متفرقات

پاکستان۔ منزلِ مقصود کے سفر پر

’’یہ وہ پاکستان نہیں ہے، جس کے لئے لاکھوں انسانوں نے جانیں قربان کردیں۔‘‘
’’یہ وہ پاکستان نہیں ہے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔‘‘
’’ یہ وہ پاکستان نہیں ہے جس کا تصوّر قائد اعظم محمد علی جناح نے پیش کیا تھا۔‘‘
یہ جملے اکثر سرکاری میٹنگوں۔ نجی محفلوں میں سننے کو ملتے ہیں۔ ٹاک شوز میں بھی یہ باتیں دُہرائی جاتی ہیں یا پھر زیادہ بلند آواز میں اور زیادہ قطعیت کے ساتھ بعض بزرگ یہ کہہ اٹھتے ہیں۔
’’یہ تو قائد اعظم کا پاکستان نہیں ہے۔‘‘
’’یہ تو علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر نہیں ہے۔‘‘
بہت سے بزرگ جنہوں نے پاکستان بنتے دیکھا، جو تحریک پاکستان میں نوجوانوں کی حیثیت سے شامل تھے، وہ بھی اکثر یہ گِلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ایسے پاکستان، ایسے معاشرے کے لئے تو ہم نے جدو جہد نہیں کی تھی۔ ہم اس لاقانونیت، چند خاندانوں کی اجارہ داری کے لئے تو سڑکوں پر نہیں نکلے تھے۔ ہم ایسی نا انصافی پر مبنی سوسائٹی کے لئے تو یہ نعرے بلند نہیں کرتے تھے۔
بٹ کے رہے گا ہندوستان
لے کے رہیں گے پاکستان


ان سارے جملوں، گلوں شکوؤں اور تشویش کا ما حصل یہی ہے کہ پاکستان کے خواب کی مکمل تعبیر ہمیں حاصل نہیں ہوئی ہے۔ پاکستان ابھی پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچا ہے۔ حقیقی منزل تک ہماری رسائی نہیں ہوئی ہے، کتابیں لکھی جاچکی ہیں، سیاسی تجزیے کئے جارہے ہیں۔ ہم اپنے ارد گرد آس پاس شب و روز جو عدم توازن دیکھتے ہیں۔ اونچ نیچ ہمارے سامنے آتی ہے۔ بعض با اثر حضرات بہت ہی زیادہ طاقت ور ہیں۔ قانون ان کے گھر کی لونڈی ہے۔ قواعدوضوابط کی ان کو کوئی فکر نہیں ہے۔ ان پر کسی ضابطے کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔ جب کہ پاکستان میں رہنے والی اکثریت پر ہر قانون لاگو ہوتا ہے۔ وہ معمولی سی قانون شکنی پر حوالات بھیج دئیے جاتے ہیں۔

 

یہ سارے مناظر، یہ سب کوائف، یہ تمام حقائق چیخ چیخ کر یہ کہتے ہیں کہ پاکستان بنانے کا ایجنڈا ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ ہم اقتصادی طور پر بھی پیچھے ہیں اور اخلاقی اعتبار سے بھی ۔ تعلیم کی شرح بھی ابھی بہت کم ہے۔ صحت اور علاج معالجے کی سہولتیں بھی مثالی نہیں ہیں۔ حکمران طبقے اسی طرح اپنے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں جیسے انگریز کے دَور میں کرتے تھے، اس لئے پاکستان مکمل نہیں ہوا ہے۔ مسائل، چیلنجوں، بد امنی، محرومیوں، نا انصافیوں کا تقاضا ہے کہ پہلے جس طرح تشکیل پاکستان، حصول پاکستان، قیام پاکستان کی تحریک چلائی گئی تھی، اب اسی خلوص، عزم اور شدت سے تکمیل پاکستان کی تحریک چلائی جانی چاہئے۔


محسن بھوپالی نے ٹھیک ہی کہا تھا
نیرنگئ سیاستِ دوراں تو دیکھئے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے


یعنی محنت کرنے والوں کو محنت کا پھل نہیں ملا۔ جو تھوڑے بہت پھل لگے، وہ ان لوگوں کے ہاتھ لگ گئے جو جدو جہد میں شریک نہیں تھے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ جدو جہد اپنے انجام کو نہیں پہنچی اور جس منزل کے لئے قافلے چلے تھے، وہ ابھی بہت دور ہے۔
قیامِ پاکستان کی تحریک بیسویں صدی کے اوائل میں شروع ہوئی تھی۔ اس وقت ایک مکمل مملکت کا تصوّر اتنا واضح نہیں تھا اور نہ عملی طور پر ان دنوں ایسی فلاحی ریاستیں وجود رکھتی تھیں۔ جہاں ہر شخص کو وسائل تک رسائی ہو۔ جہاں قانون کا نفاذ یکساں ہو۔ دوسری عالمگیر جنگ کی تباہ کاریوں سے بنی نوع انسان نے بہت سبق سیکھے۔ اور سب سے زیادہ توجہ اس امر پر مرکوز کی گئی کہ ایک مملکت کا وجود وہاں رہنے والوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں بہم پہنچانے پر ہے۔ ایک ریاست اور شہری کے درمیان اسی بنیاد پر معاہدہ ہوتا ہے کہ ریاست شہری کی جان و مال کا تحفظ کرے گی۔ اسے ہر ممکن سہولتیں پہنچائے گی۔ ان اخراجات کو پورا کرنے کے لئے یہ شہری اپنی آمدن کا ایک معقول حصّہ ٹیکس کے طور پر ادا کرتے ہیں جس سے ریاست کی مشینری چلتی ہے۔ ان سرکاری اہلکاروں کی تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں جو شہریوں کے تحفظ، زندگی کی آسانیوں، خوراک، علاج معالجے اور سفر کی سہولتوں کو یقینی بنانے پر مامور ہوتے ہیں۔ تصوّر یہ ہے کہ ایک شہری کے پیدا ہونے والے دن سے لے کر اس کے خالق حقیقی سے ملاقات کے دن تک اس کی ہر ضرورت کو ریاست پورا کرتی ہے۔
آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ پاکستان میں کیا ایسا ہورہا ہے؟ کیا شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ہورہی ہے؟ کیا قانون سب کے لئے یکساں ہے؟ کیا پیداواری وسائل میں سب کا حصّہ ہے؟یا صرف چند حکمران ان پر قابض ہیں۔


جواب نفی میں ہے۔ پاکستانیوں کی اکثریت ہر طرح کے مسائل سے دوچار ہے۔ ہمارے پڑوسی ممالک بھی آگے نکل گئے ہیں۔ دُنیا کے ترقی یافتہ ممالک تو انسان کے تحفظ اور زندگی کی آسانیوں میں بہت تیز رفتاری سے متعلقہ مراحل طے کررہے ہیں۔ ان کے جدید علوم، تحقیق سب انسان کی ضرورتیں پوری کرنے کی حکمتِ عملی سے منسلک ہیں۔ کینیڈا، جاپان، برطانیہ، امریکہ، بیلجیم، فرانس، جرمنی وغیرہ جانے والے اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آتے ہیں کہ وہاں تعلیم، صحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں کتنی تحقیق کی گئی اور کتنی ترقی ہوئی ہے۔ ایک سسٹم وجود میں آگیا ہے۔ پورا معاشرہ یہ سمجھ گیا ہے کہ ہم سب قانون کی یکساں پیروی کریں گے، قواعد و ضوابط کا خود خیال رکھیں گے، گاڑیاں قانون کے مطابق چلائیں گے، تو کسی شہری کو کوئی شکایت نہیں ہوگی۔


قانون کا اطلاق جب سب کے لئے یکساں ہوتا ہے تو ایک مضبوط سسٹم ازخود تشکیل بھی ہوتا ہے اور اس کی بنیادیں مضبوط ہوتی چلی جاتی ہیں۔ ایک ریاست کی تکمیل کا مطلب اس کے سسٹم کی تکمیل اور اس کی پختگی ہے۔
ہماری مشکل یہی رہی ہے کہ ہم نے چند خاندانوں، چند شخصیتوں کو اتنا قد آور اور بااثر بنادیا ہے کہ وہ اکثریت کی پروا ہی نہیں کرتے۔ اپنے جائز اور ناجائز سرمائے اور اثاثوں کی بدولت ان کی زندگی میں تو امریکہ یورپ کے امراء سے بھی کہیں زیادہ آسائش میسر ہے۔ ان کا رہن سہن اور بلند ترین معیار زندگی دیکھ کر تو مغرب کے بڑے بڑے صنعتکار، تاجر اور بیورو کریٹ احساس کمتری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
قائد اعظم پاکستان کے بانی ہیں، بابائے قوم ہیں، ان کا جو بھی تصوّرِ پاکستان تھا، وہ سب کے نزدیک قابل قدر اور لائق تقلید ہے۔ اس تصوّر کو حقیقت بنانے سے ہی پاکستان کی تکمیل ہوسکتی ہے۔


’’ اس مجلس کے پہلے فریضے کے بارے میں‘ میں اس وقت کسی اچھی طرح غور کی گئی بات کا تو اعلان نہیں کرسکتا لیکن چند چیزیں میرے ذہن میں ہیں آپ کے سامنے پیش کئے دیتا ہوں۔ پہلی اور سب سے زیادہ اہم بات جو میں زور دے کر کہوں گا وہ یہ ہے، یاد رکھئے کہ آپ خود مختار قانون ساز ادارہ ہیں اور آپ کو جملہ اختیارات حاصل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یعنی آپ فیصلے کس طرح کرتے ہیں۔ پہلی بات جو میں کہنا چاہوں گا وہ یہ ہے اور بلا شبہ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ ایک حکومت کا پہلا فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھے تاکہ مملکت اپنے عوام کی جان و مال اور ان کے مذہبی عقائد کو مکمل طور پر تحفظ دے سکے۔
دوسری بات جو اس وقت میرے ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت ہندوستان جس بڑی لعنت میں مبتلا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ دُنیا کے دوسرے ممالک اس سے پاک ہیں، لیکن میں یہ کہوں گا کہ ہماری حالت بہت ہی خراب ہے، وہ رشوت ستانی اور بد عنوانی ہے۔ در اصل یہ ایک زہر ہے۔ ہمیں نہایت سختی سے اس کا قلع قمع کردینا چاہئے۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ اس سلسلے میں مناسب اقدامات کریں گے جتنی جلد اس اسمبلی کے لئے ایسا کرنا ممکن ہو۔


چور بازاری دوسری لعنت ہے۔ مجھے علم ہے کہ چور بازاری کرنے والے اکثر پکڑے جاتے ہیں اور سزا بھی پاتے ہیں۔ عدالتیں ان کے لئے قید کی سزائیں تجویز کرتی ہیں یا بعض اوقات ان پر صرف جرمانے کئے جاتے ہیں۔ اب آپ کو اس لعنت کا بھی خاتمہ کرنا ہوگا۔ موجودہ تکلیف دہ حالات میں جب ہمیں مسلسل خوراک کی قلت و دیگر ضروری اشیائے صَرف کی کمی کا سامنا کرناہے۔ لہٰذا چوربازاری معاشرے کے خلاف ایک بہت بڑا جرم ہے۔ جب کوئی شہری چوربازاری کرتا ہے تو میرے خیال میں وہ بڑے سے بڑے جرم سے بھی زیادہ گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہ چوری بازاری کرنے والے لوگ باخبر، ذہین اور عام طور سے ذمہ دار لوگ ہوتے ہیں اور جب یہ چوربازاری کرتے ہیں تو میرے خیال میں انہیں بہت کڑی سزا ملنی چاہئے کیونکہ یہ لوگ خوراک اور دیگر ضروری اشیائے صَرف کی باقاعدہ تقسیم کے نظام کو تہہ و بالا کردیتے ہیں اور اس طرح فاقہ کشی، احتیاج اور موت تک کا باعث بن جاتے ہیں۔
ایک اور بات جو فوری طور پر سامنے آتی ہے وہ ہے اقربا پروری اور احباب نوازی۔ یہ بھی ہمیں ورثے میں ملی، اور بہت سی اچھی بُری چیزوں کے ساتھ یہ لعنت بھی ہمارے حصے میں آئی۔ اس برائی کو بھی سختی سے کچل دینا ہوگا۔ یہ واضح کردوں کہ میں نہ احباب پروری اور اقربا نوازی کو برداشت کروں گا اور نہ ہی کسی اثر رسوخ کو جو مجھ پر بالواسطہ یا بلا واسطہ ڈالنے کی کوشش کی جائے گی قبول کروں گا۔ جہاں کہیں مجھے معلوم ہوا کہ یہ طریقہ کار رائج ہے خواہ یہ اعلیٰ سطح پر ہو یا ادنیٰ سطح پر یقینی طور پر میں اس کو گوارا نہیں کروں گا۔‘‘

(مجلس دستور ساز پاکستان کے اجلاس منعقدہ کراچی میں خطبۂ صدارت۔ 11اگست 1947ء)


ایک قوم کی پختگی اور تکمیل کی علامت اس کی اقتصادی ترقی بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے محل وقوع، اپنے قدرتی وسائل اور خام مال کو کس طرح استعمال کرتی ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ انیسویں اور بیسویں صدی میں بھی ہم اپنے خام مال کو ہی برآمد کرتے تھے۔ یہ فکر نہیں کرتے تھے کہ اس سے ہمارے لوگوں کی ضرورت کی کیا کیا اشیاء بن سکتی ہیں۔ ہم خود اپنے ہاں صنعتیں لگا کر اس خام مال کو مصنوعات میں تبدیل کرکے اسے اپنے استعمال میں بھی لائیں اور برآمد بھی کریں۔ جیسے ملائیشیا، جنوبی کوریا جیسے چھوٹے ممالک بھی کررہے ہیں اور چین جیسی صنعتی طاقت بھی۔


اس کے لئے بھی قائد اعظم نے 1948 میں ہی ہمیں ترقی کی راہ دکھائی تھی۔
’’ جناب وزیر خزانہ! آج آپ نے پاکستان کے سب سے پہلے سکّے اور نوٹ مجھے پیش کرکے جو عزت بخشی اس پر میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ نے اور آپ کی وزارت نے ہماری نوزائیدہ مملکت کے مالیاتی امور کو جس طریقے سے چلایا ہے اور انہیں جس انتھک انہماک کے ساتھ آپ نے محکم بنیاد پر استوار کیا ہے اس کے لئے میں اس موقع پر پاکستان کی حکومت اور اس کے عوام کی جانب سے کھلے دل سے تعریف کرتا ہوں۔ جب ہم نے پہلی بار خود مختار اور آزاد مملکت پاکستان کا مطالبہ کیا تو ایسے جھوٹے پیغمبروں کی کوئی کمی نہ تھی جنہوں نے یہ کہہ کر کہ پاکستان اقتصادی اعتبار سے قابل عمل نہیں ہوگا، ہمیں اپنی منزل مقصود سے برگشتہ کردینے کی کوشش کی۔ انہوں نے ہماری مملکت کے مستقبل اور اس کے مالیاتی اور اقتصادی استحکام کی انتہائی تاریک تصویر کھینچی۔ آپ کے پیش کردہ پہلے میزانیے سے ان جھوٹے پیغمبروں کو ضرور صدمہ پہنچا ہوگا۔ اس سے پہلے ہی پاکستان کے مالیاتی استحکام اور حکومت کی طرف سے اسے مستحکم اور مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار ہوگیا ہے۔ اگر چہ اس کے نتیجے میں ہمیں کسی حد تک مزید بوجھ بھی اٹھانا پڑا تاہم مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے عوام اپنی مملکت کو مستقبل قریب میں حقیقی معنوں میں ایک مضبوط اور مستحکم مملکت بنانے کے لئے قربانیوں سے دریغ نہیں کریں گے تاکہ ہم اپنے پروگرام، بالخصوص عوام کی فلاح و بہبود کے کام، کو زیادہ مؤثر بناسکیں اور سہولت سے چلاسکیں۔ مجھے اس امر میں کوئی شک نہیں کہ جب ہم اپنی انفرادی قوت اور خام مال کے وسیع ذرائع کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لائیں گے تو ایک درخشندہ مستقبل پاکستان کا منتظر ہوگا۔ وہ راہ جس پر ہمیں قدم رکھنا ہے ممکن ہے وہ فی الوقت کچھ کٹھن محسوس ہو لیکن حوصلے اور عزم صمیم کے ساتھ ہم اپنا مقصد حاصل کرکے رہیں گے وہ مقصد جو مستحکم اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کا ضامن ہے۔‘‘

(یکم اپریل 1945ء)


مکمل، مضبوط اور خود کفیل پاکستان کا تصوّر ظاہر ہے کہ قائد اعظم کے ذہن میں بالکل واضح تھا۔ وہ بار بار زور دیتے تھے کہ آپ میں سے ہر شخص خواہ وہ اس ملک کا پہلا شہری ہے یا دوسرا یا آخری۔ سب کے حقوق، مراعات اور فرائض مساوی ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ کس کا کس فرقے سے تعلق ہے اور ماضی میں اس کے آپ کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات تھے اور اس کا رنگ و نسل یا عقیدہ کیا ہے تو آپ جس قدر ترقی کریں گے اس کی کوئی انتہا نہیں ہوگی۔
قائد اعظم کے اس تصوّر کے بر عکس پاکستان میں فرقہ واریت اپنے عروج پر ہے۔ فرقہ واریت جان اور مال کے تحفظ میں رُکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ فرقوں کی بنیاد پر پاکستانی قتل کئے جارہے ہیں۔ روزگار سے محروم کئے جارہے ہیں۔ اس سے سبق یہی ملتا ہے کہ پاکستان کی تکمیل میں ایک بڑی اور خطرناک رُکاوٹ فرقہ پرستی ہے۔
پاکستان میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ لیکن دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو بھی اپنی شعائر، عبادات اور عبادت گاہوں کی آزادی ہے۔
قائد اعظم نے واضح کردیا تھا۔


’’اب آپ آزاد ہیں۔ اس مملکت پاکستان میں آپ آزاد ہیں، اپنے مندروں میں جائیں، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں۔ آپ کا کسی مذہب، ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو، کاروبار مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔جیسا کہ آپ کو تاریخ کے حوالے سے یہ علم ہوگا کہ انگلستان میں کچھ عرصہ قبل حالات اس سے بھی زیادہ ابتر تھے جیسے کہ آج ہندوستان میں پائے جاتے ہیں۔ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ نے ایک دوسرے پر ظلم ڈھائے۔ آج بھی ایسے ممالک موجود ہیں جہاں ایک مخصوص فرقے سے امتیاز برتا جاتا ہے اور ان پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم نے ایسے حالات میں سفر کا آغاز نہیں کیا ہے۔ ہم اس زمانے میں یہ ابتدا کررہے ہیں جب اس طرح کی تفریق روا نہیں رکھی جاتی۔ دو فرقوں کے مابین کوئی امتیاز نہیں۔ مختلف ذاتوں اور عقائد میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔ ہم اس بنیادی اصول کی ساتھ ابتدا کررہے ہیں کہ ہم سب شہری ہیں اور ایک مملکت کے یکساں شہری ہیں۔‘‘

(11اگست 1947ء)
قانون کے یکساں نفاذ، پیداواری وسائل تک سب کی یکساں رسائی، انصاف تک سب کی پہنچ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک معاشرے میں عدم مساوات ختم نہیں ہوتی۔ جاگیرداری، زمینداری، سرداری اور سرمایہ داری کا خاتمہ نہیں ہوجاتا۔ مراعات یافتہ طبقوں کو عام شہریوں کے برابر نہیں لایا جاتا۔ عدم توازن رکھنے والے معاشرے میں سارے انسان کبھی مطمئن نہیں ہوسکتے۔ سب کو تعلیم اور روزگار کے مواقع نہیں مل سکتے۔ سب کو علاج معالجے کی بہتر سہولتیں بلامعاوضہ نہیں مل سکتیں۔ یہ سہولتیں جب تک فراہم نہیں ہوں گی۔ تکمیلِ پاکستان نہیں ہوسکتی۔


اپنے شہریوں کو زندگی کی تمام مطلوبہ سہولتیں فراہم کرنا ہی ایک مکمل ریاست کی علامت ہوتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے قیام اور ہندوستان کی تقسیم کا ایجنڈا اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا جب تک کشمیر کے عوام کو اپنی مرضی سے جینے کا حق نہیں ملے گا، لیکن اس کے لئے صرف بیانات، صرف قراردادیں، صرف یوم سیاہ منالینا کافی نہیں ہے۔ اپنی تاریخ اسلام سے سبق حاصل کریں۔ ماضی قریب میں چین سے روشنی لیں کہ اس نے اپنے آپ کو طاقت ور کیا۔ اپنی معیشت کو بہتر کیا۔ دُنیا میں اپنی حیثیت منوائی تو ہانگ کانگ خود اس کی جھولی میں آگرا۔ اس نے ہانگ کانگ کو مسئلہ نہیں بنایا، وقت کا انتظار کیا۔ ہم اپنے آپ کو اقتصادی، اخلاقی اور علمی طور پر کمزور کرتے جارہے ہیں۔ بھارت اپنا تسلّط بڑھاتا جارہا ہے۔
پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بہت وسائل دئیے ہیں۔ مالی مشکلات دور کرنے کے لئے آئی ایم ایف کے پاس نہیں ریکوڈک میں جائیے۔ تانبا سونا نکالئے۔ عالمی بنک، ایشیائی ترقیاتی بنک سے بہت زیادہ سود پر قرضے لینے کی جگہ گیس، تیل کے ذخائر برآمد کریں۔ کے پی کے میں موجود قیمتی پتھروں کو تراش کر ہیرے بنائیے۔ اپنی زرعی پیداوار سے اپنی ضرورتیں بھی پوری کریں۔ جدید زرعی آلات سے فی ایکڑ حاصل بڑھائیے۔ دوسرے ملکوں کی اناج کی ضرورتیں بھی پوری کریں۔


پاکستان نوجوان ملک ہے۔ 60فیصد نوجوان آبادی ہمارا قیمتی اثاثہ ہے۔ جسے تربیت دے کر، و یلیو ایڈڈ بناکر، یورپ، جاپان میں بھیجیں۔ جہاں لوگوں کی بڑھتی عمر مسئلہ بن گئی ہے۔ نوجوان نہیں ہیں۔ تربیت یافتہ ہُنر مند نوجوان، کثیر زر مبادلہ بھیجنے کا وسیلہ بن سکتے ہیں۔ خود ہمیں بھی تربیت یافتہ نوجوانوں کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت بھی ایک بڑا اثاثہ ہے۔ ہم نے اسے طاقت کی بجائے کمزوری بنالیا ہے۔
اقبال کے خواب کی تعبیر، قائد اعظم کے مشن کی تکمیل، ایک مضبوط، طاقت ور اقتصادی پاکستان میں ہے۔ تکمیلِ پاکستان کے لئے ہمیں اسی طرح دن رات کام کرنا ہوگا۔ اس طرح قربانیاں دینا ہوں گی۔ وہی جذبہ درکار ہوگا جو تحریکِ پاکستان کے دوران تھا۔
پاکستان کشمیر کے بغیر مکمل نہیں ہے۔ پاکستان کو عالم اسلام کی قیادت کرنا ہے۔ اس کے لئے ہماری یونیورسٹیوں، ہماری سیاسی جماعتوں کو سوزو ساز رومی اور پیچ و تاب رازی اختیار کرنا ہوں گے۔


بیسویں صدی کے اوائل کے گرداب سے نکلیں۔ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں آئیں۔
نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
اقبال نے کہا تھا۔
یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دما دم صدائے کن فیکون


مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 123مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP