قومی و بین الاقوامی ایشوز

وہ شخص ہمیں جان سے بھی پیارا تھا

لیفٹیننٹ کرنل انور عباس بٹ شہید (ستارہ بسالت) کی یاد میں ان کی اہلیہ کی ایک تحریر

لیفٹیننٹ کرنل انور عباس بٹ کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر گجرات سے تھا۔ وہ 28جنوری 1971کو ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں ہی ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ آپ کی پیدائش پر آپ کے والد نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ میرا بیٹا بڑا ہو کر فوجی آفیسر بنے گا۔ اُن کا کئی نسلوں سے افواج سے تعلق تھا۔آپ نے ابتدائی تعلیم زمیندارہ کالج سے پاس کی اور فوج میں کمیشن کے لئے اپلائی کیا اور کامیاب ٹھہرے۔ پی ایم اے سے پاس آؤٹ ہونے کے بعد 60بلوچ رجمنٹ جائن کی۔ شروع سے ہی دفاع وطن کے جذبے اور خاکی وردی سے محبت نے انہیں یونٹ کے ہر کام اور ہر مشن میں آگے رکھا اور اپنی زندگی میں خضدار‘ گوادر‘ کوئٹہ‘ مری‘ راولپنڈی‘ کھاریاں‘ آزادکشمیر‘ گوجرانوالہ‘ بہاولپور‘ سوات‘ ہنگو اور اورکزئی ایجنسی میں خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ آپ نے ایک سال UNمشن پر سرالیؤن میں بھی خدمات انجام دیں۔ 2007میں ان کی یونٹ سوات کی جنت نظیر وادی میں اس وقت پہنچی جب یہ حسین دھرتی بدامنی کا شکار تھی۔ انورعباس نے اپنی یونٹ کے ساتھ بحیثیت کمپنی کمانڈر اس آپریشن میں حصہ لیا اور جرأت و بہادری اور استقامت کی ایسی مثال قائم کی کہ علاقے کے لوگ اور دیگر آفیسرز آج بھی آپ کے دلیرانہ کارناموں کا ذکر کرتے ہیں۔ اس آپریشن میں ان کا سامنا کئی مرتبہ موت سے ہوا انہوں نے اپنے کئی عزیز ساتھی آفیسرز اور جوانوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے شہید ہوتے دیکھا۔ ان واقعات نے ان کا اﷲ پر اعتقاد‘ ایمان اور ملک دشمنوں سے نفرت اور ملک اور اﷲ کی راہ میں شہادت کا رتبہ پانے کا جذبہ مزید بڑھا دیا۔ میں نے بحیثیت ان کی بیوی ان کو ہمیشہ یہی کہتے سنا۔ \"Shumyla, I will never let my kids and my Country down. My kids will always be proud of me. IA\" وہ اکثر کہا کرتے تھے’’شمائلہ! میں ڈر کر بھاگنے والوں میں سے نہیں‘ یہ وطن ہماری قربانی مانگے تو میری جان بھی حاضر ہے۔ اور میری کمر یا پشت پر کسی گولی کا نشان نہ ہو گا۔ میں شہید ہوا تو میں تمام گولیاں انشاء اﷲ سینے پر کھاؤں گا۔‘‘ اور انہوں نے یہ بات ثابت کر دی کیونکہ صرف بلٹ پروف جیکٹ میں سینے پر 50گولیاں تھیں۔ سوات کے آپریشن میں وہ اپنی بلٹ پروف جیکٹ اتار کر سب سے جونیئر سپاہی کو دیتے کہ ’’جب تک میرے تمام بھائی سپاہی نہ پہنیں میں نہیں پہنوں گا۔ اور اگر موت کا وقت لکھا ہے تو بستر پر بھی آ سکتی ہے۔ تو پھر ڈر کیسا؟‘‘ کرنل انور ایک خوش مزاج‘ صاف گو اور کھرے انسان تھے۔ ملک سے انتہائی محبت کرتے تھے۔ اور ملک میں موجود کرپشن اور دہشت گردی کو ملک کے لئے ناسور سمجھتے تھے۔ ان کی شدید خواہش تھی کہ ملک سے ان لعنتوں کا جلد از جلد خاتمہ ہو اور وطن عزیز صحیح معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست بنے۔ آپ ایک ایماندار اور پابند صوم و صلوٰۃ مسلمان تھے۔ زندگی بھر کسی کا احسان نہ لیا بلکہ ہمیشہ دوسروں کی ضروریات اور احسانات کا خیال رکھا۔ انور اپنے خاندان اور دوست و احباب میں ہر دلعزیز‘ بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول تھے۔ سب لوگ اُن سے نہایت محبت کرتے تھے اور ان کی بذلہ سنج طبیعت اُن کو سب میں نمایاں کرتی تھی۔ ستمبر 2009 میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی ملنے کے بعد 2ونگ سوات سکاؤٹس میں بحیثیت ونگ کمانڈر پوسٹ ہوئے۔ اُن دنوں 2ونگ سوات سکاؤٹس خیبرپختونخوا کے ایک انتہائی حساس علاقے ضلع ہنگو میں فرائض انجام دے رہا تھا۔ ضلع ہنگو فرقہ واریت کے علاوہ دہشت گردی کی لپیٹ میں بھی آ چکا تھا۔ پورے ضلع کے عوام امن و امان کی خاطر دن رات دعائیں مانگتے تھے۔ ہنگو میں امن و امان قائم کرنے کے لئے لیفٹیننٹ کرنل انور عباس بٹ کی زیرنگرانی 2ونگ نے مختلف اقدامات کئے جس کی بدولت ایسا امن قائم ہوا کہ ہنگو کی تاریخ میں پہلا محرم کا مہینہ ایسا تھا کہ باہمی تصادم ہوا اور فریقین نے سکون کا سانس لیا اور ہنگو کے بازار اور دیگر حساس علاقوں پر لوگ رات کے اندھیرے میں بھی نظر آنے لگے۔ ہنگو کے بچے‘ بوڑھے اور جوان آج بھی کرنل انور عباس بٹ کے گن گاتے نظر آتے ہیں۔ کرنل انور عباس بٹ نے ہنگو کے بازار تیراہ اڈا سے ایک خودکش بمبار گرفتار کیا جو فرنٹیئر کانسٹیبلری کا ملازم تھا اور تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ اس کا ہدف اسلام آباد تھا۔ ہنگو میں امن و امان قائم ہونے کے بعد مارچ 2010میں آپ کو 2ونگ کے ساتھ آپریشن ’’خوخ بہ دے شم‘‘ میں حصہ لینے کے لئے اورکزئی ایجنسی جانے کے احکامات موصول ہوئے۔اس اہم ذمہ داری سے عہدہ برآء ہونے کے لئے آپ نے تیاری کی اور ہیڈکوارٹر بالا حصار کا دورہ کیا تاکہ آپریشن کے لئے احکامات سمجھ لیں۔ وہاں پر ایک آفیسر سے گفتگو کے دوران آپ نے کہا۔ ’’انشاء اﷲ اورکزئی ایجنسی کا پہلا شہید میں ہوں گا۔‘‘ جانے سے پہلے اپنی بھتیجی کی شادی جو کہ ان کی شہادت سے ایک مہینہ پہلے ہوئی‘ تمام دوست احباب اور رشتہ داروں سے آخری ملاقات ہوئی۔ میرے اور بچوں کے ساتھ یہ تصویر ہماری پہلی اور آخری فیملی تصویر ہے۔ الوداعی ملاقات میں ان کی بڑی بہن ان سے ملتے ہوئے رو پڑیں‘ جو اس وقت بیمار تھیں۔ تو آپ نے کہا۔ ’’نیلوفر ہمت کرو‘ کل کو آپ نے شہید کی بہن بن کر انٹرویو نہیں دینا کیا؟‘‘ 14مارچ 2010کو لوئراورکزئی کلایہ ہیڈکوارٹر کی ریکی کی گئی۔ کلایہ کے حساس علاقوں سام‘ فیروزخیل میں دہشت گردوں کی وجہ سے لوگ نقل مکانی کر رہے تھے۔ اورکزئی ایجنسی جانے سے پہلے ایک مختصر دربار میں جوانوں سے کہا۔ ’’میں آپ لوگوں میں سے ہوں۔ اور ہم سب پاکستانی فوج کے سپاہی ہیں۔ ہمیں ہر وقت ملک کی خاطر قربانی کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ انشاء اﷲ میں ہر مشکل وقت میں آپ لوگوں سے آگے ہوں گا کیونکہ ملک کی سلامتی کے لئے ہم جان کی قربانی سے بھی گریز نہ کریں گے۔‘‘ 21مارچ 2010کو دیئے گئے مشن کی تکمیل کی خاطر 2ونگ اور کرنل انور عباس بٹ کلایہ ہیڈکوارٹر لوئر اورکزئی پہنچ گئے اور فوراً ہی نزدیکی چوٹیوں پر قبضہ کرنے کے بعد دیگر علاقوں مثلاً ’’شنہ ناکہ‘‘ بیروٹی اور فیروزخیل اور میربک میں دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے ان کو بھگا دیا اور اہم پوسٹوں پر قبضہ کر لیا۔ پھر فوجی پوسٹیں لگانے کا کام شروع کر دیا۔ اس تمام مشن کو ناکام بنانے کے لئے اور حکومتی عملداری کو چیلنج کرنے کے لئے ایجنسی کے سارے دہشت گردوں نے منظم ہو کر 25اور 26مارچ کی درمیانی رات بیک وقت 2ونگ کی تمام پوسٹوں اور بٹالین ہیڈکوارٹر پر حملہ کر دیا۔ یہ بات سنتے ہی کرنل انور عباس بٹ فوراً سریع الحرکت فورس لے کر نزدیکی او پی کی طرف روانہ ہو گئے۔10منٹ کے بعد او پی پر دوبارہ 2ونگ کا قبضہ ہو گیا مگر ایک مورچہ جو ابھی تک دہشت گردوں کے قبضے میں تھا وہاں سے مسلسل فائر آ رہا تھا اور وہاں موجود 6جوان بھی پھنس چکے تھے۔ ان جوانوں کو بچانے کے لئے کرنل انور نے اس مورچے کی طرف پیش قدمی کی‘ وہ آہستہ آہستہ فائر اینڈ موو(fire and move) کرتے آگے بڑھے۔ تاک تاک کر نشانے لگائے اور مقابل دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔ آخری مرحلے میں جب وہ اپنے مقصود پر پہنچ گئے تو جست لگائی اور دشمن کے سر پر جا پہنچے۔ نزدیکی لڑائی بہت شدت سے شروع ہو گئی۔ وہ سامنے آنے والے دشمن پر پل پڑے کہ نزدیک چھپے ایک دشمن نے اپنا فائر کھول دیا۔ کئی گولیاں جسم کو چھلنی کر گئیں مگر وہ اپنا فریضہ ادا کر چکے تھے اور زخموں کی تاب نہ لا کر انہوں نے موقع پر جام شہادت نوش فرمایا۔ انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے کلایہ ہیڈکوارٹر اور دیگر اردگرد کی پوسٹیں دہشت گردوں کے قبضے میں جانے سے بچا لیں اور اس دوران زخمی ہونے کے باوجود لاتعداد دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے لئے عزت کی موت کی تمنا کی تھی اور اﷲتعالیٰ نے ان کی یہ خواہش اس طرح پوری کی کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر ہو گئے۔ 26مارچ 2010کو آپ کو آرمی قبرستان راولپنڈی میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ آپ کی اس بہادری کے صلے میں حکومت پاکستان نے مارچ 2011میں آپ کو ستارہ بسالت عطا کیا۔ کرنل انور اپنے تینوں بیٹوں عبداﷲ بٹ‘ عبدالقیوم بٹ اور عبدالرحمن بٹ کے لئے ایک نہایت شفیق باپ تھے اور مجھ پر ان کے اعتماد کا یہ حال تھا کہ کہتے ’’میری وائف ایک بہادر ڈاکٹر ہے۔ اگر مجھے کچھ ہو جائے تو میں یقین سے کہتا ہوں کہ وہ خود کو اور میرے بچوں کو سنبھال لے گی۔‘‘ وہ اپنی والدہ کے سب سے چھوٹے اور لاڈلے بیٹے تھے اور میں نے ہمیشہ انہیں اپنی والدہ کی گود میں سر رکھ کر باتیں منواتے دیکھا۔ ان کی شہادت کے وقت ان کے بیٹوں کی عمریں 6سال‘ 3سال اور ایک سال تھیں۔ ان کے تینوں بیٹے اپنے بابا پر فخر کرتے ہیں اور اپنے بابا کی طرح اس ملک کی خدمت پاک آرمی جوائن کر کے کرنا چاہتے ہیں۔ مجھ سے ہمیشہ کہتے کہ ’’اگر میں شہید ہو جاؤں تو میری وصیت یاد رکھنا کہ آپ ایک فوجی کی بیوی ہیں جس طرح آپ نے زندگی میں ہر قدم پر میرا ساتھ دیا اسی طرح میری شہادت کو اپنے اور میرے بیٹوں کے لئے احساس محرومی نہ بنانا بلکہ اس کو ان کے لئے باعث فخر بنانا۔‘‘ اور یہ کہ اگر پاکستان پر جان قربان کرنے کا کبھی بھی وقت آیا تو میں کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گا کیونکہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں میرے موبائل میں savedیہ آخری میسج جو انہوں نے اپنے تمام رشتہ داروں کو کیا وہ یہ تھا جو ان کی قبر کے کتبہ پر بھی تحریر ہے‘ شہادت سے ایک رات قبل میرا منجھلا بیٹا عبدالقیوم رات کو ڈر کر اٹھ گیا۔ صبح اس نے اپنے بابا کو بتایا کہ’’ میں نے خواب میں پانی میں دو لال سانپ دیکھے ہیں۔ اُن میں سے بڑے سانپ نے آپ کو کاٹ لیا ہے۔ آپ جلدی گھر آ جائیں مجھے آپ کی یاد آ رہی ہے۔‘‘ اس بات پر انور عباس نے مجھے کہا کہ عبدالقیوم نے لگتا ہے میرے بارے میں سچا خواب دیکھ لیا ہے۔ ’’اگرمجھے کچھ ہو جائے تو عبدالقیوم کو نہ بتایا جائے تاکہ وہ ہمیشہ مجھے زندہ سمجھتا رہے۔‘‘ اور اس بیٹے نے ان کی شہادت کے بعد پورا سال بولنا اور کھانا پینا چھوڑ دیا تھا اور ہر وقت چھپ کر بابا کو فون کرتا رہتا تھا۔ میں جب کافی عرصے کے بعد بچوں کو بابا کی قبر پر لے کر گئی تو عبدالقیوم نے کہا کہ ’’مجھے پتا ہے کہ بابا یہاں رہتے ہیں اور ایک بنچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں میں روز بابا سے خواب میں ملتا ہوں۔‘‘ واقعی شہید زندہ ہوتے ہیں اور کرنل عباس بٹ نے اپنی والدہ سے کہا تھا کہ ’’ماں جی! میں آپ کو تین مہینوں بعد آ کر اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔ پہلے میں اورکزئی ایجنسی سے واپس آ جاؤں‘‘ وہ ماں آج تک کہتی ہیں۔ ’’انور آ کر اپنے وعدہ پورا کرو اور مجھے لے جاؤ۔ میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں۔‘‘ عظیم ہیں وہ مائیں جنہوں نے اپنے جوان سپوت اس ارض پاک پر قربان کر دیئے تاکہ ماؤں اور بہنوں کے سر پر آنچل سلامت رہے۔ بچوں کے سروں پر ان کے باپوں کا سایہ رہے اور ملک سے وطن دشمن عناصر کا خاتمہ ہو۔ میرے چھوٹے بیٹے عبدالرحمن نے بابا کہنا اپنے بابا کی شہادت کے چھ ماہ بعد شروع کیا مگر اس لفظ کو سننے والا شخص اﷲ کے پاس تھا۔ جب میرے بیٹے اپنے بابا کے متعلق مجھ سے پوچھتے ہیں تو نہایت فخر سے انہیں بتاتی ہوں کہ ’’بیٹا آپ کے بابا اس ارض پاک کی سربلندی کے لئے اﷲ کی راہ میں شہید ہوئے ہیں اور انشاء اﷲ جنت میں اپنے گھر میں رہ رہے ہیں اور اگر ہم بھی نیک کام کریں گے تو انشاء اﷲ انہیں جا کر ملیں گے۔‘‘ وہ ایک نہایت شفیق باپ تھے اور بچوں کی محبت میں وہ اکثر کہا کرتے۔ ’’اگر میری اولاد میرا گوشت بھی کاٹ کر رکھ لے تو میں حاضر ہوں۔ میری جان میری اولاد ہے۔‘‘ بچوں کو کھلانا‘ انہیں کاندھے پر بٹھا کر ہمیشہ جھولا دیتے اور پورے کینٹ میں بچوں کو کندھے پر بٹھا کر سیر کراتے۔ خدا ان کی قربانی قبول کرے۔ اور میرے تینوں بیٹوں کو اس قابل بنائے کہ میں ان کو کرنل انور جیسا بہادر‘ نڈر‘ صاف گو اور محب وطن فوجی بنا سکون اور وہ بھی ملک کے لئے اپنے بابا کی طرح اپنی قربانی پیش کریں اور پاکستان آرمی ‘ اسلام‘ میرا اور اپنے بابا کا نام روشن کر سکیں۔ اور مجھے فخر ہے کہ میں ایک ایسے انسان کی بیوی ہوں جس نے اپنے فرض کی ادائیگی کو اپنے تمام رشتوں سے افضل سمجھا اور میری کوشش ہو گی کہ میں اپنے بیٹوں کی صورت میں اس قوم کو تین تین کرنل انور عباس شہید تیار کر کے دوں۔ انشاء اﷲ آخر میں فقط اتنا ہی:

اے ارض پاک تو نے جسے پکارا تھا

وہ شخص مجھے جان سے بھی پیارا تھا

راہ حیات پہ تنہا کیسے چلوں گی۔۔۔؟

وہی میری اُمید سحر ‘ میری رات کا روشن ستارہ تھا

وہ چاند چہرہ‘ ہنستے لب‘ بولتی آنکھیں

وہ جس کا پل پل میں نے صدقہ اتارا تھا

میں نے تن من وار دیا جس پر ہار کر خود کو

اے ارض پاک اُس نے خود کو تجھ پہ وارا تھا

وہ دیوانہ تیرے عشق میں کتنا جنون خیز نکلا

اُس نے تیری صبح کو اپنے لہو سے نکھارا تھا

اے ارض پاک! تو نے جسے پکارا تھا۔!

وہ شخص مجھے جان سے بھی پیارا تھا۔!

یہ تحریر 41مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP