قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی - ایک چیلنج

کہا جاتا ہے کہ جتنے ہاتھ ہوں گے اُتنا  ہی کام میں آسانی ہو گی اور کام بھی جلدی مکمل ہو گا مگر یہ سب اُسی صورت میں ممکن ہو تا ہے جب منصوبہ بندی ٹھیک سے کی ہو۔ یہی فارمولا آبادی کے اُصول کے لئے بھی ہے کہ کسی ملک کے حالات کا انحصار اُس ملک کے وسائل  پر ہے کہ آیا وہ وسائل اُس ملک کی آبادی کے لئے کافی ہیں۔ آج کے دور جدید میں آبادی ملک کے مسائل اور وسائل پر بہت اثر انداز ہوتی ہے ۔ زیادہ آبادی والے ممالک کی نمو کا جائزہ لیا جائے تو وہاں وسائل کم اور مسائل زیادہ دیکھے گئے ہیں۔ ایشیا کرہ ارض کا ایسا خطہ ہے جو گنجان آباد براعظم ہے۔ چین ، بھارت اور انڈونیشیا جیسے گنجان آبادی والے ممالک براعظم ایشیا میں واقع ہیں جو پہلے ، دوسرے اور تیسرے ممالک کی فہرست میںآتے ہیں اور آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو پاکستان ایشیا میں چوتھے اور دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔ پاکستان کی کل آبادی 22 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میںرقبے کے لحاظ سے فی مربع کلو میٹر رقبے پر 742 افراد آباد ہیں۔جوکہ اعداد وشمار کے مطابق زیادہ ہے اگراِس بڑھتی ہوئی آبادی کو بڑھنے سے نہ روکا گیا تو 2050 تک پاکستان کی آبادی دوگنا سے زیادہ یعنی  400 ملین سے تجاویز کرجانے کا خدشہ ہے جوکہ پاکستان جیسے غریب اور رقبے کے لحاظ سے چھوٹے ملک پر نہ صرف بوجھ ہو گا بلکہ ملک مزید مسائل کا شکار ہوجائے گا۔
1998 کی مردم شماری سے لے کر اب تک پاکستان کی آبادی میں  60 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جو کہ خطرے کی علامت ہے کیونکہ ہمارے ملک میں آبادی کی روک تھام کے لئے کوئی خاص اقدامات نہیں کئے گئے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ پاکستان میں ہر وہ کام آسانی سے کیا گیا ہے جسسے آگے چل کر مشکلات ہی کھڑی ہوئیں ہیں نہ کہ مسائل کا حل تلاش کیا گیا اور نہ ہی اِنہیں کو کنٹرول کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
 پاکستان ایک غریب ملک ہے ۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج پچھتر سال گزر جانے کے باوجود اِس ملک کی مشکلات کم نہیں ہوئیں بلکہ مشکلات اور مسائل میں روزبروز اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ قیام پاکستان کے وقت ہمیں جو وسائل ملے یا دستیاب تھے وہ ناپختہ معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے ناکافی تھے  اور بھارت سے آنے والے مہاجرین کی بڑی تعداد بھی پاکستان کی آبادی میں اضافے کا سبب بنی جن کی آباد کاری بھی ایک چیلنج تھا لیکن وقت کے ساتھ اِس مسئلے کو حل تو کر لیا گیا لیکن اِس کے دور رس نتائج آج سب کے سامنے ہیں کہ آبادی میں اضافہ ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے رہے۔آبادی کے جن کو قابو میں لانے کے لئے اقدامات صرف کاغذی حد تک رہے یا بڑھتی آبادی کے لیے وسائل میں اضافے کی منصوبہ بند ی کا فقدان ہی رہا۔ وقت کے ساتھ جہاں آبادی بڑھنے کے ساتھ غریب اور غربت دونوں ہی بڑھے تو دوسری طرف مسائل اور مشکلات گھمبیر صورتحال اختیار کرتی چلی گئیں۔
پاکستان میں آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اُتنے ہی مسائل جنم لے رہے ہیں ۔ایک مشہور کہاوت  پاکستانیوں پر ٹھیک بیٹھتی ہے کہ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلاؤ۔ یعنی آبادی اِس قدر بڑھ چکی ہے کہ آبادی کا اژدھا پوری طرح پاکستانی معاشرے کو اپنی لیپٹ میں لے چکا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ انتظامی اداروں کو اپنے امور کی انجام دہی میں مشکلات پیش آتی ہیں جس وجہ سے عوام کو اُن کے بنیادی حقوق ، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ یہاں عوام کے عام استعمال کی بنیادی ضروریات مثلاًپینے اور عام استعمال کے پانی سے لے کر غذائی ضروریات ، رہائش سے لے کر عام ضروریاتِ زندگی تک سب آبادی کے ایک بڑے حصے سے دور ہیں۔کچھ مہنگائی اور کچھ عدم دستیابی کی وجہ سے اورعام پاکستانیوں کی دسترس سے خوراک کا حصول بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔
پاکستان میں آبادی  بڑھنے کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے ایک بڑی وجہ یہاں کئی ایک خاندانوں میں مذہب کو بنیاد بناکربھی خاندانی منصوبہ بندی کو گناہ سمجھا جاتاہے ، عام پاکستانیوں میں یہ خیال بھی پایا جاتاہے کہ دنیا میں آنے والا ہر بچہ اپنا زرق اللہ تعالیٰ سے لکھوا کر آتا ہے۔ دوسری اہم وجہ عورت کا بااختیار نہ ہونا یعنی گھر اور خاندان کے فیصلوں میں عورت کی رائے کو اہمیت نہ دینا، یعنی بچے پیدا کرنا اُس کی اہم ترین ذمے داری ہے  ۔تیسرابیٹے کی خواہش میں زیادہ بیٹیاں پیدا کر لینے کا رواج عام ہے ، اِس کے لئے پڑھا لکھا یا اَن پڑھ ہونا ضروری نہیں اور تین چار بیٹیوں کی پیدائش کے بعد اگر بیٹا پیدا ہو بھی جائے تو دوسرے بیٹے کی خواہش گھر کی آبادی کے ساتھ ملک کی آبادی پر بھی اثر انداز ہوجاتی ہے ۔پاکستان میں کچھ قومیت کے لوگوں اور خاندانوں میں زیادہ بچوں کی پیدائش کی خواہش رکھی جاتی ہے اِس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بھی کہ جس عورت نے بچہ پیدا کرناہے اُس کی صحت اجازت دیتی بھی ہے کہ نہیں اور وہ ایک صحت مندبچہ پیدا کر بھی سکتی ہے یا نہیں۔ یہ ضدیعنی زیادہ بچوں کی پیدائش کو لازمی قرار دینا، آبادی کے اضافے کا اہم سبب ہے ،کچھ دوسری وجوہات ناخونداگی اور شعور کا فقدان ہیں،عوام کا ایک بڑا طبقہ آج بھی نا خواندہ ہے اِس کے نزدیک بڑھتی ہوئی آبادی اُس کے لئے کوئی بڑا مسئلہ نہیں چاہے وہ پیدا ہونے والے بچے کی ضروریات کو پورانہ کر سکیں اُس طبقے کے لئے یہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ بڑا ہو کر اُس کے گھر کی آمدنی میں اضافے کاباعث بنے گا۔ پاکستان میں محکمہ خاندانی منصوبہ بندی  موجود ہے مگر اپنی ناقص کارکردگی کے تحت شادی شدہ مرد و خواتین میں خاندانی منصوبہ بندی کی ترغیب دینے میں ناکام نظر آتے ہیں۔


پاکستان ایک غریب ملک ہے  اِس کی آبادی  22 کروڑ سے زائد ہے جو کہ اِس کے رقبے اور وسائل کے لحاظ سے بہت زیادہ ہے %   62.56  دیہاتی اور  32.44% شہری آبادی پر مشتمل ہے ۔ مہنگائی کے اِس دور میں ایک خاندان اگر 7 افراد پر مشتمل ہے اُس خاندان میں اگر دونوں میاں بیوی کمائیں تو وہ اپنا خاندان پال سکتے ہیں وہ بھی اُس صورت میں اگر میاں بیوی پڑھے لکھے ہوں اور اچھی ملازمت کرتے ہوںورنہ ایک عام غریب گھر کے نابالغ بچے چائلڈ لیبر کی صورت میں جگہ جگہ کام کرتے نظر آتے ہیں ۔


 پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کسی دھماکے سے کم نہیں۔آبادی میں بے تحاشہ اضافہ کی وجہ سے پاکستان کو سنگین چیلنچز کا سامنا ہے ۔  سب سے بڑا  چیلنج یہاں غذائی بحران ہر سال بڑھتا جا رہا ہے ۔آنے والے سالوں کے لئے بھی ماہرین خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر آبادی کے اِس بڑھتے طوفان کو نہ روکا گیا تو مستقبل قریب میں اشیا ئے خورونوش کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آج بھی دیکھا جائے تو صرف گندم کو ہی لے لیں کہ پاکستان کو ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود  ہر سال گندم کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اورملکی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے بھاری مقدار میں بیرونِ ممالک سے گندم درآمد کرنی پڑ رہی ہے۔ آنے والے سالوں میں یہ بحران سنگین سے سنگین تر ہوتا جا رہا ہے ۔اِس کے علاوہ زیر زمین پانی کی کمی ،بجلی  اور توانائی کا بڑھتا  ہوابحران ، روزگار کے کم مواقع اور بنیادی ڈھانچے کی اپ گریڈیشن ، تعلیم ،صحت کی سہولتوں کا فقدان، امن و امان کی بگڑتی صورت حال، پبلک ٹرانسپورٹیشن کی حالت اور دیگر سماجی مسائل اور اُن کے حل میں مشکلات جیسے عوامل بھی اتنی بڑی آبادی والے ملک پاکستان کو در پیش ہیں۔
 پاکستان کی کثیر آبادی نوجونواں پر مشتمل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 63% نوجوان 15 سال سے لے 33سال کے درمیان ہیں جن کی بڑی تعداد بے روزگار ہے اورخاص کر پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع محدود ہیںاِس گھمبیر صورت حال میں بیروزگاری میںدن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔ نوجوان طبقہ ذہنی ڈپریشن، بے چینی، بے راہروی،جرائم ، انتہا پسندی کی طرف راغب ہورہا ہے  اِس کے علاوہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد منشیات جیسی لعنت کا شکارہے ۔ پاکستان میں 70 ملین کی آبادی5 سے 19 سال کے بچوں پر مشتمل ہے جس میں صرف 30 ملین بچے تعلیم سے وابستہ ہیں۔پاکستان میں آبادی کا ایک بڑا طبقہ تقریباً اڑھائی کروڑ سکولوں سے باہر ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔
 پاکستان ایک غریب ملک ہے  اِس کی آبادی  22 کروڑ سے زائد ہے جو کہ اِس کے رقبے اور وسائل کے لحاظ سے بہت زیادہ ہے %   62.56  دیہاتی اور  32.44% شہری آبادی پر مشتمل ہے ۔ مہنگائی کے اِس دور میں ایک خاندان اگر 7 افراد پر مشتمل ہے اُس خاندان میں اگر دونوں میاں بیوی کمائیں تو وہ اپنا خاندان پال سکتے ہیں وہ بھی اُس صورت میں اگر میاں بیوی پڑھے لکھے ہوں اور اچھی ملازمت کرتے ہوںورنہ ایک عام غریب گھر کے نابالغ بچے چائلڈ لیبر کی صورت میں جگہ جگہ کام کرتے نظر آتے ہیں ۔
پاکستان میں ایک نیا المیہ بھی جنم لیتا جا رہا ہے کہ چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں روزگار کے مواقع کم ہونے اور بہتر اور اچھے مستقبل کے لئے لوگ وہاں کی زندگی کو خیر باد کہہ کربڑے شہروں میں آباد ہو رہے ہیں جس وجہ سے انسانی زندگی میں سہولتوں کی فراہمی میں عدم توازن بڑھتا جارہاہے۔ 
 پاکستان میں بڑھتی آبادی ڈراؤنے خواب کی مانند ہوتی جا رہی ہے اور اگر اسے نہ روکا گیا توجو تھوڑا بہت آج میسر ہے وہ آنے والے وقت میں میسر نہ ہوگا ۔ آج سے بیس بائیس سال پہلے زرعی زمینوں پر لہلہاتے کھیت کھلیان ہوا کرتے تھے آج دور دور تک شہروں کو وسعت دیتی رہائشی کالونیاں زرعی زمینوں کو نِگل رہی ہیں جو مستقبل میں بڑے غذائی بحران کا سبب بنیں گی۔
پاکستان میں زیادہ آبادی ہونے کا نقصان اُس وقت بہت نظر آتا ہے جب کبھی  قدرت آفات آتیں ہیں تو لوگوں کوآفات سے بچانے اور بنیادی امداد پہنچانے میں  مشکلات پیش آتی ہیں 2005 کا زلزلہ 2010 اور رواں سال آنے والے بد ترین سیلاب کو ہی دیکھ لیں کہ آبادی کا70 فیصد اِن آفات سے متاثر ہوا ۔حکومت کے لئے اتنی بڑی متاثرہ آبادی کو سنبھالنے  میں مشکلات آئیں ۔ لیکن حقائق کو دیکھا جائے تو اگر عوام اِس مسئلے سے چشم پوشی کر رہی ہے تو حکومت بھی اِس بڑھتے ہوئے مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کو تیا ر نہیں ۔ یہاں فیملی پلاننگ کے ادارے تو بنا دیے ہیں مگر اُن کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو صرف زبانی جمع خرچ  ہی نظر آتا ہے۔کاغذی کارروائیاں تمام مکمل ہیں بس عملی طور پر نظام سُست روی کا شکار ہے۔


پاکستان میں آبادی  بڑھنے کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے ایک بڑی وجہ یہاں کئی ایک خاندانوں میں مذہب کو بنیاد بناکربھی خاندانی منصوبہ بندی کو گناہ سمجھا جاتاہے ، عام پاکستانیوں میں یہ خیال بھی پایا جاتاہے کہ دنیا میں آنے والا ہر بچہ اپنا زرق اللہ تعالیٰ سے لکھوا کر آتا ہے۔ دوسری اہم وجہ عورت کا بااختیار نہ ہونا یعنی گھر اور خاندان کے فیصلوں میں عورت کی رائے کو اہمیت نہ دینا، یعنی بچے پیدا کرنا اُس کی اہم ترین ذمے داری ہے  ۔تیسرابیٹے کی خواہش میں زیادہ بیٹیاں پیدا کر لینے کا رواج عام ہے۔


آج دنیا کی آبادی 7.7 ملین ہوچکی ہے جس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ جس کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا بھر کی بڑھتی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے مختلف ممالک سرگرم ہیں  چین ہو یا انڈونیشیا ، بنگلہ دیش یا دوسرے ممالک، سب اپنے ملکوں کی شرح پیدائش کو روکنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں ۔ انڈونیشیا میں 1967 کے بعد سے ہی اپنی بڑھتی آبادی کو کنٹرول کرنے لئے فی گھرانا دو بچوں کی پیدائش کی پالیسی اپنائی جس میں وہ کسی حد تک کامیاب رہا ہے۔ وہاں آبادی میں اتار چڑھاؤ بھی ا تا رہتا ہے لیکن کسی حد تک وہ اپنے ملک میں شرح پیدائش  2.29% لانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔اِسی طرح چین نے ایک بچے کی پیدائش فی گھرانا کی پالیسی اپنا کر آبادی کو کنٹرول کرنے میںاہم کردار ادا کیا۔ گو کہ اِس پالیسی کے کچھ نتائج اچھے نہیں رہے مگر پھر بھی آبادی کو کنٹرول کیا گیا ۔ اِسی طرح بنگلہ دیش میں بھی شرح پیدائش کو کنٹرول کیا گیا ہے اب وہاں شرح پیدائش کم ہو کر 2.01 ہو گئی ہے ۔ جس کی ایک اہم وجہ حکومتی سطح پر خواتین کو برتھ کنٹرول کرنے کی تعلیم دی گئی جس پربنگالی خواتین مکمل طور پر عمل پیرا  ہیں۔ٍٍ
آبادی کی اِس بڑھتی آفت کو روکنے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا۔نئے رحجانات  اور ٹیکنالوجی کو بروے کار لاتے ہوئے عوام میں کم بچے خوشحال اور صحت مند گھرانے کی افادیت کو اجاگر کرنے کے لیے الیکٹرانک میڈیا پر ڈراموں  اور میڈیا ڈائیلاگ کے ذریعے لوگوں کوزیادہ آبادی سے مستقبل میں آنے والے بحران اور مصائب سے آگاہ کریں۔  اِس کے علاوہ آج سوشل میڈیاکا دور ہے اُس پر آبادی کی روک تھام کے لئے پیغامات دیئے جائیں ۔ عورت کو اتنا بااختیار بنایا جائے کہ وہ اپنے شوہر اور گھر والوں کو چھوٹے گھرانے کی اہمیت کی ترغیب دے کر قائل کر سکے۔ خاندانی منصوبہ بندی کے لیے نئی اصلاحات لائی جائیں ،دوسرے ممالک کی برتھ کنٹرول پالیسیوں کا مدنظر رکھتے ہوئے اُن پالیسیوں پر عملدرآمد کروایا جائے۔ جن علاقوں میں آبادی اور بچوں کی پیدائش کی شرح زیادہ ہے، وہاں مقامی طور پر کچھ خواتین کو بھی چاہیے کہ آس پاس کے گھرانوں میں گھر کے بڑوں اور بااختیار افراد کو شعور دیں کہ ایک صحت مند عورت ہی بچوںکی اچھی پرورش کر سکتی ہے۔ علاقائی سطح پر خواتین کو آپس  میں کونسلنگ کریں، اور کسی جھجک کے بغیر فیملی پلاننگ کے لئے حوصلہ افزائی اور ترغیب دیں۔ ||


مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں اور مختلفاخبارات  کے لئے لکھتی ہیں۔
[email protected] 

یہ تحریر 71مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP