متفرقات

وہ وقت بھی عجیب تھا‘یہ دور بھی عجیب ہے

اس دور میں سوال اٹھانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔باپ رو ل ماڈل ہوا کرتا تھا۔سکول میں اساتذہ کو فضیلت کا حامل سمجھا جاتا تھا۔اس وقت کوئی فیس بک فرینڈ نہیں ہوتا تھا صرف ’’بیسٹ فرینڈ‘‘ ہوتا تھا جس کے ساتھ ہم جان کی بازی لگانے کو ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔اس وقت تک خریداری میں برینڈڈ کا لفظ شامل نہیں ہوا تھا۔فارغ اوقات میں ڈراؤنی کہانیاں سننا سنانا ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہوتا تھا۔جب کبھی کزن اکٹھے ہوتے تو اندھیرے کمرے میں روح کو بلانے کی کوشش ضرور کی جاتی۔ مون سون کے موسم میں ہم بارش نہ تھمنے کی دعا کرتے تاکہ ہماری چھٹیاں طویل ہو جائیں۔امتحانات کے دنوں میں بچوں سے زیادہ ان کے والدین اور ٹیوٹر پریشان ہوتے۔ اس دور میں پورے سکول میں صرف فرسٹ سیکنڈ اور تھرڈ پوزیشن ہوتی جس کا اعلان ببانگ دہل کیا جاتا تھا۔اس دور میں ہم ان دیکھی چیزوں پر اندھا دھند ایمان لے آیا کرتے اور ان سے خواہ مخواہ خوفزدہ بھی رہتے۔پیسے سے زیادہ ہمیں دوستیوں کی فکر ہوتی۔سارا دن کھیل کود کے بعد ہمیں ہوش نہ رہتا کہ کب اور کہاں نیند نے ہمیں آ لیا۔پکنک منائی جاتی تھی جس کی سب سے اہم سرگرمی کسی کھلی جگہ پر دستر خوان بچھا کر کھانے کا اہتمام کرنا ہواکرتا تھا۔ یہ وہ وقت تھاجب شادیوں پر سب کزن کئی دن پہلے اکٹھے ہو جایا کرتے تھے۔ماموں، چچا، تایا سب سے مشورہ لیا جاتا تھا۔جب شادی کے موقع پر ناراض پھوپھی کو منانا سب سے مشکل مرحلہ ہوتا تھا۔جب شادی کی تاریخ شادی ہال کی دستیابی کے مطابق طے نہیں ہوتی تھی۔جب شادی کا انتظام گلی میں مخصوص قسم کے شامیانے لگاکر کیا جاتا جبکہ دیگوں کی پکوائی گھر کے صحن میں ہوتی۔

 

جب دلہا کو نوٹوں کے ہار پہنائے جاتے تھے۔جب والدین کو سال کے تین سو پینسٹھ دن وہی پروٹوکول ملتا جو آج کل انہیں فادرز اور مدرز ڈے پر ملتا ہے۔جب گھر کے جھگڑوں میں دادی کا فیصلہ حتمی سمجھا جاتا تھا۔جب اظہار محبت خون سے لکھے گئے خطوط کے ذریعے کیا جاتا تھا۔کتابوں میں پھول رکھے جاتے تھے۔رومال پر محبوب کے نام کی کڑھائی کی جاتی تھی اور درختوں کے سائے میں جینے مرنے کی قسمیں کھائی جاتیں تھی۔محبوب کے گھر لینڈ لائن فون ملایا جاتا تھا اور اگر کوئی بڑا بوڑھا فون اٹھا لیتا تو گھبرا کر ریسیور رکھ دیا جاتا تھا۔بریک اَپ کا لفظ تب ہماری لغت میں نہیں تھا۔جب ہم بسنت کی رات جاگ کر گزارتے تھے۔رات بھر روشنیوں سے آسمان جگمگا اٹھتا تھا۔ پورے شہر میں موسیقی گونجتی تھی۔گھروں میں پکوان بنتے تھے۔ ڈور سے گلے کٹنے یا ہوائی فائرنگ سے مرنے کا رواج ابھی کم کم تھا۔جب کسی اندھے قتل کی واردات سے شہر میں خوف کی فضا طاری ہو جاتی تھی۔ ہفتوں تک لوگ اس کا تذکرہ کرتے تھے۔جب ہمسائے ماں جائے ہوتے تھے۔ جب ہم کچھ بھی کھاتے وقت یہ نہیں سوچتے تھے کہ اس میں کتنی کیلوریز ہیں۔ جب باہر سے کھانا منگوانے کا مطلب پندرہ کباب اور چھ نان ہوا کرتا تھا ( چٹنی اور سلاد مفت) اور فاسٹ فوڈ کا مطلب میکڈونلڈز نہیں بلکہ سموسہ۔ فروٹ چاٹ اور پکوڑے ہوا کرتا تھا۔ اس دور میں ہمارا خیال تھا کہ ہم صرف بوڑھے ہو کر ہی فوت ہوں گے۔ بم دھماکوں کی ناگہانی موت ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔ ان دنوں ہم اپنے سے ایک سال بڑے کزن کو بھی بھائی جان یا باجی کہہ کر بلایا کرتے تھے۔ یہ وہ وقت تھاجب ہم رشتے داروں کو آنٹی یا انکل کہہ کرنہیں بلکہ خالہ جی‘ چچی جان اورتائی اماں کہہ کر پکارتے تھے۔ جب مائیں تن تنہا سارا د ن کام کرتی تھیں اور انہیں جاگنے سونے کا ہوش نہیں ہوتا تھا۔ ان دنوں والد کا گھر میں حکم چلتا تھا اور باپ کے آنے پر بچے یکدم تہذیب کا مظاہرہ کرنے لگتے تھے۔جب ہم نے پابندی نمازکے لئے ڈائری بنائی ہوتی تھی جس میں قضا نمازوں کا حساب رکھا جاتا تھا۔ جب سارے گھر والے اکٹھے ہو کر پی ٹی وی پر رات آٹھ بجے کا ڈرامہ دیکھا کرتے تھے۔جب روحی بانو اور فردوس جمال سٹار ہوا کرتے تھے۔ جب نائٹ رائڈر‘ مین فرام اٹلانٹک اور چپس ہماری پسندیدہ ٹی وی سیریز ہواکرتی تھیں۔ جب ہماری خبروں کا واحد ذریعہ نو بجے کا خبرنامہ ہوتا تھا۔جب عید کی مبارکبادیں ایس ایم ایس کی بجائے عید کارڈ کے ذریعے دی جاتی تھیں۔ جب ہمارے پاس موبائل فون نہیں ہوا کرتے تھے مگر اس کے باوجود ہم کبھی اپنے پیاروں کے بارے میں غیر ضروری طور پرفکر مند نہیں ہوتے تھے۔ جب کرائے کی سائیکل لے کر گھومنا ہمارے لئے کسی عیاشی سے کم نہیں تھا۔ جب محلے کی ویڈیو گیم کا ’’اینڈ۔ کرنا ایک معرکہ سر کرنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔جب ’’دبئی لگنے‘‘ کا مطلب لاٹری نکلنا ہوتا تھا۔جب سکول میں فلیٹ بوٹ پر سفید پالش لگا کر جاتے ہوئے ایک عجیب سی خوشی ہوتی تھی۔ جب ہم نے کمپیوٹر کے بارے میں صرف سن رکھا تھا کبھی دیکھا نہیں تھا۔ جب شادی کے موقع پر اس شخص کی منتیں کی جاتی تھیں جس کے پاس مستطیل شکل کا ون ٹین کیمراہوتا۔ جب لوگ دس سیکنڈ میں دس سیلفیز نہیں بناتے تھے بلکہ پوری تقریب ایک فلم رول میں سما جاتی تھی۔جسے ’’دھلوانے‘‘ کے وقت ایک فوٹو البم مفت ملا کرتی تھی۔ جب کرائے کے وی سی آر کے ساتھ پانچ فلمیں اور ایک ٹی وی سو روپے میں لایا جاتا تھا جس پر چاروں طرف ٹیپ چڑھی ہوتی تھی۔جب تعزیت کے لئے ٹویٹر پر آر آئی پی لکھنے کے بجائے مرنے والے کے لواحقین کے گھر جایاجاتا تھا ۔۔۔عجیب وقت تھا

 

یہ دور بھی عجیب ہے

ٹی وی پر سو چینل آتے ہیں مگر ہم ریموٹ پھینک کر کہتے ہیں ’’کچھ نہیں لگا ہوا۔‘‘وائی فائی نہ ہو تو ہمارا سانس بند ہونے لگتا ہے۔دوست ہیں مگر ہم انہیں ’’تو یا تم۔‘‘ کہہ کر نہیں بلاتے۔ اب سکول میں بچوں کا نتیجہ نہیں پکارا جاتاکیونکہ اس سے ان کے تحت الشعور پر برا اثر پڑتا ہے۔شادیوں پر رشتے دار سلامی دینے آتے ہیں اور کھانے کے بعد اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔اب اظہار محبت آسان ہے مگر محبت کرنی مشکل ہے۔بریک اپ کے لئے محبوب کو بلا ک کرنا کافی ہے۔اب لڑکیاں لڑکوں کو فقط یہ کہہ کر دوست بنا سکتی ہیں کہ ’’وہ صرف میرا دوست ہے۔اس سے زیادہ کچھ نہیں۔‘‘اب ہم لڈو یا کیرم بورڈ نہیں کھیلتے بلکہ فارم ولا اور کینڈی کرش کھیلتے ہیں۔آج کل اتنا غم امتحان میں ناکام ہونے پر نہیں منایا جاتا جتنا یو پی ایس خراب ہونے پر منایا جاتاہے۔آج فیس بک فرینڈ پر ہمارے سیکڑوں فرینڈز ہیں مگر شائد ان میں سے دو چار ہی ہوں جو مرنے پر تعزیت کی زحمت گوارا کریں۔زیادہ تر ٹویٹر پر آر آئی پیلکھ کر اپنا فریضہ ادا کر دیں گے۔

وہ وقت بھی عجیب تھا۔یہ دور بھی عجیب ہے۔دونوں خوبصورت ہو سکتے ہیں بشرطیکہ ان کی یادیں خوبصورت ہوں!


مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 91مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP