ہمارے غازی وشہداء

وطن کے سپوت

نائب صوبیدار اظہر علی شہید تمغۂ بسالت کے حوالے سے  صوبیدار محمد یٰسین سروہی کی تحریر
اظہر علی نے19 اکتوبر1977کو بہاولپور کی تحصیل یزمان کے ایک نواحی گائوں میں آنکھ کھولی ۔ آپ بچپن ہی سے ہونہار تھے۔ میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول یزمان سے کیا ۔میٹرک کرنے کے بعد جذبہ حب الوطنی آپ کو پاک آرمی میں لے آیا۔ آرمی میں بھرتی کے مراحل مکمل ہونے کے بعد ابتدائی عسکری تربیت کے لئے مردان سنٹر بھیجا گیا۔ دوران تربیت آپ نے اتھلیٹک اور باکسنگ کے مقابلوں میں اپنے حریفوں کو چت کیا اور یوں اپنے سٹاف اور کورس فیلوز کے دلوں میں گھر کرلیا۔تربیت کی تکمیل پر آپ کی خدمات9 پنجاب رجمنٹ کے سپرد کر دی گئیں ۔

جب آپ نے یونٹ میں شمولیت اختیار کی تو 9پنجاب رجمنٹ بہاولپور کینٹ میںتعینات تھی۔ آپ کو الفا کمپنی کی ون پلاٹون میں پوسٹ کیا گیا۔ اس وقت راقم الحروف ون پلاٹون کا پلاٹون حوالدار تھا۔ روز اول سے ہی اظہر علی ایک ایماندار ، وقت کا پابند ، سچا اور صاف ستھری عادات کا حامل نوجوان تھا۔ اظہر علی میں محنت اور اپنے کام سے کام رکھنے کی اعلیٰ صفات موجود تھیں ۔وہ میرے ساتھ اسالٹ کورس ٹیم کا بہترین فرد رہا تھا، مجھے اچھی طرح یاد ہے میری اسالٹ کورس کی ڈیٹیل چار ارکان پر مشتمل تھی جس میں کیپٹن فرحت حسیب حیدر(شہید ستارہ جرأت)، اظہرعلی(شہید تمغہ بسالت) اورحوالدار مثل خان شامل تھے۔ اس مختصر سی خوش قسمت ٹیم کے حصے میں دو جنگی اعزازآئے ۔ اسی سال سرمائی مشقوں کے دوران اظہرعلی نے انتہائی جانفشانی اور محنت سے کام کیا ۔سمت رانی کے مقابلوں میں یونٹ نے اپنے گیریژن کی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کی۔ بعد ازاں قومی باکسر صوبیدار خالد محمود کی عقابی نظر ان پر پڑی تو انہوں نے اسے اپنی ٹیم میں لے لیا ۔ اور اس نوجوان باکسر نے پہلے سال ہی انٹر کورز مقابلوں کے فائنل راونڈ میں اپنی ہی یونٹ کے قومی باکسر یونس خان جیسے سخت حریف کو ناکوں چنے چبوائے، اور یوں باکسنگ میں بھی  اپنی دھاک بٹھا دی۔آٹھ سال تک آپ یونٹ ، بریگیڈ ، ڈویژن اور کور باکسنگ ٹیم کے ممبر رہے ۔ کیپٹن نیّر نصیر (اب میجر جنرل نیّر نصیر)کی قیادت میں آپ نے اتھلیٹک مقابلوں میں یونٹ کا نام روشن کیا اور کراس کنٹری میں پہلا نمبر حاصل کیا ۔ کراس کنٹری کے علاوہ پانچ کلومیٹر دوڑ میں بھی کور لیول تک ان کا کوئی ثانی نہیں تھا ۔ اور ہر سال کراس کنٹری اور پانچ میل کی پہلی پوزیشن سپاہی اظہر کے نام ہوتی تھی۔ اسی دوران آپ کو پی ٹی کورس کے لئے بھیجا گیا تو آپ نے پی ٹی کورس میں اپنے ساتھیوں کو پچھاڑکر پوزیشن اپنے نام کر لی۔پی ٹی کورس نے آپ کی پھرتی کو چارچاند لگا دیئے۔ان متعدد کامیابیوں نے سپاہی اظہر علی کے اعتماد میں اضافہ کیا۔ اسی دوران آپ کو لانس نائیک کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ اور کچھ عرصے بعد نائیک کے عہدے پر ترقی مل گئی ۔
ایک بہترین کھلاڑی کے ساتھ ساتھ آپ ایک پیشہ ور فوجی بھی تھے۔ویپن کورس انفنٹری سکول سے امتیازی حیثیت سے پاس کیااور جے ایل ٹی کے لئے جے ایل اے شنکیاری گئے۔ دوران کورس اپنی خدا داد صلاحیتوں کی داد وصول کی اور ساتھ ہی آپ نے بکتر شکن کورس میں کامیابی حاصل کی۔ آپ نے یونٹ کے ساتھ گلیشیئر جیسی خطرناک وادی میں خدمات سرانجام دیں ۔ آپریشن المیزان ، ضرب عضب کے علاوہ خضدار کے پر خطر خطے میں تعمیراتی آپریشن کا حصہ بھی رہے۔ اس کے علاوہ موج گڑھ، رانا بانا اور شہیداں والا ٹوبے کے سرحدی علاقے میں دفاعی خندقوں کی تعمیر میں آپ نے حصہ لیا۔اسی دوران یونٹ بہاولپور سے کوہاٹ کے قریب سرحدی قصبے ٹل(پاراچنار کے قریب) آگئی تو یہاں پر اے پی ایس ٹل کے قیام کی ذمہ داری 9پنجاب رجمنٹ کو سونپی گئی ۔ نوجوان این سی او اظہرعلی کو فزیکل اور کھیلوں کے شعبے کی دیکھ بھال کا کام ملا، جس کو آپ نے بطریق احسن سرانجام دیا۔بعد ازاں یونٹ گوجرانوالہ چلی گئی تو یہاں بھی آپ کی اعلیٰ کارکردگی کاسلسلہ جاری رہا ۔
پوسٹنگ فوج کا ایک خوبصورت پہلو ہے۔  2009میں آپ کی خدمات ملٹری کالج جہلم سرائے عالمگیر کے سپرد کر دی گئیں ۔یہاں آپ نے بحیثیت سینیئرپی ٹی انسٹرکٹر کے فرائض سرانجام دیئے بعد ازا ں آپ کو کالج کا حوالدار میجر بنا دیا گیا ۔کالج میں آپ کی جہاندیدہ شخصیت نے کیڈٹس پر اپنے فن سے عشق ، کام سے لگا ئواور مہارت کاسحر طاری کئے رکھا۔آپ کا ہر طالب علم اپنے استاد سے دل و جان سے محبت کرتا تھا ۔ کچھ عرصہ بعد ملٹری کالج سے واپس یونٹ میں پوسٹ ہوگئے اور اسی دوران آپ کو نائب صوبیدار کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔
جب آپ کی یونٹ پاک افغان بارڈر کی دیکھ بھال کے لئے منتخب ہوئی تو یونٹ کووادی تیراہ کے انتہائی دشوار گزار اور اہم خطے میں خدمات کے لئے بھیجا گیا ۔اس علاقے میں شدت پسندوں نے اپنی کمین گاہیں بنا رکھی تھیں۔ دشمن جنگلوں میں جابجا چھپا ہوا تھا ۔ سرحدی علاقہ ہونے کی وجہ سے جب دشمن پر دبائو پڑتا تو وہ افغانستان میں چلے جاتے اور وہاں سے مسلح ہو کر پھر مملکت خداداد کا امن وامان تباہ کرنے کے لئے ادھر کا رخ کرتے ۔ یہ دہشت گرد مقامی لوگوں کو یرغمال بناکر اپنے ساتھ ملا لیتے تھے ۔ ان کی چیرہ دستیوں سے حکومتی ادارے محفوظ تھے نہ ہی مقامی آبادی۔دشمن کی حرکت کو دیکھنے اور روکنے کے لئے حکومت وقت نے اس علاقے میں فوج متعین کردی اور پوری صورتحال کو دیکھنے کے لئے احکامات جاری ہوئے ۔ پٹرولنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا اور یوں شدت پسندوں کی حرکت کو کنٹرول کیا جانے لگا۔ علاقے میں حکومت کی رٹ قائم ہونے لگی جس نے دشمن کو سیخ پا کردیا اوردشمن نے سرحد کے پار مورچہ بندیاں شروع کردیں جہاں سے وہ فائر کرکے تباہی پھیلانے لگے۔ دشمن کی دہشت گردی کا منہ توڑ جواب دینا ضروری تھا۔قومی اداروں نے وطنِ عزیز کی نگرانی کے لئے گشت کا سلسلہ سخت کردیا۔ ستمبر کے آخری روز اسی محاذ پر ہمارے بہادر سپاہی نے دشمنوں کے ساتھ نبردآزما ہوکر کئی دہشت گردوں کوجہنم واصل کیا۔ دشمن اس کارروائی سے شدید غصے میں تھا ۔دشمن کی تمام پلاننگ خاک میں مل رہی تھی۔



3اکتوبر2017  کو یونٹ کی طرف سے متعین دستہ اپنے معمول کی گشت پر تھا ۔ دشمن جھاڑیوں میں چھپا ہوا تھا ۔ حفاظتی دستے کو اپنی طرف آتا دیکھ کر دشمن واپس سرحد پار اپنے مورچوں میں چلا گیا اور بھاگتے دشمن کا پیچھا کرنے اور ان کو اپنی سرحد سے نکالنے کے لئے نائب صوبیدار اظہر علی اپنی پٹرول پارٹی کے ساتھ آگے بڑھے ۔ یہ پٹرول پارٹی دشمن کاکھوج لگانے کے لئے پر خطر علاقے میں داخل ہوگئی ۔بھاگتے دشمن نے دفاعی پٹرول پارٹی پر خود کار اسلحہ کا فائر شروع کردیااسی دوران دشمن کی ایک گولی اظہر علی کی پیشانی کو چیر کر پیچھے آتے ہوئے انجینئر حوالدار کے جسم میں جا گھسی۔ انجینئر حوالدار کو فوراً سی ایم ایچ پہنچایاگیا اور کامیاب سرجری کے بعد ان کی حالت خطرے سے باہر ہوگئی ۔ مگر یہ گولی لگتے ہی نائب صوبیدار اظہر علی اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچ گئے۔ اور یوںوطن کا ایک اور بیٹا وطن پر نثار ہوگیا۔ 
نائب صوبیدار اظہر علی نے جس دلیری، بے باکی اور جرأت مندی کا ثبوت دیتے ہوئے وطن کی آبرو پر اپنی جان نچھاور کی وہ قابل ستائش ہے اور رہے گی۔آپ نے وطن کے دفاع کی خاطرشدید موسمی حالات میں انتہائی جانفشانی سے نہ صرف کام کیا بلکہ دشمن کو سخت نقصان پہنچایا ، اس معرکے میں آپ اور آپ کے تمام ساتھیوں نے اس خطے میں موجود دشمنان پاکستان کو مار بھگانے میں اہم کردار ادا کیا ۔آپ نے بہادری، جرأت اور بے خوفی کی وہ مثال قائم کی کہ جھپٹ کر پلٹنا اور پلٹ کر جھپٹنا صفاتی اعتبار سے آپ کی پہچان بن گیا آپ اپنے مٹھی بھر سپاہیوں کے ساتھ بہادری سے لڑے ۔
نائب صوبیدار اظہر علی کا تعلق بہاولپور کی تحصیل منڈی یزمان کی مردم خیز مٹی سے ہے،یہاں کے بیشتر سپوت فوج میں شامل ہیں اور ان سپوتوں کا پاک وطن پر اپنی جان نچھاور کرنا خاصہ رہا ہے۔ اس مٹی کے سپوتوں نے نہ صرف پاک وطن پر اٹھنے والے ہر ہاتھ کو کاٹا ہے بلکہ بڑے بڑے سور مائوں کا فخر بھی توڑا ہے۔آپ اپنے گائوں کے قبرستان میں محوِ استراحت ہیں۔ مقامی لوگوں نے اپنے قابل فخر بیٹے کی قربانی کو دل کھول کر خراج تحسین پیش کیا اور اپنے سپوت کو ایک بہت بڑی تعداد نے آخری سلام پیش کیا ۔
راقم الحروف کا تعلق نائب صوبیدار اظہر علی شہید کے ساتھ بھائیوں جیسا تھا وہ میری پلاٹون کا ایک فرمانبردار اور جفاکش سپاہی تھا۔ کیڈٹ کالج سرائے عالمگیر میں سروس کے دوران ان کی کارکردگی انتہائی اعلیٰ رہی۔ وہ ننھے کیڈٹس کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتا تھا۔ میرا بیٹا بھی ان کا سٹوڈنٹ رہا ہے۔ کمانڈنٹ ملٹری کالج بھی اظہر علی کی نیک نیتی ،خلوص اوراعلیٰ کارکردگی کے معترف رہے اور اُنہی کی رپورٹ پر آپ کوآرمی میں جونیئر کمیشن دیا گیا۔قصہ مختصر نائب صوبیدار اظہرعلی شہید تمغۂ بسالت ایک سچے اور محب وطن سپاہی تھے۔ مجھے ان کی اعلیٰ کارکردگی پر فخر ہے۔
بعد از شہادت نائب صوبیدار اظہر علی شہید کی جرأت، بہادری، فرض شناسی اورجذبہ حب الوطنی کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے آپ کو تمغۂ بسالت سے نوازا۔ اللہ پاک شہید کے درجات بلند فرمائے۔ آمین!

یہ تحریر 47مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP