قومی و بین الاقوامی ایشوز

ٹی ٹی پی کی تقسیم اور خطے کے حالات

وزیرستان کی امارت اور مذاکراتی عمل پر اختلافِ رائے کے باعث تحریکِ طالبان پاکستان کے اندر پیدا ہونے والے اختلافات آخر کار ٹی ٹی پی کی تقسیم کا سبب بن گئے ہیں اور اس وقت یہ تنظیم دو واضح گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ تقسیم کا عمل حسبِ توقع محض شمالی اور جنوبی وزیرستان تک محدود نہیں رہا بلکہ اس عمل نے اس گوریلا تنظیم کی پوری ساخت‘ لیڈر شپ اور تنظیمی ڈھانچے کو متاثر کردیا ہے۔ سال2007 کے دوران جب ٹی ٹی پی نے بیت اﷲ محسود کی امارت میں وزیرستان میں جنم لیا تو یہ حکومت کی ممکنہ مزاحمت کے باوجود پھیلتی گئی اور اس نے فاٹا کے علاوہ خیبر پختونخوا ‘ جنوبی پنجاب اور سندھ کے متعدد علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا۔ اس کی بنیادی وجہ کیا تھی اس سے قطع نظر اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا سکتا کہ 2009-10 کے دوران یہ افغان طالبان سے بھی زیادہ فعال رہی اور شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ دوسرے عسکری اور جہادی گروپ بھی اس کی قوت کو دیکھتے ہوئے اس کی چھتری کے نیچے جمع ہونا شروع ہوگئے۔ چند ماہ قبل تک ٹی ٹی پی کی چھتری کے نیچے دو درجن سے زائد عسکری گروپس کا م کرتے رہے اور یہ تمام گروپ عملاً ٹی ٹی پی کے ڈسپلن اور لیڈر شپ کے تابع رہے۔

یہ صورت حال پاکستانی ریاست کے لئے کافی پریشان کن ثابت ہوئی کیونکہ حکومت اور فورسز کو خدشہ تھا کہ اگر یہ گروپ فاٹا سے نکل کر شہروں میں گھس گئے اور انہوں نے بوجوہ وہاں کارروائیاں شروع کیں تو حالات پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔ اسی لئے ایک حکمتِ عملی کے ذریعے کوشش یہ کی گئی کہ ان کو ممکنہ حد تک محدود رکھا جائے اور جب تک تمام سٹیک ہولڈرز اور سیاسی قوتوں کی رائے اور مشاورت پر مبنی کوئی مشترکہ لائحہ عمل سامنے نہیں آجاتا تب تک ان کو چھیڑنے سے اس کے باجود گریز کیا جائے کہ یہ وقتاً فوقتاً فورسز‘ سرکاری تنصیبات اور اکثر اوقات عام لوگوں کو موقع ملنے پر اپنی کارروائیوں کا نشانہ بناتے رہے۔

سال 2007 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ٹی ٹی پی اس قدر شدید اختلاف اور تقسیم کا شکار ہوگئی۔ اس کی ابتداء وزیرستان سے ہوئی جہاں کے طالبان نے فضل اﷲ کو نئے امیر کے طور پر قبول کرنے سے انکار کرکے مزاحمت دکھائی تاہم اس میں شدت اسی وقت پیدا ہوئی جب ٹی ٹی پی مذاکراتی عمل کے معاملے پر اندرونی انتشار کا شکار ہوئی اور حکیم اﷲ کے ساتھیوں نے مذاکراتی عمل کی مخالفت شروع کی۔ اس گروپ کو دوسروں کے علاوہ مرکزی امیر فضل اﷲ اور دوسرے اہم کمانڈر عمر خالد خراسانی کی کھلی حمایت حاصل رہی۔ دوسرے گروہ کی قیادت امارت کے مضبوط امیدوار خان سیّد المعروف سجنا کرتے رہے۔ اندرونِ خانہ حالات اس وقت مزیدخراب ہوگئے جب طالبان شوریٰ کی جانب سے سیز فائر کے اعلان کے باوجود تشدد پسندگروپوں کی کارروائیاں جاری رہیں اور انہوں نے نہ صرف شوریٰ کے اعلان سے بغاوت کی بلکہ بعض دوسرے تشدد پسند اور مذاکرات مخالف گروپوں کو بھی اپنے ساتھ ملانا شروع کیا۔ اس طرزِ عمل نے جہاں ایک طرف مذاکراتی عمل کو متعدد بار ڈیڈلاک سے دوچار کیا وہاں طالبان کے حامیوں اور کمانڈروں کو بھی شدید مشکلات اور کنفیوژن میں مبتلا کردیا۔ جوں جوں ڈیڈ لاک پیدا ہوتے گئے اختلافات کا سلسلہ توں توں بڑھتا گیا۔فضل اﷲ چونکہ افغانستان میں موجود رہا اس لئے تنظیمی طور پر اس کا ہولڈ قائم نہیں رہ پایا اور معاملہ بگڑتا رہا۔ اس دوران فورسز بالخصوص ایئرفورس نے شمالی وزیرستان میں ٹارگٹڈ آپریشنز شروع کئے جس کے باعث جہاں بہت سے جنگجو مارے گئے وہاں عوام کا طالبان پر دباؤ بھی بڑھنا شروع ہوا ۔ عوام کا موقف تھا کہ اگر فل فلیج آپریشن کا آغاز کیا گیا اور مذاکراتی عمل بالکل ختم ہوگیا تو عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

مذاکراتی عمل کے دوران بعض سیاسی قوتوں‘ میڈیا‘ سول سوسائٹی اور عالمی برادری کے بعض مخالفانہ دلائل بھی پریشر کا کام دیتے رہے جبکہ پاک فوج کو بھی بعض جینوئن خدشات لاحق تھے۔ ان تمام اسباب کے باعث طالبان کے کچھ معتدل مزاج لیڈر اور حامی یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ اگر بات فل فلیج آرمی ایکشن تک پہنچ گئی اور ریاست کے پاس دوسرا آپشن باقی نہیں رہا توطالبان کے لئے خود کو بچائے رکھنا بہت مشکل ہو جائے گا اور یہ صورتحال انٹیلیجنس اداروں کے لئے کافی سود مند ثابت ہوئی اور انہوں نے ممکنہ حد تک کوشش کی کہ تشدد پسند کمانڈروں پر دباؤ بڑھایا جائے اور ایک حکمتِ عملی کے تحت صلح جو کمانڈروں کو ریاستی مفادات کے تناظر میں دیکھا جائے۔ وزیرستان میں دو مخالف طالبان گروپوں کی مسلسل لڑائی اور سجنا گروپ کی بالادستی نے حکیم اﷲ یا شہریار محسود کے گروپ کو اس قدر نقصان پہنچایا کہ وہ افغانستان کے ان سرحدی علاقوں کی طرف نکلنا شروع ہوگئے جہاں پر فضل اﷲ اور ان کے ساتھی یا بعض دیگر پاکستانی گروہ موجود ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ سجنا گروپ نے ایک مؤثر گروپ کی شکل میں ٹی ٹی پی سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کردیا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وزیرستان کی دونوں ایجنسیوں کے علاوہ متعدد دوسرے علاقوں میں بھی ان کے حامیوں کی تعداد ٹی ٹی پی سے زیادہ ہے۔ یہ دعویٰ بھی کیا جارہا ہے کہ شوریٰ کے اکثر ارکان بھی ٹی ٹی پی کی موجودہ قیادت سے لاتعلق اور الگ ہو چکے ہے اور فضل اﷲ کے ساتھ ان کے بقول چند ہی کمانڈر رہ گئے ہیں۔ دوسری طرف نئے گروپ کو بظاہر گل بہادر گروپ اور کسی حد تک حقانی نیٹ ورک کی حمایت بھی حاصل ہے۔ قرین قیاس ہے کہ دونوں گروہ پہلے ہی سے حکومت کے ساتھ ’’تعاون‘‘ کے ایک معاہدے پر عمل پیرا ہیں۔ یہ معاہدہ 2006 کے دوران اس وقت عمل میں لایا گیا تھا۔ جب گل بہادر اور مولوی نذیر کے لوگوں نے عوام کی لشکر کشی کے ذریعے علاقے سے طاہر یلدیشوف اور بعض دیگر غیر ملکی کمانڈروں اور ان کے جنگجوؤں کو وزیرستان سے بے دخل کردیا۔ اس لڑائی میں پچاس ساٹھ مقامی لوگ بھی مارے گئے جبکہ طاہریلدیشوف شدید زخمی ہوکر جان بچانے اور فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اس لشکر کشی کے بعد ایک جرگے میں فیصلہ کیا گیا کہ گل بہادر گروپ پاکستان پر حملے نہیں کرے گا۔ یوں 2006 کا معاہدہ عمل میں لایا گیا۔ تاہم اس کا مرکزشمالی نہیں جبکہ جنوبی وزیرستان تھا۔ حقانی گروپ کا بھی نظریہ رہا ہے کہ ممکنہ حد تک علاقے کو کسی آپریشن سے بچائے رکھا جائے اور اس مقصد کے لئے حکومت اور عوام کے خلاف کارروائیوں سے گریز کیا جائے۔ یہی وہ اسباب ہیں جس کے باعث دونوں گروپ موجودہ صورتحال کے اندر ٹی ٹی پی کی بجائے سجنا گروپ کی حمایت کررہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ حالات کو معمول پر لایا جاسکے۔

جون کے ابتدائی دنوں میں صورتِ حال اس وقت پھر سے بے اعتمادی کی نظر ہوگئی جب شوریٰ مجاہدین یعنی گل بہادر گروپ کی جانب سے شمالی وزیرستان میں ایک پمفلٹ کے ذریعے عوام کو ایجنسی چھوڑنے کی ہدایت کی گئی جبکہ اس سے چند روز قبل قبائل کا ایک بڑا اجتماع منعقد ہوا جس میں آپریشن کی مبینہ اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور یہ دھمکی بھی دی گئی کہ اگر آپریشن کا آغاز ہوا تو عوام اپنی حفاظت کے لئے افغانستان ہجرت کرنے پر مجبور ہوں گے۔ مذکورہ جرگے میں حکومت کو یقین دہانی کرائی گئی کہ اگر وہ ان پر اعتماد کرے اور ان کو اختیار دیا جائے تو اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ شمالی وزیرستان کی سرزمین اور یہاں کے عوام حکومت یا شہریوں کے خلاف استعمال نہ ہو۔ ایسی ہی ایک یقین دہانی مختصر الفاظ میں اس پمفلٹ میں بھی کرائی گئی تھی جو کہ شوریٰ مجاہدین کی جانب سے شمالی وزیرستان میں تقسیم کیا جاچکا ہے۔ اگرچہ یہ پمفلٹ زیادہ تر دھمکیوں پر مشتمل تھا تاہم بعض حلقے اس کو ایک حکمتِ عملی کا نام دے رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ آپریشن‘ مزاحمت اور معاہدہ توڑنے جیسے نکات پر مشتمل پمفلٹ کا اصل مقصد یہ تھا کہ ایک تو آپریشن سے بچاجائے اور دوسری طرف بیک وقت حکومت اور طالبان پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جائے اور اس بات کو بھی ممکن بنایا جائے کہ شوریٰ مجاہدین کی اہمیت کو تسلیم کرکے اس دباؤکو بھی کم کیا جائے جو کہ معاہدے کے باعث اس گروپ پر عوام کی جانب سے تھا۔

اس تمام توڑ پھوڑ سے ٹی ٹی پی یا فضل اﷲ بھی لاتعلق نہیں رہے۔ انہوں نے جوابی کارروائی کے طور پر بعض سرحدی علاقوں اور اندرونی ملک حملے شروع کئے جس سے کافی اموات ہوئیں۔ ایسی ہی ایک کارروائی کے دوران ترنول میں حساس ادارے کی ایک گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے دو کرنل شہید جبکہ متعدد دوسرے جاں بحق ہوگئے۔ یہ ایک خود کش حملہ تھا۔ متعدد دوسرے علاقوں میں بھی کارروائیاں کی گئیں جبکہ ایک ویڈیو پیغام میں خود کش سکواڈ کو تیار رہنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔ افغان گورنمنٹ اور میڈیا کے مطابق پاک فورسز نے انہی دنوں افغانستان کے صوبہ کنڑ میں طالبان حملے کے جواب میں کارروائی کرکے (ہیلی کاپٹر ایکشن) پاکستانی طالبان کے بعض مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا کیونکہ وہاں سے فضل اﷲ کے ساتھیوں نے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے کئے تھے۔ اس ایکشن پرکئی روز تک افغانستان میں مظاہرے کئے گئے اور کہا یہ گیا کہ پاکستان نے سرحدی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے حالانکہ افغان حکام بشمول صدر کرزئی متعدد بار آن دی ریکارڈ یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم پاکستانی طالبان کو اس لئے نباہ رہے ہیں کہ پاکستان بھی ہمارے ساتھ ایساکرتا آیا ہے۔ حکومت افغانستان کا ردِ عمل اس قدر جارحانہ تھا کہ افغان حکام نے4 جون کو اسلام آباد میں ہونے والے اس اجلاس میں شرکت سے انکار کیا جس میں افغانستان کی سیکورٹی کے بعض اہم ایشوز پر تبادلہ خیال ہونا تھا اور اس کا فیصلہ آرمی چیف راحیل شریف کے حالیہ دورۂ کابل کے دوران کیا گیا تھا۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ نائن الیون کے بعد منظور کی گئی اقوامِ متحدہ کی متفقہ قرار داد میں یہ اہم ترین نکتہ یا شق بھی شامل ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف اتحادی ممالک میں سے اگر کسی ایک کو ثبوتوں کی بنیاد پر یہ شکایت ہو کہ دوسرے ملک سے اس کے ملک کے اندر دہشت گرد بھیجے جارہے ہیں اور پناہ دینے والا ملک ان عناصر سے نہیں نمٹتا تو متاثرہ ملک کو حق حاصل ہوگا کہ وہ خود وہاں جا کرکارروائی کرے۔ سال 2002 کے بعد درجنوں بار افغانستان اور نیٹو فورسز پاکستان کے اندر ایسی کارروائیاں کرتی رہی ہیں تاہم پاکستان نے اس سطح کی مزاحمت کبھی نہیں کی جو کہ حالیہ ایکشن کے بعد افغانستان کی جانب سے دیکھنے کو ملی۔

بدقسمتی سے کراس بارڈر ٹیرزازم(Terrorism) ہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے پر دونوں ممالک اتنا عرصہ اور اتنا نقصان اٹھانے کے باوجود تاحال کسی قابلِ عمل مکینزم پر متفق ہونے میں کامیاب نہ ہوسکے اور یہی وہ ایشو ہے جو کہ بار بار بداعتمادی کا سبب بنتا آرہا ہے۔ خدشہ ہے کہ دسمبر2014 کے بعد کراس بارڈر ٹیررازم میں اور بھی اضافہ ہوگا کیونکہ نیٹو اور امریکہ کے وہ دستے واپس چلے جائیں گے جو کہ پاک افغان سرحد پر محدود تعداد میں متعین ہیں۔ ایسی صورتحال میں سرحد پر عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت اور بھی آسان ہو جائے گی اور اس سے دونوں ممالک کو یقینی نقصان ہوگا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پراکسی وار اور اچھے اور بُرے طالبان کے دو طرفہ فارمولے سے نکل کر اب بھی اگر پاکستان اور افغانستان نے کراس بارڈر ٹیررازم سے نمٹنے کے اقدمات نہیں کئے تو حالات اور خراب ہو جائیں گے۔ اس میں دورائے ہیں ہی نہیں کہ پاکستان اور افغانستان کسی بھی جوازکی صورت میں تعلقات کو کشیدہ کرنے والے اقدامات سے احتراز کریں جبکہ افغانستان کے معاملات اور سیکورٹی کے انتظامات پاکستان کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور حساس ہیں۔ حال ہی میں ایک عالمی نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا کہ صوبہ نورستان کے ایک علاقے میں لشکرِ طیبہ نے ایک باقاعدہ کیمپ کیا ہے جبکہ بعض دوسرے ایسے پاکستانی گروپ بھی ٹھکانے بنا چکے ہیں۔

بعض افغان حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں پر افغان حکومت کی رٹ اتنی فعال نہیں جتنی کہ ہونی چاہئے اس لئے ایسے گروپ سرحدی علاقوں کی جغرافیائی ساخت کا فائدہ اٹھا کر وہاں چھپے ہوئے ہیں تاہم اس دلیل کو موجودہ نازک صورت حال کے تناظر میں زیادہ قابلِ قبول قرار نہیں دیا جاسکتا اور ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک اس سلسلے کی روک تھام کے لئے ٹھوس اور فوری کارروائیاں کریں اور تعلقات بہتر بنانے اور اعتماد سازی پر توجہ دی جائے۔ اکثر تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کو سکیورٹی اور ٹیررازم کی ایک جیسی صورت حال کا سامنا ہے اس لئے12 سال کے تمام تلخ تجربات کے بعد اگر خلوص نیت سے بڑے ایشوز پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے تو اس میں دونوں ممالک کے علاوہ پورے خطے کا فائدہ ہوگا اور یہ کام یقیناً دسمبر 2014 سے قبل کرنا ہوگا۔ یہ نکتہ بھی بہت اہم ہے کہ افغانستان کی جدید تاریخ میں دوسری بار ایک ناردرن الائنس لیڈر (عبداﷲ عبداﷲ) صدر بننے جارہے ہیں اور ان کو شمالی افغانستان کی نمائندگی کے علاوہ بھارت ایران اور بعض دوسرے ممالک کے بہت قریب سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ پاکستان نے گزشتہ چند سال کے دوران شمالی اتحاد کی لیڈر شپ یانان پشتون قیادت کے ساتھ کافی اچھے مراسم قائم کئے ہیں اور پہلے کے مقابلے میں اب صورتِ حال کافی بہتر ہے تاہم اس خدشے کو پھر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ بعد ازدسمبر حالات کوئی بھی کروٹ لے سکتے ہیں اور اس حقیقت کو ماننے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ پورے خطے کوکئی خدشات‘خطرات اور عالمی‘ علاقائی سازشوں کا سامنا ہے۔

حال ہی میں شمالی اور جنوبی وزیرستان سمیت پورے فاٹا کے ایک نمائندہ قبائلی وفد نے پشاور میں گورنر کے پی کے اور کور کمانڈر پشاور کے ساتھ ملاقاتیں کرکے ان کو یقین دہائی کرائی کہ قبائل فاٹا میں غیر ملکی عسکریت پسندوں کو رہنے نہیں دیں گے اور اس امر کی ضمانت دیں گے کہ حکومت پر حملے نہیں کرائے جائیں گے۔ اس نمائندہ جرگے کی اہمیت اور قوت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اگر حکومت ان کی معاونت کرے تو کافی امکان موجود ہے کہ فاٹا کے حالات بہتر ہونا شروع ہوجائیں گے۔ دوسرے مرحلے کے دوران اسی جذبے کے تحت مخصوص خدشات اور شکایات کے باوجود اگر افغانستان کے ساتھ معاملات ٹھیک کئے جائیں تو بڑی پیشرفت ہوگی کیونکہ بڑے بھائی اورطاقتور ملک کی حیثیت سے پاکستان کی ذمہ داری افغانستان کے مقابلے میں زیادہ بنتی ہے۔ تاہم افغانستان لیڈر شپ کو اس سلسلے میں پاکستان کی طرف سے دونوں ملکوں کے درمیان بین الاقوامی بارڈر کو موثر بنانے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات میں ساتھ دینا پڑے گا۔ کراس بارڈر ٹیررازم کے خاتمے میں ہی ہمارا مستقبل پرامن اور یقینی بن سکتا ہے

یہ تحریر 65مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP