ہمارے غازی وشہداء

وہ جو اَمر ہوگئے

خداوندِ ذوالجلال جب کسی انسان پر اپنا بے بہا کرم کرتا ہے تو اس کے جذبۂ خلوص و جاں نثاری کو پیشگی مدِ نظر رکھتے ہوئے اُس کے دل کو تمنائے شہادت کے نور سے منور کردیتا ہے۔ جب ذیشان شہید کے حالات و واقعاتِ زندگی نگاہوں کے سامنے آئے تو مجھے یقین ہوگیا کہ یہ محبِ وطن سپاہی پیدا ہی شہادت کے درجہ عالیہ پرفائز ہونے کے لئے ہوا تھا۔ ذیشان کی ولادت 26 جون 1976کو ڈیرہ غازی خان میں ہوئی۔ ان کا اپنے دس بہن بھائیوں میں دوسرا نمبر تھا۔ ذیشان عطا بچپن ہی سے بہت متحر ک اور فوری فیصلہ کرنے کی خداداد صلاحیت رکھتا تھا۔ ایک روز دوپہرکے وقت تین بھائی اکٹھے گھر سے باہر نکلے، تینوں میں سب سے چھوٹا بھائی نعمان عطا ایک ایسی جگہ جا پہنچا جہاں دھوپ کی حِدت سے ریت تپی ہوئی تھی لہٰذا جب اس کے پائوں جلے تو اس نے رونا شروع کردیا کیونکہ اس نے جوتے نہیں پہنے ہوئے تھے۔ ذیشان کے بڑے بھائی رضوان عطا نے بتایا کہ اس وقت میری عمر چھ سال اور ذیشان کی صرف پانچ سال تھی، مگر اتنی چھوٹی عمر میں بھی اس نے چھوٹے چار سالہ بھائی کے رونے کی وجہ معلوم کرلی اور فوری طور پر اس کا حل بھی تلاش کرلیا اور بھائی کو اٹھا کر محفوظ مقام پر لے آیاجوکہ ایک غیر معمولی امرہے۔
ذیشان کے والدِ گرامی عطا محمدخان اپنے وقت کے بہترین وٹیر ینیری ڈاکٹر رہے اور اب بعد از ریٹائرمنٹ آسودہ زندگی بسر کررہے ہیں، نوکری کے دوران وٹیرینیری ڈاکٹر ہونے کے ناتے،ان کی پوسٹنگ مختلف شہروں اور قصبوں میں ہوتی رہی، اس لئے بچوں کی درسگاہیں جلدی جلدی تبدیل ہو جایا کرتی تھیں۔ یعنی طویل تعلیمی دور بچوں اور والدین کے لئے ایک مسلسل جہاد کا درجہ رکھتا ہے۔ ذیشان اپنے بڑے بھائی رضوان عطا سے صرف ایک سال چھوٹے تھے مگر دیکھنے میں دونوں ہم عمر نظرآتے تھے۔ اس لئے دونوں کا داخلہ جماعت اول میں ایک ساتھ کرادیاگیا اورکلاس میں دونوں کی نشستیں بھی ایک ساتھ تھیں۔اکثر لوگ پوچھا کرتے کہ کیا تم جڑواں بھائی ہو؟
جماعت اول، دوم کی تعلیم ضلع راجن پور کے ایک چھوٹے سے گائوں مٹھن کوٹ کے ایک سکول سے ہوئی۔ یہ مقام صوفی شاعر خواجہ غلام فرید کی نسبت سے کافی شہرت رکھتا ہے۔ جماعت سوم کی تعلیم راجن پور کے شہر جام پور سے ہوئی۔ المختصر ذیشان نے1990 میں میٹرک کا امتحان ڈیرہ غازی خان کے سکول نمبر1 سے اے گریڈ  میں پاس کیا اور ایف ایس سی، پری انجینئرنگ مضامین کے ساتھ ڈگری کالج، ڈیرہ غازی خان سے 1993 میں فرسٹ ڈویژن میںپاس کرکے پاکستان ایئرفورس کی جی ڈی پی برانچ کے لئے اپلائی کردیا۔ یہاں اس حقیقت کا اظہار ضروری ہے کہ ذیشان چند مخصوص عادات و اطوار اور مزاج کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔ بچپن میں اسے سیاہ رنگ کے جوتے پسند تھے، قدرتی طور پر وہ بائیں ہاتھ سے زیادہ کام کرنے کا عادی تھا لیکن والدین نے اس کے شوق کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اسے باور کرایا کہ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے کے لئے پائلٹ بننا انتہائی مشکل امرہے کیونکہ ہوائی جہاز کے اکثر بٹن وغیرہ دائیں جانب ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس نے اپنے زیادہ ترکام دائیں ہاتھ سے کرنے شروع کردیئے اور ایک وقت ایسا آیا کہ اس میں دونوں ہاتھوں سے کام کرنے کی صلاحیت کم و بیش مساوی ہوگئی۔ وہ بہت اچھی کرکٹ کھیلا کرتا تھا، بیٹنگ دائیں ہاتھ سے کرتا جبکہ بائولنگ بائیں ہاتھ سے کرتا تھا۔ وہ کراٹے کا بہت اچھا کھلاڑی تھا اور کراٹے کے علاقائی ٹورنامنٹس میں جوش و خروش سے حصہ لیتا تھا اور اکثر امتیازی پوزیشن حاصل کرتا۔ کچھ عرصہ ہاکی بھی کھیلتا رہا۔
ذیشان متحرک ہونے کے ساتھ ساتھ بلا کا ذہین انسان تھا۔ اس کے پڑھنے کی رفتار حیران کن حد تک تیز تھی۔ وہ ایک ہی نشست میں اتنے صفحات پڑھ لیتا کہ عام آدمی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ مثلاًایک رات میں پوری کتاب پڑھ ڈالتا اور پھر نکات کی صورت میں اسے بیان کرنے کا ہنر بھی جانتا تھا۔ ذیشان نے پاک فضائیہ میں شمولیت کے تمام مراحل بڑی تیزی سے طے کئے۔ مگر ایک رکاوٹ دیوار کی طرح حائل ہوگئی۔ طبی معائنے کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ ناک کے اندر تھوڑا سا گوشت بڑھا ہوا ہے جسے صرف آپریشن کے ذریعے سے ہی ہٹایاجاسکتا ہے۔ والد صاحب نے ارادہ ظاہر کیا کہ میںاپنے علاقے سے تعلق رکھنے والے صدر فاروق لغاری سے سفارش کرا دیتا ہوں لیکن ذیشان نے خود داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اوراللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے والدِ گرامی سے درخواست کی کہ براہِ کرم وہ کسی بھی قسم کی سفارش نہ کروائیں اور خدا کا کرنا بھی یہی ہوا کہ وہ آپریشن کروانے کے بعد طبی طور پر جی ڈی پی برانچ کے لئے مکمل فٹ قرار دے دیئے گئے جس سے پورے خاندان میں حقیقی خوشی کی لہر دوڑ گئی اور سب نے خدا کا شکر ادا کیا۔ اور اس طرح ذیشان نے 28 دسمبر1994 کو جی ڈی پی کورس نمبر101 میں شمولیت اختیار کرلی۔
کوئی بھی انسان بڑا آدمی مال و دولت اور جسمانی طاقت سے نہیں بنتا بلکہ بلندیٔ افکار و کردار سے بنتا ہے۔ ذیشان کے کورس میٹ گروپ کیپٹن اویس خالد نے بتایا کہ جب ہم جی ڈی پی، برانچ کے لئے منتخب ہو کرپی اے ایف اکیڈمی رسالپور پہنچے تو ابتدائی چار پانچ روز تک ہمارا معمول یہ رہا کہ صبح صبح ہمیں ایک ہال میں بٹھا دیا جاتا اور دن بھر مختلف انسٹرکٹر یکے بعد دیگرے طولانی لیکچرز اور بریفنگز سے ہمارے صبرکا امتحان لیا کرتے۔ ہال میں اتفاقاً میری نشست ذیشان کے ساتھ ہی تھی اور جب مجھے پتا چلا کہ اس کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے ، میںنے خوشی سے اسے بتایا کہ میں  رحیم یار خان کا رہنے والا ہوں، اِس طرح ہم دونوں میں ایک اَن دیکھا سرائیکی پٹی والا رشتہ قائم ہوگیا۔میں نے اس سے سرائیکی میں بات چیت شروع کی۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں ہاں ہوں سے جواب دیتا رہا۔ مگر زیادہ تر اس کی توجہ میری باتیں سننے پر مرکوز رہی۔ مجھے کافی عرصے سے زعم تھا کہ میں پنجابی اور سرائیکی دونوں زبانیں یکساں مہارت سے بول سکتا ہوں۔ لیکن جب دن کے اختتام پر چھٹی کرکے جانے لگے تو اس نے بڑے اعتماد سے کہا کہ اویس تمہاری زبان سرائیکی نہیں بلکہ پنجابی ہے مجھے اس کے اِس خوشگوار مشاہدے پر بڑی حیرت ہوئی۔ میںنے پوچھا اسے یہ کیسے پتا چلا کیونکہ آج تک اس سے پہلے کبھی کسی نے اس حقیقت کی طرف اشارہ نہیں کیاتھا۔ ذیشان نے کہا کہ دراصل سرائیکی کے چند الفاظ کا صحیح اور مخصوص تلفظ صرف پیدائشی سرائیکی بولنے والا ہی اداکرسکتا ہے۔ اویس نے بتایا کہ یہ واقعہ سنانے کا مقصد یہ ہے کہ ذیشان انتہائی کم گو مگر دوسروں کی گفتگو غور سے سننے والا بڑا ذہین شخص تھا جو دوسروں کو گھنٹوں سن کر پھر ان کی بات چیت کا خلاصہ نکات کی صورت میں دو منٹ میں بیان کردیتا۔
اب ذیشان ایک طرف فلائنگ ٹریننگ حاصل کررہے تھے اور دوسری طرف بیچلر آف سائنس اِن ایویانکس کی ڈگری کی تیاری کررہے تھے۔ رسالپور اکیڈمی میں فلائٹ کیڈٹس کی ٹریننگ بیک وقت کئی پہلوئوں سے جاری رہتی ہے۔ گھڑ سواری، شمشیر زنی، تیراکی، جوڈو، کراٹے، باکسنگ، رائفل فائرنگ، ڈی بیٹ، پریڈکے علاوہ مختلف قسم کے کھیل اور جدید دور کے تقاضوں کے تحت نئے نئے کورسز اتنی تیزی سے کرائے جاتے ہیں کہ کسی کیڈٹ کو عملی طور پر سر کھجانے کی بھی فرصت نہیں ملتی اور اب یہ تمام مصروفیات ذیشان کی زندگی کامعمول بن چکی تھیں۔
ان کے دوست گروپ کیپٹن اویس نے رسالپور اکیڈمی کی پرانی حسین یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ذیشان وفہم و فراست سے مالا مال شخص تھا۔ ایک روز ایک انسٹرکٹر پائلٹ (آئی پی)نے ایمرجنسی سیشن کے دوران سوال پوچھا کہ دشمن نے سٹرائیک کرکے ہمارے ہوائی اڈے کے رن وے کو بری طرح ناکارہ بنادیا ہے، تیرہ ، چودہ گھنٹے گزر چکے ہیں مگر رن وے اب بھی ناقابلِ استعمال ہے، بتائیں اس صورت حال میں قصور وار کون ہے؟

ایک سٹوڈنٹ پائلٹ نے جواب دیا کہ ہمارا گرائونڈ ڈیفنس سسٹم غلطی پر ہے۔ ریڈار کنٹرولر کو چاہئے تھا کہ دشمن کی سٹرائیک کو ریڈار پر دیکھ کر بروقت انٹرسیپٹ(intercept) کرتا۔ دوسرا سٹوڈنٹ گویا ہوا کہ بیس کی حفاظت کرنے والے میزائل اور اینٹی ایئر کرافٹ گنز والے غلطی پر ہیں، انہیں دشمنوں کے جہازوں کو گرانا چاہئے تھا یا ڈرا کر بھگادینا چاہئے تھا۔ الغرض سب سٹوڈنٹس پائلٹس نے اپنی اپنی عقل وفہم کے مطابق جوابات دیئے۔ آئی پی غلط،غلط کہتے ہوئے ہنستے رہے۔ سب سے آخر میں کم گو ذیشان نے یہ مختصر سا جواب دیا ''سر اس کا ذمہ دار ٹرپل آر (RRR)ریپڈ رن وے ریپئر کا عملہ ہے۔'' یہ جواب سن کر انسٹرکٹر پائلٹ خوشی سے جھوم اٹھا اور ذیشان کی بے پناہ تعریف کی۔
رسالپور ٹریننگ کے دوران اب ذیشان کا رجحان  بی ایس سی ڈگری کے مضامین سے زیادہ فلائنگ ٹریننگ کی طرف تھا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاسنگ آئوٹ کے وقت اس کے فلائنگ گریڈز تو کافی بہتر تھے لیکن اکیڈیمکس سبجیکٹس میں دلچسپی کم ہونے کی وجہ سے وہ اپنے کورس میٹس میں سب سے آخری پاک نمبر قرار دئیے گئے۔ اس صورتِ حال کو دیکھ کر جب ان کے دیگرکورس میٹس نے پوچھا آپ کی صلاحیتوں کے مقابلے میں کیا یہ نتیجہ پریشان کن نہیں؟ تو انہوں نے مسکراتے ہوئے اطمینان سے جواب دیا، ہر گز نہیں، بے شمار ہواباز ہیںجو پاسنگ آئوٹ کے وقت آخری پاک نمبر تھے۔ مگر پھر بھی پاک فضائیہ میں بہترین اور اعلیٰ پائے کے ہیرو بن کر ابھرے اور کتنے ہی ہوا باز ایسے ہیں ، جو پہلا، دوسرا یا تیسرا پاک نمبر لے کر پاس آئوٹ ہوئے مگر بعد میں ایک اوسط درجے کے ہواباز سے آگے نہ بڑھ سکے۔ سوچ اوراعتماد کا یہی وہ منفرد انداز تھا جس نے ان کے لئے بے مثال ترقی کی راہیں کھول دیں۔ ذیشان نے اپنی بہترین فلائنگ کے بل بوتے پر2012 میں پروفیشنل ایکسی لینس بیج حاصل کیا اور2014 تک دو مرتبہ چیف آف دی ایئر سٹاف کی اعزازی اسناد حاصل کیں۔ فلائنگ پروفیشن کا سب سے بڑا چیلنجنگ کورس(CCC) کمبیٹ کمانڈر کورس،B6کیٹیگری کے اعزاز کے ساتھ مکمل کیا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہF-7 جہاز اڑانے والوں میں اعلیٰ ترین مقام کے حامل تھے۔ اسی طرح سینیئر کمانڈ اینڈ سٹاف کورس میں B plus کیٹیگری حاصل کی اور اپنے کورس سے فلائنگ انسٹرکٹر کے طور پر منتخب ہوکر، دوسال کی ڈیپوٹیشن کے لئے نائیجیریا تعینات کردیئے گئے۔
گروپ کیپٹن عرفان پٹل جو اِن کے جونیئر رہے بتاتے ہیں کہ مجھے ذیشان کے ساتھ پی اے ایف اکیڈمی رسالپور اور سکواڈرن نمبر 20  میں اکٹھے  فلائنگ کرنے کا موقع ملا، کسی بھی ہوا باز کے لئے بڑے فخر کا مقام ہوتا ہے کہ وہ 'شیردل'  فارمیشن کا ممبر رہا ہو۔ کیونکہ اس فارمیشن کو شرف حاصل ہے کہ وہ یومِ پاکستان23 مارچ اور جشنِ آزادی 14 اگست اور دیگر اہم مواقع پر وطن کی فضائوں کو قوسِ قزح کے رنگوں سے کہکشائوں کی طرح دلکش بنادے۔ ذیشان کو یہ شرف حاصل تھا کہ وہ کافی عرصے تک T-37 جہازوں میں (Slot) سلاٹ پوزیشن پر، جو ایک کمانڈنگ پوزیشن ہوتی ہے، جہاز اڑاتے رہے اور مجھے بھی اس پوزیشن کے لئے انہوںنے ہی ٹریننگ دی تھی، اس زمانے میں 'شیردل' فارمیشن9، T-37جہازوں پر مشتمل ہوتی تھی، اوربعد میںانہوں نے K-8 جہازوں کی تربیت کے معاملے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔وہ فلائنگ ڈسپلن کے بارے میں ہمیشہ بہت سخت رہے۔ گروپ کیپٹن عرفان پٹل نے مزید انکشاف کیا کہ مجھے ذیشان کے ساتھ سب سے بڑا اور اہم ہوا بازی کا پروفیشنل کورس جسے کمبیٹ کمانڈر کورس کہا جاتا ہے کرنے کا اتفاق ہوا۔ عموما ًہوا باز فلائٹ سیفٹی کے اصولوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک دوسرے پر جھپٹنے کے روائتی طور طریقے اختیار کرتے ہیں لیکن ذیشان ہر مرتبہ مشن میںمختلف اور منفرد دائو پیچ استعمال کرتے اورF-7جہازسے میراج اورF-16 جہازوں کے ہوا بازوں کو مشکل میںڈال دیتے اور موقع ملنے پر سبقت بھی لے جاتے۔ عرفان نے ذیشان کو نائیجیریا میں ریپلیس کیا اورانہوں نے وہاں کے ہوابازوں کو بھی ہمیشہ بحیثیت انسٹرکٹر پائلٹ ذیشان کی تعریف کرتے ہوئے سنا۔
محترمہ مسز مریم ذیشان نے ماضی کے دریچوں میں جھانکتے ہوئے شدتِ جذبات سے رندھی ہوئی آواز میں کہا کہ 5 جولائی2003 کو میرا نکاح ذیشان سے ہوا۔ اگلے برس 9 نومبر 2004 کو خالقِ کائنات نے ہمیں ایک خوبصورت پری جیسی بیٹی سے نواز جس کا نام ہم نے حریم ذیشان رکھا اور ساڑھے تین سال کے بعد6 مارچ2008 کو خدانے ہمیں ایک چاند سا بیٹا عطا فرمایا جس کا نام ہم نے محمدبن ذیشان رکھ دیا۔ ذیشان رب کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتے تھے کہ میری جان میری بیٹی اور بیٹے میں ہے اور دونوں بچے بھی انہیں اپنا ہیرو سمجھتے ہیں۔ ذیشان بچوں کے ساتھ مل کر کھیلتے تھے، ان کے ساتھ دوڑ لگاتے اور اکثر انہیں سبق آموز کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ہر تقریب میںجانے سے پہلے سمجھاتے کہ وہاں انہوں نے اپنے ہم عمربچوں کے ساتھ کس احسن طرزِ اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہے اور بڑوں کے ساتھ کن آداب اورطور طریقوں سے پیش آنا ہے، ہمارے معاشرے میں بچوں کی تربیت پر عموماً اس انداز سے توجہ نہیں دی جاتی۔ لیکن وہ بچوں کی شخصیت سازی پر آغازِ زندگی ہی سے بھرپور انداز میں نظریں جمائے ہوئے تھے۔ اب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہ اچھی طرح آگاہ تھے کہ بہت جلد انہیں شہادت کے بلند مرتبے پر فائز ہونا ہے۔ اس لئے جلد از جلد اپنی مختلف ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونا چاہتے تھے۔ میں انتہائی خوش قسمت ہوں کہ اللہ نے مجھے ایسا بہترین شوہر عطا فرمایا جسے میںنے ہرقدم پر اپنا مخلص رفیق اور ہمدرد پایا۔ بیگم ذیشان کا کہنا ہے کہ وہ بہت ملنسار، محبت کرنے والے اور سب کا خیال رکھنے والے انسان تھے۔ 'ہردم خیالِ خاطرِ احباب ' ہمیشہ ان کی زندگی کا نصب العین رہا۔
ذیشان کی ایک قابل ترین فلائنگ سٹوڈنٹ، سکواڈرن لیڈر انعم مسعود ، اشکبار آنکھوں کے ساتھ گویا ہوئیں کہ میرا تعلق نمبر123 جی ڈی پی کورس سے ہے۔ جب ہمارے کورس نے مشاق جہاز کی تربیت مکمل کرنے کے بعدT-37 جہاز کی تربیت حاصل کرنے کے لئے بی ایف ٹی(BFT) میں رپورٹ کی تو یہ جان کر ایک گونہ اطمینان ہوا کہ میرے انسٹرکٹرپائلٹ (IP)کا نام سکواڈرن لیڈر ذیشان عطا ہے اور میں اس وقت ایوی ایشن کیڈٹ تھی، سرذیشان اس دور میں No. 2 BFT کے سکوارڈن کمانڈرتھے ۔ تمام سینیئر ز اور جونیئرز ہوابازوں کی نگاہوں میں انتہائی قابل، منظم اور بہترین پیشہ ورہواباز کی شہرت رکھتے تھے۔ ان کو سپن ماسٹر (Spin Master) کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ جب جہاز کے تمام کنٹرولز کام کرنا چھوڑ دیں تو وہ قلابازیاں کھاتا ہوا زمیں کی طرف گرنا شروع کردیتا ہے ایسے میں جہاز کو سنبھالنا بڑا مشکل کام ہے۔ لہٰذا تربیت کے دوران سٹوڈنٹ پائلٹس کو مصنوعی طریقے سے جہاز کو سپن سے نکالنا سکھایا جاتا ہے۔ اس مینور(manoeuvre)کا نام سپن ریکوری ہے سپن کے دوران کئی سٹوڈنٹس کو (Vomit) یعنی قے آنا شروع ہوجاتی ہے۔ کانوں میں درد شروع ہو جاتا یا کچھ اور مسائل مشاہدے میں آجاتے ہیں، لہٰذا ذہنی اور جسمانی طور پر چاق چوبند سٹوڈنٹس ہی جہاز کو سپن میں ڈالنے اور نکالنے کے مینور کی اہمیت کو سمجھ کر فلائنگ کے اگلے مراحل طے کرتے ہیں۔ ذیشان اپنے سٹوڈنٹس کو زور دے کر سمجھاتے تھے کہ مشاق جہازکی سپن اور'T-37' جہاز کی سپن میں زمین آسمان کا فرق ہے اور اس کا صحیح طور پر سمجھنا پیشۂ ہوا بازی کے بنیادی تقاضوں میں سے ہے۔
اورینٹیشن (Orientation) مشن ہو، نیویگیشن(Navigation) مشن ہو یا کوئی اور مشن ہو وہ اڑان سے پہلے اس کی تیاری پر بھرپور توجہ دینے کا کہتے ، سٹوڈنٹس کی گریڈنگ میں کسی قسم کی رعایت نہ کرتے تھے۔ انعم مسعود انتہائی شائستہ لہجے میں بیان کررہی تھیں کہ جس زمانے میں میانہ روی، روشن خیالی اور آزادٔ نسواں کے نعرے لگائے جارہے تھے اور لیڈی کیڈٹس کو ٹی وی چینلز پر خصوصی اہمیت دی جارہی تھی، ذیشان صاحب نے اس وقت بھی تمام لیڈی کیڈٹس کو متنبہ کیا تھا کہ شہرت و مقبولیت کی اس لہر میں ہوابازی جیسے اہم پیشے کو ایک لحظے کے لئے بھی نظرانداز نہ کریں۔ اور ایک خاص بات انعم مسعود نے یہ بھی بتائی کہ جب میری گریجویشن تقریب کے لئے میرے والدین اور بھائی رسالپور اکیڈمی تشریف لارہے تھے تو راستے میں ان کی کار کا انجن خراب ہوگیا۔ میری نظریں تقریب کے دوران انہیں تلاش کرتی رہیں مگر جب وہ کہیں نظر نہ آئے تو ظاہر ہے میں پریشان و افسردہ ہوگئی۔ تقریب کے اختتام پر مجھے پتہ چلا کہ ان کی کارکا انجن خراب ہونے کی اطلاع جیسے ہی سرذیشان تک پہنچی تو انہوںنے فوری طور پر اپنا خاص میکینک بھجوا کر کار کے انجن کو ٹھیک کروایا اور رات کے کھانے پر میرے والدین، بھائی اور مجھے دعوت دے کر میری پاسنگ آئوٹ کی خوشی کو دوبالا کردیا۔ سرذیشان میرے فلائنگ انسٹرکٹر تھے اور بیگم ذیشان میری کوکنگ انسٹرکٹر تھیں جنہوںنے مجھے بہترین کھانے پکانے اور کیک تیار کرنے کے گر سکھائے۔ اب آپ خود اندازہ کریں کہ جب آپ کو ایسے شفیق اور لائق انسٹرکٹر ہواباز کی شہادت کی خبر ملے تو کیا حال ہوگا۔ خداوندِ ذوالجلال ان کے مراتب کو بلند کرے اور بھابھی بچوں کو صبرِجمیل عطا فرمائے۔



مسز ذیشان فرما رہی تھیں کہ وہ اکثر کہتے میرا رب مجھ پر بہت مہربان ہے۔ اس لئے میرا ہر کام بڑی آسانی اورتیزی سے ہو جاتاہے، وہ جس روز شہید ہوئے بڑے ہشاش بشاش نظر آرہے تھے، ذیشان کی تقرری بحیثیت آفیسر کمانڈنگ نمبر18 آپریشن کنورژن یونٹ(OCU) میں 6جولائی 2017 کو ہوئی۔ ابتدائی ایام میں ہم ابھی آفیسرز میس کے ایک کمرے میں قیام پذیر تھے، کیونکہ جس گھرمیں ہمیں شفٹ ہونا تھا، اس پر رنگ وروغن کا کام جاری تھا۔ صبح کو آفس جاتے ہوئے کہنے لگے کہ میں واپسی پر گھر کے کاموں کا جائزہ لے کرآئوں گا۔ لہٰذا جب سہ پہر کو گھر لوٹے تو بڑے مسرور تھے اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے ، اِن شا اللہ کل یا پرسوں تک ہم نئے گھر میں شفٹ ہوجائیں گے۔ پچھلے ہفتے سے نائٹ فلائنگ جاری تھی اور آج 8 اگست 2017 کو بھی انہوںنے نائٹ فلائنگ کے لئے جانا تھا۔ اس لئے میںنے ان سے درخواست کی کہ وہ کچھ دیر کے لئے سو جائیں اور ان کے دونوں سیل فونز کی گھنٹیاں انتہائی کم کرکے انہیں اپنے پاس رکھ لیا تاکہ ان کے آرام میں کسی قسم کا خلل واقع نہ ہو۔ وہ تازہ دم ہو کر اٹھے تو کہا کہ میرے آفس کے کپڑے لے آئو۔ تیار ہوئے اور بچوں کو خداحافظ کہہ کر نائٹ فلائنگ کے لئے روانہ ہوگئے۔ میںنے اس موقع پر حسبِ معمول آیت الکرسی پڑھ کر ان پر دم کیا، رات کے گیارہ بج چکے تھے اور مجھے بے چینی سے ذیشان کی واپسی کا انتظار تھا۔ کورس میٹ کی ایک بیگم کا فون آیا کہ باہر آجائو، ہم اور دیگر بھابھیاں بھی باہر موجود ہیں۔ میںنے سوچا 14 اگست آنے والی ہے، شاید اس سے متعلقہ تقریبات کے سلسلے میں کوئی میٹنگ ہو رہی ہوگی۔چلو میں بھی چند منٹوں کے لئے شامل ہوجاتی ہوں۔ لیکن جب میں وہاں پہنچی تو دیکھا کہ مسز او سی فلائنگ کے ساتھ مسز بیس کمانڈر بھی وہاں موجود ہیں، جن کو دیکھ کر میرا ماتھا ٹھنکا، خدا خیر کرے عموماً اس قسم کی میٹنگز میں مسز بیس کمانڈر شامل نہیںہوتیں۔ مجھے مسز بیس کمانڈر اور مسز او سی فلائنگ کے درمیان بٹھا دیاگیا۔ میری اوپر کی سانس اوپر اورنیچے کی سانس نیچے رکی ہوئی تھی کہ نجانے کیا خبر سننے کو ملے گی۔آخر میںنے مسزاوسی فلائنگ کا ہاتھ پکڑکر پوچھا۔ بھابھی کیا معاملہ ہے سب بھابھیاں خاموش کیوں ہیں۔ دو تین بھابھیوں نے مجھے سہارا دیتے ہوئے بتایا کہ ذیشان کا جہازتیکنیکی خرابی کی وجہ سے کریش کرگیا مگر ذیشان ایجکٹ کرگئے ہیں اور رات کے اندھیرے میں انہیں جنگل میں تلاش کرنا بڑا مشکل ہے۔ میں نے پھر آیت الکرسی پڑھ کر دعا کی، وہ رات میرے لئے قیامت سے کم نہ تھی۔ بار بار کمرے میںجاتی بچوں کو سوتا ہوا دیکھتی اور خدا سے گِڑگِڑا کر دعا مانگتی کہ الٰہی میرے بچوں کو یتیم نہ کرنا۔ صبح ہوئی تو پتہ چلا کہ ذیشان کے گھر والے اور میرے گھر والے بھی پہنچ گئے ہیں۔ اب مجھے اندازہ ہوا کہ مجھ پراور بچوں پر کیا قیامت بیت چکی ہے اور آہستہ آہستہ مجھے اس کے لئے ذہنی طور پر تیار کیا جارہا تھا۔
میرے ماموں ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل محمد شعیب بھٹی نے میرے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، بیٹا اب ہمت سے کام لو، ذیشان کو اللہ سبحانہ' وتعالیٰ نے اس کی تمنا کے مطابق شہادت کے بلند ترین درجے پر فائز کردیا ہے۔ صبح کو پی اے ایف بیس عالم (میانوالی)پر ذیشان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی اورپھر ہم C-130پر ملتان کے لئے روانہ ہوگئے۔ وہاں پہنچ کر ہم سب عزیزو اقرباء کوسٹر میں اور ذیشان کا تابوت ایمبو لینس میں ڈیرہ غازی خان کی جانب روانہ ہوگیا۔ میںنے ہر موقع پر کوشش کی کہ ایک مرتبہ اپنے شوہر کے چہرے کی زیارت کرلوں مگر منع کردیاگیا۔ ڈیرہ غازی خان میں ایک مرتبہ پھر ذیشان کی نمازِ جنازہ اَدا کی گئی۔ جس میں بے شمار  ایئر فورس آفیسرز، شہر کے اکابرین اور لاتعداد مقامی لوگوں نے شریک ہو کر ملک کے بے مثال ہوا باز کو خراجِ تحسین پیش کیا اور لحد پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی۔ ذیشان کے والدِ گرامی فرماتے ہیں کہ میں اکثر ڈیرہ غازی خان کے قبرستان جا کر فاتحہ پڑھنے کے بعد سلامی دے کر کہتا ہوںمیرے نورِ نظرتم نے اس ضعیفی میں شہادت کے بلند درجے پر فائر ہو کر میری کمر کی طاقت کو بڑھادیا۔ میں تم پر جتنا بھی فخرکروں کم ہے۔
بھائی بہنوں کی ترجمانی کرتے ہوئے چھوٹی بہن سمیہ کلیم نے کہا بھائی جان تمہاری محبت بھری یادیں اب ہمارے دکھی دلوں کا مرہم اور زندگی گزارنے کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ سکواڈرن لیڈرانعم مسعود اپنے انسٹرکٹر پائلٹ کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ آپ اکثر فرماتے تھے خدا وندِ ذوالجلال اپنے چنے ہوئے بندوںکو شہادت کے بلند مرتبے پر فائز کرتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے وہ اشارتاً بتاتے تھے کہ دیکھنامیں بھی ایک دن یہ مرتبہ ضرور حاصل کرلوں گا۔ گروپ کیپٹن اویس خالد نے کہا کہ میںنے پاک فضائیہ کی اہم مشقوںکے دوران جب بھی پیشہ ورانہ امور پر ذیشان سے مشورہ مانگا تو اس نے اپنی ہزار مصروفیات کے باوجود مجھے بہترین تجاویز سے فیضیاب کیا اور اب بھی جب ضرورت ہوتی ہے میں شدتِ جذبات سے مغلوب ہو کر اس کا نمبر ڈائل کردیتا ہوں اور اکثر تصور میں اس سے ہم کلام رہتا ہوں۔
شہادت کے بعد سب سے پہلے ذیشان کے والد نے اسے خواب میں دیکھا کہ وہ زمرد کے ایک محل میں یونیفارم پہنے جس پر بے شمار تمغے آویزاں ہیں انتہائی خوش خرم نظر آرہا ہے۔ بیوی بچوں اور دیگر عزیزوں نے بھی اُنہیں خواب میں اپنی شہادت کا جشن مناتے ہوئے دیکھا۔بعد از شہادت اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ذیشان عطا کو 2020 میں تمغۂ بسالت سے نوازا۔ سب احباب دل سے دعا گو ہیں کہ خدا ذیشان کے مراتب کو مزید بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین ||

یہ تحریر 13مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP