متفرقات

ٹارگِٹ، ٹارگِٹ ، ٹارگِٹ

قسط ۔دو

قسمت کی خوبی دیکھئے
فوج میں یوں تو ہر کام کے لئے مہینوں پہلے سے منصوبہ بندی شروع کر دی جاتی ہے، اہل ترین اور تجربہ کار افراد کا انتخاب کیا جاتا ہے، ان کو خوب تیاری کروائی جاتی ہے،بار بار ریہرسلز کی جاتی ہیں اور کوشش کی جاتی ہے کہ انتظامات کو ہر لحاظ سے’’فول پروف‘‘شکل دی جائے۔لیکن کیا کریں کہ اس سب کے باوجود قسمت کی خرابی پیچھا نہیں چھوڑتی اور کہیں نہ کہیں سے آن’دخیل‘ ہوتی ہے۔آج ہم آپ کا تعارف قسمت کی چند ایسی ہی’ خرابیوں‘ سے کروائیں گے ۔ فوج میں اکثر فنکشن آؤٹ ڈور یا کھلی فضا میں منعقد کئے جاتے ہیں۔سٹیج کو خصوصی طور پر تیار کیا جاتا ہے اور اس پر دھوپ اور بارش سے بچاؤ کے لئے ایک عدد سائبان (جسے فوجی زبان میں فلائی کہا جاتا ہے)ضرور ایستادہ کیا جاتا ہے۔یہ کمبخت فلائی ہی اکثر صورتوں میں تمام خرابیوں کا نقطہ آغاز ثابت ہوتی ہے۔ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ فنکشن شروع ہونے سے پہلے تمام چیزیں درست حالت میں ہوتی ہیں لیکن جوں جوں فنکشن کے آغاز کا وقت قریب آتا جاتا ہے‘ ہوا تیزی سے چلنا شروع ہو جاتی ہے۔ بادل اکٹھے ہونے لگتے ہیں اور اچھا خاصا بارش کا سماں بندھ جاتا ہے۔یہاں تک کہ جب وی آئی پی کی آمد ہوتی ہے تو فلائی ایک مست ہاتھی کی مانند ہوا کی لہروں کے ساتھ جھول رہی ہوتی ہے۔یہ منظر دیکھ کر انتظامات پر مامور یونٹ کے سی او اور ایس ایم کے دلوں پر لگاتار چھریاں چل رہی ہوتی ہیں اور وہ صدق دل سے دعا کر رہے ہوتے ہیں کہ اے خدا آج یہ کم بخت فلائی کسی طرح ٹک جائے تو ساری زندگی سجدے سے سر نہ اٹھائیں۔ لیکن ہم نے ان دعاؤں کو شاذ ہی قبولیت کا درجہ حاصل ہوتے دیکھا ہے۔ ہمارا تجربہ ہے کہ چاہے جتنے جتن کر لئے جائیں‘ فلائی ضرور گر کے رہتی ہے اور اس کی لپیٹ میں اکثر سینیئر افسران ہی آتے ہیں۔اس کے بعد انتظامات پر مامور یونٹ کی جو حالت ہوتی ہے‘ وہ بیان سے باہر ہے۔ جیسے ہی مہمان خصوصی اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہیں تو مائیک سے ایک آواز کے بجائے لمبی سی چووووں۔۔۔ اووووں ۔۔۔ کی سیٹی نماآواز برآمد ہوتی ہے۔حالانکہ اس آڈیو سسٹم کو فنکشن سے قبل بارہا ٹیسٹ کیا جا چکا ہوتا ہے لیکن نہ جانے کیوں ایسا ہونا ایک ضروری امر ہے۔تھوڑی دیر کے بعد یہ خرابی خودبخود دور بھی ہو جاتی ہے لیکن اس وقت تک جو نقصان ہونا ہوتا ہے ‘وہ ہو چکا ہوتا ہے۔ ایک ایسے ہی فنکشن کے دوران جب آڈیو سسٹم نے حسب معمول کام کرنے سے انکار کر دیا تو کرنل سٹاف،متعلقہ یونٹ کمانڈر اور ڈیوآرٹلری کمانڈر تینوں نے جی او سی کی ڈانٹ ڈپٹ کے خوف سے تھر تھر کانپنا شروع کر دیا۔ہم نے کسی واقف حال سے پوچھا کہ پہلے دو افراد تو کسی نہ کسی طرح اس سانحے کے ذمہ دار ہیں، اس لئے ان کا ڈرنا بالکل بجا ہے لیکن یہ کمانڈر آرٹلری کس خوف میں دبلے ہوئے جا رہے ہیں ۔جواب آیا کہ کمانڈر آرٹلری ’’عادتاً اور احتیاطاً‘‘خوفزدہ ہو رہے ہیں۔


کسی سینئر کمانڈر کادورہ ہو تو یونٹ کو نہایت اہتمام کے ساتھ دلہن کی مانند سجایا جاتا ہے۔ کمانڈر کو سب سے پہلے کوارٹر گارڈ پر لے جایا جاتا ہے جہاں یونٹ کا ایک چاق چوبند دستہ معزز مہمان کو سلامی پیش کرتا ہے۔ اس مقصد کے لئے یونٹ کے سمارٹ ترین جوان منتخب کئے جاتے ہیں ۔ ان کے لئے خصوصی طور پر وردیاں تیار کروائی جاتی ہیں جو میڈلز اور اعزازی پٹیوں سے مزین ہوتی ہیں۔اس دستے کو دن رات ڈرل کروائی جاتی ہے تاکہ ان کی حرکات و سکنات میں مطلوبہ ہم آہنگی لائی جاسکے۔ دورے والے دن ہوتا کچھ یوں ہے کہ یہ دستہ پوری گھن گرج کے ساتھ مہمان خصوصی کو سلامی دینے میں مصروف ہوتا ہے کہ دور سے سلو موشن میں ایک خاکروب اپنے لمبے سے جھاڑو کے ہمراہ نمودار ہوتاہے اور مہمان خصوصی کی ساری توجہ اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔قسمت کی خوبی دیکھئے کہ وہ قریب پہنچ کر جھاڑو بغل میں دبا کر سیلوٹ بھی کرتا ہے۔اس شاندار کارروائی کے بعد سی او سمیت تمام افسران کی خدا سے یہی دعا ہوتی ہے کہ زمیں پھٹے اور سب کے سب اس میں سما جائیں لیکن شدید خواہش کے باوجودتاریخ میں ایسا واقعہ آج تک وقوع پذیر نہیں ہوا۔ بعد میں مذکورہ خاکروب کو بلا کر پوچھا جائے کہ بھلے آدمی تمہیں عین گارڈ آف آنر کے وقت کوارٹر گارڈ پر نمودار ہونے اور بلند آواز میں سیلوٹ کرنے کی کیا ضرورت تھی تو وہ جواب دیتا ہے ’’سر جی !کمانڈر میرا وی تے اے

(سر جی !کمانڈر میرا بھی تو ہے۔‘‘)


گیم ایکسکیوز
مئی 1998میں ہماری شادی ہوئی۔ایک نئی زندگی کا آغاز ہوا۔ نئی نویلی دلہن کے ہمراہ پشاور پہنچے اور آرٹلری میس کے ایک گیسٹ روم میں قیام پذیر ہوئے۔ یونٹ کی روٹین ہمیشہ کی طرح بہت سخت تھی۔ ہمارے چند خیرخواہوں نے ٹو آئی سی سے سفارش کی کہ ہمارا گیمز کا فالن ایکسکیوز کیا جائے تاکہ ہمیں سہ پہر کو یونٹ نہ آنا پڑے۔ٹو آئی سی نے اس تجویز کو سنجیدگی سے لیا اور سی او سے بات کر کے اس پر عملدرآمد کا وعدہ کر لیا۔ ہمارے دل میں خوشی سے لڈو پھوٹنے لگے اور خیالوں ہی خیالوں میں پشاور کی سیر کے پروگرام ترتیب دینے لگے۔اگلے دن ٹو آئی سی، سی او کے پاس تشریف لے گئے۔ ہماری گیم ایکسکیوز والی بات ایجنڈے میں سرفہرست تھی۔کافی دیر کے انتظار کے بعد برآمد ہوئے اور ہم سے مخاطب ہو کر گویا ہوئے ’’میں نے بڑی مشکل سے سی او کو تمہاری گیم ایکسکیوز کرنے پر رضامند کرلیا ہے لیکن تمہیں کل صبح سے ایک ماہ کے لئے کینٹ سے دس کلومیٹر دور تہکال فائرنگ رینج پر فائرنگ ٹیم کے ہمراہ کیمپ کرکے ٹیم کو آنے والے مقابلوں کی تیاری کروانا ہے اور جب تک فائرنگ کے مقابلے ختم نہیں ہو جاتے ،تم مستقل وہیں قیام کرو گے۔‘‘ یہ آرڈر سن کر سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ہنسا جائے یا رویا جائے۔ یعنی گیم ایکسکیوز ہونے کی خوشی منائی جائے یا ایک ماہ تک فائرنگ رینج پر مستقل قیام کا غم۔ خیر ہم نے ڈرتے ڈرتے ایک عرض کی کہ ہم سارا دن فائرنگ رینج پر گزارنے کے لئے تیار ہیں فقط رات کو واپس گیسٹ روم میں آ کر رہنے کی اجازت د ے دی جائے۔ اس کے بعد ہمارا یہ معمول ہوگیا کہ روزانہ فجر کے وقت وردی پہن کر روانہ ہوتے، سارا دن فائرنگ رینج پر گزارتے اور اندھیرا ہونے کے بعد گیسٹ روم میں واپس پہنچتے۔ اس ساری بھاگ دوڑ کے دومنطقی نتائج برآمد ہوئے۔ ایک تو یہ کہ ہماری ٹیم نے فائرنگ کے مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی اور دوسرا یہ کہ بیگم ناراض ہو کر میکے چلی گئیں۔بڑی مشکل سے انہیں منا کر واپس آنے پر رضامند کیا تو ہماری پوسٹنگ سیاچن ہوگئی۔ اس کے بعد ہم نے بھولے سے بھی کبھی کسی کو گیم ایکسکیوز کرنے کا نہیں کہا۔


پی آر سی کی رینج
فوج میں ہر سال کے آخری تین سے چار ماہ کے دوران عموما طویل جنگی مشقیں پلان کی جاتی ہیں ۔تمام یونٹیں کینٹ سے باہر نکل کر ایکسرسائز ایریا میں کیمپ لگاتی ہیں جہاں سے وقفے وقفے کے بعد طے شدہ پلان کے مطابق دوسری جگہوں پر جایا جاتا ہے۔ ایک ایسی ہی طویل ایکسرسائز کا ذکر ہے۔ پورا دن ایکسرسائز ایریا میں گزارنے کے بعد سب آفیسرز شام کو فیلڈ میس میں اکٹھے ہوتے۔ ان دنوں ہمارا پالا ایک نہائت ہی سخت گیر کمانڈنگ آفیسر سے پڑا تھا۔ کرنل صاحب پرانے گنرز کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے چنانچہ ان کے لبوں پر مسکراہٹ کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ فیلڈ میس میں وہ توپخانے کی کتابیں رٹ کر آتے اورفرداًفرداً سب سے سوالات پوچھتے۔ جونہی کوئی سوال پوچھا جاتا، یار لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنا شروع کر دیتے۔ہر کسی کی کوشش ہوتی کہ اس کے بجائے کوئی اور ہی جواب دے۔ بیشتر صورتوں میں جواب غلط ہی ہوتا جو مزید بے عزتی کا موجب بنتا۔ ایسا نہیں تھا کہ فیلڈ میس میں انٹرٹینمنٹ کی کوئی چیز نہیں تھی۔ٹی وی، ڈش، وی سی آر سب کچھ موجود تھا لیکن سی او کو ان میں سے کسی بھی چیز سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔اس زمانے میں ڈش ریسیور نیا نیا آیا تھا۔ اس کو سیٹ کرنے کے لئے کافی جتن کئے جاتے تھے اور چند لوگ ہی اس کام میں مہارت رکھتے تھے۔ ایک دن کرنل صاحب میس میں تشریف لائے تو بہت خوشگوار موڈ میں تھے۔ آتے ہی بولے کہ یار یہ ڈش ،ٹی وی وغیرہ اتنی قیمتی چیزیں ہیں اور ہم لوگ ان سے بالکل بھی مستفید نہیں ہو رہے۔ آج ٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھا جانا چاہئے۔ حیرت سے سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کیونکہ سی او سے اس بات کی توقع ہرگز بھی نہیں کی جا سکتی تھی۔ ہم تو فائر ڈسپلن کے اسباق اور آیت الکرسی دل ہی دل میں دہرا رہے تھے۔ بہرحال ٹو آئی سی نے فوراً سی او کی ہاں میں ہاں ملائی اورآگے بڑھ کر ٹی وی اور ڈش ریسیور آن کر دیا۔ سب کی جان میں جان آئی کہ آج کم از کم گنری کا ٹیسٹ دینے سے بچ جائیں گے۔ کرنل صاحب بولے کہ یار ہم پرانے زمانے کے فوجی ہیں، ناک کی سیدھ میں چلنے والے۔ زمانہ بہت ترقی کر گیا ہے، بہت سی نئی چیزیں ایجاد ہو گئی ہیں جن کے بارے میں ہمیں بالکل بھی علم نہیں، جیسے یہ سیٹلائیٹ ریسیور۔آپ میں سے کسی کو اس کے بارے میں کچھ معلوم ہو تو ہماری معلومات میں اضافہ کرے۔اللہ دے اور بندہ لے، اب حالت یہ تھی کہ ہر کوئی یہ چاہتا تھا کہ وہ سب سے پہلے جواب دے۔ ہر کسی نے اپنی اپنی بساط کے مطابق ڈسکشن میں خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔مختلف پہلوں پر خوب روشنی ڈالی گئی، جیسے سیٹلائٹ ریسیور کو کیسے سیٹ کیا جاتا ہے، کس کس فریکوئینسی پر کون کون سے چینل آتے ہیں اور کس کس رخ اور زاویے پر مزید کون سے چینل پکڑے جا سکتے ہیں۔ ٹو آئی سی بھی پیچھے نہ رہے اور انہوں نے بھی بازار میں دستیاب مختلف ماڈلز اور ان کی قیمتوں پر سیر حاصل تبصرہ فرمایا۔ فائر ڈسپلن کہیں دور پیچھے رہ گیا تھا۔سب لوگ ڈسکشن کو خوب انجوائے کر رہے تھے کہ اچانک سی او نے پینترا بدلا اور پوچھا کہ پی آرسی سیٹ کی فریکوئنسی رینج کیا ہوتی ہے۔بتاتا چلوں کہ پی آرسی سیٹ آرمی میں وائرلیس پیغام رسانی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ فیلڈ میس میں یکبار خاموشی چھا گئی۔ کلاک کی ٹک ٹک تیز ہو گئی، دل تیزی سے دھڑکنے لگا اور دور کھیتوں میں موجود گیدڑوں کی آوازیں قریب آتی سنائی دینے لگیں۔ سی او نے سوال دہرایا لیکن تمام افسر گویا کومے میں جا چکے تھے۔ کوئی بھی جواب دینے کے لئے تیار نہ تھا۔ بدقسمتی دیکھئے کہ ایک ویٹر جو ہمیں پانی سرو کر رہا تھا، اس نے درست جواب دے دیا۔ سی او نے اس ویٹر کو تو شاباش دے کر میس سے جانے کے لئے کہا لیکن اس کے بعد تمام افسروں کی جو کلاس لی گئی وہ بیان سے باہر ہے۔ یقین مانئے کہ پی آر سی سیٹ کی فریکوئنسی رینج تو ہمیں آج بھی ٹھیک طرح سے نہیں معلوم البتہ سیٹلائٹ ریسیور بند آنکھوں سے بھی سیٹ کر سکتے ہیں۔ بقول پطرس ’’موت مجھ کو نظر آتی ہے، طبعیت کو جب دیکھتا ہوں میں۔‘‘


ڈسکے توں بول رہیاں 
پنوں عاقل میں ڈیوٹی کے دوران سکھر اور گردونواح کا علاقہ ہماری یونٹ کے آئی ایس ایریا کا حصہ تھا۔ آئی ایس ڈیوٹی کے لئے فوج کو اکثر کسی نہ کسی ایونٹ کے دوران سول محکموں کی مدد کے لئے طلب کیا جاتاہے۔ ایسا ہی ایک موقع 2005 میں آیا جب بلدیاتی انتخابات کے دوران امن و امان کے قیام کے لئے فوج کو طلب کیا گیا۔ ہم ان دنوں ایڈجوٹنٹ کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔ ہماری یونٹ نے دس دن کے لئے ضلع کونسل سکھر کی عمارت میں کیمپ کیا۔ امن و امان کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لئے بیس کے قریب موبائل سکواڈ تشکیل دئے گئے جنہوں نے مختلف علاقوں میں پولیس کے ساتھ مل کر پیٹرولنگ کرنا تھی۔ ان سکواڈز کو امن وامان کے قیام کے سلسلے میں واضح ہدایات دی گئیں۔ مین کنٹرول روم ضلع کونسل کی عمارت میں ہی قائم کیا گیا۔ایس او پی کے مطابق ان سکواڈز نے کنٹرول روم سے رابطے کے لئے پی آر سی سیٹ استعمال کرنا تھے۔ زیادہ استعمال کرنے سے اس سیٹ کی بیٹری ڈسچارج ہو جاتی ہے جسے فیلڈ میں چارج کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک خاص رینج سے دور جانے پر یا کسی بلڈنگ کی آڑ میں بھی سیٹ کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ان حالات میں رابطے کا دہرا نظام اپنانا بہت ضروری ہو گیا تھا تاکہ سیٹ کے کام نہ کرنے کی صورت میں بھی کنٹرول روم اور موبائل سکواڈز کا آپس میں رابطہ بحال رہے۔ ان دنوں آرمی میں موبائل فون رواج پانا شروع ہو چکے تھے۔ کافی سوچ بچار کے بعد ہم نے موبائل فونز کو ثانوی ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہر سکواڈ میں ایک موبائل فون والا جوان شامل کیا گیا جبکہ کنٹرول روم میں ہم نے اپنے پاس ایک الگ موبائل فون رکھا۔ ان تمام موبائل فونز کی ایک لسٹ بنائی گئی جسے تمام سکواڈز کے حوالے کیا گیا تاکہ آپس میں رابطہ کرنے میں آسانی ہو سکے۔ یہ تمام انتظامات کرنے کے بعد ہم اپنے تئیں مطمئن ہو گئے کہ ہم نے سگنل کمیونیکیشن کا خاطر خواہ بندوبست کر لیا ہے اور اب کسی بھی حالت میں ہم تمام سکواڈز سے اور وہ ہم سے رابطے میں رہیں گے۔ اگلے دن سی او کنٹرول روم میں تشریف لائے۔ ہم نے انہیں مختلف موضوعات پر بریفنگ دی۔ چلتے چلتے بات کمیونیکیشن تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا کہ میرا تجربہ ہے کہ اکثر ضرورت کے وقت سگنل سیٹ بیٹری فیل ہونے کی وجہ سے کام نہیں کرتے جس کے باعث فیلڈ میں موجود لوگوں سے رابطہ نہیں ہو پاتا۔ ہم نے چھاتی پھلا کر سی او کے گوش گزار کیا کہ ہم نے اس صدیوں پرانے مسئلے کا حل ڈھونڈ لیا ہے جس پر عمل کرتے ہوئے ہم تمام ٹیموں سے مسلسل رابطے میں رہیں گے۔ ہم نے ان کو اپنے موبائل فون نیٹ ورک کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ عملی مظاہرے کے لئے سی او نے ہمیں کسی بھی سکواڈ سے بات کروانے کے لئے کہا۔ ہم نے جھٹ اپنے سیل فون سے'موبائل سکواڈنمبر ایک' کو کال ملائی جسے حسب ہدایت چوک گھنٹہ گھر کے قریب موجود ہونا تھا۔ کال ریسیو ہوئی اور دوسری جانب سے ہیلو کی آواز آئی۔ ہم نے پوچھا کون بول رہے ہو۔ جواب آیا ’’محمد بشیر‘‘۔ ہم نے سوال کیا ’’بشیر کہاں سے بول رہے ہو‘‘۔ دوسری جانب سے کہا گیا ’’سرجی میں ڈسکے توں بول رہیاں‘‘۔ اس کے بعد سی او نے غصے سے ہماری طرف دیکھا اور چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ بعد میں تحقیق کر نے پر معلوم ہوا کہ سکواڈ والوں نے غلطی سے اس جوان کا موبائل نمبر لکھوا دیا تھا جو ان دنوں چھٹی پر تھا۔ 
(جاری ہے)


[email protected]

یہ تحریر 146مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP