خصوصی رپوٹ

ٹڈی دَل کا خاتمہ - پاک فوج اور دیگر اداروں کا کردار

پاک فوج کی جانب سے غذائی و زرعی معیشت کے تحفظ اور ٹڈی دَل کے مؤثر تدارک کے لئے تقریباً 10ہزار جوان و افسران تعینات
جدید زمینی سپرے کی مشینیں، وافر مقدار میں زرعی ادویات، پاک فوج کے ہوائی جہازاور ہیلی کاپٹر بھی صوبوں کی مدد کے لئے فراہم کر دیئے گئے 



 وطن عزیز،پاکستان، ابھی کرونا کی وبا کی لپیٹ میں ہے۔پاکستان آرمی سمیت دیگر ادارے اس وبا سے نمٹنے کے لئے دن رات کام کررہے ہیں۔ کرونا نے معمولات ِ زندگی کو بری طرح متاثر کیاہے۔ پوری دنیا کی طرح پاکستان کے مختلف علاقوں میں کرونا وبا کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے ابھی اقدامات جاری ہیں کہ ملک کے مختلف حصوں میں ٹِڈی دَل کی صورت میں ایک اور آفت  اچانک نمودار ہوگئی۔ ملک کے مختلف حصوں میں ٹڈی دَل نے فصلوں کو تباہ کرکے رکھ دیاہے۔ پاکستان جس کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے، فصلوں کا نقصان ہونے سے پہلے سے پریشان حال کاشت کارمالی مسائل سے دوچار ہوکر رہ گیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں کسی بھی ناگہانی آفت چاہے وہ سیلاب ہو، زلزلہ ہو، کرونا وائرس ہو یا پھر ٹڈی دَل کا حملہ پاک فوج نے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیاہے اس کے ساتھ ساتھ قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، ریسکیو اوردیگر اداروں کی کاوشیں بھی قابل ستائش ہیں۔ 
ٹڈی دَل کی تاریخ کافی پرانی ہے۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے بھیانک حملوں میں تقریباً تین دہائیوں کے بعد تیزی آئی ہے۔2018میں مشرق وسطیٰ میں آنے والے سمندری بگولوں سے ہونے والی بارشوں سے صحرائی ٹڈی دَل کی افزائش ہوئی۔ یہ ٹڈیاں مشرق وسطیٰ سے مشرقی افریقہ اور جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت تک پہنچ گئی ہیں۔ا س وقت د نیا کے 30ممالک ٹڈیوں سے متاثر ہیں۔متاثرہ ملکوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں پہلا مغربی خطہ جس میں افریقی ممالک سوڈان اور ایتھوپیادوسرا خطہ مصراور یمن تیسرا خطہ پاکستان، ایران،بھارت اور افغانستان شامل ہیں۔جو تقریباً ایک کروڑ ساٹھ لاکھ مربع کلو میٹر کا رقبہ بنتا ہے اور اس کے پھیلائو میں بتدریج تیزی آتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ٹڈی دَل کے کنٹرول پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو اس کا دائرہ پوری دنیا میں پھیلنے کے قوی امکانات موجود ہیں جس سے عالمی سطح پر غذائی قلت و قحط سالی کے سنگین بحران کا خدشہ ہے۔ ٹڈی دَل اپنی اڑان میں لمبی مسافت رکھتا ہے اور ایک خطے سے دوسرے خطے تک طویل سفرکرتا ہے۔ ایک مربع کلومیٹر پر محیط ایک چھوٹے لشکر میں تقریباً سات سے آٹھ کروڑ ٹڈیاں ہو سکتی ہیں جو ایک دن میں پینتیس ہزارافراد جتنی خوراک کھا سکتی ہیں۔ جبکہ ایک بڑا جھنڈ جسے 'سوارمز' کہا جاتا ہے اٹھارہ لاکھ میٹرک ٹن خوراک کھا سکتا ہے۔ایک بڑے جھنڈ میں اربوں ٹڈیاں ہوتی ہیں۔ ٹڈی دَل کی اوسطً عمربارہ ہفتے ہوتی ہے اورایک ٹڈی دو سو سے بارہ سو انڈے دیتی ہے۔ٹڈی دَل روزانہ اوسطاً ڈیڑھ سو کلومیٹر تک کا سفر کرتا ہے جبکہ سطح سمندر سے چار ہزارمیٹر کی بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ٹڈی دَل ہمیشہ لشکر کی صورت میں حملہ کرتا ہے اور اپنے راستے میں آنے والے ہر طرح کے پودوں، فصلوں اور درختوں کو بری طرح نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ اپنی پوری زندگی میںتقریباً دو ہزارکلومیٹر تک کا سفر کرتا ہے۔ اس کی افزائش میں انڈے سے لے کر پروان چڑھنے تک چالیس سے ساٹھ دن لگتے ہیں۔گرمیوں کے موسم میں درجہ حرارت زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ اپنا دورانیہ حیات تیزی سے مکمل کرتا ہے جبکہ سردیوں میں درجہ حرارت کم ہونے کی وجہ سے بڑھوتری کم ہوتی ہے۔ 



وفاقی وزارت تحفظ و تحقیق کے تحت کام کرنیوالا ادارہ تحفظ نباتات ملک میں صحرائی ٹڈیوں کے سروے اور کنٹرول آپریشنز کا ذمہ دار ہے جس کا ہیڈ کوارٹرز کراچی میں واقع ہے۔ موسم گرما میںٹڈی دَل کی افزائش مون سون بارشوں کے ساتھ موافق ہوتی ہے جو عام طور پر جون کے دوسرے نصف حصے یا جولائی کے پہلے نصف حصے میںآتا ہے اور ستمبر یا اکتوبر میں ختم ہوجاتا ہے۔یہ مون سون بارشوں کی مدت اور نوعیت پر منحصر ہے۔ ہر سال افزائش کا پیمانہ اور مقام مختلف ہوتا ہے۔ فروری سے مئی اور جون سے نومبر تک بالترتیب موسم بہار میںبہاولپور،رحیم یار خان، سکھر، میرپورخاص،صادق آباداور موسم گرما کے دوران تربت،پنجگور، خاران , دالبندین اور نوشکی میں ٹڈی دَل کی افزائش ہوتی ہے جہاں پر ٹڈی چوکیوں اور ضلعی دفاتر کے ذریعے سروے کئے جاتے ہیں۔ 1995ء کے بعد ہر سال ایران اورپاکستان کی مشترکہ ٹیمیں پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور جنوب مغربی ایران میں دو ہفتوں کے لئے زمینی سروے بھی کرتی ہیں۔صحرائے چولستان اور ملحقہ علاقوں میںٹڈیوں کی آبادی گرمیوں کے دوران بھارت کی سرحد کے ساتھ آگے پیچھے ہوسکتی ہے۔گرمیوں کے دوران پاکستان اور بھارت متعلقہ علاقوں میں موجود ٹڈیوں کی صورتحال کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کرنے کے لئے پاک بھارت سرحد پر ماہانہ اجلاس منعقد کرتے ہیں۔ 
پاکستان میں ٹڈی دَل افریقی ممالک سے ہوتی ہوئی ایران کے راستے بلوچستان میںداخل ہوا۔ دسمبر 2019موسمی حالات اور شدید برف باری کی وجہ سے ٹڈیوں کے یہ غول بلوچستان سے سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں حملہ آور ہوئے۔ مجموعی طور پر ملک بھر میں 133اضلاع متاثر ہوئے۔ صوبہ پنجاب میں 36، صوبہ سندھ میں29،صوبہ بلوچستان میں 33اور صوبہ خیبر پختونخوا میں35 اضلاع شامل ہیں۔ اس وقت پورے ملک میں 284,859مربع کلو میٹر رقبے پرسروے کیا جا چکا ہے اورمتاثرہ علاقوں میں مؤثر کنٹرول آپریشن کے ذریعے کل 6035 مربع کلو میٹر پرٹڈی دَل کا خاتمہ کیا جا چکا ہے۔ متاثرہ اضلاع میں ٹڈی دَل کے لئے مشترکہ کنٹرول آپریشن کے علاوہ ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر وں کی مدد سے فضائی سپرے بھی کیا جارہا ہے۔ ٹڈی دَل کی اطلاع ملنے پر مقامی افراد غیر روایتی طریقوں کا استعمال بھی کر رہے ہیں۔



اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بھرپور نعمتوںسے نوازا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، زراعت کا ہمارے ملک کی جی ڈی پی میں تقریباً 20فیصد حصہ ہے اور تقریباً 50فیصد سے زائد مزدور طبقہ اس شعبے سے براہ راست یا بالواسطہ منسلک ہے۔ بیشتر لوگ دیہاتوں میں رہتے ہیںجن کا اہم وسیلہ زراعت ہے۔ اس شعبے کی اچھی کارکردگی ہماری فوڈ سکیورٹی اور خوشحالی کی ضامن ہے۔ ایک اندازے کے مطابق زراعت کے شعبے میں صرف گندم، چنا اور آلوکاپیداواری نقصان 15فیصد ہونے کی صورت میں 205ارب روپے، 25 فیصد کی صورت میں ربیع کی فصلوں کے لئے تقریباً353ارب روپے اور خریف کی فصلوں کے لئے 464ارب روپے نقصان کا اندازہ لگایا گیا ہے۔زرعی اجناس اور باقی فصلوں کو ٹڈی دَل کے نقصانات سے بچانا بے حد ضروری ہے۔فوڈ اینڈ ایگریکلچرآرگنائیزیشن(FAO) کے مطابق ٹڈی دَل کاایک اور حملہ جولائی میں متوقع ہے۔ اگر اس یلغار کو بروقت نہ روکا گیا تو ملک میں زرعی اجناس کا قحط پڑنے کا خدشہ ہے جس سے ملک کی زرعی معیشت کو800ارب روپے تک نقصان ہو سکتا ہے۔
جنوری 2020ء میں وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں ٹڈیوں کے خلاف بروقت اور مؤثر کاروائی کے لئے نیشنل ایکشن پلان (NAP) کا اعلان کرتے ہوئے ملک میں زراعت، کاشتکار برادری اور غذائی تحفظ کے لئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس قدرتی آفت کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کیا جائے گا۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لئے قومی سطح پر نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر (NLCC)کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کے تحت ملک بھر میں سروے اور کنٹرول آپریشنز شروع کردئیے گئے ہیں۔ اس وقت قومی اور تمام صوبائی حکومتیں، فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، محکمہ زراعت، محکمہ جنگلات اور پاک فوج کے دستے ملک کے تمام متاثرہ اضلاع میںسروے اور کنٹرول آپریشنز میں مصروف عمل ہیں۔سپارکو (SPARCO) متاثرہ اضلاع میںپودوں، مٹی کی اقسام اور دیگر عوامل کی بنیاد پر ٹڈیوںکی نشاندی کر رہی ہے۔
پاک فوج وطن عزیز میں غذائی و زرعی معیشت کے تحفظ اور ٹڈی دَل کے مؤثر تدارک کے لئے تقریباً دس ہزار جوان و افسران تعینات کر چکی ہے جو کہ دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر کا دورہ کیاجہاں پر انھیں انجنیئر ان چیف لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز، چیف کوآرڈینیٹرنیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹرنے ٹڈیوں کے خطرے سے نمٹنے کے لئے کی گئیں کوششوں کے بارے میںآگاہ کیا۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیشنل ایکشن پلان کے مطابق قومی کوششوں کو ہم آہنگ کرنے میں نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر کے کردار کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک فوج ٹڈیوں کے خطرے سے نمٹنے کے لئے سول انتظامیہ کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ انہوں نے مزیدکہا کہ ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور منفی معاشی اثرات کو کم کرنے کے لئے مؤثر کنٹرول آپریشنز ضروری ہیں۔ پاک فوج کی جانب سے ٹڈی دَل کے مکمل خاتمے کے لئے جدید سپرے مشینیں محکمہ زراعت کے حوالے کر دی گئی ہیںجو پاک فوج کی مدد اور نگرانی میں مقامی انجینئرز نے ملتان میں محدود وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے کم وقت اورمعقول لاگت میں تیار کیں جو پہلے در آمد کی جاتی تھی۔اس کے علاوہ مقامی سطح پر تیار کئے گئے سامان میں (Indigenous Sprayer Machines) ٹریکٹر مائونٹڈ ائیر بلاسٹ کینن، پاور وہیل بارو، پورٹ ایبل پاور گن اور وہیکل مائونٹڈالٹرا لووالیم سپریئر شامل ہیں۔ جن میںسب سے نمایاں دیسی ساختہ(ULV)الٹرا لو والیم سپرئیر مشین ہے۔ یہ مشین انتہائی کم وقت اور کم مقدارمیں کیڑے مار دوائی کا استعمال کرتے ہوئے دوسرے زمینی زرعی آلات کی نسبت کئی گنا زیادہ علاقے پر سپرے کر سکتی ہے۔



جنوری 2020میں ضلع رحیم یارخان کی تحصیل صادق آبادکے مختلف علاقوں میںٹڈی دَل کا بڑے پیمانے پر حملہ ہوا جس کے تدارک کے لئے فیڈرل ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کا طیارہ ٹڈی دَل کے خلاف فضائی سپرے کرتے ہوئے اچانک فنی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہوا۔ جس کے نتیجے میں پائلٹ کیپٹن(ر)محمد شعیب ملک اور انجینئر فواد خالد بٹ شہید ہوئے۔
قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، وزارت قومی غذائی و تحقیق، ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن، محکمہ زراعت اور پاک فوج کے انسدادٹڈی دَل آپریشنز جاری ہیں۔اس وقت ملک میں 1,142 سے زائد مشترکہ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیںاور متاثرہ اضلاع میںٹڈی دَل کے خلاف جامع سروے اور کنٹرول آپریشنز کررہی ہیں۔ قدرتی آفت اورمشکل کی اس گھڑی میں پاک فوج اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ٹڈی دَل کے خاتمے کے لئے کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ٹڈی دَل کے انسداد کے لئے جدید زمینی سپرے مشینوں اور وافر مقدار میں زرعی ادویات اور پاک فوج کے ہوائی جہاز، ہیلی کاپٹر بھی صوبوں کی مدد کے لئے فراہم کر دیئے گئے ہیں تاکہ ٹڈی دَل کے بڑے 'سوارمز' کا بروقت خاتمہ کیا جا سکے۔حکومت کی جانب سے ضلعی اور موضع کی سطح پر لوکسٹ کنٹرول کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہیجس کے تحت فیلڈ اسسٹنٹ آفیسر زراعت، تحصیلدار، پٹواری، نمبردار اور کسانوں پر مشتمل ٹیمیںعلاقے کا سرویلنس کر رہی ہیں۔مقامی افراد یا کسانوںکی طرف سے ٹڈی دَل کی موجودگی اور حملے کے بارے میں اطلاع موصول ہوتے ہی کمبٹ ٹیمیں، جس میں پاک فوج اور متعلقہ محکموں کے افسران شامل ہیں،اپنے نمائندگان کے ہمراہ موقع پر پہنچ کر بروقت سپرے کرکے ٹڈی دَل کا خاتمہ کر دیتی ہیں۔اس کے علاوہ ضلعی سطح پر مقامی کمیونٹی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں جو فصلوں کو ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ مقامی کاشتکاروں کی رہنمائی کے لئے مختلف ورکشاپ اور ٹریننگ کاانعقاد بھی کر رہی ہیں۔کسانوں کی سہولت کے لئے ہاٹ لائن یونیورسل نمبر(051,111-222-999) لوکسٹ کنڑول سینٹر کے آپریشن روم میں قائم کیا گیا ہے جس پر کسان حضرات 24 گھنٹے رابطہ کر سکتے ہیں۔



پاکستانی قوم ایک بہادر قوم مانی جاتی ہے جس نے ہر مشکل آفت کا ڈٹ کر حوصلے سے مقابلہ کیا۔ سیلاب کی تباہ حال آبادیاں جن کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔پاک فوج اور دیگر حکومتی اداروں کے تعاون سے پھر سے اپنے گھروں میںآباد ہیں۔ 2005ء کے زلزلے نے آزاد کشمیر، ناران،کاغان، بالا کوٹ اور دیگر علاقوں کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیاتھا۔ اللہ کے کرم، قوم کے حوصلے، پاک فوج اور دیگر اداروں کے تعاون سے بالاکوٹ، ناران، کاغان اور آزاد کشمیر سمیت دیگرعلاقے ایک بارپھر شاد و آباد ہیں۔ اِن شاَء اللہ وہ وقت دُور نہیں جب حکومت کے بروقت اقدامات، قومی و صوبائی ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹیز، پاک فوج،ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن، محکمہ زراعت اور دیگر اداروں کے باہمی تعاون اور عظیم پاکستانی قوم کے حوصلے سے جلد ٹڈی دَل جیسی خطرناک آفت سے ہمیں چھٹکارا ملے گا۔ پریشان حال کاشت کار اور کسان اِن شاَء اللہ ایک بار پھر خوشحال ہوگا اور ہمارا ملک جس کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے، زرعی پیداوار میں اضافے کے باعث خوشحالی و ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے گا۔ 

یہ تحریر 73مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP