قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاکستان میں سمارٹ لاک ڈاؤن ، حکومتی اقدامات اور اقلیتیں 

کروناوائرس نے پوری دنیا کواپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔لاکھوں قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں اورکئی ممالک میں یہ وبائی مرض اب بھی قابومیں نہیں آرہا۔معاشی طورپرکئی ممالک تباہی کے قریب ہیں،درجنوں ملٹی نیشنل کمپنیاں دیوالیہ ہوچکی ہیں اورکروڑوں لوگ بے روزگارہوگئے ہیں۔وطن عزیزپاکستان کاموازنہ اگردنیاکے دیگر ممالک سے کریں توپاکستان میں صورتحال کافی حد تک کنٹرول میں ہے۔سمارٹ لاک ڈاؤن اورعوام کی جانب سے ذمہ داری کامظاہرہ کئے جانے کے باعث ہمارے یہاں کروناوائرس پھیلنے اوراموات کی شرح دنیا کے دوسرے ممالک سے کم رہی ہے۔کروناکے شکارمریض بھی تیزی سے صحت یاب ہورہے ہیں۔ نیویارک جیسے شہرمیں جہاں قطاردر قطار جوبڑی بڑی اونچی عمارتیں ہیں وہ سب خالی پڑی ہیں،نیویارک میں اٹھارہ ہزارلوگ مارے جاچکے ہیں جبکہ پورے امریکہ میں احتیاطی تدابیراورتمام تروسائل استعمال کئے جانے کے باوجودمرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزارہوچکی ہے۔امریکہ میں بھی کئی دوسرے ممالک کی طرح مکمل لاک ڈاؤن کی پالیسی اختیارکی گئی ،لیکن یہ پالیسی کامیاب نہ ہوسکی ۔ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں اورصنعت وتجارت بھی تباہ ہوگئی ۔ترقی یافتہ ممالک کی حالت دیکھ کرپاکستان نے اندازہ کرلیاتھاکہ مکمل لاک ڈاؤن مسئلے کاحل نہیں ہے۔اس سے کروناتوختم نہیں ہوگالیکن بڑی تعداد میں لوگ بھوک سے مرجائیں گے۔جب بعض حلقوں کی طرف سے ملک بھرمیں سخت کرفیولگانے کامطالبہ سامنے آیاتواس کے ساتھ اس خدشے کااظہاربھی کیاگیاکہ اس سے بڑے پیمانے پرمعاشی وتجارتی نقصان ہوگا ،پاکستان جیسے ملک کے لئے ممکن نہیں کہ چودہ دن مسلسل کرفیو لگایاجائے اوربائیس کروڑکی آباد ی کوگھربیٹھے تمام ضروریات زندگی فراہم کی جائیں ۔مکمل لاک ڈاؤن کے بجائے سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اختیارکی گئی ،جن علاقوں میں کروناکے زیاد ہ مریضوں کی اطلاع ملی صرف وہاں لاک ڈاؤن کیاگیا۔اس سے کروناوائرس کوکنٹرول کرنے میں کافی مدد ملی ۔



حکومت کی جانب سے کروناریلیف فنڈکے قیام اور احساس پروگرام شروع کئے جانے کی وجہ سے ضرورت مندوں کی گھربیٹھے مالی امداد کی گئی ،گھروں پرراشن فراہم کرکے لاکھوں لوگوں کو بھوک سے مرنے سے بچالیاگیاہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ مختلف اداروں اورمخیرحضرات نے بھی اپنی ذمہ داری کامظاہرہ کیاجس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔ ایک بہت اچھی بات یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران ضرورت  مندوں کی مدد کرتے ہوئے ان سے ان کامذہب اورفرقہ نہیں پوچھاگیا۔احساس پروگرام سے ملک بھرکی اقلیتوں کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔کراچی،لاہور،راولپنڈی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ دوردرازکے متاثرہ دیہاتوں اورقصبوں میں امداد پہنچائی گئی۔ سندھ میں بسنے والے لاکھوں ہندوؤں،پنجاب میں مسیحی اورسکھ برادری، اسی طرح خیبرپختونخوا اوربلوچستان میں رہنے والے سکھوں،ہندوؤں ،مسیحی اوردوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کولاک ڈاؤن کے دوران ان کے گھروں پرراشن فراہم کیاگیا تاکہ کوئی بھوکانہ سوئے ۔


پاکستان میں وفاقی اورصوبائی حکومتوں ،سیاسی ودینی جماعتوں اوراین جی اوز نے لاک ڈاؤن کے دوران غیرمسلم پاکستانی بھائیوں کی بھی بھرپورمدد کی اورجیساکہ میں پہلے بتاچکاہوں راشن کی فراہمی ہویامالی مدد کسی سے اس کا مذہب نہیں پوچھاگیا۔مصیبت زدہ لوگوں کوان کی دہلیزپرہرچیزپہنچانے کی کوشش کی گئی ۔بہت سے رفاہی ادارے اوراین جی اوزاقلیتوں کے لئے کام کررہے ہیں۔


کروناوائرس پرقابوپانے اورلوگوں کواس وبائی مرض کاشکارہونے سے بچانے کے لئے اقلیتوں نے بھی وفاقی اورصوبائی حکومتوں اورقانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھرپورتعاون کیاجس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔مندروں،گرجاگھروں اورگوردواروں کوازخود بند کردیااورلوگوں کوگھروں میں رہ کرمذہبی عبادت کرنے کی ہدایت کی گئی۔لاک ڈاؤن کے دوران مسیحی، سکھ اورہندوبرادری کے کئی تہوارآئے لیکن سب نے حکومتی ہدایات،احتیاط اورسماجی فاصلوں کاخیال رکھتے ہوئے اپنے گھروں میں ہی یہ تہوارمنائے۔یہی وجہ ہے کہ اس حوالے سے کسی شہراورقصبے سے یہ اطلاع نہیں آئی کہ لوگ تعاون کے لئے تیارنہیں۔اقلیتوں نے کروناوائرس پرقابو پانے کے لئے حکومت سے بھرپورتعاون کیا۔ جس پراقلیتوں کے مذہبی رہنماؤں کوخراج تحسین پیش کیاجاناچاہئے۔





 حکومت نے احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ بیس لاکھ گھرانوں میں بارہ ہزار روپے کے حساب سے ایک ارب 44 کروڑ روپے تقسیم کئے۔ یہ رقم دیتے ہوئے کسی سے اس کامذہب اورفرقہ نہیں پوچھا گیاصرف اس سے قومی شناختی کارڈ نمبرمانگا گیا۔خاندان کاکوئی شخص بھی متعلقہ نمبر پراپناشناختی کارڈ نمبربھیج کریہ رقم وصول کرسکتاتھا۔ پاکستان کاشمار ترقی پذیرممالک میں ہوتاہے لیکن ترقی یافتہ ممالک بھی احساس پروگرام کی شفافیت اورجدیدیت دیکھ کرحیران رہ گئے اور احساس پروگرام کی تعریف کئے بغیرنہ رہ سکے۔پاکستان نے کم وسائل کے باوجود جتنے گھرانوں کی مدد کی دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جن کی کل آبادی بھی اس تعداد سے کم ہے ۔یہ ایک بڑا اوردوسرے ممالک کے لئے قابل تقلید پروگرام تھا۔ضرورت مند اقلیتوں کی مددکرنے میں نادرا میں موجود خاندانی ریکارڈ نے اہم کردار ادا کیا۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ویلفیئر پیکیج سے نوشیرو فیروز اور کشمور کے ہندوئوں میں بھی راشن تقسیم کیا گیا۔ فوجی جوانوں کے ساتھ ساتھ ہندوئوں، سکھوں اور عیسائیوں نے بھی غریب اور ضرورت مند لوگوں کی نشاندہی کی اور انہیں راشن پہنچایا۔ لاہور کور نے اس کڑے وقت میں یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ضرورت مند مسلمان اور کرسچن کمیونٹی کے تقریباً500 کے قریب گھرانوں میں امدادی سامان تقسیم کیا۔ یہ تمام امدادی سامان پنجاب رینجرز کی جانب سے یوحناآباد میں تقسیم کیاگیا۔ امدادی سامان اُن عیسائی خاندانوں میں تقسیم کیاگیا جو دیہاڑی دار طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور کوویڈ 19- کے باعث جن کی معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔ اس موقع پر مسیحی برادری نے پنجاب رینجرز کے، غریب، ضرورت مند، مسیحی خاندانوں کی امداد کے اقدام کو سراہا اور دعا کی کہ وطنِ عزیز جلد اس وبا سے چھٹکارا پالے۔ اسی طرح ملک کے دیگر کئی علاقوں میں قومی سطح پر بھی پاک فوج نے وبا سے متاثرہ اقلیتوں کی مدد کی۔
 اسلامی ریاست ہونے کے باوجود پاکستان میں تمام مذاہب کومساوی حیثیت حاصل ہے۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے  اقلیتوں سے وعدہ کیاتھااورانھیں یقین دلایاتھاکہ پاکستان میں انہیں مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔1973 کے آئین کے تحت تمام مذاہب کوبرابری کے حقوق حاصل ہیں۔ پاکستان میں جداگانہ طریقہ انتخاب کاتجربہ کیاجاچکاہے۔لیکن اب وہ بھی ختم کردیاگیاہے۔تمام غیرمسلم ووٹرز کوحق حاصل ہے کہ وہ اپنے مسلمان امیدواروں کوووٹ دے سکتے ہیں اورالیکشن میں بھی حصہ لے سکتے ہیں۔سندھ کی طرح ملک بھرمیں کئی علاقے اورحلقے ایسے ہیں جہاں غیرمسلم  ووٹرز مسلم ووٹرزسے زیادہ ہیں اورکسی بھی امیدوارکی کامیابی میں یہ غیرمسلم ووٹ ہی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔سیاسی جماعتوں اورامیدواروں کواپنے اقلیتی ووٹرز کے مفادات کابھی خیال رکھناپڑتاہے۔
کروناوائرس سے پیدا ہونے والی مشکلات سے نمٹنے اورضرورت مند خاندانوں کی مالی مدد کے لئے حکومت نے کروناریلیف فنڈ قائم کیاتھا۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضااورآرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے کرونا ریلیف فنڈ میں ایک ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کی۔ بریگیڈیئر سے لیفٹیننٹ جنرل تک کے افسران نے 3 دن کی تنخواہ عطیہ کی،کیڈٹس سے کرنل تک افسران نے 2 دن کی تنخواہ عطیہ کی جبکہ سپاہی سے جے سی اوز تک افسران نے ایک دن کی تنخواہ کرونا ریلیف فنڈ میں عطیہ کی۔ بہت سے دوسرے اداروں،مخیرحضرات نے بھی کروناریلیف فنڈمیں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں نے بھی اس کارخیرمیں حصہ ڈالا ۔تعلیمی اداروں،مختلف کمپنیوں اوراہم شخصیات نے بھی وزیراعظم کروناریلیف فنڈمیں دل کھول کرعطیات دیئے۔بیرون ممالک سے بھی بڑی تعداد میں عطیات وصول ہوئے ۔کئی دوست ممالک نے کروناوائرس سے نمٹنے کے لئے پاکستان کومالی امداد اورقرض فراہم کیا،آئی ایم ایف اورعالمی بنک نے بھی تعاون کیا۔عالمی اداروں نے کروناوائرس کے خلاف پاکستان کے اقدامات کوبھی سراہا۔اس کے ساتھ ساتھ کئی این جی اوز نے بھی اپنے طورپراقلیتوں کی مدد کی انھیں راشن اورمالی مدد فراہم کی ۔سوشل میڈیا پرایسی درجنوں مثالیں اورپوسٹ موجود ہیں،جہاں مسلم جماعتیں اپنے غیرمسلم پاکستانی بھائیوں کی دل کھول کر مدد کررہی ہیں۔حکومت اوراین جی اوزکے ساتھ ساتھ بہت سی سیاسی ودینی جماعتوں نے بھی لوگوں کی مدد کرنے میں اپناکرداراداکیا۔راشن اورمالی مدد جس کی جوحیثیت تھی اس نے وہ کیا۔
دنیا کے بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں کروناوائرس کے حوالے سے اپنے ہی عوام کوریلیف اورعلاج فراہم کرنے کے معاملے میں مذہبی اورفرقہ وارانہ تعصب کامظاہرہ کیاگیا۔اس پربات کرنے سے پہلے میں آپ کی توجہ ایک خبرکی طرف دلاتاہوں۔ بی بی سی کے مطابق پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ کرونا وائرس سے زیادہ ہلاک ہو رہے ہیں تاہم اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ایسا کیوں ہے؟رپورٹ میں کرونا وائرس سے خطرے کا سب سے بڑا عنصر عمر کو قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ عورتوں کے مقابلے میں مرد زیادہ خطرے میں ہیں۔اگر عمر اور جنس کے علاوہ دیکھا جائے تو بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والوں کو سفید فام انگلش نسل کے افراد کے مقابلے میں موت کا خطرہ دگنا ہے۔صحت عامہ کی ایجنسی پبلک ہیلتھ انگلینڈ وزارتِ صحت کے تحت کام کرتی ہے۔اُس کے مطابق دیگر ایشیائی  اور سیاہ فام نسلوں کو حالیہ وبا سے نسبتاً زیادہ خطرہ ہے۔نسل اور خطرے کے جائزے میں کسی بھی شخص کے پیشے یا موٹاپے جیسی وجوہات کو نہیں دیکھا گیا حالانکہ یہ دونوں عناصر بھی کرونا وائرس سے سخت بیمار ہونے کے خطرے کی وجوہات کے طور پر جانے جاتے ہیں۔رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ اسے سمجھنے کے لئے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور لوگوں کو خطرے سے خبردار کیا گیا ہے۔





کرونا کی وبا کے دوران مذہبی بنیادوں پر تفریق کے واقعات دنیامیں سب سے زیادہ بھارت میں دکھائی دیئے ۔جب علاج کی فراہمی سے لے کرمالی امداداورراشن کی فراہمی تک مذہب کی بنیاد پر کی گئی ۔غیرجانب دار میڈیااورسوشل میڈیا پرایک دونہیں سیکڑوں ایسے واقعات اوررپورٹس سامنے آئی ہیں،جب بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز سلوک کیاگیا ۔ حکومت کے ساتھ ساتھ بعض امدادی تنظیموں کی جانب سے بھی مسلمانوں کو خوراک فراہم کرنے سے انکارکیاگیا۔مسلمانوں کوکروناوائرس پھیلانے کاذمہ دارقراردیاگیااوران کی تضحیک کی گئی ۔
 یہ بات بھی مدنظر رہے کہ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی آزادی مذہب نے گزشتہ سال اپنی رپورٹ میں  واشنگٹن انتظامیہ سے کہا تھا کہ وہ بھارت کو مذہبی آزادی سے متعلق بلیک لسٹ میں شامل کرے ۔بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی قیادت میں اقلیتوں پر نمایاں منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارت کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہئے جہاں اقلیتوں کی حالت  باعث تشویش ہے، تاکہ حالات بہتر نہ بنانے پر اس پر پابندیاں لگائی جاسکیں ۔نیوزایجنسی رائٹرکے مطابق امریکہ کے کمیشن برائے مذہبی آزادی نے اس سال جون میں بھارت جاکراقلیتوں کے حالات کاجائزہ لینے کاپروگرام بنایا تو بھارت نے اس امریکی وفد کوویزے دینے سے ہی انکارکردیا۔وجہ اس کی یہ  ہے کہ حکومت میں موجود بی جے پی کے رہنمأ جانتے ہیں کہ یہ خود ان کی بنائی ہوئی پالیسی ہے،بھارت حکومت کی سرپرستی میں ریاستی ادارے مسلمانوں اوردوسری اقلیتوں پرمظالم ڈھارہے ہیں اوراُن سے متعصبانہ سلوک کیاجارہاہے ۔
بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی کے رہنماؤں نے کروناوائرس کاذمہ دارمسلمانوں کوقراردے کران کے لئے زندگی تنگ کردی ہے۔بھارتی میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا کیاجارہاہے کہ مسلمان کروناپھیلارہے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں ان سے برا سلوک کیاجارہاہے۔سیکورٹی فورسزکی مدد سے کروناکے بہانے مسلمانوں کی گھرگھرتلاشی لی جارہی ہے،انھیں علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کے بجائے مارا پیٹا جارہاہے۔بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی اور اس سے منسلک ہندو انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف تعصب اور ظالمانہ سلوک کا سلسلہ جاری ہے۔مقبوضہ کشمیرمیں جوظلم ڈھایاجارہاہے،میں اپنی تحریروں میں اس کی کئی مرتبہ نشاندہی کرچکاہوں۔ بھارتی حکومت کرونا وائرس میں مبتلا مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کا سرکاری اسپتالوں میں علاج کرنے سے بھی گریز کررہی ہے۔ دنیا کروناوائرس سے لڑرہی ہے اوربھارتی حکومت مسلمانوں سے لڑرہی ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ نیچ ذات ہندوؤں اورمسیحی برادری کے ساتھ بھی اچھاسلوک نہیں کیاجارہا۔بہت سے واقعات میں انتہاپسند ہندوؤں نے مسلمانوں کواپنی آبادی سے زبردستی نکال دیاکہ ان سے کروناوائرس پھیلے گا۔ بھارتی حکومت کی طرف سے جوریلیف پیکیج دیئے جارہے ہیں ان میں مسلم آبادی کونظراندازکیاجارہاہے۔بی جے پی کے منتخب نمائندے برملا کہہ رہے ہیں کہ مسلمان ہمارے ووٹرزنہیں اس لئے ان کے لئے امداد بھی نہیں۔اُتر پردیش میں جہاں ایک انتہا پسند ہندو یوگی وزیراعلیٰ ہے، اس نے مسلمانوں کے خلاف بیان اور اشتہار بھی جاری کیا ہے۔اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی نے بھی اپنے ایک بیان میں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف اس نفرت انگیز مہم کی شدید مذمت کی ہے اور بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلامو فوبیا کی اس بے بنیاد مہم کو روکے اورمسلمان اقلیت کے تحفظ کے لئے فوری اقدامات کرے۔ایک طرف نام نہاد سیکولر بھارت کاچہرہ ہے جسے مودی نے مزید گہنادیاہے جہاں ہندوؤں کے علاوہ کوئی محفوظ نہیں۔بھارت میں مسلمانوں اوردوسری مذہبی اقلیتوں کے ساتھ کئے جانے والے امتیازی سلوک کی دنیا بھرمیں مذمت کی جارہی ہے۔
پاکستان میں وفاقی اورصوبائی حکومتوں ،سیاسی ودینی جماعتوں اوراین جی اوز نے لاک ڈاؤن کے دوران غیرمسلم پاکستانی بھائیوں کی بھی بھرپورمدد کی اورجیساکہ میں پہلے بتاچکاہوں راشن کی فراہمی ہویامالی مدد کسی سے اس کا مذہب نہیں پوچھاگیا۔مصیبت زدہ لوگوں کوان کی دہلیزپرہرچیزپہنچانے کی کوشش کی گئی ۔بہت سے رفاہی ادارے اوراین جی اوزاقلیتوں کے لئے کام کررہے ہیں۔وہ غیرمسلم پاکستانی شہری جوخط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیںایسے لوگ ہماری پہلی ترجیح ہیں ،تاکہ مشکل کی اس گھڑی میں ان کی پریشانیوں کوکم سے کم کیا جاسکے۔بھٹوں پرکام کرنے والے اورسینیڑی کے کام سے وابستہ لوگوں کاشمارغریب اورپسے ہوئے طبقات میں ہوتاہے۔انھیں بھی ہماری خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے کافی مدد فراہم کی جاچکی ہے۔ پنجاب میں یوحناآبادمسیحی بھائیوں کی ایک بڑی بستی ہے،یہاں این جی اوزکے تعاون سے روزانہ دسترخوان لگایاجاتاہے تاکہ کوئی بھوکانہ سوئے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ کئی این جی اوزبھی اس کارخیرمیں بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہی ہیں جوقابل تعریف ہے،بعض این جی اوزنے ہزاروں گھروں میں راشن بھی پہنچایا۔حکومت کی جانب سے کسنٹرکشن انڈسٹری اورکچھ دوسرے شعبوں کوکھولنے کے فیصلے کے بعد بھٹہ مزدوروں اورمحنت کشوں کا روزگاربحال ہوگیاہے۔امید ہے پوری دنیا میں جلدازجلداس وبا پر قابو پالیا جائے گا،اُداس چہرے پھرمسکرائیں گے۔زندگی بحال ہوگی اورہم پھرایک دوسرے کوگلے لگاسکیں گے۔


مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلزکے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر اُن کی آٹھ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔[email protected]
 

یہ تحریر 129مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP