شعر و ادب

وطن کے بوڑھے سپاہیوں کے نام

یہ بوڑھے وطن کے تھے بانکے سپاہی

چلتے تھے جب یہ فضا جھومتی تھی

یہ ٹینکوں اور توپوں سے لڑنے والے

نشانِ شجاعت یہ یوں چھوڑتے تھے

ان ہی سے تھے وطن کے بہادر وہ بیٹے

ہے یہ حقیقت نہیں ہے فسانہ

میدانِ جنگ میں جو اڑا کوئی ان سے

اب ہوئے بوڑھے و لاغر بے چارے

خبردار کوئی ان کو کمتر نہ جانے

مہینہ میں اک بار یہ ڈاک خانے آتے

خدا قائم رکھے یہ آنا وہ جانا

دعا ہے بوڑھوں کی رب العلٰی سے

جوانوں کو ہمارے وہ جذبہ عطا کر

رہبر و ہادی ہو قرآن ان کا

دعا ہے لعل اکبر کی یارب باری

لحد میں میرے جب چھائے اندھیرا

وہاں پر فضلِ عظیم جو تیرا

نکیرین سے آکے فرمائیں آقاﷺ

بصد ناز و تمکین بصد کجکلاہی

خاکِ وطن ان کے قدم چومتی تھی

وطن کی محبت پہ تھے مرنے والے

یہ ٹینکوں اور توپوں کا رخ موڑتے تھے

ٹینکوں کے آگے جو بم باندھ لیٹے

چونڈا کے میداں سے پوچھے زمانہ

بھاگا یا مارا گیا جان و تن سے

چلتے ہیں اب یہ لٹھ کے سہارے

یہ تھے صف شکن کوئی مانے نہ مانے

یہاں بیٹھ کر اپنا ماضی دہراتے

یہ پنشن ہے ان کے ملن کا بہانہ

خدا محفوظ رکھے وطن ہر بلا سے

سجائیں وطن کو سب کچھ لٹا کر

عشقِ محمدﷺ ہو ایمان ان کا

دم آخر کلمہ زبان پر ہو جاری

وحشت کے عالم میں دل گھبرائے میرا

لائیں تشریف آقاﷺ تو ہو جائے سویرا

چھوڑو اسے یہ تو عاشق ہے میرا

یہ تحریر 29مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP