ہمارے غازی وشہداء

وہ قرار جان کہاں کھو گئے


ایک ماں کے قلم سے جس کے دو بیٹوں نے پاک فوج کی وردی زیب تن کی۔ ان میں سے ایک بریگیڈیئر حسین عباس شہید نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں عملی طور پر حصہ لیتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔

 وہ قرار جان ہیں۔ جو نظر سے میری نہاں ہو گئے میرے ایسے فرزند کہاں کھو گئے

میرے ساتھ تھے۔ میری بات بھی اُن کے کانوں سے جو ٹکراتی تھی۔
دلداری و دلبری کے پیکرصبح و شام ہوتے تھے ساتھ وہ۔ اپنے سر تسلیم و رضا میں جھکاتے تھے۔ 
جو کھلا دیا، وہی کھا لیا۔
جو پہنا دیا، وہی پہن لیا۔
اک کا نام اَحسن شِیَم یعنی محسن۔
اور دوسرا جمیل شِیَم یعنی حسین غریب سا۔
وہ سکول کو بھی تو جاتے تھے۔ کچھ لکھ کے کچھ پڑھ کے گھر کو واپس بھی لوٹ آتے تھے۔
وہ سکول بھی اسی شہر میں تھا۔
اور اب بھی ہے۔ اب حفاظتوں کے حصار میں اُس کے راستے ہیں بدل گئے۔
اسی درس گاہ سے اپنی اپنی باری آنے پر وہ ملٹری کالج جہلم میں چلے گئے۔
وہ عالمگیرین بلیزر پہنتے تھے۔ اسی ادارے کی ٹائی بھی لگاتے تھے۔ کیا خوب وہ چھب دکھلاتے تھے۔
اور اپنی کمر کو بیلٹ سے وہ کس کے دن کا آغاز کرتے تھے۔ جس کے آہنی سرے پر کالج کا نشان ہوتا ہے۔
کیا خوب دن تھے ہمارے وہ۔ دُوریاں اور مسافتیں، کبھی کبھار ملنے کی راحتیں!
زندہ باد ملٹری کالج جہلم!
آج بھی راستوں میں جب لب سڑک یہ کالج آتا ہے، دل دھڑک جاتا ہے۔
کیسے کیسے سپوت اس نے دیئے۔
بشر کے بچے کو آدمیت کی قبا پہنا کر کیسے انسان میں ڈھال دیتا ہے، ملٹری کالج جہلم۔ 
کچے پکے سے ذہن لے کریہاں ہر سال بہت سے بچے آتے ہیں اور جب وہ پاس آؤٹ ہونے کے بعدنکلتے ہیں آدمیت کا نشان اک جانِ وفا برائے ملک و قوم بن کے ملت میں کھو جاتے ہیں۔ 
درسگاہ سرائے عالمگیر! ترے بیٹے نشان حیدر تک بھی یہاں سے پہنچے ہیں۔ یہیں تھا میجر اکرم شہیدبھی کہیں، یہیں ناحق سے ان کو لڑنے کا نور تو نے دیا۔ اُن کو مرنے کا بھی شعور دیا۔ حق پہ رہتے ہوئے۔
خون سے اپنے ان مہ رُخوں نے تیرے ،اپنی ملت کو وہ سرور دیا۔ اب بھی زندہ ہے ان کا پاکستان سب کا پاکستان درسگاہ سرائے عالمگیر! تیرے آنگن میں نور کی فصلیں اک فضیلت کے ساتھ پکتی ہیں۔
پرچم ستارہ و ہلال اٹھا کے آگے چلتی ہیں۔
میرے بھی نونہال محسن و حسین تیرے خرمن سے نور چنتے رہے۔ اک جھلک بن کے آرمی میڈیکل کالج میں گیا۔
دوسرا ملٹری اکیڈمی کاکول میں ہی جا پہنچا۔۔۔۔ پھر! اس کے بعد کہنے کو کچھ نہیں ہے میرے پاس
بندے تھے رب کے وہیں پہ لوٹ گئے۔
اپنے ذوق حیات پہ لکھ کر
ہم تو تیرے ہیں اے وطن کی زمیں!
تجھ کو چاہتے ہیں، تجھی پر مرتے ہیں،
کوئی بھی مرض جان لیوا ہو۔ تیری عظمت کو لے کے سوئیں گے
واہ، واہ، آنسو
جاگ کر یہ کہیں گے۔
’’اے اﷲ! پرچم پاکستان سربلند تا ابد زندہ و تابندہ رہے!
کوئی بھی فرض جو ہو میرے سپرد۔ میں اُسے دل سے پیار کرتا ہوں!
اے وطن تیرے لئے زندہ تھا۔
جان! تجھ پر نثار کرتا ہوں!
ایسے بیٹوں پہ صرف مائیں کیوں، تربیت گاہیں کیوں نہ ناز کریں!
جو مصیبت میں صبر سے لیں کام اور مدد مانگیں کے خدا ہی سے وہ!
وادی تیراہ میں اک بیابان بے ضمیری و تنگ نظری سے دوبدو لڑتے ہوئے قائم اک آخری نماز کریں۔
در شہوار حسین

یہ تحریر 112مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP