا وہ اپنی فصلوں کے لئے مناسب وقت پر ضرورت کے مطابق آبپاشی کے لئے پانی نہیں چاہتے؟ کیا وہ سیلاب سے بچاؤ نہیں چاہتے؟ اگر وہ یہ سب چاہتے ہیں تو یہ پارلیمنٹ 6 سال کالاباغ ڈیم کے معاملے پر خاموش کیوں رہی؟ یہ تضاد کیوں ہے؟ محض یہ کہنا کہ فیڈریشن کالاباغ ڈیم سے زیادہ اہم ہے۔ اس فقرے کے معنی تو یہ ہیں کہ سستی بجلی‘ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ‘ سیلاب سے بچاؤ فیڈریشن کے لئے خطرناک ہیں۔ کیا ایسا ہے؟ نہیں ایسے تو نہیں ہوسکتا۔ کہیں تو جھوٹ بولا جارہا ہے؟ قرآن شریف میں جھوٹ کی نفی بڑے سخت الفاظ میں کی گئی ہے۔ ایک انسان کے سامنے بھی جھوٹ بولنا بڑا گناہ ہے لیکن جب 18 کروڑ انسانوں سے جھوٹ بولا جائے اور متواتر بولاجائے۔ وہی کچھ جو ہوتا رہے تو ایسے لوگ‘ بڑے لوگ کس زمرے میں آئیں؟ یہ تو اﷲ ہی جانتا ہے۔
بہت کچھ کہہ گیاہوں۔ بہت کچھ رہ بھی گیا ہے لیکن اس امید کے ساتھ دعا گو ہوں کہ جب اﷲ کے سامنے پیش ہوں تو یہ کہہ سکوں کہ جھوٹ کے سیلاب کے سامنے ڈٹ کر اور سچ بول کر میں نے اپنے پیغمبرﷺ کی سنت ادا کی تھی۔
(اس مضمون میں پیش کئے گے خیالات اور آراء مصنف کی ذاتی ہیں)

یہ تحریر 37مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP