قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاکستان اور ایس سی او کی رُکنیت

سے 10جولائی2015 کو روس کے شہر اُوفا میں منعقد ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم ایس سی او کی پندرھویں سربراہی کانفرنس میں متعدد اہم فیصلے کئے گئے لیکن ان میں تنظیم کی مستقل رکنیت کو بڑھا کر پاکستان اور بھارت کو بطورِ مستقل رُکن شامل کرنا بلاشبہ سب سے نمایاں اور تنظیم کے لئے ہی نہیں بلکہ دنیا کے تین بڑے خطوں وسطی ایشیا‘ یوریشیا اور جنوبی ایشیا کے لئے دور رَس مضمرات کا حامل ہے- اس سے قبل ایس سی او نے اپنی مستقل رکنیت میں اضافہ کرنے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ اس لئے پاکستان اور بھارت کی بطورِ مستقل رکن شمولیت نے تنظیم کا نہ صرف ڈھانچہ تبدیل کردیا ہے بلکہ اس کا دائرہ جنوبی ایشیا تک بڑھا دیا گیا ہے جہاں دنیا کی کل آبادی کا1/5 حصہ آباد ہے۔ اس سے ایس سی او نے ایک ایسا مقام حاصل کرلیا ہے جہاں چار ممالک یعنی روس‘ چین‘ پاکستان اور بھارت ایٹمی قوتیں ہیں اور اس کے آٹھ رکن ممالک دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

جنوبی ایشیا کے ساتھ ایس سی او کے رابطے پہلے سے ہی موجود تھے۔ پاکستان اور بھارت کو تنظیم میں آبزرورز کی حیثیت حاصل تھی۔ اس کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ نیپال اور سری لنکا تنظیم کے ڈائیلاگ پارٹنرز گروپ میں بھی شامل ہیں۔ تاہم پاکستان اور بھارت کو مستقل رُکنیت حاصل ہونے کے بعد جنوبی ایشیائی خطہ علاقائی تعاون اور خطوں کے درمیان رابطوں کے فروغ میں پہلے سے زیادہ فعال اور مربوط کردار ادا کرسکے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایس سی او جس کا مقصد شروع میں رُکن ممالک کی اندرونی اور بیرونی سلامتی کا تحفظ تھا‘ اب تجارت‘ اقتصادی تعاون‘ انفراسٹرکچر‘ توانائی کے منصوبوں‘ ریلوے‘ ہائی ویز اور مواصلاتی رابطوں کی تعمیر اور ترقی کے منصوبوں پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ اس عمل کے فروغ میں چین سب سے نمایاں اور موثر کردار ادا کررہا ہے۔ نئی شاہراہ ریشم جس کی تعمیر کے لئے چین نے گزشتہ برس چالیس بلین ڈالر فنڈ کے قیام کا اعلان کیا تھا‘ کو بطورِ مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اربوں ڈالر کی لاگت سے چین وسطی ایشیائی ممالک میں توانائی ‘ انفراسٹرکچر اور معدنیاتی ترقی کے منصوبوں کو مکمل کرچکا ہے۔ ان میں چین اور وسطی ایشائی ممالک کے درمیان گیس پائپ لائن کی تعمیر بھی شامل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق چین اُن وسطی ایشیائی ممالک میں جو ایس سی او کے رُکن ہیں‘ اب تک 50 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکا ہے۔2008-9 کے عالمی مالیاتی بحران کے اثرات سے بچانے کے لئے چین نے وسطی ایشیائی ممالک کو10 ارب ڈالر کے قرضہ جات فراہم کئے تھے۔ مبصرین کے مطابق وسطی ایشیائی ریاستوں جو1991 سے قبل روس کا حصہ تھیں‘ میں چین کا معاشی اثر و نفوذ روس سے زیادہ ہے اور’’ اُوفا‘‘ سربراہی کانفرنس میں کئے گئے فیصلوں کے بعد اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

’’اُوفا‘‘ میں جو فیصلے کئے گئے ہیں‘ اُن میں سے ایک کے تحت ایک دس سالہ ترقیاتی حکمتِ عملی کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس ایکشن پلان میں100 بلین ڈالر کے سرمائے سے نیوڈیویلپمنٹ بنک کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چین کے ’’سلک روڈ اکنامک بیلٹ‘‘ اور روس کے ’’یوریشین اکنامک کیمیونٹی‘‘ کو یک جا کرکے ایس سی او کے تحت ایک مشترکہ منصوبے کے طور پر شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے ایک حصے کے طور پر چینی’’نیوسلک روڈ اور اکنامک بیلٹ‘‘ کے تحت4000 کلومیٹر ریلوے لائن اور10,000 کلومیٹر لمبی شاہراہ تعمیر کی جائے گی اور اسے روسی منصوبے ’’یوریشین اکنامک کمیونٹی‘‘ کے ساتھ جوڑ کر یورپی ممالک کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ اس طرح قدیم شاہراہِ ریشم جو وسطی چین سے شروع ہو کر وسطی ایشیا اور ایران کے راستے میسو پو ٹیمیا (جدید عراق‘ شام اور اُردن) سے گزر کر لبنان اور فلسطین کے ساتھ ملنے والے بحیرہ روم کے مشرقی شام ساحل پر ختم ہوتی تھی‘ اب ایک نئی شاہراہ جس میں ریلوے لائن بھی شامل ہے‘ تعمیر کی جائے گی جس کے ذریعے چین‘ وسطی ایشیا اور مغربی ایشیائی ممالک اور یورپ کے درمیان آمد و رفت اور تجارتی روابط قائم کئے جائیں گے۔

پاکستان کے راستے چینی صوبہ سنکیانگ کے شہر کا شغر اور گوادر کے درمیان ’’پاک چائنہ اکنامک کاریڈور‘‘ بھی چین اور روس کے مشترکہ منصوبے کا بالواسطہ طور ایک حصہ ہے کیونکہ ’’پاک چین اکنامک کاریڈور‘‘ کے ذریعے چین کو خلیج فارس‘ جزیرہ نما عرب اور مشرقی افریقہ کے ساحلی ممالک کے ساتھ تجارتی اور معاشی روابط بڑھانے میں مدد ملے گی۔ زمانہ قدیم میں یہ علاقے قدیم شاہراہِ ریشم کے معاون علاقے کے طور پر مشہور تھے اور اس عظیم شاہراہ کے راستے صرف چین سے ہی نہیں بلکہ ہندوستان جس میں اُس وقت موجودہ پاکستان اور افغانستان کے علاقے بھی شامل تھے‘ سے بھی تجارتی اشیاء ’’مشرقِ وسطیٰ‘ مصر‘ شمال مغربی افریقہ اور اس سے آگے بحیرۂ روم کے راستے کشتیوں اور جہازوں میں لاد کر یورپی منڈیوں تک پہنچائی جاتی تھیں۔ ایس سی او تک پاکستان کی شمولیت سے ’’پاک چین اکنامک کاریڈور‘‘ کی اہمیت اور افادیت میں اضافہ ہوگیا ہے اور پاکستان جس کے لئے یہ منصوبہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے‘ اس سے براہِ راستے مستفید ہوگا۔

پاکستان ایس سی او میں شمولیت کا (بطور ایک مستقل رکن) شروع سے ہی خواہشمند تھا۔2006 میں جب پہلی دفعہ پاکستان کوشنگھائی کانفرنس میں باقاعدہ طور پر مدعو کیا گیا تھا‘ تو سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے تنظیم میں پاکستان کی بطورِ مستقل رُکن کے شمولیت کی درخواست کی تھی لیکن اُس وقت ایس سی او کے کسی رُکن ملک بشمول چین ‘ نے بھی پاکستان کی درخواست کی حمایت نہیں کی تھی۔ غالباً اس کی وجہ حل طلب باہمی تنازعات کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تقریباً نہ ختم ہونے والی کشیدگی تھی اور رُکن ممالک کوڈر تھا کہ کشیدہ تعلقات کے ساتھ ان دونوں ممالک کی ایس سی او میں موجودگی تنظیم کی کارکردگی کو متاثر کرے گی۔ اب بھی کئی حلقوں میں پاکستان اور بھارت کی مستقل رُکنیت پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایس سی او میں مستقل رُکن کی حیثیت سے موجودگی سے پاکستان اور بھارت افغانستان کی طرح وسطی ایشیا کو بھی محاذ آرائی کا مرکز بنا لیں گے۔ ان حلقوں کے مطابق روس اور چین نے بالترتیب بھارت اور پاکستان کو کسی بڑے معاشی فائدے کے لئے نہیں بلکہ سٹریٹجک وجوہات کی بناء پر ایس سی او میں بطورِ مستقل رُکن شامل کیا ہے۔ بھارت کو شامل کرکے روس ‘ خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کے آگے بند باندھنا چاہتا ہے اور چین نے پاکستانی رُکنیت کی حمایت کرکے پاک چین دوستی کا حق ادا کرنے کے ساتھ بھارت کے مقابلے میں ایک پُراعتماد ساتھی کو ایس سی او میں شامل کیاہے۔ ان حلقوں کے موقف کے مطابق ایس سی او میں پاکستان اور بھارت کی مستقل رُکنیت سے نہ تو چین اور روس اور نہ ایس سی او کو کوئی نمایاں فائدہ حاصل ہوگا۔ بلکہ ان دو حریف ممالک کی موجودگی سے تنظیم کی کارکردگی متاثر ہوگی۔

لیکن ایس سی او کی تقریباً گزشتہ دس برس کی تاریخ اور مستقبل کے لئے اُس کے منصوبوں کی روشنی میں اگر ان خدشات اور تحفظات کا جائزہ لیا جائے تو وہ کافی حد تک بے بنیاد ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً دونوں ممالک کئی برسوں سے ایس سی او کے اجلاس میں بطورِ آبزرور شرکت کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس عرصہ کے دوران دونوں ممالک نے ایس سی او کی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا ہے۔ دونوں کی کارکردگی مثبت رہی ہے اور انہوں نے اپنی کنٹری بیوشن میں اپنے اختلافات کو آڑے نہیں آنے دیا۔ پاکستان اور بھارت آسیان کے ریجنل فورم اے آر ایف کے بھی رُکن ہیں‘ وہاں بھی دونوں ممالک علاقائی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ایس سی او میں پاکستان کی مستقل رکنیت کی چین کے علاوہ روس نے بھی حمایت کی ہے۔ اس لئے یہ مفروضہ غلط ہے کہ چین اور روس نے علی الترتیب پاکستان اور بھارت کو اپنے اپنے گھوڑے کے طور پر استعمال کرنے کے لئے ایس سی او میں شامل کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں نے اپنے اپنے قومی مفاد کے حوالے سے ایس سی او میں شرکت کی ہے۔ پاکستان خطے کے ساتھ اپنی تاریخی‘ مذہبی اور ثقافتی وابستگی کی بنیاد پر وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا ہمیشہ خواہش مند رہاہے۔ توانائی کے شعبہ میں اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بھی پاکستان نے وسطی ایشیا کے ساتھ روابط قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ کاسا 1000 ٹرانسمیشن لائن بچھانے کا منصوبہ اور ترکمانستان ‘ افغانستان‘ پاکستان اور انڈیا تاپی گیس پائپ لائن تعمیر کرنے کا منصوبہ اس کی دو مثالیں ہیں۔ اب تک پاکستان نے افغانستان کے راستے وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔2010 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راہداری کا جو نیا معاہدہ طے ہوا تھا‘ اُس میں اس مقصد کے لئے ایک خصوصی شق رکھی گئی تھی۔ ایس سی او کی مستقل رُکنیت سے اب پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں یعنی ازبکستان‘ کرغستان‘ قازقستان اور تاجکستان کے ساتھ پاکستان کے روابط پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان اور براہِ راست ہو جائیں گے۔

جہاں تک بھارت کا تعلق ہے‘ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اُس کے روابط سابقہ سوویت یونین کے دور سے چلے آرہے ہیں۔ سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے اور ان ریاستوں کی آزادی کے بعد بھارت نے ان کے ساتھ اپنے سابقہ تعلقات بحال اور مزید وسیع کرنے کی کوشش کی ہے۔ وزیرِاعظم نریندر مودی کی جانب سے اُوفا کانفرنس کے موقع پر پانچ وسطی ایشیاء ممالک کا دورہ اس کوشش کا مظہر ہے۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ بھارت وسطی ایشیا میں اپنے اثر و رسوخ کو پاکستان کے خلاف استعمال کرسکتا ہے۔ لیکن چین اور روس کی موجودگی اور وسطی ایشیائی ریاستوں کی طرف سے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات اور روابط کی خواہش اس کوشش کو ناکام بناسکتی ہے۔ ایک نکتہ نظر یہ بھی ہے کہ ایس سی او میں مستقل رُکن کی حیثیت سے موجودگی پاک بھارت تعلقات پر خوشگوار اثر بھی ڈال سکتی ہے کیونکہ اس کے بغیر دونوں ممالک اُن منصوبوں سے پوری طرح مستفید نہیں ہوسکتے جو آئندہ دس برسوں میں ایس سی او کے فریم ورک کے تحت شروع کئے جائیں گے۔

یہ تحریر 67مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP