ہمارے غازی وشہداء

وطن سے محبت ہمارے لہو میں شامل ہے

کہتے ہیں کہ انسان کو اپنے جذبات کو الفاظ دے دینے چاہئیں، جذبات کا اظہار آپ کے دل کو سکون دیتاہے لیکن کچھ جذبات ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی ترجمانی کے لئے صرف الفاظ کافی نہیں ہوتے بلکہ یہ جذبات زبانی اظہار کے ساتھ عمل بھی مانگتے ہیں۔ ایسے جذبات میں ایک جذبہ وطن سے محبت کا جذبہ بھی ہے جو انسان سے اُس کامال وزر ، اولاد حتیٰ کہ ان کی اپنی جان تک کا نذرانہ بھی مانگ لیتا ہے اورانسان اپنی زندگی اسی پر نچھاور کرتا ہے جس کی محبت اس کے جسم میں لہو بن کر گردش کرتی ہو۔ ویسے تو یہ جذبہ ہمارے ملک کے لوگوں میں بے انتہا ہے لیکن اس ملک کی فوج کے ہر ایک سپاہی اور افسر کے لئے اس ملک کی خاطر جان دینا ایک مقدس فریضے کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ لوگ اپنے وطن کی خاطر جان کی قربانی دینے سے کبھی دریغ نہیں کرتے۔اس کی مثال دینے پر آئیں تو صفحات کے صفحات بھر جائیں لیکن آج ہم آپ کو صرف ایک فوجی کی کہانی سنائیں گے کہ کس طرح  اس ملک کی محبت اُن کے جسم میں خون کی طرح دوڑرہی ہے۔ ان کا نام ہے کرنل سلطان سرخرو اعوان(ر) ان کا تعلق صرف ایک فوجی گھرانے سے ہی نہیں بلکہ ایسے علاقے سے بھی ہے جہاں کے ہر گھر میں ریٹائرڈ یا حاضر سروس فوجی موجود ہے ۔ وہ کہتے ہیںکہ'میرا علاقہ فوجی ہے۔ ہر گھر میں آپ کو فوجی ملے گا ۔ ریٹائرڈ یا حاضر سروس اور ہر دوسرے یا تیسرے گھر میں شہیدکے والدین ، بیوہ اور بچے موجود ہوںگے۔ ہمارے علاقے کے ہر قبرستان میں شہیدوں کی قبریں ہیںاور شہداء کی قبروں پرپاکستانی پرچم لہرا رہے ہیں۔ شہیدوں کے گھر والوں کو دیکھو تو دکھ ہوتا ہے۔ ان کے بوڑھے ماں باپ، چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے لیکن پھر بھی ہمیں فخر ہے کہ ہم اپنے وطن، اپنی سرزمین کے رکھوالے ہیں اور اس کے لئے جان کے نذرانے دیتے ہیں۔ لیکن پھر جب کچھ لوگوں کے منہ سے فوج پرتنقیدسنتے ہیں تو دل بہت بُرا ہوتا ہے کہ ہم اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر ملک کی سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہیں اور یہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے طنز کے نشتر چلاتے ہیں۔



ہماری فوج میں تقریباً 90 فیصد سپاہی ہیں جو اپنی زندگی کا زیادہ حصہ اپنی فیملی سے دُور سرحدوں کی حفاظت میں گزارتے ہیں۔ اس ملک کو اپنی پوری جوانی دے دیتے ہیں۔ وہ لوگ جو طنز کے تِیر برساتے ہیں وہ صرف دو ماہ تک بھی فیملی کے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ میںنے بھی اپنی آدھی زندگی فیملی کے بغیر گزاری ہے۔ ہمارے جوانوں کی فوج سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب ان کے بچے بڑے ہوتے ہیں تو انہیں بھی فوج ہی میں بھرتی کروانے کا سوچتے ہیں۔زلزلہ آئے ، سیلاب آئے ہر جگہ فوج کی ضرورت ہوتی ہے۔  ہم نے 65 کی جنگ جیتی  71ء میں اپنے سے چھ گنا بڑی فوج سے لڑے۔ دہشت گردی کی جنگ پوری دنیا میںصرف ہم نے جیتی۔ دوسری جنگ ِ عظیم کے بعدامریکہ آج تک کوئی ایک جنگ یا لڑائی نہیں جیت سکا۔ لیکن پھر بھی ان کی فوج کو ملک میں بہت پروٹوکول دیا جاتا ہے۔  ہم تو بہت ہی بے سروسامانی کی حالت میں لڑنے والے مجاہد ہیں۔
کرنل سرخرو نے ہمیںبتایا کہ1948سے لے کر اب تک اس ملک میںجتنی جنگیں ہوئیں، لڑائیاں ہوئیںیا آپریشنز ہوئے ان میں میرے گھر کے افراد شامل رہے۔ آج بھی میرا بھتیجا وزیرستان میں کمانڈ کررہا ہے۔ 1965 کی جنگ میں ہم چار بھائی فوج میں تھے اور جنگ کا حصہ رہے اور 1971کی جنگ میں ہم سات بھائی فوج میں تھے جن میں سے پانچ نے اس جنگ میں حصہ لیا۔ میں اس وقت میمن سنگھ سے آگے33 پنجاب رجمنٹ میںکمپنی کمانڈر تھا۔ لڑائی کے دوران میں زخمی ہوا میرے ہاتھ پر تین گولیاں لگیں،میرا یہ ہاتھ آج بھی ٹھیک سے کام نہیں کرتا۔ اس کے بعد میںقید ہو گیااور میرے ساتھ میرے دو بھائی بھی قید ہوئے تھے۔ کرنل امیر محمداُس وقت سی او34 پنجاب تھے،بعدازاں بریگیڈیئر کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ انہوںنے 1965 میں آپریشن جبرالٹر میں بھی حصہ لیا۔ دوسرا بھائی اس وقت لیفٹیننٹ تھااب کرنل امتیاز ہے۔ وہ 31 پنجاب سلہٹ میں تھا۔ ایک وقت میںہم تینوں سگے بھائی مختلف محاذوںپرتھے قید کے دوران چھ مہینے تک گھر والوں کو بھی ہمارا علم نہ تھاجبکہ ہمیں بھی ایک دوسرے کا پتہ نہیں تھا کہ کون زندہ ہے اورکون شہید ہوچکا ہے۔ کسی قسم کا کوئی رابطہ نہ ہوسکا۔ پھر 1974 میں بلوچستان میں میرا ایک بھائی کیپٹن محمدعالم شہید ہوا۔ وہ اس وقت SSG میںکمانڈو تھا۔
1971 کی لڑائی کا آپ کو بتاتا چلوں کہ تقریباً ایک سال تک ہم اس محاذ پر لڑتے رہے۔ میں تقریباً دو سال 4مہینے قید میں رہا۔ بنگال میںلوگوں کی اکثریت یہ نہیںچاہتی تھی کہ یہ ایک الگ ملک بنے اکثر لوگ مجھے روتے ہوئے کہتے یہ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے اب پاکستان کا کیا بنے گا وغیرہ اور میں یہی کہتا تھا کہ جو کچھ ہورہا ہے یہ آپ لوگوں نے ہی انڈیا کے ساتھ مل کرکیا ہے۔ ہماری حکومت کی بھی کچھ غلطیاں تھیں اور انہی غلطیوں سے انڈیا نے فائدہ اٹھایا اور بنگالیوں کو ورغلانا شروع کیا۔اس وقت مجیب الرحمن نے کہا کہ غیر بنگالیوں کو مارو اور ہم یہ سب نہیں ہونے دے سکتے تھے۔ اس لئے فوج نے کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔لیکن اس وقت بنگالیوں نے انڈیا کے ساتھ مل کر پروپیگنڈہ کرنا شروع کیا کہ پاکستانی فوج لوگوں کو مارتی ہوئی آرہی ہے۔ حالانکہ ایسا کچھ نہیں تھا۔ کچھ بنگالی ہمارے ساتھ لڑتے اور پھر بھاگ جاتے اورجب انہیں کہیں غیر بنگالی نظرآتا اُسے مار دیتے۔جب میں میمن سنگھ سے گزرا تو میںنے تقریباً 700 لوگوں کی میتیںدیکھیں، ان کا الزام بھی پاکستانی فوج پر لگایاگیا۔ اس وقت ہمارے لوگ بھی یہی سمجھ رہے تھے کہ یہ ہمارا کام ہے۔ مکتی باہنی اور عوامی لیگ نے انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستانی فوج پر الزام لگائے۔ پروپیگنڈا کیا۔ کہا کہ 90 ہزار فوج قید ہوئی، حالانکہ اس وقت ہمارے ٹروپس جو لڑرہے تھے وہ 35 سے 40ہزار تھے اور ان میں اگر گیارہ ہزار شہید ہوئے تونوے ہزار فوج کیسے قید ہو سکتی ہے۔ اصل میں ان قیدیوں میں20 ہزار عورتیں اور بچے بھی تھے جو ان کی قید میں تھے۔ باقی لوگ سویلین تھے جو مشرقی پاکستان میںمختلف فرائض سرانجام دے رہے تھے، ان کو بھی انہوں نے فوج کے ساتھ گِنا اور انہیں جنگی قیدی بنایا جو کہ بین الاقوامی جنگی قوانین کے خلاف ہے۔
کرنل سلطان سرخرو اعوان (ر) اپنی قید کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتانے لگے کہ قید میں ہمارے ساتھ انتہائی ناروا سلوک رکھاگیا۔ ہمیں کھانے کے لئے بہت کم چیزیں دی جاتیں، نماز کا ٹائم نہیں دیا جاتا بلکہ نماز کے وقت اکثر دھمکایا جاتا کہ تم نے اگر فوراً نما ز ختم نہ کی تو ہم فائرنگ شروع کردیں گے لیکن ہم ہمیشہ ڈٹے رہتے اور نماز ختم ہونے سے پہلے اپنی جگہ سے نہ ہلتے۔ ہمیں تنگ کرنے کے لئے مختلف ذہنی اذیتیں اور جسمانی تکالیف دیتے لیکن ہم سے کبھی کچھ اُگلوا نہیںسکے۔ ہمیں ذہنی مریض بنانے کی کوششیں کی جاتیں لیکن ہم پھر بھی ایک نارمل انسان کی طرح رہتے۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ قید سے رہائی کے بعد بہت سے فوجیوں نے دوبارہ فوج جوائن کی اور محنت کرکے ترقیاں حاصل کیں۔ یہاں تک کہ بہت سے قیدی جنرل تک کے عہدوں تک پہنچے۔ ہم لوگوں نے ہمیشہ ایک نارمل انسان کی طرح زندگی گزاری، کبھی خود کشی کا نہیں سوچا اور اپنے جذبے کو ہمیشہ بلند رکھا۔
کرنل سلطان سرخرو(ر) سے ملاقات کے دوران اُن کے ایک بیٹے کرنل تیمور سلطان (ر) بھی وہاں موجود تھے۔ اُن سے بات ہوئی تو انہوںنے برملا کہا کہ آج کی فوج مسلسل آپریشنز میں مصروف ہے اوراپنی جانیں فخر کے ساتھ پیش کررہی ہے۔ پہلے فوج کے لئے کشمیر بارڈر ہارڈ ایریا ہوتا تھا۔ لیکن آج ہمیں لگتا ہے کہ وہ سافٹ ایریا ہے۔ آج بھی فوجی فیملی سٹیشن پر کم ہی جاتے ہیں آج کل سب سے زیادہ ڈیمانڈ نگ ٹائم فوج کا گزر رہا ہے اورپھر بھی چند لوگ فوج کے خلاف تنقید میں ہر وقت سرگرم رہتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ہمارے فوجیوں کا مورال ہائی ہے۔ دوسری فوجوں کی طرح خود کشی کا رجحان بالکل نہیں۔ 65 کی جنگ جو 17 دن کی تھی،میں ہمیں بہت عزت ملی جبکہ آج کی فوج اتنی لمبی لڑائی لڑ رہی ہے ہمیں اُن کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا ہوگا۔
ہماری فوج دنیا میں ہونے والے مقابلے جیتتی ہے روس اور چین جیسی افواج کے ساتھ مشترکہ مشقیں کرتی ہے۔ اس فوج میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ دنیا کی کسی بھی فوج کے ساتھ مقابلہ کرے۔یہ سب اسی وجہ سے ہے کہ آرمی متحد ہے اس میں صوبائیت نہیں، فرقہ واریت نہیں۔ اسی لئے growکررہی ہیں۔ 
ہماری افواج جذبۂ حب الوطنی سے سرشار ہیں وہ ملک کے لئے کچھ بھی کرسکتی ہیں۔ قوم بھی الحمدﷲ افواج کی پشت پر موجود ہے بعض عناصر اگر افواج کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں تو اُن کا ایک خاص ایجنڈا ہے  جس سے قوم بخوبی واقف ہے۔ الحمدﷲ وقت پڑنے پر افواج اور قوم باہم مل کر ہربڑے سے بڑے چیلنج کا مقابلہ کریں گی اور فتح یاب ہوں گی۔ ان شاء اﷲ ||
 

یہ تحریر 9مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP