نقطۂ نظر

پاکستانیوں کے پانچ مزید سماجی رویے

کچھ عرصہ پہلے خاکسار نے پاکستانیوں کے پانچ سماجی رویے بیان کئے تھے ‘ اب ان رویوں نے مزید ترقی کرلی ہے‘ چنانچہ اس کا دوسرا ایڈیشن پیشِ خدمت ہے۔

1۔ دوسرے کے لئے کڑا معیار:

بطورِ پاکستانی ہم نے ہر معاملے میں دوسروں کے لئے خاصا کڑا معیار مقرر کر رکھا ہے۔ خود کو فرشتہ ثابت کرنے کی دھن میں ہم دوسروں کوشیطان ثابت کرنا عین عبادت سمجھتے ہیں۔ شرافت اور نجابت کا جو معیار ہم نے دوسروں کے لئے بنا رکھا ہے‘ بذاتِ خود ہم اس کے دسویں حصے پر بھی پورے نہیں اُترتے۔ حب الوطنی اور غداری کی سندیں تقسیم کرتے وقت ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جس بنیاد پر ہم یہ سرٹیفکیٹ بانٹ رہے ہیں اسی بنیاد پر اگر ہمارا اپنااحتساب کیا جائے تو ’’غداروں‘‘ کی فہرست میں ہمارا نام سب سے اوپر ’سنہری‘ حروف سے لکھا جا ئے گا۔ ہمارے نزدیک کسی بھی شخص کے بدعنوان ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے خلاف کوئی بے سرو پا الزام لگا کر ٹویٹ کر دی جائے اور دوسری طرف اگر ہم پر نیب بھی مقدمہ بنادے تو ہمیں معصوم اور پاکباز سمجھا جائے تاوقتیکہ سپریم کورٹ ہماری اپیل مسترد نہ کردے‘ اور خدانخواستہ اگر عدالتِ عظمیٰ ہمارے خلاف فیصلہ دے ڈالے تو اس صورت میں عدالت کا فیصلہ غلط ‘ ہم پھر بھی دودھ کے دُھلے ۔ ایسے ہی دوہرے معیار کے ایک صاحب سے اگلے روز ایک مجلس میں ملاقات ہوئی۔ فرمانے لگے کہ فلاں اخبار کا ایڈیٹر ملک دشمن ہے کیونکہ وہ امریکہ اور بھارت سے پیسے لے کر ان کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ جب ان سے کہا گیا کہ اگر ایسی بات ہے تو ثابت کیجئے‘ یوں بھی آج کل کے دور میں یہ نسبتاً آسان ہے کیونکہ جو کمپنی اس اخبار کی مالک ہے، اس کے شیئرز اور ڈائریکٹرز کی تفصیلات سکیورٹی اینڈ ایکس چینچ کمیشن آف پاکستان سے حاصل کی جاسکتی ہیں‘ اس کے علاوہ کمپنی کے بنک اکاؤنٹس سے بھی یہ معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں کہ اسے کہاں کہاں سے غیر ملکی امداد آتی ہے‘ اس بات کا تعین کرنے کے بعد ہی کسی نتیجے تک پہنچنے کا امکان ہوسکتا ہے تو اس کے جواب میں موصوف نے فرمایا کہ آپ ان نزاکتوں کو نہیں سمجھتے‘ غیر ملکی فنڈنگ یوں عام بنکوں کے ذریعے نہیں ہوتی‘ اس کے لئے ’’آف شور‘‘ اکاؤنٹس کھولے جاتے ہیں۔ اس خاکسار نے کہا کہ یقیناًآپ نے ان ’’آف شور‘‘ اکاؤنٹس کا پتا چلانے کے بعد عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہوگا‘ اسی لئے اس قطعیت کے ساتھ یہ بات کررہے ہیں۔ اس پر انہوں نے فقط اتنا کہا کہ برخوردار یہ باتیں عدالتوں میں ثابت نہیں کی جاتیں۔ میں نے جواباً کہا کہ اگر یہی الزام کوئی آپ پر عائد کرے تو اس صورت میں اسے من و عن تسلیم کرکے آپ کو ملک دشمن ڈیکلیئر کر دینا چاہئے کیونکہ بقول آپ کے اس کام کے لئے کسی عدالت میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں، اتنا سننا تھا کہ موصوف آپے سے باہر ہوگئے‘ عین ممکن تھا کہ وہ مجھے بھی ملک دشمنی کی سند عطا کر دیتے، میں نے یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ حضرت سینس آف ہیومر بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔

2۔رول ماڈلز کی تضحیک:

معاشرے میں گنے چُنے لوگ ہی رول ماڈلز ہوتے ہیں‘ زندہ معاشرے ان کی قدر کرتے ہیں۔ اپنی اولاد کو ان شخصیات کے بارے میںآگاہی دیتے ہیں‘ ان کی زندگی کے روشن پہلو سامنے لاتے ہیں اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی تلقین کرتے ہیں۔ لیکن ہمارا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ اول تو ہم کسی شخص کو علمی‘ اخلاقی یا دانش مندی کے اعتبار سے اپنے سے بہتر سمجھتے ہی نہیں‘ پھر بھی اگر ایسے کسی شخص کا معاشرے میں جادو سر چڑھ کر بول رہا ہو تو ہم اس کی شخصیت کے کیڑے تلاش کرنے میں جُت جاتے ہیں اورجب تک ہم اس کے اُجلے دامن پر چیونٹی جتنا رینگتا ہوا کوئی کیڑا نہ پکڑ لیں‘ ہمیں چین نہیں آتا ‘ چاہے ہماری اپنی قمیض پر مفادات کے سانپ ہی کیوں نہ رینگ رہے ہوں۔ کوئی رول ماڈل بھی فرشتہ

 

نہیں ہوتا‘ اس میں بھی بشری کمزوریاں ہوتی ہیں‘ لیکن ہمارے جیسے معاشروں میں جہاں پہلے ہی قحط الرجال ہے، وہاں ان رول ماڈلز کی کردار کشی کرنا ہمارے پست ذہنی رویوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کی وجہ نہایت دلچسپ ہے‘ بطورِ قوم ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ کوئی شخص نظریاتی بھی ہو سکتا ہے‘ بغیر مفاد کے سیاسی جمہوری نظام کی حمایت کرسکتا ہے یا کسی غیر ملکی این جی او سے فنڈ لئے بغیر روشن خیال ہو سکتا ہے‘ کیونکہ ان سے کوئی بھی کام ہم نے خود بغیر پیسوں یا مفاد کے کبھی کیا ہی نہیں ہوتا۔ لہٰذا ہم یہ سوچ ہی نہیں سکتے کہ اس ملک میں نظریاتی لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو ذاتی مفاد سے بالا کر ہو کر کام کرتے ہیں‘ اس سے ہماری انا کو سخت ٹھیس پہنچتی ہے چنانچہ رد عمل میں ہم اس شخص کی کردار کشی میں لگ جاتے ہیں جس کے آگے ہماری اوقات ایک بونے سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اس رویے کی ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ ایسے تمام نظریاتی لوگ کسی قومی معاملے پر دو ٹوک موقف اپنانے سے نہیں گھبراتے اور جب کسی معاملے پر واضح پوزیشن لی جاتی ہے تو لامحالہ مخالفین کو گراں گزرتا ہے اور جب اُنہیں گراں گزرتا ہے تو وہ ایک آسان راستہ چنتے ہیں اور وہ راستہ ہے کیچڑاچھالنے کا‘ اس سے ان کی انا کو تسکین تو مل جاتی ہے مگر ملک کا چہرہ مسخ ہوجاتا ہے۔

3۔محبت میں بہت ڈیمانڈنگ ہیں:

یوں تو ہر انسان ہی محبت کا طالب ہے‘ لیکن ہم پاکستانی اپنی ذات کے لئے تو شدید محبت کے طلب گار ہیں مگر جواباً محبت نبھانے میں محنت کے قائل نہیں۔ محبت کرنا آسان ہے مگر اسے نبھانا بے حد مشکل۔ اظہار محبت کے بعد ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا کام ختم‘ ایک دفعہ کہہ جو دیا کہ مجھے تم سے محبت ہے‘ بس اس پر یقین کرلو‘ ہر مرتبہ نئے سرے سے ثابت کرنے کی کیا ضرورت ! محبت نبھانے کے لئے محنت ضرورکرنی پڑتی ہے اور محنت زیادہ تر پاکستانیوں کی گٹُھی میں ہے نہیں‘ شروع شروع میں جب جذبہ جوان ہوتا ہے تو پاکستانی عاشق محبت میں جان مارتے ہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ عاشق اپنے محبوب کو ایزی لینا شروع کردیتے ہیں اور پھر ایک دن انہیں پتا چلتا ہے کہ محبوب نے ان کی محبت پر اعتبار کرنا چھوڑ دیا ہے‘ عاشق کے لئے وہ دن قیامت کا ہوتا ہے۔الغرض دوسروں سے بے جا توقعات اور امیدیں وابستہ کر لی جاتی ہیں۔ نتیجتاً مایوسی سے ہوتے ہوئے غیبت و تنقید کے میدان میں کھیل کھیلے جاتے ہیں

4۔عدمِ برداشت:

پاکستانیوں کے سماجی رویوں میں سب سے خطرناک رویہ عدمِ برداشت کا ہے جو گزشتہ چند سالوں میں بہت تیزی سے پروان چڑھا ہے‘ مذہبی نقطۂ نظر سے اختلافِ رائے تو دور کی بات اب تو ہمارے معاشرے میں سیاسی اختلافِ رائے پر بھی ایسا ردِ عمل سننے کو ملتا ہے جو ناقابلِ بیان ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ردِ عمل ایسے لوگوں کی طرف سے آتا ہے جن کے بارے میں ہمیں خوش فہمی تھی کہ وہ پڑھے لکھے اور مہذب ہیں‘ سوشل میڈیا پر یہ نام نہاد برگر کلاس جس کی قسم زبان استعمال کرتی ہے‘ گلی محلوں میں پروان چڑھنے والے اوباش لوگ بھی شائد ایسے نہیں کرتے ہوں گے۔

5۔خود کو عقل مند سمجھنا:

ہم پاکستانی خود کو بہت سیانا اور دوسرے کو بالکل چغد سمجھتے ہیں۔ ہمارا یہ سماجی رویہ روز مرہ گفتگو میں بے حد نمایاں ہے۔ ہمیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہو پاتا کہ جوں جوں ہم گفتگو کرتے ہیں توں توں ہم اپنے آپ کو دوسروں پر آشکار کرتے چلے جاتے ہیں اور یوں جو لبادہ ہم نے اوڑھا ہوتا ہے وہ چند منٹ کی گفتگو میں ہی اتر جاتا ہے۔ ہماری ہر حرکت اور زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ ہمیں دوسروں کے سامنے ایکسپوز کرتا ہے مگر ہم چونکہ اپنی ذات میں ہی انجمن ہیں اس لئے ہمیں اس کا ادراک ہی نہیں ہو پاتا۔ دنیا بہت سیانی ہے‘ ہم جتنی بھی کوشش کرلیں‘ ظاہر اور باطن آشکار ہو ہی جاتا ہے۔


مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

 [email protected]

یہ تحریر 64مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP