متفرقات

وہ جو وطن کے کام آئے

آپریشن ضرب عضب کے پہلے شہید آکاش آفتاب ربانی 2 اکتوبر1990 کو ایبٹ آبادمیں پیدا ہوئے۔آپ ڈاکٹر آفتاب ربانی کے چھوٹے بیٹے تھے۔ ڈاکٹر آفتاب ایوب میڈیکل کالج میں میڈیسن کے ہیڈآف ڈیپارٹمنٹ تھے۔ آکاش نے ابتدائی تعلیم ایبٹ آباد پبلک سکول سے حاصل کی۔ ایف ایس سی کے بعد پی ایم اے 123لانگ کورس میں شمولیت اختیار کی۔2011 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے پاس آؤٹ ہوئے۔پھر آرٹلری کی ایک یونٹ میں پوسٹنگ ہوئی۔ 2013میں آکاش آفتاب کو سپیشل سروسزگروپ کی ٹریننگ کے لئے منتخب کیا گیا۔ پھر تربیلہ پوسٹنگ ہوئی، وہاں سے اُنہیں شمالی وزیرستان کے لئے سپیشل ٹاسک فورس کے لئے منتخب کیا گیا۔ 15 جولائی2014 کو شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں عسکریت پسندوں سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ آکاش آفتاب ربانی کے بارے میں بتایا گیا کہ جب وہ پانچویں جماعت کا طالب علم تھا تو اُس کی ٹیچر نے پوچھابڑے ہو کر کیا بننا چا ہتے ہو۔ آکاش نے کہا میں پاک فوج کا جوان بننا چاہتا ہوں۔اﷲ نے اُنہیں شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز کرنا تھا اور ان کی فوج جوائن کرنے کی خواہش پوری کردی گئی۔ اُس کے دونوں بہن بھائی اور والد میڈیسن کے شعبے سے وابستہ ہیں۔جب وہ بارہ برس کے تھے تو اپنی ایک کزن جس کا نام رامین طا رق تھا،کی ڈائری میں کچھ سوالوں کے جواب اپنی ہینڈ رائیٹنگ میں تحریر کئے سوال یہ تھاکہ آپ کس سے ملنا چاہتے ہو۔

یہ پاک دھرتی خدا کا گھر ہے

 

اے وہ کہ اندھی عقیدتوں سے ، حقیقتوں کو چھپانے والو
مہیب راتوں کی ظلمتوں میں ، صداقتوں کو دبانے والو
دلیلیں جھوٹی ، دَعا وی باطل ، سراب آنکھوں کو سونپتے ہو
خدا کی مشعل کو تھام کر کیوں جہاں کو شعلوں میں جھونکتے ہو
خدا کے امرو نہی کے آگے ، خود اپنی مرضی چلانے والو
حجاز کے اس حسین دامنِ پہ گندے دھبوں کو مت لگاؤ 
یہ پاک دھرتی خدا کا گھر ہے
خدا کے گھر میں بنامِ مذہب ، سروں کے مینار مت بناؤ
خدا کے بندوں سے چاہتوں کے عظیم رشتے مٹانے والو
یہ یاد رکھو !
خدا تو بندے کے جسم میں دوڑتے لہو سے قریب تر ہے
اے دینِ برحق پہ مسلکوں کے دبیز پردے گرانے والو
یہ یاد رکھو!
کہ دیں، تعصب کے ہر تصوّر کے ہر جہاں سے بلند تر ہے
اے تخت و منبر کی آڑ لے کر مہکتے گلشن جلانے والو
یہ یاد رکھو!
قفس کے پہروں سے خوشبوؤں کا سفر رکا ہے ، نہ رک سکے گا 
ابھرتے سورج کو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے چھپانے والو
یہ یاد رکھو!
افق کی دہلیز سے ابھرتا ہوا یہ سورج نہیں چھپے گا
خدائے برتر کا نام لے کر زمیں جہنم بنانے والو
یہ یاد رکھو!
تمہاری جنت کے جھوٹے وعدے
یہ روندی کچلی ، یہ سہمی سہمی سی ایک خلقت نہیں سنے گی 
یہ یاد رکھو!
یہیں پہ ہر اک سوال ہو گا
یہیں پہ ہر اک جواب ہو گا
یہیں سے اٹھے گا شور محشر 
یہیں پہ روز حساب ہو گا


منصورالحسن ڈی ایس پی

 

کسی کزن نے لکھا، شاہ رخ خان، کسی نے عمران خان، آکاش نے لکھا۔مجھے اﷲ تعالیٰ سے ملنے کو دل چاہتا ہے۔ پسندیدہ پتھر کے بارے میں پوچھا گیا تو لکھا ’’روبی‘‘ قیامت کے دن جو شہیدوں کے سر پر تاج ہو گا۔اُس پر ’’روبی‘‘ لگے ہوں گے اور ایک ’’روبی‘ ‘کی قیمت سارے جہاں سے زیادہ ہو گی۔ آکاش کی والدہ کا کہنا ہے کہ اُنہیں بہادر بیٹے کی ماں ہونے پر فخر ہے۔ بہادر بیٹوں کے لہو ہی تو قوم کی حیات ہوا کرتے ہیں۔ اُن کی لا زوال قربانیوں کی وجہ سے ملک کی سانسیں چل رہی ہیں۔ اُن کے خون نے ملک کی بنیادوں کو مضبوطی عطا کی۔ان کی والدہ نے دلگیر انداز میں کہا کہ یہ بچہ ہمیں جان سے پیارا تھا، ہماری کل کائنات تھا، ہماری آنکھوں کا نور تھا، ہم نے بڑے لاڈ پیار اور اُمیدوں سے پالا،بُڑھاپے کا سہارا تھا، کانٹاچبھتا، بخار ہوتا، تو تڑپ جاتی۔ ہمارے بچے کو پتا تھا کہ ہمیں اُس کی ضرورت ہے مگر اُس نے اپنی سب سے قیمتی اور نایاب چیزاس ملک کے امن و سلامتی کے لئے قربان کی۔ یہ درد، یہ تکلیف بہت زیادہ ہے مگر شہید کے جو درجات ہیں اور جو اِن کا مرتبہ ہے وہ ہمارے درد کے لئے مداوا ہے۔ مجھے فخرہے، میرے چھوٹے سے بیٹے کورب العزت نے اتنی عزت دی میرے بیٹے کے لہو نے مجھے کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔یہ دنیاوی زندگی تو عارضی ہے۔ اصل زندگی تو آخرت کی ہے۔

 

اُن کی والدہ کہنے لگیں مجھے آکاش تینوں بچوں میں سے سب سے زیادہ اچھے لگتے تھے۔وہ ساتویں جماعت کے بعد سے ہاسٹل میں رہے۔ اُس کی شدید کمی محسوس ہوتی ہے۔اُس کے کمرے میں نہیں جایا جاتا گھر کے ہر کونے سے اُس کی یادیں وابستہ ہیں۔ جمعہ کے روز نگاہیں منتظر رہتی تھیں۔شہادت سے چھ ماہ قبل والدہ سے کہا کہ امی دانش کی شادی کرادو۔ میں نے خاندان کی کسی شادی میں شرکت نہیں کی۔ شادیوں میں شرکت میرے نصیب میں نہیں۔اُس کی یہ بات اکثر کانوں میں گونجتی ہے۔ بہن بھائیوں کی شادی پر اُس کی کمی محسوس ہو گی۔ آکاش کچھ نیا کرنا چاہتا تھا ایسا کرنا چاہتا تھا جس سے اُس کا نام زندہ رہے۔ اُس کی طبیعت میں سخاوت تھی، دوسروں کی مدد کرنا پسند کرتا تھا۔ بھائی اور بہن سے کم اُلجھتا، جس کو جو چاہئے ہوتا دے دیتا۔ کھانے پینے کا شوقین تھا۔عیدکے روزصبح سویرے تیار ہو کر مسجد جاتا اور آ کر والدہ کو ڈھونڈتا گلے لگاتا اب عیدیں ویران ہیں۔

لویل آفتاب ربانی آکاش کی چھوٹی بہن ہیں۔جو ایم بی بی ایس فورتھ ایئر کی طالبہ ہیں۔بھائی کی یاد کے آنسو اکثر اُن کی آنکھوں میں نمودار ہو جاتے ہیں۔ آکاش بھائی بھی تھا اور دوست بھی۔ دانش سے زیادہ آکاش سے دوستی تھی۔ باتیں شیئر کر لیتی تھی، اُس کی سر پرائز دینے کی عادت بہت پسند تھی۔امی سے کبھی ہلکی پھلکی تکرار ہو جاتی تو آکاش منع کرتا، امی کے ساتھ ایسے نہ بولو، خاموش ہو جایا کرو،کیسے تم امی کے سامنے بول لیتی ہو۔ٹی وی پر شہید کی بہن کا انٹر ویو دیکھتے ہوئے آکاش نے کہا میری شہادت کے بعد اِسی طرح تمہارا بھی انٹرویو ٹی وی پر آئے گا۔ میں اُس کی بات سے خفا ہوئی۔ وہ رشتہ داروں سے دل سے پیار کرتا تھا وہ ماموں‘تایا سب کو فون کر کے گھر مدعو کرتا اور کہتا مل جل کہ رہنا زندگی ہے ۔ دوست بچھڑ جائے تو اُس کی کمی رہتی ہے۔اُس کی شہادت کے بعد زندگی بدل گئی، وہ پاکستان کے خلاف بات نہیں سن سکتا تھا۔میں نے کہا کہ میں ایم۔بی۔بی ایس کے بعدباہر جاؤں گی۔ پاکستان میں کچھ نہیں تو ناراض ہو جاتا۔ ہم نے ہی تو اِس ملک کے حالات بدلنے ہیں۔ دونوں بھائی آکاش اور آفتاب میں بہت گہری دوستی تھی۔ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے اور ایک ہی کمرے میں رہتے تھے۔ ہم سوچتے تھے بھائی بریگیڈیئر اور جنرل بنے گا،اُسے ایس ایس جی کا شوق تھا۔وہ جس دن پاس آؤٹ ہوا،اُس دن بے انتہاخوش تھا۔شمالی وزیرستان میں رہا تو بتا رہا تھاکہ سارا اسلحہ باہر کا ہے کرنسی بھی افغانستان اور انڈیا کی، دہشت گردوں کو بیرونی امداد مل رہی ہے۔ اُس کے موبائل میں شہداء کی تصاویر تھیں۔ اُن کی تمام چھوٹی چھوٹی چیزیں، تصاویر جو وہ استعمال کرتے تھے، آکاش کو شہداء سے بہت محبت تھی۔والد ٹوٹ چکے ہیں،والدہ نے آکاش کی یادوں کے سہارے جینا ہے۔ آکاش کے مقدر میں شہادت لکھی گئی تھی، آکاش کی شہادت آزمائش سے کم نہیں تھی جس کا اب ہمیں صبر اور جرأت سے سامنا کرنا ہے۔


[email protected]

یہ تحریر 72مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP