ہمارے غازی وشہداء

وہ جو رگِ جاں سے عزیز تھے

آرمی پبلک سکول پشاور میں حملے کے دوران زخمی ہونے والے دو طالب علموں کی روداد

 16دسمبر 2014 کی صبح تقریباً 10 بج کر 30 منٹ پر خیبرپختونخوا کے شہر پشاور میں آرمی پبلک سکول کے طلباء اور ان کے والدین پر قیامت صغریٰ گزری تھی۔ جس میں میرے دو بچے بھی شامل تھے۔ میرے بچے آرمی پبلک سکول میں 2013 سے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ 16 دسمبر 2014 کو میں جی ایچ کیو راولپنڈی میں اپنی ڈیوٹی پر تھا‘مجھے تقریباً ایک بج کر 30منٹ پر ڈپٹی ایم ایس (بی) کے پی اے نے آ کر بتایا کہ پشاور کے کسی سکول میں دہشت گردی کی واردات ہوئی ہے جب میں نے ٹی وی پر جا کر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ دہشت گردی تو آرمی پبلک سکول پشاور میں ہوئی ہے۔ جس میں میرے دو بچے زیرتعلیم ہیں۔ میرے بچے الگ الگ کلاسز میں زیرتعلیم ہیں۔بڑا بچہ کلاس چہارم میں ہے اور چھوٹا بچہ کلاس اول میں ہے۔ جب میں نے اپنے گھر کال ملائی اس وقت تقریباً دن کے دو بجکر تیس منٹ ہو چکے تھے۔ مجھے میری اہلیہ نے بتایا کہ ہمارے بچوں کے سکول میں دہشت گردوں نے حملہ کر دیا ہے اور ہمارا بڑا بچہ جس کا نام حذیفہ احمد ناز ہے‘ زخمی ہوا ہے۔ اس گفتگو کے دوران میرے بچوں کی ماں زاروقطار رو رہی تھی۔ میں نے اس کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ صبر کرو اور اﷲ سے خیریت کی دعا مانگو۔ میرے افسران نے مجھے اسی وقت چھٹی دے کر پشاور کے لئے روانہ کر دیا۔ میں مغرب اور عشا کے درمیان پشاور پہنچا۔ پشاورشہر میں ہر طرف آرمی و سول ایمبولینسز نظر آ رہی تھیں۔ جب میں اپنے گھر داخل ہوا اورزخمی بچوں کو دیکھا تو دل کو اطمینان ملا اور اﷲتعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ میرا بیٹا کافی حد تک محفوظ تھا۔اس کو چہرے‘ کمر‘ ہاتھوں اور ٹانگوں پر زخم آئے تھے۔ وہ خوف زدہ ہونے کی وجہ سے کچھ بھی بتانے کے قابل نہیں تھا۔ دوسرے دن میں اپنے بچے کو باقی رشتہ داروں کے پاس گاؤں لے گیا تو میرے بچے کافی حد تک اس خوف ناک صدمے سے باہر آ گئے۔ رشتہ داروں نے بچوں کو بہت حوصلہ دیا۔ جب میں نے اپنے بیٹے سے اس واقعے کے بارے میں سننا چاہا تو اس نے کچھ یوں بتایا

 16دسمبر 2014 کو امی جان نے ہمیں سکول جانے سے منع کیا تھا۔ امی کہہ رہی تھیں کہ آج نجانے کیوں میرا دل گھبرا رہا ہے۔ میں تم بھائیوں کو اپنی آنکھوں سے دُور نہیں کرنا چاہ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صبح کے سکون میں مجھے کوئی طوفان آتا ہوامحسوس ہو رہا ہے۔ ویسے بھی آج موسم بہت سرد ہے۔ اس لئے تم آج سکول نہ جاؤ۔ مگر ہم دونوں بھائی (محمد حذیفہ احمد ناز اور محمد شاہان احمد ناز) بضد تھے کہ ہم نے سکول ضرور جانا ہے۔ اگر ہم سکول نہیں جائیں گے تو ہماری پڑھائی کا حرج ہو گا۔ ہم پڑھائی نہیں کریں گے توبڑے آدمی کیسے بنیں گے‘ اپنی قوم او رملک کی خدمت کیسے کریں گے۔ اس لئے امی جان ہمیں سکول جانے دیں۔ ہماری باتیں سن کر امی جان نے دعاؤں کے ساتھ ہمیں سکول جانے کی اجازت دے دی ۔ ہمیںیہ معلوم نہیں تھا کہ ہمارے اس سکول میں قیامت آنے والی ہے۔ تقریباً 10 بج کر 30 منٹ پر کچھ لوگ داخل ہوئے جن میں کچھ سول کپڑوں میں اور کچھ فرنٹیئر کور کی وردیوں میں تھے۔ ہمارے سکول میں اس دن سینئر کلاسز کے بچوں کے پیپر وغیرہ ہو رہے تھے۔ وہ دہشت گرد سب سے پہلے اسی ہال میں چلے گئے جہاں پر ٹیسٹ ہو رہے تھے۔ وہاں سے فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوئیں تو ہم چھوٹی کلاسوں کے تمام بچے خوف زدہ ہو گئے۔ کچھ دہشت گرد چھوٹی کلاسز کی طرف بھی آئے اور وہاں فائرنگ شروع کر دی۔ ہم سب بچے اپنے اپنے ڈیسکوں کے نیچے چھپ گئے۔ کچھ دیر بعد تمام بچے بھاگنے لگے اور ہم نے دیکھا کہ کچھ دہشت گرد ہمارے پیچھے بھی بھاگے۔ ہم سب باہر کی طرف نکل آئے۔ اس بھاگ دوڑ میں‘ میں اپنے چھوٹے بھائی کو تلاش کرنے لگا۔ وہ کہاں ہو گا؟ کافی تگ و دو کے بعد مجھے اپنا پیارا بھائی نظر آیا۔ میں اس دوران کافی بار گرا۔ باقی بچوں کے اوپر سے نیچے گرنے کی آوازیں بھی مجھے آئیں۔ لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور جلدی سے دوبارہ اٹھ کر اپنے چھوٹے بھائی کو تلاش کیا اور آخرکار 8 سے 10 منٹ کے بعد مجھے میرا بھائی نظر آگیا جو ایک جھاڑی کے اندر چھپا ہوا تھا اور رو رہا تھا۔ اس دوران مجھے کافی چوٹیں بھی آئیں اور ایک لوہا نما چیز میرے چہرے پر آ کر لگی جس کی وجہ سے میرا چہرہ شدید زخمی ہو گیا اور فوراً ہی سوج گیا۔ میں نے اپنے بھائی کو بہت تسلی دی کہ تم ایک بہادر باپ کے بہادربیٹے ہو‘ اپنے باپ کی طرح تمہیں بھی ہمت اور حوصلے سے وطن دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ یہ چند بزدل دہشت گرد ہمارے کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ آخر شکست ان کا مقدر بنے گی۔ بہت جلد ہماری فوج کے بہادر جوان آ کر اِن دہشت گردوں پر قابو پا لیں گے۔ میری ان باتوں سے اس کے چہرے پر سکون کی ایک لہر دوڑ گئی اور وہ بالکل خاموش ہو گیا۔ جب ہم دونوں بھائی دوڑ رہے تھے تو ایک اور ساتھی طالب علم بھی ہمارے ساتھ تھا۔ اسی بھاگ دوڑ کے دوران ایک گولی اس کے سر پر لگی ا ور اس کے کپڑے خون سے لت پت ہو گئے اور وہ گر گیا۔ ہم دونوں بھائیوں نے اس کو اٹھانے کی کوشش کی لیکن ہم سے وہ نہ اٹھ سکا۔ وہ شہید ہو چکا تھا۔ ہمیں بہت دکھ ہوا کہ ہمارا ایک ساتھی ان ظالموں کی وجہ سے ہم سے جدا ہو گیا۔ بعد میں ہمارے اساتذہ نے ہمیں ایک گراؤنڈ میں جمع کیا اور تھوڑی دیر بعد ہماری امی ہمارے سکول میں پہنچ گئیں تو ہماری جان میں جان آئی ہم دونوں بھائی اپنی امی کے ساتھ لپٹ کر بہت روئے اور ہماری امی بھی ہمیں پیار کرتی کرتی رو رہی تھیں اور ہمیں حوصلہ بھی دے رہی تھیں۔ بعد میں ہمیں اساتذہ کے پاس لے جا کر ان کی اجازت سے سکول سے اپنے گھر لے آئیں۔ اس بھاگ دوڑ کے دوران پاکستان آرمی کے سولجرز نے اُن دہشت گردوں کو فائر کر کے مار دیا۔ بعد میں ہمیں سی ایم ایچ پشاور علاج کے لئے لے جایا گیا۔ وہاں سی ایم ایچ والوں نے ہمارا بہت اچھے طریقے سے علاج کر کے اپنے گھر رخصت کر دیا۔ دو دن بعد ہمیں معلوم ہوا کہ ہماری پیاری پرنسپل‘ اساتذہ اور 140 بچے بھی شہید ہو گئے ہیں۔

حیران کن امر ہے کہ اس دلخراش سانحے کے بعد میرے بچوں کا حوصلہ مزید بڑھا ہے۔ وہ اب بھی سکول جانے کی ضد کرتے ہیں اور وہ سکول سے کبھی بھی غیرحاضر نہیں ہوں گے اور اﷲ کے حکم سے پاکستان آرمی کے بہادر جوانوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اپنے پیارے جنت نظیر پاکستان کی حفاظت اپنے خون سے کریں گے اور ان ظالموں کو صفحہ ہستی سے مٹائیں گے۔ میں بھی اپنے بیٹوں کو یہی کہتا ہوں کہ آپ لوگ اپنی تعلیم پر پوری توجہ دیں۔ میں اس پیارے ملک پاکستان کی حفاظت آپ لوگوں کے سپرد کروں گا۔

یہ تحریر 37مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP