قومی و بین الاقوامی ایشوز

پانیوں کی جنگ

پانی انسانی بقاء کا لازمی جزو ہے یہ ہے تو زندگی رواں ہے یہ نہ ہو تو زندگی رُک جائے۔پانی روزمرہ زندگی میں ہر جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی سب سے زیادہ اہمیت انسانی غذا کے بعد زراعت، صنعتوں اور بجلی کی پیداوارکے لئے ہے۔پاکستان زرعی ملک ہے ملک کی بیشتر ابادی کا انحصاراس پر ہے اس لئے پانی بہت ضروری ہے کیونکہ فصلوں کو سیراب کرنے کے لئے ہم صرف بارشوں پر انحصار نہیں کرسکتے ۔پاکستان کا نہری نظام بہترین ہے اور ہماری فوج بھل صفائی میں معاونت کرکے اس پانی کو رواں رکھنے میں مددگار رہی ہے۔ تاہم پاکستان کے پانی پربھارت مسلسل ڈاکہ ڈال رہا ہے۔بھارت نے ہمیشہ روایتی جنگ میں پاکستان سے شکست کھائی۔ اس لئے اب بھارت نے جنگ کی حکمت علمی تبدیل کرکے ، جنگ کا رخ ذرائع ابلاغ اور پانی کی طرف کردیا ہے۔پاکستان کے حوالے سے جھوٹی خبریں نشرکرنا اور منفی مہم چلانا انڈین میڈیا کا روزکا معمول ہے اس کے ساتھ مودی سرکار پاکستان کے مغربی دریاوں کا پانی چوری کررہی ہے۔
پاکستان کا بڑا دریا سندھ سطح مرتفع تبت سے شروع ہوتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر سے اور پھر پاکستان کے پہاڑی علاقوں سے ہوتا ہوا پنجاب ،سندھ سے گزرتا ہوا انڈس ڈیلٹا کے بعد بحیرہ عرب میں گر جاتا ہے۔دریائے سندھ کے پانی پر تین ملکوں کا حق ہے۔ جن میں پاکستان،انڈیااور چائنہ شامل ہیں۔دریائے سندھ پر سب سے زیادہ حق پاکستان کا ہے پاکستان کی  61فیصد آبادی اس پر انحصار کرتی ہے۔انڈس بیسن پر18 ہزار 495گلیشیئر موجود ہیں۔ یہ خطہ بہت اہمیت کا حامل ہے اس لئے پہلے بھارت نے سیاچن پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد اب لداخ پر تنازعے کے پیچھے صرف پانی کی جنگ ہے۔بھارت خطے کا پانی چوری کررہا ہے اور پانی کے ذخیروں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ انڈس بیسن 101 ملین مربع کلومیٹرز کور کرتا ہے جس میں دریائے سندھ کی لمبائی 3000 کلومیڑ ہے ۔پاکستانی عوام کی پانی پینے کی طلب، زراعت کی مانگ ، صنعتوں کی ضرورت اس سے پوری ہوتی ہے۔اس کے ساتھ مچھلی کی پیداوار کا کچھ حصہ بھی پاکستان اس سے حاصل کرتا ہے۔دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی فوڈ سیکورٹی کے لئے بہت اہم ہے۔ اس کے ساتھ بجلی کی پیداوار بھی اس سے منسلک ہے۔سندھ طاس معاہدے کے تحت مشرقی دریا بھارت کو ملے جن میں راوی، بیاس اور ستلج شامل ہیں اور مغربی دریا پاکستان کے حصے میں آئے جوکہ سندھ، جہلم اور چناب ہیں۔پھر بھارت نے مغربی دریائوں پر بھی منصوبے شروع کردیئے۔۔نئی دہلی کی جانب سے مسلسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ بگلیہار، دولہستی، سلال، پاکل دول ، کیرتھاری، برساسر،سوالکوٹ،رتلے،کروار،جیپسا اڑی ، کشن گنگا  کل ملا کر مغربی دریائوں پر بھارت کے ہائیڈرو پاور چھوٹے اور بڑے155  کے قریب منصوبے ہیں۔
مشرقی دریا تو پہلے ہی بھارت کے پاس ہیں اب مغربی دریاؤں پر اتنے منصوبے پاکستان کی معیشت کے لئے بہت نقصان دہ ہیں۔ بھارت کی آبی جارحیت جاری ہے۔۔کشن گنگا ڈیم سے بھارت نے 22 کلومیٹر سرنگ بنا کر اس کے قدرتی بہاؤ میں فرق ڈال دیاہے آگے چل کر دریا کے بہاؤ میں کمی کی بناء پر وادی نیلم کے بنجر ہونے کا امکان ہے۔ بھارت کے کشن گنگا ڈیم سے ہمارے پانی میں 27 فیصد کمی ہوگی اور اس کے نتیجے میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی پیداواری صلاحیت میں کمی آنے کا امکان ہے۔۔
اس لئے وقت کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم بھی پانی کو محفوظ کرنے کی طرف توجہ دیں۔ اس حوالے سے بڑے چھوٹے تمام منصوبے کارآمد ہوںگے ۔ کبھی تو ہم پانی اور بارش کو ترستے ہیں تو کبھی اتنا پانی ہوتا ہے کہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی اور یہ پانی سیلاب کی صورت میں تباہی مچا دیتا ہے اورآخر میں بحیرہ ٔعرب کی نظر ہوجاتا ہے۔
اپنی ضرورت کا پانی ہم بہت کم ذخیرہ کررہے ہیں اور یہ قیمتی نعمت ضائع ہوکر سمندر برد ہورہی ہے اور بڑے شہروں میں پانی کا مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے۔ کسان بھی پانی کی قلت سے نقصان کا سامنا کرتے ہیں ۔
پاکستان اپنی ضرورت کا پانی صرف 13فیصد ذخیرہ کرتا ہے باقی بحیرہ عرب میں گر جاتا ہے۔ صاف پانی کا بحران سنگین تر ہوتا جارہا ہے،خاص طور پر کراچی جوکہ ملک کا معاشی حب ہے۔ اس کے شہری صاف پانی کو ترس رہے ہیں۔ ٹینکر مافیا کی بلیک میلنگ کا شکار ہیں۔لاہور، فیصل آباداور راولپنڈی میں بھی یہی صورتحال ہے۔
پاکستان کے بڑے ڈیم تربیلا کی تعمیر 1968 میں شروع ہوئی اور یہ 1979 میں مکمل ہوئی۔ اسی طرح منگلا ڈیم کی تعمیر1961 میں شروع ہوئی اور1965  میںختم ہوئی اور یہ ایوب خان کا گولڈن دور تھا جس میں پاکستان نے خوب ترقی کی۔اس کے بعد ہمارے بڑے آبی منصوبے سیاست کا شکار ہونے لگے کالا باغ ڈیم نہیں بن سکا۔اس کے برعکس ہمارے پڑوسی بھارت نے اڑھائی ہزار سے زائد ڈیم مکمل کرلئے۔
واپڈا نے حال ہی میں دیامیر بھاشا ڈیم کے لئے ٹھیکہ ایف ڈبلیو او اور چین کی کمپنی پاور چائنا کو دیا ہے اور دونوں اشتراک سے ڈیم تعمیر کریں گے۔اس منصوبے کی لاگت1406.5  ارب روپے ہے۔
یہ ڈیم 8 سال میں مکمل ہوگا۔اس منصوبے سے 16 ہزار سے زائد نوکریاں حاصل ہوںگی اور اس سے 4500 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔دیامر بھاشا ڈیم دریائے سندھ پر قائم کیا جائے گااس کی اونچائی272 میٹر ہوگی اور اس میں 18اعشاریہ دس ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہوگی۔
تاہم ڈیم کی تعمیرتعطل کا شکار رہی اس کے پیچھے وہ سازشیں کارفرما ہیں جوکہ بھارت کی جانب سے کی جاتی ہیں۔بھارت مقبوضہ کشمیر، آزادکشمیراور گلگت بلتستان پر اپنا دعویٰ کرتا رہا ہے اور اس ڈیم کی راہ میں رکاوٹ رہا ہے۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈیم فنڈ قائم کیا جس میں عوام نے عطیات دیئے اور امید قائم ہوئی کہ اب جلد ڈیم بن جائے گا۔مئی2020 میں جس روز دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا معاہدہ سائن ہوا اس کے اگلے روز ٹویٹر پر ایک ہیش ٹیگ بنا جو'' نو ڈیمز آن انڈس ریور''  تھا۔
 No dams on indus river #
جس میں چار لاکھ ٹویٹس کئے گئے۔ جعلی اکاونٹس اور بوٹس کی مدد سے لاکھوں ٹویٹ کرسکتے ہیں ان میں معتدد ٹویٹس کو کاپی پیسٹ کیا جاتا ہے۔صوبائی عصبیت کا شکار کچھ شخصیات دیسی لبرلز قوم پرستوں اور کچھ اینٹی آرمی اکاؤنٹس نے بھی اس ٹرینڈ میں  حصہ لیا ۔وہ لوگ جو باہر کے ممالک میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف منفی مہم چلاتے ہیں وہی لوگ اس ٹرینڈ کا حصہ تھے۔تاہم پاکستانی عوام نے ان کو بھرپور جواب دیا اور جواب میں انہوں نے ڈیم کے حق میں ٹویٹ کئے۔
دیامر بھاشا ڈیم سے نیشنل گرڈ کو سالانہ18 ارب یونٹ کی بجلی ملے گی۔ منصوبے میں بھاشا ڈیم کی تعمیر کے ساتھ ڈائی ورژن سسٹم ،پل اور پن بجلی گھر کی تعمیر بھی شامل ہے۔پاکستان کی نیشنل سیکورٹی کے لئے واٹر سیکورٹی بہت اہم ہے اسی طرح فوڈ سیکورٹی اور انسانی بقاء اس کے ساتھ منسلک ہے۔تاہم پاکستان میں بڑے پانی کے وسائل ہونے کے باوجود ہم اس کو صحیح طرح استعمال نہیں کرسکے۔ مغربی دریاؤں پر بھارت کے 100منصوبے مکمل ہوگئے ہیں اور بھارت نے ہمیشہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی اس وقت ان کے56  ڈیم زیر تعمیر ہیں جبکہ اس پانی پر حق پاکستان کا ہے۔
بھاشا ڈیم، منگلا اور تربیلا کے بعد دیامر بھاشا پہلا میگا پراجیکٹ ہے جو پاکستان کی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے ۔پاکستان کا فریش واٹر کا جو ٹوٹل سالانہ فلو ہے وہ 145 ملین ایکڑ فٹ ہے اور ہم صرف 13 ملین ایکڑ فٹ ذخیرہ کرتے ہیں۔یہ شرح بہت کم ہے اس لئے یہ بہت ضروری تھا کہ ہم پانی کا ذخیرہ کریں اور اس سے سستی بجلی پیدا ہو جو ہماری صنعتوں کے لئے نہایت ضروری ہے۔
دیامر بھاشا ڈیم کے بہت سے فوائد پورے ملک کو حاصل ہوگے جس میں سب پہلے تو اس کی بجلی کی صلاحیت 4500میگا واٹ ہوگی، پانی کے ذخیرے کی کپیسٹی 8 اعشاریہ 2ملین ایکڑ فٹ ہے۔چھ اعشاریہ چار ملین ایکڑ فٹ اس کی لائیو اسٹوریج ہے جس کو ہم استعمال کرسکتے ہیں۔اس سے ون پوائنٹ ٹو ملین ایکڑ زمین سیراب ہوگی۔ دیامر بھاشا ڈیم سے ہماری صنعتوں اور کسانوں کو بہت فائدہ ہوگا۔بھاشا ڈیم کی وجہ سے تربیلا کی عمر میں 35 سال کا اضافہ ہوجائے گا۔
انرجی پروڈکشن میں سالانہ تین سو چالیس بلین روپے کا منافع ملک کو حاصل ہوگا۔ زراعت کے شعبے میں ون بلین ڈالر کا فائدہ ہوگا۔ اس ڈیم سے سب سے زیادہ فائدہ صوبہ سندھ کو ہوگا ان علاقوں تک پانی پہنچے گا جہاں اس وقت پانی میسر نہیں اور انڈس ڈیلٹا کو بھی اس سے پانی ملے گا۔اس منصوبے کے تحت سندھ بیراج پر بھی کام ہوگا وہاں فریش پانی کی جھیل بنے گی جس سے انڈس ڈیلٹا کو سمندری پانی کے نقصانات سے بچایا جاسکے گا۔
دیامر بھاشا ڈیم کے ساتھ مہمند ڈیم بھی ملک کی فوڈ سیکورٹی کے لئے ناگزیر ہے۔دریائے سوات پرمہمند ڈیم پشاور سے 37 کلومیٹر شمال کی جانب ضلع مہمند میں مکمل ہوگا۔اس کی مجموعی لاگت 291ارب روپے ہے اس کی اونچائی  213میٹر ہوگی۔
مہمند ڈیم سے چھ ہزار ایک سو نوکریاں حاصل ہوںگی جن میں 5700 مزدور اور  انجینیئرز شامل ہوگے۔مہمند ڈیم ایک لاکھ 60 ہزار ایکڑ رقبے کو سیراب کرے گا۔ اس کی میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ایک اعشاریہ29 ملین ایکڑفٹ ہوگی۔اس کی تعمیر سے دو اعشاریہ 86بلین یونٹ کم لاگت سے پیدا ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوگی۔اس کی پاور کپیسیٹی800  میگا واٹ ہوگی۔
مہمند ڈیم سے  300ملن گیلن پانی پشاور کو مہیا ہوگا اور اس کی تعمیر پشاور چارسدہ اور نوشہرہ کو سیلاب سے محفوظ رکھے گی۔یہ منصوبہ 2025 میں مکمل ہوجائے گا۔ڈیم قوم کی بقاء کے لئے ناگزیر ہیں ان کی تعمیر مکمل ہونے سے ترقی کے نئے دور کاآغاز ہوگا۔  


مضمون نگار صحافی، مصنفہ اور فوٹوگرافرہیں ۔وہ سیاست ،   مسائل صحت اور ماحولیات پر لکھتی ہیں۔ اپ انہیں ٹویٹر [email protected]

اور یوٹیوب  https://www.youtube.com/javeriasiddique  پر فالو کرسکتے ہیں۔

 

یہ تحریر 86مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP