ٹیکنالوجی

وہ جو جاپان نہ بن سکے

دروغ بر گردن راوی۔ ایک مستند روایت ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر اتحادی ممالک نے جرمنی اور جاپان سے تاوان کے معاہدے کئے کیونکہ ہندوستان کے فوجیوں نے اس جنگ میں اتحادیوں کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ پاکستان بھی اس تاوان کی رقم میں حصہ دار قرار پایا۔ کہا جاتا ہے کہ دو پاکستانی وفود نے تاوان کے عوض مشینری یا اشیاء کی خریداری کے لئے جرمنی اور جاپان کے دورے کئے جو حضرت مذاکرات کے لئے جرمنی تشریف لے گئے انہوں نے لاہور کے بادامی باغ میں اپنی ذاتی انجینئرنگ کمپنی کے لئے مشینری حاصل کی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس دورے کے نتیجے میں ان صاحب نے سوئٹزر لینڈ کے ایک بنک میں خطیر رقم جمع کرائی جس کو حاصل کرنے کے لئے ان کی غیرملکی اہلیہ اور بچوں میں سالہا سال بلکہ کئی دہائیوں تک مقدمے بازی چلتی رہی۔ یہ بھی شنید ہے کہ جاپان کا دورہ کرنے والا وفد دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان کی زبوں حالی سے اتنا متاثر ہوا کہ حکومت پاکستان سے سفارش کی کہ جاپان سے تاوان کی وصولی کو معاف کر دیا جائے! اس سلسلے میں ایک معاہدہ 1952میں جاپان اور پاکستان کے سفارتی تعلقات سے قبل طے پایا ۔لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ صرف تین سال کے عرصے میں یعنی 1955میں حکومت جاپان نے پاکستان کو اقتصادی امداد کی فراہمی شرو ع کر دی اور کولمبو منصوبے کے تحت پاکستانی باشندوں کو جاپان میں ٹریننگ کی سہولت فراہم کی۔

1990میں جاپان پاکستان کا سب سے بڑا اقتصادی امداد دہندہ بن گیا اور 2000کی دہائی میں پاکستان کے قرضوں کی معافی کے لئے کئی معاہدے کئے۔ جاپان کی ترقی کی بنیاد میجی دور میں قائم کئے گئے کپڑے کے کارخانوں کو قرار دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جاپان کی کئی ٹریڈنگ کمپنیوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سمندر پار دفاتر پہلے کراچی میں قائم کئے۔ مثلاً Niso Lwai Corporation نے اپنا پہلا دفتر کراچی میں کھولا دوسرا امریکہ اور تیسرا بمبئی میں۔ کیونکہ یہ کمپنی جاپان کے ٹیکسٹائل کے کارخانوں کے لئے روئی اور دھاگے کی ایک بڑی سپلائر تھی۔ اس کمپنی نے نہ صرف پاکستان سے روئی اور دھاگے کی درآمد کے معاہدے کئے بلکہ پاکستان میں جاپانی ٹیکسٹائل مشینری کی برآمد کو فروغ دیا۔ اس کے لئے حکومت پاکستان کی مدد سے Pay as you earnسکیم کا آغاز کیا گیاجس کے تحت پاکستانی صنعت کا جاپان سے ٹیکسٹائل مشینری درآمد کرنے اور اس کے عوض روئی یا دھاگے کی فروخت کے معاہدے کئے جاتے۔ جاپان کی ٹویوٹا کمپنی نے کراچی میں اپنا دفتر 1953میں کھولا اور آج ٹویوٹا گاڑیوں کی اندرون ملک اسمبلنگ کی جا رہی ہے۔ 1985میں کمپنی کے پاکستانی پروگرام کے سربراہ جناب یوشیدوآنڈد کا کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد بہت عرصے تک جو اشیاء پاکستان اور دنیا کے دوسرے ممالک کو فروخت کی جاتی تھیں ان پر لکھا ہوتا تھا مقبوضہ جاپان میں تیار کردہ۔ Made in Occupied Japan جس سے جاپانیوں اور جاپانی صنعت کاروں کی قوم پرستی اور حب الوطنی کا اظہار ہوتا ہے۔

1960کی دہائی میں ایشیا کے چار ممالک سنگاپور‘ ہانگ کانگ‘ تائیوان اور جنوبی کوریا کو ان کی تیزی رفتار ترقی کی بنا پر ایشین ٹائیگر کہا جاتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کی ترقی کو بھی ایک ماڈل تصور کیا جاتا تھا اور پاکستان بھی ایشیائی ٹائیگر کی صف میں شامل ہونے کے لئے پر تول رہا تھا۔ لیکن سانحہ مشرقی پاکستان پیش آیااور ملک دو لخت ہو گیا۔ اس کے فوراً بعد آنے والی حکومت کی نیشنلائزیشن پالیسی نے ترقی کے عمل کو روک دیا۔ یعنی اڑنے بھی نہ پائے تھے کہ گرفتارہم ہوئے۔ 1983میں جنرل ضیاء الحق نے جاپان کا دورہ کیا تو گویا اس کی ترقی کے سحر میں گرفتار ہو گئے۔ شاہراہ ترقی پر تیز رفتار پرواز کے لئے منصوبہ بندی کی گئی۔ جاپان کے تعاون سے اسلام آباد میں کانفرنس منعقد کی گئی۔ جس کا موضوع تھا: ’’کیا پاکستان جاپان بن سکتا ہے؟‘‘ سنگاپور کے وزیراعظم لی کوان یوکو پاکستان مدعو کیا گیا تاکہ وہ سنگاپور کی ترقی کا راز بتائیں۔ راقم نے اس وقت پاکستان میں متعین جاپانی سفیر شی نی چی یونائی سے دریافت کیا کہ کہا جاتا ہے کہ جاپان قدرتی اور معدنی وسائل کے معاملے میں کافی غریب ہے۔ لیکن اس کے باوجود اتنی تیز رفتاری سے ترقی کر رہا ہے تو اس کا راز کیا ہے؟ دوم کیا پاکستان جاپان بن سکتا ہے؟

پہلے سوال کے جواب میں انہوں نے اٹھارہویں انیسویں صدی میں قائم میجی بادشا ہت کی روشن خیال پالیسیوں پر ایک طویل لیکچر دیا اور کیا پاکستان جاپان بن سکتا ہے؟ کے جواب میں جاپانی سفیر خلاف روایت بلند آواز میں ہنسے ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کئی ممالک مثلا چین اور جنوبی کوریا بھی جاپان بننے کے لئے کوشاں ہیں‘ پاکستان کا نمبر ان کے بعد آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کو جاپان کے برابر آنے میں ایک صدی درکار ہو گی۔ اس کے نصف صدی بعد جنوبی کوریا۔ جاپان کا ہم پلہ ہو سکے گا۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ پاکستان کو جاپان بننے میں کتنا عرصہ لگے گا۔ جناب سفیر کا یہ اندازہ غلط ثابت ہوا کیونکہ تقریباً پچپن سال کے عرصے میں چین کی قومی آمدنی جاپان سے آگے نکل گئی تھی اور آج قومی آمدنی کے حساب سے چین دنیا کی دوسری بڑی قوت ہے۔ جاپان کی تیز رفتار ترقی میں میجی بادشاہت کے دوران تعلیم پر جس طرح زور دیا گیا۔ اس کے کردار کو سابق جاپانی وزیراعظم کوئی زُمی(Koizumi) نے افغانستان کے صدر حامدکرزئی سے ملاقات میں اجاگر کیاہے۔

2002میں ٹوکیو میں افغانستان کی امداد کے لئے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مختلف ممالک نے افغانستان کے لئے امداد کا اعلان کیا۔ وزیراعظم کوئی زُمی سے ملاقات کے بعد افغان صدر حامد کرزئی نے نیشنل پریس کلب ٹوکیو کو بتایا کہ انہوں نے جاپانی وزیراعظم سے افغانستان کے لئے امداد میں اضافے کی درخواست کی تو کوئی زُمی نے انہیں جاپانی کسان اور چاول کی چار بوریوں والی کہاوت سنائی جس کے مطابق میجی بادشاہت کے دوران جاپان میں سخت قحط پڑا ایک کسان اپنے چار بیٹوں کے ساتھ بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا اور چاول کی چار بوریوں کی درخواست کی۔ بادشا ہ نے کہا‘ میں تمہیں چاول کی چار بوریاں دے سکتا ہوں یا تمہارے چاروں بیٹوں کو تعلیم۔تعلیم کی اہمیت سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا اور پاکستان میں مختلف ادوار میں تعلیم کے فروغ پر کافی زبانی جمع خرچ کیا جاتا رہا ہے۔ اندرون ملک سندھ یا پنجاب کے اس بااثر سیاست دان کی کہانی سے سب لوگ واقف ہوں گے جو اس بات پر رشوت دینا چاہتا تھا کہ وہ سکول جو اس کے علاقے میں کھولا جانا تھا اس کے مخالف کے گاؤں میں کھولا جائے۔ یہاں ڈاکٹر محبوب الحق کا ذکر برمحل ہو گا جنہوں نے ملک بھر میں درآمدات پر اقراء سرچارج لاگو کیا۔ جس کی مد میں اربوں روپے جمع ہوئے لیکن کہاں خرچ ہوئے اس کا کوئی حساب کتاب نہ دیا گیا۔ پاکستانی صحافی جنہوں نے جنوبی کوریا کا دورہ کیا کہتے ہیں کہ دارالحکومت سئیول میں پلاننگ کمشن کی عمارت کے باہر ایک تختی آویزاں ہے جس میں اس ملک کی منصوبہ بندی میں ڈاکٹر محبوب الحق کے کردار کو تسلیم کیا گیا ہے خود ڈاکٹر محبوب الحق نے راقم کو بتایا کہ اس امداد کے لئے انہیں جنوبی کوریا کے سب سے بڑے اعزاز سے نوازا گیا۔ ایوان صدر میں عشایئے کی میز پر کوریا کے صدر نے ان سے دریافت کیا کہ پاکستان نے انہیں کون سے اعزاز سے نواز ا ہے۔ ڈاکٹر محبوب الحق سے کوئی جواب بن نہ پایا۔ توا نہوں نے جواباً پاکستانی کہاوت ’’گھر کی مرغی دال برابر‘‘ سنائی جب صاحب صدر کی سمجھ میں نہ آیا تو ڈاکٹر صاحب نے میز پر موجود ساؤتھ کوریا میں تعینات پاکستانی سفیر سے اس کہاوت کا انگریزی ترجمہ پوچھا لیکن وہ بھی کوئی خاطر خواہ جواب نہ دے سکے۔

جاپان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی صنعت کے لئے خام مال اور ضروریات کے لئے تیل دنیا بھر سے درآمد کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کو مملکت خدادا کہا جاتا ہے کیونکہ قدرت نے اسے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ پنجاب کے پانچ دریا اور عظیم تر دریائے سندھ۔ دنیا کے آٹھ بلند ترین پہاڑی سلسلے ایشیا بلکہ دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام‘ جفاکش کسان۔یہ سب کہاں اکٹھا پایا جاتا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ دریاؤں سے پچاس ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔ لاکھڑو اور تھر میں کوئلے کے ذخائر کئی سو سال تک کئی ہزار میگاواٹ بجلی بنانے میں معاون ہو سکتے ہیں۔ 1952میں سوئی کے مقام پر گیس دریافت ہوئی تو دریافت کنندگان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس گیس کا کیا مصرف ہو گا۔ برما آئیل کمپنی کے چیف جیالوجسٹ جنہوں نے یہ گیس دریافت کی نے پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے نصرت نصراﷲ کو 1990میں بتایا کہ گیس کی دریافت سے لندن ہیڈکوارٹر میں اعلیٰ افسران پر تو گویا اوس پڑ گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ تم تو تیل لینے گئے تھے گیس لے آئے۔ اس گیس کا کیا کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت نیویارک اور امریکہ کی چند ریاستوں کے سوا کہیں گیس استعمال نہیں کی جا رہی تھی۔ لندن تک میں گھروں اور کارخانوں میں کول گیس استعمال کی جاتی تھی۔ لیکن 1955میں جب سوئی سے کراچی کے لئے گیس کی ترسیل شروع کی گئی تو پاکستان ایشیا کا پہلا ملک تھا جس نے صنعتی ضروریات کے لئے گیس کا استعمال شروع کیا۔ خود پاکستان میں پوٹھوہار میں اٹک آئیل کمپنی نے 1930کی دہائی میں ڈھلیاں کے مقام پر تیل دریافت کیا تو اس کے ساتھ قدرتی گیس بھی جڑی ہوئی تھی۔ اور جب سوئی سے گیس کی ترسیل کراچی کے لئے شروع ہوئی تو اس گیس کو براستہ واہ راولپنڈی کو فراہمی شروع کی گئی۔ سوئی گیس کے استعمال سے کم قیمت بجلی تیار کی جا سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سوئی گیس کا ذخیرہ قریب الختم ہے اسی طرح ڈھوڈک اور پیرکوہ کی گیس ختم ہو گئی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر گیس سے کم قیمت بجلی تیار نہیں کی جا رہی تو یہ کہاں استعمال ہو رہی ہے؟

جاپان کی آبادی تقریباً 12کروڑ عوام پر مشتمل ہے۔ پاکستان کی آبادی اٹھارہ کروڑ‘ جاپان کا علاقہ تین لاکھ ستر ہزار کلو میٹر پر محیط ہے۔ پاکستان کا سات لاکھ چھیانوے ہزار کلو میٹر ہے۔ اس کے برعکس جاپان کی قومی آمدنی 5969 ارب ڈالر ہے۔ پاکستان کی محض 317ارب ڈالر ہے۔ آخر اس تفاوت کی وجہ کیا ہے۔ اس فرق کو ایک صحافی کی حیثیت سے ایک صحافی کی مثال کے ذریعے ہی بتایا جا سکتا ہے۔ 1990کی دہائی میں اسلام آباد میں مقیم ایک جاپانی اخباری نمائندے نے اپنے اخبار کو ایک خبر بھیجی جس کی حکومت پاکستان کو تردید کرنی پڑی۔ اس جاپانی اخبار نے اسلام آباد میں مقیم دوسرے اخباری نمائندوں اور سفارتی نمائندوں سے درخواست کی کہ مذکورہ اخبار نویس پر نظر رکھی جائے کیونکہ اس بات کا خطرہ تھا کہ اپنی خبر کی تردید کو بے عزتی کی انتہا سمجھتے ہوئے وہ خودکشی کر سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کرپشن دنیا بھر میں ہو رہی ہے۔ جاپان میں بھی کرپشن کم نہیں لیکن اس کے ساتھ ہی کرپشن اور بے عزتی پر خودکشی بھی جاپانی کلچر کا ایک حصہ ہے۔ کیا پاکستان کی سیاست اور دوسرے ستونوں بشمول صحافت میں اس کی مثال دی جا سکتی ہے؟ عرصہ 67سال سے پاکستان کے عوام کو بتایا جا رہا ہے کہ ان کا ملک بے انتہا معدنی وسائل سے مالا مال ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ گیس کے ذخائر ختم ہونے کو ہیں لیکن پاکستان کے عوام اس کی نعمتوں سے محروم رہے ‘ یہاں تک کہ اسے کم لاگت کی بجلی بنانے کے لئے بھی استعمال نہیں کیا جا رہا۔ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کا صوبہ تیل اور گیس کے سمندر پر تیر رہا ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ 1952میں سوئی گیس کی دریافت کے بعد آج تک بلوچستان میں کہیں گیس کے نئے ذخائر دریافت نہیں کئے جا سکے۔ 1950کی دہائی میں حکومت پاکستان نے عالمی بنک کو بتایا تھا کہ سوئی سے صرف پچاس میل کے فاصلے پر زن Zin کے مقام پر سوئی سے بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ لیکن آج تک اس ذخیرے کو کارآمد نہیں کیاجا سکا۔ کہتے ہیں کہ پہلے تیل اور گیس کی ترقیاتی کارپوریشن کو پرائیوٹائز کیا جائے گا اپنے دوستوں کو نوازنے کے لئے اس کے بعد ان ذخیروں کواستعمال میں لایاجائے گا۔Mitsui مٹسوئی کمپنی کے پاکستان میں نمائندے یوچی ہاسی کا کہنا ہے کہ1979 میں انہیں حیدرآباد میں ایک محفل میں شرکت کا موقع ملا جس میں جاپانی سفیر نموٹومہمانِ خصوصی تھے۔ حسب روایت جاپان کی تیز رفتار ترقی پر اظہارِ خیال کیا گیا۔ ایک مہمان نے جاپانی سفیر سے ایک دلچسپ سوال کیا۔ یورایکسلنسی اگر جاپان اور پاکستان کے عوام اپنی زمینی حدود کا تبادلہ کرلیں‘ پاکستانی جاپان میں جابسیں اور جاپانی پاکستان میں تو ایک سو سال کے بعد دونوں ممالک کا کیا حال ہوگا؟

جاپانی سفیر نے پہلے Mitsui مٹسوئی کے نمائندے مسٹر ہاسی کو سوال کا جواب دینے کے لئے کہا۔ ہاسی کا کہنا تھا۔ ایک سوسال کے بعد جاپانی جو پاکستان کے رہائشی ہوں گے مادی اور دنیاوی حصول کے لئے پاگلوں کی طرح کام نہیں کررہے ہوں گے بلکہ آج کے پاکستانیوں کی طرح ہوں گے جو دنیاوی اعتبار سے تو خوشحال نہیں ہیں لیکن روحانی مسرتوں اور انسانی رشتوں کے اعتبار سے بھرپور زندگی گزار رہے ہیں۔اس کے برخلاف پاکستانی جو جاپان میں بسے ہوں گے شاید جاپان کو موجودہ بلندیوں سے اور بلند رفعتوں سے ہم کنار کردیں گے کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنے آپ کو معروضی حالات کے مطابق بنا لیتے ہیں‘ اگر ان کے پاس قدرتی وسائل کی کمی ہوگی تو ان کو احساس ہوگا کہ آج کی دنیا میں اجتماعی کوششوں اور اعلیٰ مصنوعات کے بغیر زندگی مشکل سے گزرتی ہے۔ انہیں محنت کی عادت‘ کٹ تھروٹ مقابلے کی عادت پڑ جائے گی۔ جاپانی سفیر نے اس نظریئے کی تائید میں امریکہ کے اصل باشندوں ریڈانڈین کی مثال دی جو صدیوں سے امریکہ میں رہ رہے تھے۔ لیکن ان وسائل کو ترقی نہ دے سکے جس طرح کولمبس کی امریکہ کی دریافت کے بعد امریکہ میں یورپی آباد کاروں نے دی۔ محنت‘ محنت‘ محنت‘ کام جاپانی سفیر اور ہاسی کا لُبِ لباب تھا۔ شاید کامیابی کے اس راز کا بابائے قوم نے بھی مشورہ دیا تھا۔ جب انہوں نے قوم کو کام‘ کام اور بس کام کا مشورہ دیا تھا۔

پاکستان27 رمضان 14 اگست 1947 کو معرضِ وجود میں آیا تو اسے مملکت خداداد کہا گیا کیونکہ دشمنوں کو یقین تھا کہ یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوگا‘ کہا گیا کہ پاکستان کی تشکیل حضرت قائداعظم اور ان کے ٹائپ رائٹر کی مرہونِ منت ہے۔ شاید یہ حقیقت بھی ہے کیونکہ وہ خواب جنہیں آنکھوں میں سجا کر لاکھوں افراد نے نقل مکانی کی۔ وہ گھر سے بے گھر مہاجر اور پناہ گزین بنے صحرا میں اُگنے والی جھاڑیوں کی طرح ہوا بدوش ہوئے۔ روٹ لیس کہلائے‘ وہ خواب آج بھی شرمندہ تعبیر ہونے ہیں۔ پانچ دریاؤں کی سرزمین میں آج تین دریا خشک ہیں باقی دو دریاؤں کو لالے پڑے ہوئے ہیں۔ قراقرم کوہستان کے پہاڑ کوہ نوردوں اور سیاحوں کے انتظار میں پتھراُگے ہیں۔ سوالوں کا سوال یہ ہے کہ معدودے چند ملین افراد کے پاکستان کی اٹھارہ کروڑ آبادی کے لئے جو پاکستان کے شجرِ خزاں رسیدہ پتوں کی طرح پیوستہ ہیں امیدِ بہار ہے یا نہیں۔ کیا پاکستان کا ماضی ہی اس کا مستقبل ہے‘ لوگ پوچھتے ہیں کیا پاکستان جاپان بن سکتا ہے؟ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟

یہ تحریر 57مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP