متفرقات

پانی کو ترستی روہی!

اے رہین خانہ تو نے وہ سماں دیکھا نہیں
گونجتی ہے جب فضائے دشت میں بانگ رحیل
ریت کے ٹیلے پہ وہ آہو کا بے پروا خرام
وہ حضر بے برگ و ساماں وہ سفر بے سنگ و میل
(علامہ محمد اقبال)

صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔۔۔اور اسی لیے اس نے کائنات کے ذرے ذرے میں حسن رکھ دیا ہے۔۔۔لیکن اس حسن کو آشکار ہر آنکھ پہ نہیں کرتا۔۔۔صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں، کے مصداق  اس کا جلوہ ہر قطرے میں عیاں ہے لیکن چشم انساں پہ آ شکاری دل انساں کی طلب سے مشروط رکھی ہے۔۔۔کسی کو دنیا کی چھت پہ کھڑے ہو کر بھی نیچے ویرانیاں ہی دکھائی دیتی ہیں اور کسی کو ویرانیوں میں بھی آبادیاں دکھائی دے جاتی ہیں۔۔۔یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔۔۔وطن عزیز کو رب کعبہ نے اتنا حسن عطا کیا ہے کہ عقل دنگ ہے۔۔۔بلند و بالا برف پوش پربت ہوں یا پل پل رنگ بدلتے دریا۔۔۔گہرے گرم پانیوں کے سمندر کے حسین ساحل ہوں یا لق و دق صحرا۔۔۔یہ دھرتی ہر روپ میں بے مثال ہے ہر رنگ اس کا نیارہ۔۔۔

زمین کا تقریبا ایک تہائی حصہ صحرائوں پہ مشتمل ہے جبکہ وطن عزیز کا دس فیصد رقبہ ریگستانی ہے۔۔۔پاکستان کے مشہور صحراؤں میں سندھ میں صحرائے تھر، بلوچستان میں صحرائے خاران، پنجاب کے ضلع بھکر میں صحرائے تھل ، بہاولپور میں صحرائے چولستان جبکہ سکردو گلگت بلتستان میں سرد صحرا صحرائے کت پنا شامل ہیں۔



چولستان کا نام ترکی زبان کے لفظ چول سے ماخوذ ہے جس کا مفہوم ہے ریت۔۔۔کم و بیش چھیاسٹھ لاکھ پچپن ہزار ایکڑ پر پھیلے ہوئے صحرائے چولستان کا شمار دنیا کے بڑے صحراؤں میں ہوتا ہے۔۔۔اس صحرا کا طول  چار سو اسی کلومیٹر ہے جبکہ عرض بعض مقامات پر بتیس کلومیٹر اور بعض پر ایک سو بانوے کلومیٹر ہے۔۔۔اس کے بعض ٹیلوں کی اونچائی دو سو میٹر تک ہے۔۔۔اور یہ ٹیلے صحرائی ہواؤں سے ہمہ وقت اپنی جگہ اور شکل بدلتے رہتے ہیں۔۔۔ان بدلتے ٹیلوں کی مانند چولستان کے باسی بھی اپنی جگہ مسلسل بدلتے رہتے ہیں۔۔۔یہاں کے مکینوں کی زندگی تقریبا خانہ بدوشوں جیسی ہے۔۔۔پانی کے ساتھ ساتھ سفر کرتے یہ لوگ کسی ایک جگہ پہ مستقل قیام نہیں کرتے۔۔۔ان کا سب سے طویل قیام پانی کے بڑے ذخیرے کے آس پاس ہوتا ہے اور اس ذخیرے کے پانی ختم ہونے کے ساتھ ہی یہ قیام پانی کے کسی نئے ذخیرے کی تلاش پہ منتج ہوتا ہے۔۔۔اور یوں روہی کی سنہری ریت پر رنگین آنچلوں اور پگڑیوں کا سفر جاری رہتا ہے۔۔۔
ایک زمانہ تھا۔۔۔کم و بیش چار ہزار سال پیشتر کا زمانہ۔۔۔جب بہاولپور حاصل ساڑھو ہوا کرتا تھااور صادق آباد کو دنیا کوٹ سبزل کے نام سے جانتی تھی۔۔۔اور یہ سارا خطہ زرخیزی میں اپنی مثال آپ ہوا کرتا تھا۔۔۔ہمالیہ کی سفید برفیں جب پگھلتی تھیں تو اس کے چاندی جیسے شفاف پانی اس خطے میں سونا اگاتے تھے۔۔۔۔تب روہی کے وسط میں دریائے سرسوتی کی راجدھانی تھی۔۔۔وہی سرسوتی جسے آج دریائے ہاکڑہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔۔۔اور اسی دریا کو سرحد پار بھارت میں دریائے گھاگھرہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔۔۔۔تب روہی کے باسی حاصل ساڑھو سے لے کر کوٹ سبزل تک پھیلے وسیع و عریض ریت کے اونچے نیچے سنہری ٹیلوں پر تربوز کے بیج ڈال دیتے تھے۔۔۔۔اور جب ساون ٹوٹ کے برستا تھا تو ہر ٹوبہ (پانی زخیرہ کرنے کا تالاب) پانی سے بھر جاتا تھا۔۔۔ہر سو ہریاول ہی ہریاول ہو جاتی تھی۔۔۔کیا انسان کیا جانور کیا چرند پرند سب مل کر تربوز پارٹی کیا کرتے تھے۔۔۔۔بارشیں اتنی زیادہ برستی تھیں کہ بڑی بوڑھیاں بارش کے رکنے کے لیے منتیں مانتی تھی۔۔۔ایک مشہورلوک داستان کے مطابق جب روہی میں ساون کھل کے برستا تھا تو اس کے تھم جانے کے لیے بزرگ عورتیں کپڑے کا ایک گڈا بنا کر اس کی پشت پہ مختلف اناج کی پوٹلیاں باندھ کر دروازے سے لٹکا دیا کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ اللہ سوہنے اس مسافر نے سفر پہ جانا ہے لیکن بارش بہت تیز ہے اس مسافر کے واسطے بارش روک دے اور کہتے ہیں کہ اس گڈے کی پشت پہ بندھی اناج کی پوٹلیوں میں سے گڑ والی پوٹلی ابھی پوری گھلتی بھی نہ تھی کہ بارش رک جاتی تھی۔۔۔۔وہ زمانہ روہی کے شباب کا زمانہ تھا۔۔۔جہاں ہر سو محبتوں کا موسم تھا۔۔۔ہریاول تھی۔۔۔پانی تھا۔۔۔زندگی تھی۔۔۔

دیکھا جائے تو صحرا میں زندگی کسی صورت آسان نہیں ہوتی۔۔۔لیکن یہاں کے باشندے خانہ بدوش ہو کر بھی صحرا نہیں چھوڑتے۔۔۔اس مٹی کی محبت ان میں اس حد تک رچی بسی ہے کہ ان کے قدم صحرا کے اندر تو اپنے ٹھکانے مسلسل بدلتے رہتے ہیں لیکن کبھی اس صحرا سے باہر نہیں جاتے۔۔۔یہ اپنی زمین سے عشق ہی ہے جو ان خانہ بدوشوں کو بنا پانی و بنیادی سہولیات اس لق و دق صحرا میں زندہ رکھے ہوئے ہے۔

یہاں کے لوگ بہت محنت کش ہیں۔۔۔اور اکثریت آبادی کا انحصار مال مویشی پالنے پر ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں اٹھارہ لاکھ سے زائد مویشی ہیں۔۔۔یہ لوگ اون سے کمبل اور قالین بناتے ہیں اور ان کا شمار دنیا کے بہترین قالینوں میںہوتا ہے۔۔۔یہاں کے بنے مٹی کے برتن بہترین ظروف مانے جاتے ہیں۔۔۔بیش قیمت نوادرات کی بات ہو، فنون لطیفہ کا تذکرہ ہو یا قیمتی ثقافتی ورثے کا ذکر ،چولستان میں سب وافر مقدار میں موجود ہے۔۔۔۔اس خطے کی تہذیب صدیوں پرانی ہے جو اس صحرا کی ریت میں مٹ چکے نشانوں کی صورت بکھری پڑی ہے۔۔۔لوچ دار آواز روہی واسیوں کی پہچان ہے۔۔۔شاید ہی کوئی شام ایسی اترتی ہو جب اس صحرا میں کوئی درد بھری موسیقی کی تال نہ گونجتی ہو۔۔۔بقول محسن نقوی

یوں تیری یاد دل میں اتری ہے
جیسے جگنو ہوا میں کھو جائے 
جیسے 'روہی'کے سرد ٹیلوں میں 
اک مسافر کو رات ہو جائے

اور روہی کے سرد ٹیلوں میں مسافر کو رات کیا اگر بھری دوپہر بھی ہو جائے تو اجنبی مسافر راستہ بھٹک جاتا ہے۔۔۔۔اور صحرا میں اگر کوئی راستہ بھول جائے تو صحرا کی وحشت ہر سانس کے ساتھ روح تک اتر جاتی ہے۔۔۔روہیلوں کی روایت ہے کہ جب کوئی راستہ بھول جاتا ہے تو اپنی رنگین پگڑی کسی بلند جھاڑی یا درخت پہ باندھ دیتا ہے جو ہوا کے زورسے لہراتی ہے اور دوور دوور تک نظر آتی ہے۔۔۔یہ ایک طرح سے دیکھنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے کہ کوئی راستہ بھٹک گیا ہے اور مصیبت میں ہے۔۔۔دیکھنے والے جلد از جلد اس بھٹکے ہوئے راہی تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کوئی دیکھنے والا بھی تو ہو۔۔۔

ہفت زبان شاعر و صوفی بزرگ اور سرائیکی زباں کے رومی خواجہ غلام فرید کا روہی جسے آج دنیا صحرائے چولستان کے نام سے جانتی ہے، ہمیشہ سے یوں بے آب و گیاہ برباد نہ تھا۔۔۔ایک وقت میں اس کی آبادیاں عروج پہ تھیں۔۔۔دریا روٹھ جائے تو زندگی روٹھ جاتی ہے۔۔۔نخلستان یک دمبے آب و گیاہ صحرا نہیں بنتے۔۔۔ان کے اجڑنے میں زمانے لگتے ہیں۔۔۔اور یہ کسی ایک نسل کا شاخسانہ نہیں ہوتا۔۔۔بہت سی نسلوں کی بے حسی و خاموشی شامل ہوتی ہے۔۔۔اور پھر اس کا خمیازہ بھی نسلوں تک بھگتنا پڑتا ہے۔۔۔جرم میں شامل نسلوں سے زائد نسلوں کو اس کا کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے۔۔۔اور کچھ کفارے بہت بھاری ہوتے ہیں۔۔۔بقول خوا جہ غلام فرید
دلڑی لٹی تئیں یار سجن
کدیں موڑ مہاراں تے آ وطن
روہی دے کنڈڑے کالیاں
میڈیاں ڈکھن کناں دیاں والیاں
اساں راتاں ڈکہاں وچ جالیاں
روہی بنائوئی چا وطن
روہی دی عجب بہار دسے
جتھے میں نمانی دا یار ڈسے
جتہاں عاشق لکھ ہزار ڈسے
اتہاں میں مسافر بے وطن
دلڑی لٹی تئیں یار سجن
کدیں موڑ مہاراں تے آ سجن

اپنی لوچ دار آواز سے شہر میں صحرا بسانے والی ریشماں کے روہی میں موت کا سنگیت جاری ہے۔۔۔زندگی نوحہ کناں ہے۔۔۔۔ایک محتاط اندازے کے مطابق یہاں کے نوے فیصد ٹوبے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں۔۔۔اور ساون سر پر ہے اگر اس بار بھی ان ٹوبوں کو مرمت نہ کیا گیا یا ان کا متبادل نہ ڈھونڈا گیا تو خشک سالی کا شکار چولستان میں زندگی مزید بدتر ہو جائے گی۔۔۔

پانی زندگی ہے۔۔۔۔اورروہی میں زندگی لمحہ لمحہ قطرہ قطرہ مر رہی ہے۔۔۔ چولستان میں خشک سالی کے سبب قحط کا سماں رہتا ہے۔۔۔۔درختوں کا بے دریغ کٹائو۔۔۔موسمیاتی تغیر۔۔۔۔اور روٹھا ساون۔۔۔اس سمیت بہت سی وجوہات ہیں جن کے سبب آج چولستان جل رہا ہے۔۔۔لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔۔۔۔مال مویشی مر رہے ہیں۔۔۔۔جب تک جنگلات نہیں ہوں گے موسم ایسے ہی شدید تر ہوتے رہیں گے۔۔۔بن موسم تو کیا موسمی بادل بھی بنا برسے گزرتے رہیں گے۔۔۔۔اور لوگ یونہی پانی کو ترستے رہیں گے۔۔۔۔اس مسئلے کا مستقل حل ناگزیر ہے۔۔۔عارضی بنیادوں پر پانی کی فوری فراہمی یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ محکمہ جنگلات اور دیگر محکموں کو مل کر یہ تحقیق کرنے کی اشد اور فوری ضرورت ہے کہ کونسے ایسے پودے اور درخت ہیں جو کم پانی کے ساتھ اس صحرا میں پروان چڑھ سکتے ہیں۔۔۔اس پہ سنجیدگی سے نہ صرف سوچنا ہو گا بلکہ ہنگامی بنیادوں پہ عملی کردار بھی اداکرنا ہوگا ۔۔۔ مرحوم نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی کے ہیڈ پنجند سے روہی تک بڑی نہر بنانے کے منصوبہ کو فورًا عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔۔۔جنگلات اگانے کے ساتھ ساتھ جنگلات بچانے کی تربیت دینا بھی انتہائی ضروری ہے۔۔۔اسلام آباد جیسے تعلیم یافتہ شہر میں بھی جنگلات بارے آگاہی کا فقدان ہے اور مارگلہ کے جنگلات میں لگی حالیہ آگ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۔۔ہمیں بحیثیت قوم اجتماعی طور پر اور انفرادی سطح پر بھی اپنے رویے بدلنا ہوں گے۔ اس سے پہلے چولستان کی خشک سالی پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے ہمیں سوچنا ہو گا۔۔۔بقول معین نظامیروہی میرے دل دی ہانی
ریت پورے دی رانی
روز ازل دی بھکھی بھانی
تسی پئی اے مردی
کون لیاوے پانی
پانی ورتن اوکھا ہویا
پنج دیہاڑے ہو گئے 
میں کس مونہے 
ہتھ منھ دھوواں
کیہڑی گل دا نھاواں
گھٹ وی چنگا بھر نہ سکاں
کس دا اچا بوہا جا کے
انھے واہ کھڑکاواں
ہور تے بننا سرنا کجھ نئیں 
کوٹھے اتے چڑھ کے ویکھاں
لاہندے پاسوں
بدلاں دا پرچھاواں ||


مضمون نگار کی حال ہی میں 'جوگی، جوگ اور ٹلہ' نامی کتاب شائع ہوئی ہے۔ اس سے قبل ان کی تین کتب دیوسائی ، وطن، فرض اور محبت اور کوسٹل ہائی وے سے متعلق کتاب ہوا کا دروازہ' مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ [email protected]
 

یہ تحریر 89مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP