قومی و بین الاقوامی ایشوز

وہ ہم میں سے نہیں

جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں پشاور کے سانحہ کو ہم پر گزرے سوا ماہ بیت چکا ہے۔ زخم ایسا کہ ذرا سے دلاسے سے بھی خون کے آنسو رُلا دے۔ ذرا سے مرہم سے بھی رِسنے لگے۔۔۔ لیکن! جرّاحی تو کرنی ہے اور اتنی بے رحمی سے کرنی ہے کہ جب تک ناسور کو جڑ سے نکالا نہ جائے گا جسم گلتا سٹرتا رہے گا۔ ایک لمحے کو ذرا ٹھہر جایئے!! جذبات سے ہٹ کر بے رحم حقیقت کی نظر سے جائزہ لیجئے۔ کیا ہم واقعی دہشت گردی کے اس ناسور کی جرّاحی شروع کر چکے ہیں یا کم از کم کرنا بھی چاہتے ہیں؟ کیا مریض کو جرّاحی کے انتظار میں بستر پر پڑے تاخیر نہیں ہو رہی؟ اور آخر اس مریض کے ورثا کون ہیں؟ پاک فوج تو آگے بڑھ چکی ہے۔ اب باقیوں کی عملی جدوجہد کی باری ہے۔

ان سوالات کے جواب کے لئے میں آپ کو واپس 16دسمبر 2014 کی بھیانک صبح میں لے چلوں گی۔ یزیدیوں نے یلغار کی اور معصوم حسینی قافلے کے بچوں اور عورتوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ پورے ملک پر‘ پوری دنیا پر سکتہ اور صدمہ طاری ہو گیا۔ جو شام تک شدید غصے اور انتقام میں تبدیل ہو چکا تھا۔ لیکن دل پر ہاتھ رکھ کر بتایئے گا۔ کیا ایسے سانحے کے لمحات میں بھی آپ نے ملک کے اندر سے کہیں کہیں یہ آوازیں نہیں سنی تھیں کہ یہ حملہ ’’آرمی‘‘ سکول پر ہوا ہے! خدا کا خوف کیجئے! یہ حملہ ’’آرمی‘‘ سکول پر نہیں‘ ایک سکول پر ہوا۔ آگے چلئے۔۔۔ آوازیں آنا شروع ہوئیں کہ ’’یہ بچے ہمارے بچے ہیں‘‘ انتقام لیا جائے گا۔ ان بچوں کی رُوحوں کو حساب دیا جائے گا۔ لیکن ایک بار پھر دل پر ہاتھ رکھ کر سچ سچ بتائیے گا کہ کیا واقعی (خدانخواستہ) اپنا بیٹا یا بیٹی ایسے ذبح کر دئیے جائیں تو کیا مجرم کے لئے سزا کا فیصلہ کرنے میں ایک ہفتے کا انتظار کیا جاتا؟ کیا اس فیصلے پر عمل کرنے کے لئے کمیٹیاں بنائی جاتیں اور پھر ان کمیٹیوں کو چالو کرنے کی کمیٹیاں اور چل سو چل۔۔۔۔ جس وقت تک یہ سطور لکھی جا رہی ہیں‘ سوائے پھانسیوں کے اور کسی فیصلے پر عمل شروع نہیں ہوا۔ ابھی بھی اجلاس اور مشاورتیں جاری ہیں کہ عمل شروع کیسے کیا جائے؟ اُمید ہے کہ جب تک یہ تحریر چھپے گی صورت حال کچھ بہتر ہو جائے گی کیونکہ ’’یہ ہمارے بچے ہی تو ہیں!‘‘

ان گزرے دنوں میں کچھ ’’دانشور‘‘ تو ایسے بھی سننے اور پڑھنے کو ملے جو سانحہ پشاور کے شہید بچوں کا ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والے اور تھر کی بھوک کی غذا بننے والے بچوں کے ساتھ تقابل کرنے لگے۔ انتشار پیدا کرنے‘ الجھنیں بُننے کی ہماری قومی نفسیات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بچے جہاں بھی اور جس کے بھی ایسے حالات کا شکار بنیں‘ وہ قابل مذمت ہے۔ تمام بچوں کا تحفظ ہونا چاہئے۔ لیکن کیا ہمارے خاندان میں‘ ہمسائے میں‘ محلے میں کسی کا انتقال ہو جائے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ ہاں تمہارا پیارا تو اﷲ کو پیارا ہوا لیکن فلاں کے ہاں بھی انتقال ہوا تھا۔۔۔ یا تعزیت کرتے ہیں اور حوصلہ بڑھاتے ہیں زندگی کا مقابلہ کرنے کے لئے؟۔۔۔ اجی معاف کیجئے‘ میرا مطلب یہ نہیں تھا کہ آخر ’’یہ ہمارے ہی تو بچے ہیں۔‘‘ چلئے‘ آگے چلئے! کون کون لوگ تھے‘ جو ہسپتالوں میں پڑے اس سانحے کے زخمی بچوں سے مستقلاً ملنے گئے یا ان کے جسمانی اور نفسیاتی علاج کا خیال رکھا؟ (خدانہ کرے) کیا ہمارا اپنا بچہ ایسے حالات کا شکار ہوتا تو ایک ماہ مکمل ہونے کا انتظار کرتے‘ یا 40دن کا؟ چلتے چلتے یوں ہی آپ کو تصویر کا ایک رخ دکھائے دیتی ہوں۔ آرمی سکول کے شہداء کے لواحقین کی دلجوئی ہو یا زخمیوں کی مسیحائی۔۔۔ آرمی کے افسران اور جوان ہر ہر لمحہ ان کے ساتھ موجود نظر آئے۔ تھر کے ’’سویلین‘‘ بچے بھوک سے بلک رہے ہوں تو آرمی کے جوان راشن کے تھیلے لئے موجود نظر آتے ہوں۔ سیلاب میں ڈوبتے بچے ہوں تو بھی آرمی Rescue کے لئے موجود نظر آتی ہے۔ زلزلے سے بے گھر بچے ہوں تو بھی آرمی کے جوان سنبھالنے کے لئے موجود۔۔۔!! میں ان لوگوں میں سے ہوں جو ہمیشہ سے سول‘ ملٹری خلیج کو پُر دیکھنے کے خواہشمند ہیں‘ جو چاہتے ہیں کہ حکومت اور فوج ریاست کے دو مضبوط ستونوں کی طرح عمارت کی بلندی کی بنیاد ہوں۔ جو چاہتے ہیں کہ حکومت اور فوج ترازو کے دو ایسے پلڑے ہوں جو ایک دوسرے کا توازن برقرار رکھیں‘ جو چاہتے ہیں کہ حکومت اور فوج دو الگ الگ کتابوں کے نہیں بلکہ ایک ہی کتاب کے ایک ہی صفحے پر ہوں۔ لیکن کیا ایسا صرف چاہنے سے ممکن ہے یا پھر عمل کرنے سے؟ اور اس عمل میں پہل کون کرے گا؟ اس بات کی وضاحت کون کرے گا کہ قوم کے رہ نما کون ہیں اورسپہ سالار کون ہیں؟ کون سمجھے اور سمجھائے گا کہ رہنمائی کے لئے بھی سپہ سالار کی جرأت درکار ہوتی ہے اور سپہ سالار کی رہنمائی بھی اکثر درکار ہوتی ہے۔

میں ان لوگوں میں سے بھی ہوں جو اس بات پر کامل ایمان رکھتے ہیں کہ ہماری افواج سرحدوں کی حفاظت کرتی ہی اچھی لگتی ہیں‘ نہ کہ اقتدار کے ایوانوں کے گرد۔ ہمارے کڑیل فوجی جوان دشمنوں کے سامنے سینہ تانتے ہی جچتے ہیں نہ کہ ہُما کے سامنے سر خم کرتے۔ ان جوانوں کے تگڑے بازو‘ دشمن کے سامنے ہی زور بازو آزماتے اچھے لگتے ہیں نہ کہ اقتدار کی رسہ کشی کرتے۔ یہ جوان دن کے اُجالے میں ہی دشمن کو شکست فاش دیتے ہمارا فخر ہیں نہ کہ ایوانِ صدر یا وزیراعظم پر۔۔۔ چاہے کچھ ’’دانشور‘‘ کتنا ہی گلا پھاڑ پھاڑ کر ڈھول سپاہیا کے گلے میں ایسا ڈھول ڈالنے کے خواہشمند ہوں جو بار بار استعمال سے پھٹ کر پرانا اور بے سُرا ہو چکا۔۔۔۔ لیکن اس سب کے باوجود کیا حکومتی ذمہ دار وہ سب کچھ کر چکے یا کم ازکم آغاز ہی کر چکے جس کی توقع ’’ہمارے بچوں‘‘ کی پاک روحوں کو ہم سے ہے؟

Never Forget

کے

hash tags

چلاتے اور نعرے لگاتے کیا ہم اپنا فرض بھولتے تو نہیں چلے جا رہے؟ کیا اپنی خطا سے ہم کوئی خلا تو پیدا نہیں کر چکے؟ مرض کی جراحی کرنے میں اور کتنی دیر؟ اور کتنی تاخیر؟ اور کتنے دن؟ اور کتنے ماہ؟ یا خاکم بدہن ہم لاشعور میں ایک اور سانحے کے منتظر تو نہیں ہیں؟ ارے بھئی! اس سانحے اور ایکشن پلان کی آڑ میں کہیں جوڈیشنل کمیشن بنانے یا دھاندلی کی تحقیق میں تاخیر نہ کر دیجئے گا!! افوہ یہ پیٹرول کا بحران کہاں سے نکل آیا؟ یہ حکومت کے خلاف گہری سازش ہے! ذرا اس سے نمٹ لیں‘ پھر ایکشن پلان پر ایکشن کے لئے بھی اجلاس بلاتے رہیں۔ خدایا! سردیوں میں بجلی اور گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ!! ایک منٹ ! کہیں یہ بھی حکومت کو کمزور کرنے کی ایک نئی سازش نہ ہو اور یہ میڈیا۔۔۔ اس کو تو عادت ہے سنسنی پھیلانے اور بات کا بتنگڑ بنانے کی‘ سیاست دانوں کی پگڑیاں اچھالنے کی‘ حکومت اور فوج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی۔ یہ کیا نئی سازش ہے؟ سانحہ پشاور کو بنیاد بنا کر کیا کوئی نئی سازش؟ ہم واضح کر دیں کہ ہم ان بچوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ دہشت گردی ختم کر کے دم لیں گے۔ ان بچوں کے خون کا حساب لیں گے۔ آخر کو ہمارے بچے ہی تو ہیں۔۔۔


یہ ہمارا گھر

یہ ہمارا گھر ہے ساتھی یا خوشی کا باغ ہے

یہ کئی رشتوں کی باہم دوستی کا باغ ہے

شام جب آتی ہے اپنے گھر کے صحن و بام پر

جگمگا اُٹھتا ہے دل قدرت کے اس انعام پر

جیسے یہ آنگن ہمارا روشنی کا باغ ہے

اِک جزیرہ سا ہے یہ بحرِ جہاں کے درمیاں

مسکراہٹ رُوح کی آہ و فغاں کے درمیاں

وقت کی بے چینیوں میں پُرسکوں احساس ہے

اجنبی بستی میں کوئی اپنا جیسے پاس ہے

عمر کے ہر دور میں اک تازگی کا باغ ہے

رات کے آخر پہ صبحِ زندگی کا باغ ہے

منیر نیازی

یہ تحریر 73مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP