متفرقات

ٹینس میرا جنون ہے اعصام الحق

 بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے سے بڑھ کر کوئی اور عزت نہیں ہوسکتی۔ٹینس سٹار اعصام الحق



سوال:     کچھ اپنے بارے میں بتایئے۔
جواب:     میں 17 مارچ 1980کو لاہور میں پیدا ہوا ۔میرا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جہاں ٹینس کے چیمپیئن پیدا ہوتے رہے ہیں۔میرے نانا خواجہ افتخار قیام پاکستان سے پہلے ٹینس کے آل  انڈیاچیمپیئن رہ چکے تھے اور والدہ نوشین احتشام قریشی 10 مرتبہ پاکستان کی قومی ٹینس چیمپیئن رہ چکی ہیں۔ خواجہ افتخار کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور نوشین احتشام کوتمغۂ امتیاز کے اعزازات عطا کئے تھے۔ 
سوال:     ٹینس کھیلنا کب شروع کی؟
جواب:    میںنے ٹینس کھیلنے کا باقاعدہ آغاز چودہ سال کی عمر میں کیا۔ میری پہلی کوچنگ کے فرائض والدہ نے نبھائے۔ سولہ سال کی عمر میںانٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن نے دو سال کے لئے سپانسر کیا۔میں نے پہلی کامیابی پاکستان نیشنل جونئیر چیمپیئن شپ جیت کرحاصل کی اور یوں کامیابیوں کا یہ سلسلہ چلنے لگا۔
سوال:     انٹرنیشنل ٹینس میں کامیابیوں کے بارے میں کچھ بتائیں۔
جواب:    میں نے کاسابلانکا کپ، میکسیکو اور ایل ٹی اے انٹر نیشنل جونئیرچیمپیئن شپ میںحصہ لیا اور کامیابیاں سمیٹیں۔میں نے اٹھارہ سال کی عمر میں اینڈی راڈک جیسے ٹینس کے منجھے ہوئے کھلاڑی کو بھی شکست سے دوچار کیا۔ امریکہ کے رابرٹ ڈیوس کی نگرانی میں بھی تربیت حاصل کی۔ 26 جون 2007ء کو ٹینس کے سب سے بڑے مقابلے ومبلڈن ٹینس چیمپیئن شپ کے پہلے رائونڈ میںمیںنے انگلستان کے لی چائلڈز کو شکست دے کر ومبلڈن کے دوسرے رائونڈ تک رسائی حاصل کرلی۔ میں یہ اعزاز حاصل کرنے والا دوسرا پاکستانی کھلاڑی تھا۔ اس سے قبل پاکستان کے ہارون رحیم ومبلڈن کا دوسرا رائونڈ کھیلنے کا اعزاز حاصل کرچکے تھے جبکہ ایک اور کھلاڑی خواجہ سعید ومبلڈن کے پہلے رائونڈ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
        مجھے نومبر 2010ء میں اقوام متحدہ کی جانب سے خیر سگالی کا سفیر نامزد کیا گیا۔ اسی سال مجھے ارتھر ایشی ہیومنیٹیرین(Arthur Ashe Humanitarian) آف دی ائیر کا ایوارڈدیا گیا، اس کے علاوہ ٹینس کی دنیا میں کامیابیوں اور نمایاں کارکردگی کے اعتراف پر امن اور کھیل کا ایوارڈبھی دیا گیا ہے اور حکومت پاکستان نے 14 اگست 2004 کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور بعد ازاں ستارہ امتیاز کا اعزاز عطا کیا۔ 
 سوال:     آپ کو کیسا لگتا ہے جب آپ دنیا بھر میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں؟
جواب:     پاکستان میرا ملک ہے اورمجھے اپنے وطن سے پیار ہے اور میراجینا مرنا پاکستان کے لئے ہے۔ پاکستان نے مجھے دنیا میں پہچان دی اور مان دیا۔ دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کرنے سے بڑھ کر کوئی اور عزت نہیں ہوسکتی۔ میرے والدین نے میر ی بھر پور اندازمیں حوصلہ افزائی کی، ٹینس میرا جنون ہے اور میری خواہش تھی کہ میں ٹینس کے تمام بڑے عالمی اعزازت اپنے پیارے وطن پاکستان کے نام کروں۔ اس جستجو کے لئے میرے والد اور میری والدہ اور میری اہلیہ نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا اور مجھے پروموٹ کیا۔ 
سوال:     ہمارے ملک میں کھیلوںکی پروموشن کے لئے کیاہونا چاہئے؟
 جواب:     ملک کے تمام بڑے چھوٹے شہروں میںمنی سپورٹس کمپلیکس، سپورٹس سنٹر ز،کورٹس ہونے چاہئیں اورہر کھیل کی ایسوسی ایشن اور مقامی کھیلو ں کے کلبز ہوں جہاں کوالیفائڈز کوچز ہونے چاہئیں۔ ہر کھیل کی فیڈریشن کو کوچز پروگرام ترتیب دینے چاہئیں اور ان کوچز کی مدد سے نوجوانوں کو تربیت دی جائے۔اس سلسلے میں پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر سلیم سیف اللہ خان کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ ملک میں انٹرنیشنل ٹینس کی بحالی ممکن ہوگئی ہے۔
سوال:     کرونا وائرس کی وجہ سے آپ ٹریننگ کیسے کرتے ہیں؟ 
 جواب:     ٹینس کے مقابلے نہ ہونے کے باوجود میں نے گھر پر فزیکل فٹنس کا پلان تیار کیا ہے اور اپنی فٹنس پر توجہ دے رہا ہوں۔ ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا شیڈول تیار کیا ہے۔ 
سوال:      کیا آپ فلاحی کام کرتے ہیں ؟
 جواب:     کرونا وائرس سے عام آدمی کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی اس ضمن میں رزق فاؤنڈیشن کے ساتھ منسلک ہوگیا ہوں اور مجھے یہ احساس ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور مخلوق خدا کی خدمت کرنا سب سے بڑا ایوارڈ ہے۔ لاہور، اسلام آباد ، راولپنڈی میں گھر گھر جا کر میں نے اور میری ٹیم نے ضرورت مند افراد میں راشن تقسیم کیا اور فلاح انسانیت کے لئے کام کیا۔ میری ٹیم میں رزق فاؤنڈیشن کے سی ای او قاسم جاوید ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید حسان عرفان، حذیفہ اور موسیٰ شامل ہیں۔ ہم نے یہ مل کر فیصلہ کیا ہے کہ ہم انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرتے رہیں اور اس مقصد کے لئے میں نے اپنی زندگی کو وقف کردیا ہے۔ پاکستان میں بہت غربت ہے اور اس بیماری کا مقابلہ تو کیا جاسکتا ہے لیکن غربت کا مقابلہ کرنا بہت مشکل کام ہے۔ ہم ہر کام ریاست پر ڈال دیتے ہیں ہمیں اپنی سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا،  بڑھ چڑھ کر خیراتی کاموں میں  اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔
سوال :    ملک میں امن کی بحالی اور کھیلوں کے فروغ کے بارے آپ کیا کہیں گے ؟
 جواب :    اس ملک کے لئے ہمارے آباؤ اجدادنے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ہمیں اس ملک کی تعمیر وترقی میں اپنا کردارادا کرنا ہے ملک میں امن امان کی صورت کافی حد تک بہتر ہوئی ہے اور غیر ملکی ٹیمیں پاکستان آ رہی ہیں ۔ کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کے کھیلوں کے مقابلے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ پاکستان سپر لیگ اور دیگر کھیلوںکے مقابلے بھی بند ہو گئے  یہ مشکل وقت ہے اور یہ وقت بھی گرز جائے گا ۔ہر مشکل کے بعد آسانی ہے کیونکہ یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے 
  سوال :    ماہنامہ ہلال کے ذریعے افواجِ پاکستان کے لئے آپ کیا کچھ کہیں گے؟
جواب:     ہماری افواج ہمارا مان ہیں۔ شیر دل جوان آج بھی بارڈرز کی حفاظت کے ساتھ ملکی تعمیر و ترقی اور فلاحی کاموںمیں حصہ لے رہے ہوتے ہیں ۔

یہ تحریر 31مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP