متفرقات

وطن کے دفاع میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت

ہزاروں برس سے آدمی اپنے گھر، اپنے قبیلے اور اپنے ملک کا دفاع کرتا آیا ہے اور ہزاروں برس ہی سے کمزور اقوام غلامی اور ذلّت گوارا کرتی آئی ہیں۔ پہلے پہل یہ صرف افرادی قوّت ، دلیری اور کسی گروہ کی جسمانی برتری جیسے عناصر تھے ، جو اس ضمن میں فیصلہ کن ہوا کرتے۔ گزشتہ صدیوں میں دوسرے شعبوں کی طرح دفاعی میدان میں بھی سائنسی ترقی نے صورتِ حال بتدریج بدل کے رکھ دی ہے۔ اب سائنس اورٹیکنالوجی کے میدان میں بالاتر اقوام اس میدان میں کمزور ریاستوں کو کچل کے رکھ دیا کرتی ہیں ۔ خود ہم پاکستانیوں کا 67برس کا تجربہ اس کا گواہ ہے۔ 14اگست 1947ء کو اپنے قیام کے دن ہی سے مشرق میں ہمارا واسطہ بھارت جیسے جارح دشمن سے ہے ۔برّصغیر سے انگریزوں کی واپسی کے بعد انڈین نیشنل کانگرس کی قیادت میں ہندو اکثریت تقسیم کی بجائے ایک متحدہ ہندوستان چاہتی تھی ۔ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی مسلم لیگ نے اس خواب کو پایہ ء تکمیل تک نہ پہنچنے دیا۔ پاکستان بن گیا مگر یہ شکستِ فاش دائیں بازو کے ہندو انتہا پسندوں کے دل میں ایک نہ ختم ہونے والی نفرت میں ڈھل گئی۔ دو بڑی جنگیں اور آخر بنگلہ دیش کا قیام اسی کا نتیجہ ہے۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان میں جب مرکز مخالف قوّتیں غالب آئیں تو اس صورتِ حال کا انڈیا نے پورا فائدہ اٹھایا۔ پاکستان دولخت کر دیا گیا۔ کیا ایسے حریف سے اس وقت نرمی برتنے کی توقع کی جا سکتی ہے ، جب ہم شدید اندرونی و بیرونی مشکلات کا شکار ہوں ؟ یقیناًایسا ممکن نہیں لیکن پچھلے پندرہ برس میں کارگل جنگ، انڈین پارلیمنٹ اور ممبئی حملوں جیسے واقعات پیش آئے توزبانی بیان بازی سے قطع نظر، بھارت ہم پہ حملہ آور نہ ہوا۔تیرہ برس سے ہم ایک بدترین اندرونی جنگ سے دوچار ہیں۔قریب پانچ ہزار سکیورٹی اہلکاروں سمیت پچاس ہزار افراد شہید اور 100بلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا۔ عالمی طاقت امریکہ کی زیرِ قیادت مغرب کا طاقتور ترین عسکری اتحاد \"نیٹو \"ہمارے مغرب میں قیام پذیر ہے۔اس دوران 2011ء میں سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملے میں دو درجن پاکستانی فوجیوں کی شہادت اور ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت جیسے واقعات سامنے آتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ 2009ء کے سوات اور جنوبی وزیرستان آپریشن کے بعد ہمارے جوان اب شمالی وزیرستان کو دہشت گردوں کے قبضے سے چھڑانے میں مصروف ہیں۔ مشرق میں بھارت کی بجائے ، ہماری زیادہ تر توجہ شمال مغربی علاقے پر مرکوز ہے۔ اس وقت جب ہم اپنی تاریخ کی بدترین گوریلا جنگ سے دوچار ہیں ، پاکستان مخالف جنگجوؤں سے خفیہ مراسم اور تعاون سے قطع نظر، بھارت پاکستان پہ حملہ آور ہونے کا خواب بھی دیکھ نہیں سکا۔ آخر کیوں ؟ بھارتی روّیے میں تبدیلی کی وجہ ہمارے ایٹمی ہتھیار ہیں۔ گوکہ پاکستان کے 7بلین ڈالر کے مقابلے میں وہ 47بلین ڈالر کا کثیر دفاعی بجٹ رکھتاہے۔ گوکہ آبادی، رقبے اور افواج کے لحاظ سے وہ ہم سے کئی گنا بڑا ہے لیکن بالاخر ایٹمی ہتھیاروں کی صورت میں یہ سائنس اور ٹیکنالوجی ہے ، جس نے خطے میں طاقت اور خوف کا توازن برابر کر ڈالا ہے۔ دشمن جانتاہے کہ جارحیت کی صورت میں اس کے بڑے شہر پلک جھپکنے میں تباہ و برباد ہو سکتے ہیں۔ ایٹمی ہتھیار بے حد خطرناک ہیں۔ 1945ء میں انہی نے دوسری عالمی جنگ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو فتح دلائی۔ بیسویں صدی کے نوبل انعام یافتہ طبیعات دان البرٹ آئن سٹائن نے سب سے پہلے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ مادہ‘ توانائی اور توانائی مادے میں بدل سکتی ہے۔ آغازِ کائنات میں ہر طرف صرف توانائی تھی۔ بتدریج یہ مادے میں بدلتی چلی گئی۔ ایک ایٹمی دھماکے دوران اس کے بالکل برعکس ہوتاہے۔ اس دوران مادہ توانائی میں بدلتا اور یہ توانائی شہروں کے شہر اجاڑ دیتی ہے لیکن دفاعی ٹیکنالوجی صرف جوہری ہتھیاروں تک محدود نہیں‘ روایتی جنگ میں برتری دلانے والے ہتھیار دوسرے ہیں۔ حالیہ دنوں میں حماس اور اسرائیل کی جنگ پہ غور کیجیے۔اسرائیلی طیارے بلندیوں سے بم پھینکتے اور ایک ہی وار میں درجنوں فلسطینیوں کو شہید کر ڈالتے ہیں۔ حماس کے جنگجو صرف راکٹ برسانے کی سکت رکھتے ہیں مگر اسرائیل آئرن ڈوم نامی ائیر ڈیفنس سسٹم سے لیس ہے۔ کسی بھی حملے کی صورت میں ایک ریڈار راکٹ کی پوزیشن کا تعین کرتا ہے۔ پھر آئرن ڈوم ایک گائیڈڈ میزائل فائر کرتا ہے جو ہوا ہی میں حماس کے پھینکے گئے راکٹ سے جا ٹکراتا ہے۔ اندازہ اس سے لگائیے کہ جولائی کے خون آشام حملوں میں 1200 کے قریب فلسطینی شہید جب کہ جوابی حملوں میں صرف پچاس صیہونی فوجی ہلاک ہوئے۔ وہ بھی اس وقت، جب زمینی حملوں کے لئے وہ غزہ کی پٹی میں داخل ہوئے ورنہ وہ مکمل طور پر محفوظ رہتے۔ اسرائیلی ہلاکتوں میں حیران کن حد تک کمی لانے پر آئرن ڈوم کو دنیا کی سب سے شاندار میزائل شیلڈ قرار دیا جارہا ہے۔10جولائی کو ڈسکوری نیوز (Discovery News)کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت تک حماس نے قریب 200راکٹ فائر کیے تھے مگر کوئی قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ قارئینِ کرام، آئرن ڈوم سائنس اور ٹیکنالوجی میں برتری کے سوا اور کیا ہے ؟ اقوامِ عالم پر سپر پاور امریکہ کی برتری بہت حد تک ٹیکنالوجی ہی کے مرہونِ منّت ہے۔اب وہ میدانِ جنگ سے ہزاروں میل دور بیٹھ کر ڈرون طیاروں سے دشمن پہ حملہ آور ہوتا ہے۔ عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ڈرون کے بعد اب ایسے ٹینک نما روبوٹ تیار کرنے پہ کام جاری ہے ، جو محاذِ جنگ پہ اپنے راستے کے تعین سے لے کر ہدف کا نشانہ لینے اور فائر کرنے کا فیصلہ بھی خود ہی کرے گا۔ ’’Qinetiq North America‘‘نامی ادارہ اس سلسلے میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ وہ ایک میٹر لمبا کھلونا ٹینک تیار کر چکا ہے ، جسے سپاہی آٹھ سو میٹر کے فاصلے سے کنٹرول کرسکتے ہیں۔ انہیں اب خود خطرے میں کودنے کی ضرورت نہیں۔بی بی سی ہی کے مطابق 1950ء میں سرد جنگ کے دوران ان سنسنی خیز خبروں نے پورے ناروے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھاکہ آسمان میں انتہائی بلندی پر پراسرار روشنیاں دکھائی دیتی ہیں۔ دراصل یہ امریکی جاسوس طیارے یو ٹو(U-2)تھے جو زیادہ سے زیادہ چالیس ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کرنے والے عام دفاعی طیاروں کے برعکس ساٹھ ہزار فٹ پر محوِ پرواز تھے۔ آج میدانِ جنگ میں اپنا بازو گنوانے والے امریکی فوجی کو یہ اطمینان ہوتاہے کہ اسے ’’ڈیکا آرم‘‘نامی وہ مصنوعی عضو لگا دیا جائے گا ، جو جسم کے پٹھوں اور نروز(Nerves)سے منسلک ہو جانے کے بعد اصلی بازو کی طرح کام کرے گا۔ وہ اس سے دروازہ کھولنے سے لے کر اپنے کپڑوں کی زپ بند کرنے تک کا کام لے سکے گا۔کل تک دورانِ جنگ ریڑھ کی ہڈی پہ خطرناک چوٹ عمر بھر کی معذوری کا باعث بنتی تھی۔ تھری ڈی بائیو پرنٹر (3 D Bio Printer)کی بدولت چین کے شہر شنگھائی میں 14سالہ زانگ کے لئے ریڑھ کی نئی ہڈی تیار کی گئی ، جسے آپریشن کے ذریعے اس کی پہلے سے موجود ناقص اور ٹیڑھی ہڈی سے بدل دیا گیا۔ زانگ اب چلنے پھرنے کے قابل ہے۔ معروف سائنسدان ڈاکٹر عطاء الرحمٰن کے مطابق چینی سائنسدان اس ٹیکنالوجی کی بدولت کان، جگر اور گردہ تیار کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ اس سلسلے میں University Hangzhou Dianzi کے محققین نے اہم کردار ادا کیا۔ افغانستان ، عراق اور لیبیا، اسلامی ممالک کیوں بیرونی جارحیت سے خود کو بچانے میں ناکام رہے ؟ دفاعی ٹیکنالوجی ، خصوصاً فضائیہ کا کمتر ہونا اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔دوسری طرف ترکی کو دیکھئے ،معروف اسرائیلی اخبار ہاریٹز(Haaretz)کے مطابق ترکی نے امریکہ سے خریدے گئے ایف سولہ طیاروں کو کامیابی سے اپ گریڈ کر لیا ہے۔ اب یہ طیارے اسرائیلی اہداف کو \"دوست \"قرار دینے کی بجائے اسے نشانہ بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ 2010ء میں ترکی نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کا محاصرہ ختم کر نے کے لئے امدادی سازو سامان سے لدا ایک بحری قافلہ ’’فریڈم فلوٹیلا‘‘روانہ کیاتھا۔ صیہونی ریاست نے حملہ کرکے دس تر ک باشندوں کو شہید کر ڈالا تو نہ صرف یہ کہ اسرائیل کو معافی مانگنا پڑی بلکہ خون بہا بھی اس نے ادا کیا۔اسرائیل کے ایک آن لائن اخبار ’’The Jerusalem Post Newspaper‘‘اور روزنامہ ’’Israel Hayom‘‘کے مطابق امدادی سازوسامان سے لدا ہوا ایک اور بحری قافلہ جلد ترکی سے غزہ کی جانب روانہ ہوگا۔ یہ ہے ایک معاشی طور پر آزاد اور دفاعی ٹیکنالوجی میں برتر قوم کا روّیہ۔

یہ تحریر 28مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP