متفرقات

پاکستان، بلوچستان اور نوجوان

چند دن پہلے بلوچستان کے ایک اہم سردار کی فاتحہ کے لئے ان کے صاحبزادے کے پاس اُن کے گھر گیا۔ کئی درجن اسلحہ بردار گن مین تو باہر گلی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنی ہی تعداد ان کی رہائش گاہ کے اندر تھی۔ ان کی گلی کو دونوں طرف سے بیرئیرلگاکربند کیاہوا تھا۔ میں واپس آکر کئی گھنٹے اس سوچ میں ڈوبا رہا کہ یہ کیسی زندگی ہے ۔ بلوچستان میں ایسا ماحول کس نے پیدا کیا؟ کیوں یہاں اکثر وہ شخص بڑا سردار یا بڑا نواب سمجھا جا تا ہے جس کے دربار میں بہت زیادہ گن مین ہوں۔ میلے اور گندے کپڑوں میں ملبوس ، بڑھے ہوئے بالوں اور داڑھیوں والے لوگ بیٹھے ہوں اور جب وہ سفر کرے تو اس کے ساتھ گاڑیوں کا ایک طویل قافلہ ہو؟ تاہم یہ امر باعثِ تقویت ہے کہ اسی صوبے میں سے بہت سے لوگ یا سیاستدان بھرپور سیاست بھی کر رہے ہیں۔ سینیٹر ، ممبر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی بھی ہیں ان کے گھر پر نہ تو گن مین ہیں اور نہ ہی ان کی گاڑیوں کے ساتھ اسلحہ برداروں سے بھری ہوئی گاڑیوں کے قافلے ہیں ۔ میں نے کوئٹہ اور بلوچستان کے متعلق بہت خوفناک باتیں سن رکھی تھیں۔ وہ کسی حد تک حقیقت پر مبنی بھی تھیں۔یونیورسٹیوں میں طلباء کے کچھ ایسے گروہ کا م کر رہے تھے جوغریب والدین کی آس ، اُمیدوں پر پانی پھیر کردہشت گرد تنظیموں کے آلہ کاربن گئے۔ یہ لوگ دوسرے صوبوں کے طلبأ کے ساتھ جھگڑے کرتے بلکہ ان پر تشدد کرتے تووہ بے چارے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر اپنے اپنے صوبوں کو واپس چلے جاتے۔ ان لڑکوں کا مستقبل تباہ کردیا جاتالیکن اس مرتبہ جب میں کوئٹہ سے واپس آیا ہوں تو میں انقلابی تبدیلی محسوس کررہا ہوں۔میں کوئٹہ شہرکی گلی گلی گھوما،مختلف دکانداروں سے ملا، جب تک سیاح کسی بھی شہر یاملک میں جاکر خود ذاتی طور پر اس کی گلیوں میں جاکر گرد نہیں چھانتا۔ وہ وہاں کے حالات پر کچھ اظہار نہیں کرسکتا۔ پھر ملک بھر میں (اسلام آباد سمیت) میں یہ بات مشہور کردی گئی ہے کہ شایدبلوچستان کے لوگ پاک فوج سے یا تو نفرت کرتے ہیں اور یا پھر وہ فوج سے ڈرتے ہیں تاہم کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 80 فی صد علاقے میں‘ میں نے مختلف صورت حال دیکھی۔ بلوچستان اور پاکستان کا مستقبل، طالبعلموں کا پاکستان اور پاک فوج سے دلی اور گہری محبت کا عملی جذبہ دیکھا۔میجر جنرل آفتاب احمدنے چند دن پہلے بتایا تھا کہ فلاں تاریخ کو بلوچستان یورنیورسٹی کوئٹہ کے ایک ہزار طلبااور طالبا ت کوئٹہ کینٹ کے اندر شہداء کی یادگار پر پھول رکھنے اور عقیدت کا اظہار کرنے آرہے ہیں۔ میرے لئے یہ خبربھی کسی اچنبھے سے کم نہ تھی ۔ اس یورنیورسٹی کے طالب علم جن کے متعلق ہم کیاکیا سن رہے ہیں۔بہرحال میں بتائے ہوئے وقت کے مطابق وہاں پہنچ گیا۔ جب طلباء اور طالبات وہاں پہنچے تو ملی اور قومی نغموں پر شہدا ء کی محبت کے جذبات ان کے چہروں اور ان کی آنکھوں کی چمک میں تھے۔ پھرجب ان کو یادگارپر پھول چڑھانے کی اجازت ملی تو انہوں نے اپنی محبت سے پھولوں کے انبار لگا دےئے۔ یہ تقریب پھول چڑھانے اور جنرل ناصر خان جنجوعہ(سابقہ کمانڈر جنوبی کمانڈ) کی تقریر کے بعد صبح دس بجے ختم ہوگئی۔پھر تمام طلبا و طالبات وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی ڈاکٹر جاوید اقبال اور جی او سی جنرل آفتاب کے ہمراہ فوجی ٹریننگ کیمپ پہنچے جہاں پورا فوجی جنگی سامان بمعہ گولہ بارود موجود تھا۔تمام نوجوانوں کو اجازت دی گئی کہ ان جدید ترین ہتھیاروں کے متعلق پوچھیں، سیکھیں بلکہ کئی طالبات ٹینکوں پر سوار ہوگئیں اور پھر ٹینکوں کو پوری رفتار سے اس جنگی میدان میں دوڑایا گیا۔ تمام طالب علموں نے ایک ایک چیز میں پوری دلچسپی لی۔ اس کو دیکھنے میں کم وبیش چار گھنٹے صرف ہوئے ہوں گے۔ اس کے بعد فوجی جوانوں کی جسمانی اور جنگی مہارت کا عملی مظاہرہ دکھایا گیا۔ طلبأ اور طالبات کو لوڈڈ ہتھیار تھمائے گئے تاکہ وہ نشانہ بازی کرسکیں۔ اس میں طالبات نے جس خود اعتمادی اور بے خوفی سے فائرنگ کی وہ اپنی جگہ ایک کمال تھا۔ کیونکہ اس سے پہلے انہوں نے کبھی ٹریننگ نہیں کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے توپ کے گولے بھی فائر کئے ۔اتنی ساری تفصیل لکھنے کا صرف مقصد یہ تھاکہ یہ جو 1000 طالب علموں کا گروہ آیا ہو ا تھایہ انتہائی منظم اور بااخلاق تھے۔ کبھی کبھارطلباء اور طالبات کے گروپ وطن سے محبت اور جوشِ جذبات میں علیحدہ علیحدہ والہانہ رقص بھی کررہے تھے۔ لیکن کوئی بھی لڑکا طالبات کی طرف منفی طور پر متوجہ نہیں تھا۔ جوان طالب علموں نے نظم وضبط کا بے پناہ مظاہرہ کیا۔ ایسا محسوس ہوا جیسا ان سے زیادہ وطن سے محبت کرنے والا کوئی نہیں۔ خاص طور پر سٹیج سیکرٹری جب فوج کے لئے کوئی جذباتی شعر کہتا تو بلوچستان کے پہاڑوں سے بھی یہ گونج آتی ۔’’پاک فوج زندہ باد۔ ہم پاک فوج کے ساتھ ہیں‘‘۔ جب بلوچستان کا مخصوص نغمہ’’ جیوے جیوے بلوچستان ، جیوے جیوے پاکستان‘‘ شروع ہوا تو تمام طالبات اور طلباء نے پاکستان کے جھنڈے لہرا کر ساتھ ساتھ یہ نغمہ گنگنایا ۔ جنرل ناصر خان جنجوعہ نے تقریب کے اختتام پر انتہائی پراثر تقریر کی ۔فوجی تقریبات میں اکثر لکھی ہوئی تقریرکی جاتی ہے لیکن جنرل ناصر خان نے گزشتہ دس تقریبات میں کوئی بھی تقریر لکھی ہوئی نہیں کی تھی۔ فی البدیہہ تقریر میں مزاح بھی ہوتا ہے، سنجیدگی بھی اور سبق بھی۔ یہاں بھی جب انہوں نے کہا کہ ’’ بچو تم پاکستان اور بلوچستان کا مستقبل ہو۔ وہ بھی ہمارے بچے ہیں جو گمراہ ہو کر پہاڑوں پر چلے گئے ہیں۔ ان کو بھی کہو وہ واپس آجائیں۔ اس پُر امن معاشرے کا حصہ بنیں ۔اس ملک کو سنواریں‘‘ ۔ تو اس وقت بلوچستان یونیورسٹی کے ایک ہزار طلباء و طالبات نے ایک ساتھ بلند آواز میں کہا۔’’ہم انہیں کھینچ کر نیچے لائیں گے‘‘۔بلوچستان میں بہت بڑی تبدیلی آچکی ہے۔نوجوان نسل بہت حد تک پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں کے عزائم سے آگاہ ہو چکی ہے اور اسی نوجوان نسل کی طرف سے پور ے بلوچستان میں انتہائی مثبت پیغام جارہا ہے۔ نوجوانوں کے دلوں میں پاکستان اور پاک فوج کی محبت کا راستہ تلاش کرنے میں پاک فوج کی جنوبی کمانڈ اور ایف سی نے اہم کردار ادا کیا۔ لیکن اس کے باوجود بلوچستان کے کچھ اضلاع ایسے ہیں جہاں دہشت گردوں کے خلاف سخت آپریشن کی مزید ضرورت ہے اور ان علاقوں کے تعلیمی اداروں تک بھی پاکستان اور پاک فوج کی محبت پہنچانے کی ضرورت ہے۔ ان غریب لوگوں کے دلوں سے بھی دشمن کے ذریعے پھیلایا ہوا پاک فوج کا ان دیکھا خوف نکالنے کی ضرورت ہے۔

 

جب بلوچستان میں تبدیلی کا ذکر کیا جائے تو اس میں پاک فوج کے بعد ایف سی کے کردارکو اُجاگر کرناضروری ہے۔ایف سی کے جونئیر سپاہی سے لے کر آئی جی ایف سی میجر جنرل شیر افگن تک سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ان کے خیالات سننے اور پرکھنے کا موقع ملا۔ایف سی کا ہر فرد بلوچستان میں امن کے قیام کو اپنی اولین ترجیح سمجھتا ہے۔پورے صوبے میں دن رات گشت، خاص کر ریلوے کی طویل ترین لائین کے ساتھ بھی بلوچستان کے لوگوں کی حفاظت کے لئے کندھوں پر بارود اور اسلحہ اٹھائے ایف سی کے جوان پہرہ دے رہے ہیں۔کوئٹہ شہر کے اندر بھی تھوڑے تھوڑے فاصلے پر چوکیاں لگائے جان ہتھیلی پر رکھ کر بلوچستان کے پر امن شہریوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔آئی جی ایف سی جنرل شیر افگن ایک دلیر، فرض شناس اور معاملہ فہم انسان ہیں۔انہوں نے اپنی جرأت مندانہ قیادت سے ایف سی کے ہر جوان کے دل و دماغ میں وطن کی محبت کا نیا جذبہ پیدا کیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ عوام دوستی میں وہ کمال مہارت رکھتے ہیں۔اب رات کو کوئٹہ شہر سے 20/30کلومیٹر دور بڑے بڑے ہوٹل کھلے رہتے ہیں۔جن پر بلوچستان کی معروف ڈشز روش اور سجی دستیاب ہوتی ہیں۔بلوچستان کی معزز ترین فیملیز اپنے بچوں اور پورے پورے خاندان کے ساتھ جا کر رات دیر تک بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔وہاں ملنے والے لوگوں سے جب یہ سوال پوچھا جائے کہ اتنی دیر تک گھر سے باہر رہنے پر آپ کو ڈر نہیں لگتا تو وہ بڑے فخر سے بے خوف ہو کر کہتے ہیں کہ پاک فوج اور ایف سی کی موجودگی میں کسی کی جرأ ت نہیں ہے کہ ہمیں نقصان پہنچا سکے۔ وہ اب فوج اور ایف سی کو اپنا سب سے بڑ ا محافظ سمجھتے ہیں۔فوج اور عوام کے درمیان فاصلے کم ہوئے اور رابطے بڑھے ہیں۔سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ بلوچستان خصوصاً کوئٹہ کا تاجر یہ سمجھ چکا ہے کہ ملک بھر بلکہ بین الاقوامی سطح پر ہمارا غلط امیج پیش کر کے ہمارے کاروبار کو تباہ کر دیا گیاہے۔ پاکستان کے اندر بھی ہمارے کاروباری تعلقات نہ ہونے کے برابر ہیں۔اب کوئٹہ چیمبرز آف کامرس کے نمائندے بڑے تجارتی مراکز کراچی، لاہور، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کے تجارتی نمائندوں سے مل کر اپنے کاروبار کو وسیع کر رہے ہیں۔ایسی تجارت جس کا موسم کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے۔مثلاً کمبل، گرم کپڑا، فریج، اے سی،پنکھے اور واشنگ مشین وغیرہ کروڑوں کے حساب سے کاروباری حضرات کوئٹہ والوں کو کریڈٹ پر دیناشروع ہو گئے ہیں۔کاروباری طبقے نے اپنی کاروباری ضرورتوں اور فوج کے فرائض کو سمجھتے اور محسوس کرتے ہوئے یہ تاثر دیا ہے کہ ہمارے صوبے کا غلط امیج پیش کرنے والی تیسری طاقت یعنی بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ اور اس کے پیرو کار ہیں۔ آج ایف سی یا فوج کے اہلکار کوئٹہ شہر میں ذاتی کام سے جائیں یا گشت پر جائیں تو کوئٹہ کے لوگ ان کا اسی طرح والہانہ انداز میں استقبال کرتے ہیں جس طرح 1965ء کی جنگ میں پاکستانی عوام کے دلوں میں فوج کی محبت اور پیار کا جذبہ تھا۔

 

بلوچستان کی تجارت کو مزید وسعت دینے کے لئے بلوچی کاروباری طبقے کی سہولتوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔سب سے پہلے کوئٹہ سے کراچی، لاہور او راسلام آباد کے ہوائی سفر کو سستا کرنے کے ساتھ ساتھ پروازوں میں اضافہ کیا جائے۔ بلوچستان کے چھوٹے کاروباری طبقے کی ان بڑے شہروں کے تجارتی مراکز تک رسائی آسان بنائی جائے ۔ پاک فوج اور ایف سی نے مل کر بلوچستان کے عوام کے دلوں میں محبت کے پودے اُگا دئیے ہیں۔بلوچستان کے عوام سمجھ چکے ہیں کہ ہمارے اندر دشمن ملک کی سازشیں دم توڑ چکی ہیں،اب ہم نے ترقی کرنی ہے۔ کوئٹہ تین ملکوں پاکستان، افغانستان اور ایران کے سنگم پر واقع ہے اور پھر اب تو سونے پر سہاگہ کہ سی پیک اقتصادی راہداری منصوبے کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔ اب بلوچستان دیکھتے ہی دیکھتے دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرے گا۔لیکن اس کے لئے بلوچستان کے عوام کو اپنے اندر چھپے دشمن کے ایجنٹوں اور ان کے آلۂ کاروں پر اور دشمن ملک کے منفی پروپیگینڈے پر سخت نظر رکھنی ہوگی۔ان کی اطلاع فوری طور پر قانون نافذ کرنے والوں کو دینی ہوگی۔اب وہ وقت چلا گیا کہ دہشت گرد اطلاع کاروں کو نشانہ بنا سکیں ۔ خاص طور پر ایسے لوگوں کی اطلاع ایف سی کے اعلیٰ افسران تک ضرور پہنچائیں۔میں بلوچستان میں ایف سی اورفوج کی بہترین کارکردگی کو دیکھتے ہوئے بڑے وثوق سے یہ لکھ رہا ہوں کہ بلوچستان تبدیل ہو چکا ہے وہاں ترقی کا انقلاب آنے والا ہے،بلوچستان کا روشن مستقبل نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔


[email protected] مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں۔

یہ تحریر 53مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP