ہمارے غازی وشہداء

وہ جس کے بِنا گھر ہوا سُونا سُونا

کیپٹن ڈاکٹر شرجیل شاہد شنواری شہیدکی والدہ محترمہ اُمِ شرجیل کے قلم سے

میری بھی لفاظی ختم ہوگئی ہے ۔بہت کچھ لکھنا چاہتی ہوں مگر الفاظ کھو جاتے ہیں‘ گڈ مڈ ہو جاتے ہیں۔ لوگ کہتے تھے کہ وقت کے ساتھ زخم بھر جاتے ہیں۔ وقت مرہم لگا دیتا ہے مگر مجھے ایسے ہی لگتا ہے کہ زخم پہلے دن سے بھی تازہ ہیں۔ شہادت کا فخر اپنی جگہ مگر جدائی کا زخم سہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ یہ بات صرف شہداء کی فیملیز ہی جانتی ہوں گی۔ ہم سب کا دکھ درد ایک جیسا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ہمارے تمام شہداء پر اور اﷲ میرے ملک کی حفاظت فرمائے۔ شہداء کا خون رائیگاں نہ جائے۔ شہداء کے جنازے بہت بڑے بڑے اور پورے اعزاز کے ساتھ ہوتے ہیں۔ میرے پیارے بیٹے کے جنازے میں ہر طبقۂ فکر کے لوگوں نے شرکت کی میں نے پہلی دفعہ اتنا بڑا جنازہ دیکھا تھا۔ اب نہ کوئی خوشی‘ خوشی لگتی ہے اور نہ ہی غم‘ غم لگتا ہے۔ میں زندگی کا ایک دن کم ہونے پر روز سوچتی ہوں کہ ایک دن اور کم ہوگیا۔ اب اپنے بیٹے سے ملنے کے نزدیک ہو رہی ہوں۔

ستمبر2014کیا شروع ہوا کہ نئے سرے سے یادوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ویسے یہ مہینہ سب پاکستانی کیسے بھول سکتے ہیں۔ اسی ماہ میں ڈیفنس ڈے منایا جاتا ہے۔ میرے پیارے بیٹے کا جوش و خروش بھی ستمبر میں بڑھ جاتا تھا جس کا وہ اظہار بھی کیا کرتا تھا۔ اسی طرح اس نے ستمبر2012 میں ہی فیس بک پر پروفائل فوٹو چینج کی اور ایک شہید کا جنازہ تھا وہ فوٹو لگائی۔ شرجیل شہید کے ایک دوست نے Comment کیا کہ جب تم شہید ہوگے تو یہ شہید کے جنازہ والی فوٹو کام آئے گی اور پھر ایسے ہی ہوا‘ میرا لختِ جگر‘ شہزادوں جیسی آن بان رکھنے والا 20 ستمبر2012 کو بروزِ جمعرات شہید ہوگیا اور بڑی شان سے جمعۃ المبارک کو آرمی قبرستان میں نمازِ جنازہ کے بعد ہمیشہ کے لئے ہماری آنکھوں سے تو اوجھل ہوگیا مگر دلوں میں اسی طرح آباد ہے جیسے ایک شہید کو ہونا چاہئے۔ میرا بیٹا جمعہ کے دن ہی پیدا ہوا اور جمعہ کے دن ہی اس دنیا سے چلا گیا۔ میری بھی لفاظی ختم ہوگئی ہے ۔بہت کچھ لکھنا چاہتی ہوں مگر الفاظ کھو جاتے ہیں‘ گڈ مڈ ہو جاتے ہیں۔ لوگ کہتے تھے کہ وقت کے ساتھ زخم بھر جاتے ہیں۔ وقت مرہم لگا دیتا ہے مگر مجھے ایسے ہی لگتا ہے کہ زخم پہلے دن سے بھی تازہ ہیں۔ شہادت کا فخر اپنی جگہ مگر جدائی کا زخم سہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ یہ بات صرف شہداء کی فیملیز ہی جانتی ہوں گی۔ ہم سب کا دکھ درد ایک جیسا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ہمارے تمام شہداء پر اور اﷲ میرے ملک کی حفاظت فرمائے۔ شہداء کا خون رائیگاں نہ جائے۔ شہداء کے جنازے بہت بڑے بڑے اور پورے اعزاز کے ساتھ ہوتے ہیں۔ میرے پیارے بیٹے کے جنازے میں ہر طبقۂ فکر کے لوگوں نے شرکت کی میں نے پہلی دفعہ اتنا بڑا جنازہ دیکھا تھا۔ اب نہ کوئی خوشی‘ خوشی لگتی ہے اور نہ ہی غم‘ غم لگتا ہے۔ میں زندگی کا ایک دن کم ہونے پر روز سوچتی ہوں کہ ایک دن اور کم ہوگیا۔ اب اپنے بیٹے سے ملنے کے نزدیک ہو رہی ہوں۔ شرجیل سے آخری دفعہ بات بدھ کے دن ہوئی۔ ویسے تقریباً3 منٹ کی کال ہوتی تھی۔ اس دن کوئی15 یا16 منٹ بات ہوئی۔ آپریٹر بار بار فون چیک کرتا پھر کچھ کہے بغیر فون رکھ دیتا۔ آخری باتیں بھی میرے بیٹے کی اپنی چھوٹی بہن کو نصیحت ہی تھی۔ عمارہ تمہارا فائنل ایر ہے خوب پڑھنا۔ نانو(نانی اماں) کا BP کا چارٹ بنانا وغیرہ وغیرہ۔ مجھے کسی نے بتایا کہ شرجیل کہتا تھا کہ میرے نام کے ساتھ تین \"S\" ہیں ایک S اور آئے گا۔یعنی شرجیل شاہد شنواری(شہید) میرا بیٹا میرے لئے بڑی ہی خوبصوت یادیں چھوڑگیا۔ اپنی بہت خوبصورت نشانیاں چھوڑ کر گیا ہے۔ میرے ڈرائنگ روم کے ایک کارنر میں میرے بیٹے کی سکول کی شیلڈز پڑی ہیں۔فرسٹ پرائزکپ پڑے ہیں۔ میرا بیٹااپنے ہاتھوں سے خوبصورت خطاطی کرتا تھا۔ ایک خطاطی ’’یارحیم‘‘ کی ہے جو اُس نے بلیک اینڈ وائٹ کی ہے جس پراُس کو پہلا انعام دیا گیا۔ میرے بیٹے کی خطاطی آج بھی آرمی میڈیکل کے ایک ہال میں دیوار پر آویزاں ہے۔ اُس کے علاوہ پہلا کلمہ‘ بسم الرحمن الرحیم اور اسماء الحسنٰی کی خوبصورت خطاطی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے ننانوے نام لکھتے وقت اس نے کہا کہ ممی آپ ویسٹریج سے مجھے خوبصورت چوڑیاں لادیں۔ پھر میرے سامنے ایک ایک نام کو اس ایک چوڑی میں فکس کیا۔ شاہد صاحب (میجرریٹائرڈ شاہد شنواری والد کیپٹن شرجیل شہید)نے فریم کروائے۔ یہ میرے ڈرائنگ روم کی دیواروں پر چاروں طرف خوبصورتی سے سجی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ میرے بیٹے کو ان پر بھی اجرعطا فرمائے (آمین) اور اس کے لئے صدقہ جاریہ بنے۔

مجھے نارمل سیCooking آتی تھی مگر میرا بیٹا اچھے کھانے کھانے کا بہت شوقین تھا۔ میں کھانا بناتی تو کہتا کہ میری ممی جیسی کوکنگ کسی کی نہیں۔ مجھے تو لگتا ہے میرے پاس صرف ایک ہفتہ رہا ہے (ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک) پہلی دفعہ بھی پشاور سی ایم ایچ میں جب میری گود میں آیا تو سویا ہوا تھا اور آخری دفعہ بھی پشاور سی ایم ایچ سے آیا تو چہرے پر مسکراہٹ سجائے سو رہا تھا۔ اﷲ تعالیٰ میری ملاقات روزِ قیامت میرے بیٹے سے کروائے۔ (آمین)

یہ تمام خطاطی وہ اپنے کالج کی ایک نمائش میں رکھنے کے لئے بناتا تھا۔ ویسے میری بیٹی شمیلہ بھی خطاطی کرتی ہے مگر پہلا انعام شرجیل کو ہی ملا۔ شرجیل ایک نرم دل اورحساس طبیعت کا مالک تھا۔ رمضان کے پہلے عشرے میں‘ میں‘شاہد اور میری بیٹی شمیلہ‘ شرجیل کو‘ کوہاٹ چھوڑ کر اﷲ کے حوالے کرکے آئے۔کچھ دنوں کے بعد کانوائے جب وزیرستان کے لئے روانہ ہوا تو گرمی کی شدت کی وجہ سے کچھ لوگوں(جوانوں) کی طبیعت خراب ہوئی۔ خاص کر جن کا روزہ تھا۔ شرجیل نے پوچھا تو میں نے بتایا کہ بیٹا جوانوں سے کہو کہ تم حالتِ سفر میں ہو اور دوسرا جہاد پر جارہے ہو‘ اگر کوئی روزہ چھوٹ گیا تو بعد میں قضا کر لینا۔ رمضان میں ہی لیفٹیننٹ عثمان وانا میں زخمی ہوا تو جب ہیلی کاپٹر پر پشاور سی ایم ایچ لارہے تھے تو شمیلہ کو کہا کہ ممی سے کہنا دعا کریں۔ میں نے کہا کہ دُعا میں ضرور کروں گی مگر مجھے نہ بتانا کہ کیا ہوا۔ عثمان تو ماشاء اﷲ ٹھیک ہوگیا اس کے لئے دعا کروانے والا شہید ہوگیا۔ اس دن ہی شرجیل واپس وانا گیا تو روزہ ہیلی کاپٹر میں ہی افطار کیا۔ کہنے لگا کہ بڑا ہی مزہ آیا۔ اسی طرح ایک کیپٹن (شرجیل کا فیس بک کا فرینڈ تھا) وہ شہید ہوا تو مجھے لیپ ٹاپ میں اسکی تصویر دکھائی‘ کہنے لگا یہ شہید ہوگیا ہے۔ میں نے کہا بچے میں ایک کمزوراور نرم دل کی مالک عورت ہوں۔ مجھے نہ دکھایا کرو‘ پھر کوئی بات ہوتی تو شمیلہ کو بتاتا کہ ممی کو نہیں بتانا۔ شاید وہ یہ باتیں کرکے‘ یہ تصویریں دکھا کر ماں کا دل مضبوط کرنا چاہتا تھا یا اُن کے لئے دُعا کروانا چاہتا تھا اور مجھے بھی میرے اﷲ نے دعاؤں پر لگادیا۔ یہ سب کچھ میرے رب کی طرف سے تھا۔ مجھے نارمل سیCooking آتی تھی مگر میرا بیٹا اچھے کھانے کھانے کا بہت شوقین تھا۔ میں کھانا بناتی تو کہتا کہ میری ممی جیسی کوکنگ کسی کی نہیں۔ مجھے تو لگتا ہے میرے پاس صرف ایک ہفتہ رہا ہے (ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک) پہلی دفعہ بھی پشاور سی ایم ایچ میں جب میری گود میں آیا تو سویا ہوا تھا اور آخری دفعہ بھی پشاور سی ایم ایچ سے آیا تو چہرے پر مسکراہٹ سجائے سو رہا تھا۔ اﷲ تعالیٰ میری ملاقات روزِ قیامت میرے بیٹے سے کروائے۔ (آمین) شرجیل کو ہم نے پاسنگ آؤٹ پر گاڑی گفٹ کی تھی۔ ایک دن میں نے کہا کہ مجھے بھی ایک چھوٹی گاڑی چاہئے درس وغیرہ پر جانے کے لئے تو کہنے لگا ممی میں اپنی گاڑی چھوڑ کر جارہا ہوں۔ میں اب اُسی گاڑی پر ہی درس کے لئے جاتی ہوں تاکہ میرے بیٹے کے درجات بلند ہوں

15مئی کو جب میرا call letter آیا تو پاپا اور بھائی‘ شرجیل شہید کو بتانے بلکہ ان کو مبارک باد دینے ان کے پاس قبرستان گئے اور بعد میں میں بھی گئی۔ کیونکہ یہ ثمران کی رہنمائی اور طبیعت میں ایک بڑے بھائی سے بڑھ کر اپنے چھوٹے بہن بھائی کے لئے پدرانہ شفقت کا نتیجہ تھا کہ آج ہم کامیابی کے اس پہلے زینے پر تھے جس کے بارے میں وہ ہمیشہ فکر مند رہتے۔ اکثر ہمیں سمجھاتے‘ ہماری غلطیاں سدھارتے اور کبھی ڈانٹ ڈپٹ بھی کرتے۔ میری Joiningوالے دن گھر والے ہاسٹل چھوڑنے ساتھ آئے اور بھائی کے بعد ان دو سالوں میں خوشی اور آرام کا جو پل آیا اس میں بھائی ہمیشہ شامل رہتے۔ اب کی بار بھی سب کی آنکھیں نم تھیں۔ پہلے دن تومجھے بس مختلف forms fillکرنے تھے حالانکہ بچپن سے لے کر کالج تک میرے سارے form اکثر بھائی ہی Fillکرتے تھے۔ مگر اب سارا کچھ مجھے خود پر کرنا تھا بلکہ siblings information column میں شرجیل بھائی کے نام اور یونٹ کے ساتھ شہید بھی لکھنا تھا۔

ستمبر2014کیا شروع ہوا کہ نئے سرے سے یادوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ویسے یہ مہینہ سب پاکستانی کیسے بھول سکتے ہیں۔ اسی ماہ میں ڈیفنس ڈے منایا جاتا ہے۔ میرے پیارے بیٹے کا جوش و خروش بھی ستمبر میں بڑھ جاتا تھا جس کا وہ اظہار بھی کیا کرتا تھا۔ اسی طرح اس نے ستمبر2012 میں ہی فیس بک پر پروفائل فوٹو چینج کی اور ایک شہید کا جنازہ تھا وہ فوٹو لگائی۔ شرجیل شہید کے ایک دوست نے Comment کیا کہ جب تم شہید ہوگے تو یہ شہید کے جنازہ والی فوٹو کام آئے گی اور پھر ایسے ہی ہوا‘ میرا لختِ جگر‘ شہزادوں جیسی آن بان رکھنے والا 20 ستمبر2012 کو بروزِ جمعرات شہید ہوگیا اور بڑی شان سے جمعۃ المبارک کو آرمی قبرستان میں نمازِ جنازہ کے بعد ہمیشہ کے لئے ہماری آنکھوں سے تو اوجھل ہوگیا مگر دلوں میں اسی طرح آباد ہے جیسے ایک شہید کو ہونا چاہئے۔ میرا بیٹا جمعہ کے دن ہی پیدا ہوا اور جمعہ کے دن ہی اس دنیا سے چلا گیا۔ میری بھی لفاظی ختم ہوگئی ہے ۔بہت کچھ لکھنا چاہتی ہوں مگر الفاظ کھو جاتے ہیں‘ گڈ مڈ ہو جاتے ہیں۔ لوگ کہتے تھے کہ وقت کے ساتھ زخم بھر جاتے ہیں۔ وقت مرہم لگا دیتا ہے مگر مجھے ایسے ہی لگتا ہے کہ زخم پہلے دن سے بھی تازہ ہیں۔ شہادت کا فخر اپنی جگہ مگر جدائی کا زخم سہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ یہ بات صرف شہداء کی فیملیز ہی جانتی ہوں گی۔ ہم سب کا دکھ درد ایک جیسا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ہمارے تمام شہداء پر اور اﷲ میرے ملک کی حفاظت فرمائے۔ شہداء کا خون رائیگاں نہ جائے۔ شہداء کے جنازے بہت بڑے بڑے اور پورے اعزاز کے ساتھ ہوتے ہیں۔ میرے پیارے بیٹے کے جنازے میں ہر طبقۂ فکر کے لوگوں نے شرکت کی میں نے پہلی دفعہ اتنا بڑا جنازہ دیکھا تھا۔ اب نہ کوئی خوشی‘ خوشی لگتی ہے اور نہ ہی غم‘ غم لگتا ہے۔ میں زندگی کا ایک دن کم ہونے پر روز سوچتی ہوں کہ ایک دن اور کم ہوگیا۔ اب اپنے بیٹے سے ملنے کے نزدیک ہو رہی ہوں۔ شرجیل سے آخری دفعہ بات بدھ کے دن ہوئی۔ ویسے تقریباً3 منٹ کی کال ہوتی تھی۔ اس دن کوئی15 یا16 منٹ بات ہوئی۔ آپریٹر بار بار فون چیک کرتا پھر کچھ کہے بغیر فون رکھ دیتا۔ آخری باتیں بھی میرے بیٹے کی اپنی چھوٹی بہن کو نصیحت ہی تھی۔ عمارہ تمہارا فائنل ایر ہے خوب پڑھنا۔ نانو(نانی اماں) کا BP کا چارٹ بنانا وغیرہ وغیرہ۔ مجھے کسی نے بتایا کہ شرجیل کہتا تھا کہ میرے نام کے ساتھ تین \"S\" ہیں ایک S اور آئے گا۔یعنی شرجیل شاہد شنواری(شہید) میرا بیٹا میرے لئے بڑی ہی خوبصوت یادیں چھوڑگیا۔ اپنی بہت خوبصورت نشانیاں چھوڑ کر گیا ہے۔ میرے ڈرائنگ روم کے ایک کارنر میں میرے بیٹے کی سکول کی شیلڈز پڑی ہیں۔فرسٹ پرائزکپ پڑے ہیں۔ میرا بیٹااپنے ہاتھوں سے خوبصورت خطاطی کرتا تھا۔ ایک خطاطی ’’یارحیم‘‘ کی ہے جو اُس نے بلیک اینڈ وائٹ کی ہے جس پراُس کو پہلا انعام دیا گیا۔ میرے بیٹے کی خطاطی آج بھی آرمی میڈیکل کے ایک ہال میں دیوار پر آویزاں ہے۔ اُس کے علاوہ پہلا کلمہ‘ بسم الرحمن الرحیم اور اسماء الحسنٰی کی خوبصورت خطاطی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے ننانوے نام لکھتے وقت اس نے کہا کہ ممی آپ ویسٹریج سے مجھے خوبصورت چوڑیاں لادیں۔ پھر میرے سامنے ایک ایک نام کو اس ایک چوڑی میں فکس کیا۔ شاہد صاحب (میجرریٹائرڈ شاہد شنواری والد کیپٹن شرجیل شہید)نے فریم کروائے۔ یہ میرے ڈرائنگ روم کی دیواروں پر چاروں طرف خوبصورتی سے سجی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ میرے بیٹے کو ان پر بھی اجرعطا فرمائے (آمین) اور اس کے لئے صدقہ جاریہ بنے۔ یہ تمام خطاطی وہ اپنے کالج کی ایک نمائش میں رکھنے کے لئے بناتا تھا۔ ویسے میری بیٹی شمیلہ بھی خطاطی کرتی ہے مگر پہلا انعام شرجیل کو ہی ملا۔ شرجیل ایک نرم دل اورحساس طبیعت کا مالک تھا۔ رمضان کے پہلے عشرے میں‘ میں‘شاہد اور میری بیٹی شمیلہ‘ شرجیل کو‘ کوہاٹ چھوڑ کر اﷲ کے حوالے کرکے آئے۔کچھ دنوں کے بعد کانوائے جب وزیرستان کے لئے روانہ ہوا تو گرمی کی شدت کی وجہ سے کچھ لوگوں(جوانوں) کی طبیعت خراب ہوئی۔ خاص کر جن کا روزہ تھا۔ شرجیل نے پوچھا تو میں نے بتایا کہ بیٹا جوانوں سے کہو کہ تم حالتِ سفر میں ہو اور دوسرا جہاد پر جارہے ہو‘ اگر کوئی روزہ چھوٹ گیا تو بعد میں قضا کر لینا۔ رمضان میں ہی لیفٹیننٹ عثمان وانا میں زخمی ہوا تو جب ہیلی کاپٹر پر پشاور سی ایم ایچ لارہے تھے تو شمیلہ کو کہا کہ ممی سے کہنا دعا کریں۔ میں نے کہا کہ دُعا میں ضرور کروں گی مگر مجھے نہ بتانا کہ کیا ہوا۔ عثمان تو ماشاء اﷲ ٹھیک ہوگیا اس کے لئے دعا کروانے والا شہید ہوگیا۔ اس دن ہی شرجیل واپس وانا گیا تو روزہ ہیلی کاپٹر میں ہی افطار کیا۔ کہنے لگا کہ بڑا ہی مزہ آیا۔ اسی طرح ایک کیپٹن (شرجیل کا فیس بک کا فرینڈ تھا) وہ شہید ہوا تو مجھے لیپ ٹاپ میں اسکی تصویر دکھائی‘ کہنے لگا یہ شہید ہوگیا ہے۔ میں نے کہا بچے میں ایک کمزوراور نرم دل کی مالک عورت ہوں۔ مجھے نہ دکھایا کرو‘ پھر کوئی بات ہوتی تو شمیلہ کو بتاتا کہ ممی کو نہیں بتانا۔ شاید وہ یہ باتیں کرکے‘ یہ تصویریں دکھا کر ماں کا دل مضبوط کرنا چاہتا تھا یا اُن کے لئے دُعا کروانا چاہتا تھا اور مجھے بھی میرے اﷲ نے دعاؤں پر لگادیا۔ یہ سب کچھ میرے رب کی طرف سے تھا۔ مجھے نارمل سیCooking آتی تھی مگر میرا بیٹا اچھے کھانے کھانے کا بہت شوقین تھا۔ میں کھانا بناتی تو کہتا کہ میری ممی جیسی کوکنگ کسی کی نہیں۔ مجھے تو لگتا ہے میرے پاس صرف ایک ہفتہ رہا ہے (ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک) پہلی دفعہ بھی پشاور سی ایم ایچ میں جب میری گود میں آیا تو سویا ہوا تھا اور آخری دفعہ بھی پشاور سی ایم ایچ سے آیا تو چہرے پر مسکراہٹ سجائے سو رہا تھا۔ اﷲ تعالیٰ میری ملاقات روزِ قیامت میرے بیٹے سے کروائے۔ (آمین) شرجیل کو ہم نے پاسنگ آؤٹ پر گاڑی گفٹ کی تھی۔ ایک دن میں نے کہا کہ مجھے بھی ایک چھوٹی گاڑی چاہئے درس وغیرہ پر جانے کے لئے تو کہنے لگا ممی میں اپنی گاڑی چھوڑ کر جارہا ہوں۔ میں اب اُسی گاڑی پر ہی درس کے لئے جاتی ہوں تاکہ میرے بیٹے کے درجات بلند ہوں اور اﷲ تعالیٰ اس کو اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ ڈاکٹر شمیلہ شاہد (بہن کیپٹن شرجیل شہید) 19مئی2014 کو میرا وہ خواب شرمندہ تعبیر ہو رہا تھا جو میں نے بچپن سے دیکھا تھا یعنی پاک فوج میں شمولیت ۔ اس خواب میں ہمیشہ دوBerrets ہی ہوتی تھیں ایک میری اور ایک میرے ہر دل عزیزبھائی کی۔ اب جب کہ وقت آ گیا تھا تو ادھورا خواب ہی پایہ تکمیل کو پہنچا اور ’’اک شخص سارے شہر کو ویراں کر گیا‘‘کے مصداق تعبیر بہت ویران ہے۔ کیونکہ ہمیشہ کی طرح ایک ہی Berretرہی ہے پہلے بھائی کی تھی اور اب دو سال بعد میری آئی۔ آرمی میں Inductionسے پہلے مجھے پایا کہ وہ الفاظ یاد تھے کہ بیٹا ایکRed-Berret گئی ہے تو دوسری آنی چاہئے۔‘‘ 15مئی کو جب میرا call letter آیا تو پاپا اور بھائی‘ شرجیل شہید کو بتانے بلکہ ان کو مبارک باد دینے ان کے پاس قبرستان گئے اور بعد میں میں بھی گئی۔ کیونکہ یہ ثمران کی رہنمائی اور طبیعت میں ایک بڑے بھائی سے بڑھ کر اپنے چھوٹے بہن بھائی کے لئے پدرانہ شفقت کا نتیجہ تھا کہ آج ہم کامیابی کے اس پہلے زینے پر تھے جس کے بارے میں وہ ہمیشہ فکر مند رہتے۔ اکثر ہمیں سمجھاتے‘ ہماری غلطیاں سدھارتے اور کبھی ڈانٹ ڈپٹ بھی کرتے۔ میری Joiningوالے دن گھر والے ہاسٹل چھوڑنے ساتھ آئے اور بھائی کے بعد ان دو سالوں میں خوشی اور آرام کا جو پل آیا اس میں بھائی ہمیشہ شامل رہتے۔ اب کی بار بھی سب کی آنکھیں نم تھیں۔ پہلے دن تومجھے بس مختلف forms fillکرنے تھے حالانکہ بچپن سے لے کر کالج تک میرے سارے form اکثر بھائی ہی Fillکرتے تھے۔ مگر اب سارا کچھ مجھے خود پر کرنا تھا بلکہ siblings information column میں شرجیل بھائی کے نام اور یونٹ کے ساتھ شہید بھی لکھنا تھا۔ میں عملی زندگی میں قدم رکھ چکی تھی اور سٹوڈنٹ لائف سے ایک دم بہت بڑا فرق لگ رہا تھا۔ اب سب کچھ مجھے خود کرنا تھا۔ کیونکہ ایک مشفق بھائی کی شفقت کا سایہ میرے سر پر نہیں رہا۔ ہر چھوٹے سے چھوٹے کام میں مجھے بھائی کی رہنمائی کی اشد ضرورت ہوتی ہے کیونکہ پہلے بھی ہر کام میں بھائی کا مشورہ ہوتااور ہمیشہ درست اور مخلص مشورہ ہوتا اس کا اندازہ مجھے اب ہواجب بارہا میرا بھائی کو وانافون ملانے کو دل چاہتااور یہاں کے مختلف احوال حتیٰ کہ ڈرل پی ٹی اور فائرنگ کے بارے میں بتانے کو جی چاہتا اور یہ پوچھنے کا بھی کہ آپ لوگ یہ سب کیسے کرتے تھے۔ پی ایم اے میں آج جس لیکچر ہال میں بیٹھی ہوں وہاں سے میری ایک پرانی دوست نے مجھے میسج کر کے بتایا تھا کہ آج ایک سر آئے اور کیپٹن شرجیل کی شہادت کے بارے میں بتا رہے تھے۔ میں بہت فخر محسوس کر رہی تھی اﷲ انہیں بہترین اجر دے ۔ میں سوچ رہی تھی کہ آپ سب ان کی شہادت پر کتنا فخر محسوس کرتے ہوں گے۔ ہم سب کو اپنے بھائی کی زندگی اور ان کی شہادت پر فخر ہے۔ اور اﷲ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ انہیں اس رتبے کے لئے چنا اور ہمیں ان کا خاندان چنا۔ بھائی اپنی کیڈٹ لائف میں ہی صدقہ خیرات کرتے۔ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بھی اپنی ہاؤس جاب کا معاوضہ بھائی کے نام کا ہی صدقہ کرتی اور اب کیڈٹ بن کے بھی ان ہی کے لئے کوشش کرتی ہوں کیونکہ کسی طور بھی ہم اپنے بھائی کا حق نہیں ادا کر سکتے۔ مجھے لوگ کہتے ہیں کہ پیسہ خرچ کرنے کے لئے ہوتا ہے چاہے فنکشن کے لئے مہنگے ڈریسز خرید کر کرو مگر میری ترجیح صرف بھائی ہیں۔ ابھی کچھ دن گزرے ایک محفل میں لوگوں کا ہجوم تھا اور ہر طرف رنگ اور خوشیاں بکھری تھیں مگر جب اندر کی دنیا ویران ہو تو باہر کا کچھ اثر نہیں ہوتا میری ہر خوشی‘ ہر ہنسی‘ ہر اداسی میں بھائی ہمیشہ ساتھ ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ بھائی کی یادوں سے جڑا کوئی نہ کوئی بندہ آس پاس ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے چھوٹے بھائی کو پچھلے سال پی ایم اے جاتے ہوئے میں نے ان الفاظ میں تسلی دی تھی کہ دیکھو شرجیل بھائی نے اپنے 9Div کے کمانڈنٹ تک پی ایم اے بھجوا دیئے ہیں جو بعد میں کوہاٹ سے پی ایم اے پوسٹ ہو گئے۔ اور اب میرے تربیتی ادارے کے کمانڈنٹ بھی بھائی کی طرح کوہاٹین(کیڈٹ کالج کوہاٹ) ہیں۔ اسی طرح ہاؤس جاب کے دوران ایک مریض کو ایم ایچ لے جاتے ہوئے ایمبولنس ڈرائیور جو ساتھ تھا وہ کہتا کہ میں نے شرجیل صاحب کو ریسیو کہا تھا اور کچھ ہفتوں بعد چھوڑنے بھی میں ہی گیا تھا ۔ آج کل کسی کانفرنس میں یا ہسپتال میں جب بھائی کے کورس میٹ نظر آتے ہیں تو یہ سوچ ذہن میں آتی ہے کہ بھائی ہوتے تو اب تک ان کا ہارڈ ایریا ختم ہو چکا ہوتا اور وہ بھی یہاں ہوتے مگر یہ ایک بہت تلخ حقیقت ہے کہ اب وہ کبھی ہمارے درمیان نہیں ہوں گے ۔

بے شک بھائی کی یاد ہر چیز میں سمائی ہوئی ہے۔ پچھلے ہفتے CCDخریدتے ہوئے بھائی یاد آ گئے۔ ہر یونیفارم میں خوب لگتے حتیٰ کہ ان کے جی او سی نے کہا تھا کہ He was a handsome officer مگر CCDتو بنی ہی بھائی کے لئے تھی جس میں ہم نے ان کو صرف تصویروں میں ہی دیکھا وہ بھی شہادت کے بعد۔ ان کی ایک CCDبالکل نئی واپس آ گئی جسے ان کو پہننے کا موقع بھی نہ ملا۔ اور دوسری جو شہادت کے وقت زیب تن تھی۔جسے میں نے آج تک نہیں دیکھا تھا اور چھوٹے بھائی نے بتایا کہ خون لگا ہوا تھا۔ ایک شہید کا پاک لہو ۔

مجھے آرمی میڈیکل کالج سے اکثر واپسی پر Pickکرتے تھے ایک دفعہ جب ہم ساتھ گھر آ رہے تھے تو میں نے مذاق سے پوچھا کہ شادی کب کرنی ہے تو کہنے لگے کہ میں ہارڈ ایریا کاٹ آؤں پھر کرنا میری شادی۔ بس اب ہماری یہی دعا ہے کہ بھائی جنت الفردوس میں ہمیشہ خوش رہیں۔ آمین ! بے شک بھائی کی یاد ہر چیز میں سمائی ہوئی ہے۔ پچھلے ہفتے CCDخریدتے ہوئے بھائی یاد آ گئے۔ ہر یونیفارم میں خوب لگتے حتیٰ کہ ان کے جی او سی نے کہا تھا کہ He was a handsome officer مگر CCDتو بنی ہی بھائی کے لئے تھی جس میں ہم نے ان کو صرف تصویروں میں ہی دیکھا وہ بھی شہادت کے بعد۔ ان کی ایک CCDبالکل نئی واپس آ گئی جسے ان کو پہننے کا موقع بھی نہ ملا۔ اور دوسری جو شہادت کے وقت زیب تن تھی۔جسے میں نے آج تک نہیں دیکھا تھا اور چھوٹے بھائی نے بتایا کہ خون لگا ہوا تھا۔ ایک شہید کا پاک لہو ۔ بھائی نے بہت شوق سے DMSبھی بنوائے تھے۔وہ بھی ہم نے تصویروں میں ہی انہیں پہنے دیکھا ۔ چھوٹے بھائی کی پی ایم اے ٹریننگ کے دوران چودہ اگست کے ایک انٹرویو میں ایک اینکر نے پوچھا کہ بڑے بھائی کی شہادت کے بعد بھی آپ کو فوج میں بھیجتے ہوئے آپ کے گھر والوں کو ڈر نہیں لگا تھا۔ اب تو لوگ میرے فوج میں جانے کے بعد مزید سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے مگر ہمارے حوصلے اور بلند ہو گئے ہیں۔مجھے کئی لوگوں نے فوج میں نہ آنے کا مشورہ بھی دیا تھا بلکہ میرے کئی اساتذہ نے مخلصانہ مشورہ دیا کہ ابھی تم جذباتی ہو‘ مت آؤ۔ مگر میں اس جگہ کوکیسے چھوڑوں جہاں کبھی میرا بھائی چلتا تھا۔ میری پسندیدہ شخصیت اب میرا بھائی ہی ہے اور اسی فوجی ادارے میں اکثر ان کا نام سننے کو مل جاتا ہے کہ آپ کے بھائی بہت اچھے انسان ‘ خوبصورت‘ ہنس مکھ شخص اور ایک قابل ڈاکٹر تھے۔ 14ستمبر کو پاسنگ آؤٹ کے لئے ایبٹ آباد روانگی ہے اورمہما نوں کی فہرست میں میرے سب سے اہم مہمان کا نام ہی شامل نہیں ہو گا۔ چھوٹا بھائی اپنی پاسنگ آؤٹ کے وقت کہتا تھا کہ وہ شرجیل بھائی کے بغیر بالکل بھی مزہ نہیںآئے گا۔ اور اب اس چیز کا مجھے بھی شدت سے احساس ہو رہا ہے۔ اور مجھے پتا ہے کہ پاسنگ آؤٹ والا دن ہم سب گھر والوں کے لئے خوشی‘ فخر اور ایک بہت بڑے خلا اور کمی کے درد کا امتزاج ہو گا اور مسکراتے چہروں اور نم آنکھوں کے ساتھ ایک لمحہ اور گزر جائے گا۔ کیونکہ دو بہت اہم لوگ ایک میرے بھائی شرجیل اور دوسری میری نانی اماں (جوبھائی کے بعد چھ مہینے کے اندر اندر اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ اﷲ ان دونوں کو جنت الفردوس میں خوش رکھے۔ آمین) ان دونوں کو مجھے یونیفارم ساڑھی میں دیکھنے کا بہت شوق تھاوہ اب مجھے یونیفارم میں کبھی نہیں دیکھ سکیں گے۔ میرا اور میرے چھوٹے بھائی کا ایک خواب اور بھی تھا کہ بڑے بھائی کے ساتھ یونیفارم میں ہماری ایک تو تصویر ہوتی مگر یہ خواب بھی کبھی پورا نہیں ہوگا۔ اب ہمیں باقی ماندہ زندگی اپنے بہت پیارے بھائی کی یادوں کے سہارے بھی بسر کرنا ہوگی اور یہی ایک تلخ حقیقت ہے اورقدرت کا فیصلہ ہے جس پر سرِ تسلیم خم کرنا ہی اصل بندگی ہے۔

رہا ہے۔ اور مجھے پتا ہے کہ پاسنگ آؤٹ والا دن ہم سب گھر والوں کے لئے خوشی‘ فخر اور ایک بہت بڑے خلا اور کمی کے درد کا امتزاج ہو گا اور مسکراتے چہروں اور نم آنکھوں کے ساتھ ایک لمحہ اور گزر جائے گا۔ کیونکہ دو بہت اہم لوگ ایک میرے بھائی شرجیل اور دوسری میری نانی اماں (جوبھائی کے بعد چھ مہینے کے اندر اندر اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ اﷲ ان دونوں کو جنت الفردوس میں خوش رکھے۔ آمین) ان دونوں کو مجھے یونیفارم ساڑھی میں دیکھنے کا بہت شوق تھاوہ اب مجھے یونیفارم میں کبھی نہیں دیکھ سکیں گے۔ میرا اور میرے چھوٹے بھائی کا ایک خواب اور بھی تھا کہ بڑے بھائی کے ساتھ یونیفارم میں ہماری ایک تو تصویر ہوتی مگر یہ خواب بھی کبھی پورا نہیں ہوگا۔ اب ہمیں باقی ماندہ زندگی اپنے بہت پیارے بھائی کی یادوں کے سہارے بھی بسر کرنا ہوگی اور یہی ایک تلخ حقیقت ہے اورقدرت کا فیصلہ ہے جس پر سرِ تسلیم خم کرنا ہی اصل بندگی ہے۔

یہ تحریر 25مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP