متفرقات

وطن کے سجیلے جوانوں کا جذبہ خدمت

یہ قانونِ فطرت ہے کہ جب تک ہماری زندگی کی نبض اپنی نارمل رفتار سے چل رہی ہوتی ہے تو ہم مصروفیات میں گم زندگی کے ساتھ چل رہے ہوتے ہیں اور مختلف شعبوں کے بارے میں محدود نظریات رکھتے ہیں۔اور جب ربِ کائنات نبضِ زندگی کو تھوڑا سا مشکل کر دیتے ہیں تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں۔ مگر وہ اَرحمَ الرّٰحمین اس بیماری یا پریشانی کے بدلے ہمیں زندگی کے نئے حقائق سے روشناس کراتا ہے اور نئے لوگوں سے ملواتا ہے۔ اور ہم ان لوگوں کی خدمات کو دیکھتے ہوئے ربِ جلیل کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں کتنی نعمتوں سے نوازا ہے اور کتنے لوگ دن رات اپنی زندگی مشکل بنا کر ہماری بہتری کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اپنی زندگی کا ایسا ہی ایک تجربہ بیان کرنا چاہتی ہوں۔


ہمارے وطن کے سجیلے جوان ہماری سرحدوں کے محافظ وردی پہننے کے بعد اپنے ملک سے کئے گئے وعدے کو ایفا کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کبھی سیا چین کی بر ف پوش چوٹیوں پر،کبھی تھر کے لق ودق صحراؤں اور ریگستانوں میں،کبھی سنگلاخ پہاڑوں کی گھا ٹیوں میں،کبھی سمندروں اور کبھی فضاؤں اور کبھی آگ، گو لیوں، توپوں کے سا ئے میں گزرتی ہے اور اب تو ملک کے اندر بھی کو ئی نا گہا نی آفت، سیلاب، زلزلہ ہو یا دہشت گردی، تما م قو م کی نظریں افواج پاکستان کی طرف مدد کو اٹھتی ہیں۔


جہاں پیارے فوجی اپنے فرا ئض منصبی نبھاتے ہو ئے مو ت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جان تک کی بازی لگادیتے ہیں وہاں دوسری طرف اُن کے اہل خانہ بھی زندگی کے تما م نشیب و فراز میں بر ا بر کے شریک رہتے ہیں۔ ہم سب ایک ہی طرح کی کمیونٹی کی طرز کی زندگی گزارتے ہیں۔ہما ری خو شیاں، ہمارے غم، دکھ سکھ، مصائب سب سا نجھے ہو تے ہیں۔ہر وقت ایک دوسرے کے مد دگار اور ڈھارس بندھا تے زندگی گزرتی ہے۔ مگر پاک افواج کا کما ل ہے کہ افتادہ ترین چھاؤنی میں بھی وہ اپنے فو جیوں کے خاندانوں کو بے آسرا نہیں چھوڑتیں۔ زندگی کی تمام بنیادی سہولیات ان کے لواحقین کومیسر ہو تی ہیں تا کہ ہمارے جوان ان غموں اور فکروں سے آزاد ہو کر یکسوئی کے سا تھ اپنا فر ض منصبی ادا کر سکیں۔ علاج کے لئے اسلام آباد میں رہنے والوں کے لئے پی این ایس حفیظ اورپی اے ایف کے دو بہترین ہسپتال ان فو جیوں کے لئے مخصو ص ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے کارڈ پر ملک کے کسی حصے میں واقع سی ایم ایچ میں آپ علاج کر واسکتے ہیں۔ اسی طرح ملک کے ہر حصے میں جہاں سی ایم ایچ موجود ہیں وہاں آپ اپنا علاج پوری تشفّی سے کرا سکتے ہیں۔
اس بارے میں اپنا ذاتی تجربہ بتانا فرض سمجھتی ہوں اور کہناچاہتی ہوں کہ کس طرح ایمانداری، خلوصِ نیت، ترقی کا جذبہ اور آگے بڑھنے کا عزم شا ملِ حال ہو توادارے بنتے ہیں اور بڑھتے ہیں۔ گزشتہ چار پانچ سال سے میں جنرل افتخار صاحب سے، جوآج کل
Director General Medicine,
اور
Advisor Oncology
ہیں، کے زیر علاج ہوں ۔ نہا یت نیک شفیق، شائستہ اور اپنے شعبے سے مخلص شخصیت کے حامل ہیں۔ اتنے عرصے میں ایک مر یض اور ڈاکٹر کا بہترین تعلق قا ئم ہو چکا ہوتا۔ ہر ماہ جا کر یو ں لگتا ہے جیسے میں اپنے خاندان میں آگئی ہوں۔ سب خندہ پیشا نی سے ملتے ہیں۔ ہر فرد کمپیوٹر کی طر ح اپنا اپنا فر ض ادا کر رہا ہو تا ہے۔ صاف ستھرا ما حول، لیبار ٹری کی سہولت جہاں فوراً رپورٹ تیار ہو جاتی ہے۔ہنستی مسکراتی نرسیں، ان سب انتظا ما ت کا سہرا اُن لوگوں کو جا تا ہے جو اس شعبے کی سر پر ستی کر تے ہیں اور اُن کے ہا تھ میں اس کو چلانے کا نظام ہے اور وہ جذبہ ہے کہ اس کو بہتر سے بہترین بنا ئیں۔ میری بیماری کی نو عیت ایسی ہے کہ اس میں کئی اُتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ جنر ل صاحب کی مصروفیات نئی ذمہ داریوں کی وجہ سے اور بڑھ گئی ہیں۔ اُن کی فراخ دلی کا ثبوت یہ ہے کہ وہ اپنے پرانے مریضوں کو شام کوبھی بلا کر دیکھ لیتے ہیں۔ چند روز قبل میری حالت اچانک خراب ہوگئی۔ جنرل صاحب کو فون کیا کہافوراً آ جاؤ۔ میری حالت کے پیش نظر فوراً داخلے کا مشورہ دیا۔ داخلے کے نام سے دل بیٹھ گیا۔ جا نے کیا دُرگت بنے گی۔ مگر انکار کی کو ئی گنجائش نہ تھی۔ نہا یت بے دلی کے ساتھ فیملی وارڈ کی طرف روانہ ہو ئی۔ میر ی حالت کے پیش نظر مجھے الگ کمرے میں شفٹ کیا گیا۔ دس منٹ میں کاغذی کارروائی کے بعد ڈاکٹروں، نر سوں اور اٹینڈ نٹس کی ٹیم میر ے اِردگرد جمع ہوگئی۔ مانیٹر لگ گیا۔

 

نیبولائیزنگ شروع ہو گئی ٹیکے لگ گئے لیبارٹری ٹیسٹ کے لئے بلڈ لے لیا گیا۔ آدھے پونے گھنٹے بعد میں پُر سکون ہو گئی اور گردوپیش کا جائزہ لیا۔ کمرہ نہایت صاف چمکتی ٹا ئلیں، بسترصاف ستھرا، سامنے ٹی وی ، فریج، اے سی ہر چیز نفیس، غسل خانہ صاف ستھرا، اتنی صفا ئی، آرام و سکون اور جس طریقے سے ہاتھوں ہا تھ میر ا علاج شروع ہوا نہا یت قا بل تعریف ہے۔ ہر کام ایک منظم طریقے سے خود بخود ہو رہا ہے اور نہا یت احسن طر یقہ سے۔۔۔ میں دس روز رہی اور فخریہ کہتی ہو ں کہ وارڈ انچارج صاحبہ اور بر یگیڈئیر رخسانہ صا حبہ اور تمام عملہ، چھوٹے سے لے کر بڑے تک، نہا یت خلوص، محنت اور جذبے کے سا تھ وارڈ کو چلا رہے ہیں۔ صبح 8 بجے ڈاکٹرز راؤنڈ پر آتے ہیں تو تما م رپو ٹیں سامنے ہوتی ہیں۔ مریضوں کو 
AFIC Radiology
وغیرہ لانے لے جا نے کا بہترین انتظام،متعلقہ سٹاف مدد گار اور راہنما بھی اور قا بل ذکر بات یہ کہ مر یض کی حالت کو تر جیح دی جا تی ہے نہ کہ کسی کے عہدے کو۔میڈیکل وارڈ کا عملہ ہر جگہ بہت مصروف ہوتا ہے۔ یہ اس عملے کی محنت اور انتظام کا کما ل ہے کہ انہوں نے ایک اعلیٰ معیار قائم کر رکھا ہے۔ یہ اتنا آسان کا م نہیں۔ 
سی ایم ایچ راولپنڈی با وجود بہت زیادہ رش کے نہایت خو بصورت، مضبوط اور ماڈرن ہسپتال کے طرز پر الگ الگ بلاک تعمیر کر رہا ہے۔ اس کے سا تھ سا تھ انہوں نے ہر شعبے کو جدید طریقے پر استوار کر رکھا ہے۔ سٹاف، مشینیں، لیبارٹریاں سب قا بل اعتما د اور جد ید ہیں ، یہ سب فو جیو ں کی اعلیٰ کارکردگی، خلوصِ نیت، آگے بڑھنے کا جذبہ اور ملک سے بے لوث محبت کا منہ بو لتا ثبوت ہے۔ نہ با قی ہسپتالوں کی طر ح جن کی تما م ضروری مشینیں خراب پڑی ہیں نہ لیبا رٹریوں کے لئے باہر ٹیسٹ بھیجے جاتے ہیں۔ہر جگہ ٹوکن سٹم ہے۔ نہ دھکم پیل، نہ سفارش۔ ہر انسا ن اپنے ٹو کن پر چلا جا تا ہے ، سوا ئے ایمر جنسی کے ۔کو ئی شک نہیں اس وقت


سی ایم ایچ راولپنڈی سے اچھا پا کستان کا کو ئی اور ہسپتال نہیں اور یہ جن کے ہا تھوں میں ہے وہ ایمانداری اور خلوص نیت سے اس کو آگے سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ 
میں پاک فوج کے اس جذبے، ولولے اور وطن سے محبت کے عملی اظہار کو تہہ دل سے خراج تحسین پیش کرتی ہوں اور انہیں سیلوٹ کرتی ہوں۔ 
پاک فوج زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد

یہ تحریر 40مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP