قومی و بین الاقوامی ایشوز

وسط ایشیائی وسائل اور بین الاقوامی سیاست

جب ایشیائی ترقیاتی بنک(ADB) 1966 میں قائم کیا گیا ہم اس وقت سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایشیا اتنی ترقی کر پائے گا۔ اس وقت ویت نام میں جنگ ہو رہی تھی۔ جمہوریہ چین پابندیوں کا شکار تھا‘سوویت یونین سرد جنگ میں مشغول تھا۔ ماسوائے جاپان کے تمام ایشیائی ممالک تنزل کا شکار تھے۔ پاکستان‘ جاپان کے بعد ایشیا کا دوسرا ترقی کرتا ہوا ملک تھا۔ ملائشیا‘ سنگاپور اور کوریا بھی انحطاط کا شکار تھے۔ کروڑوں ایشیائی غربت کی چکی میں پس رہے تھے۔ اب ایشیا کا نقشہ تبدیل ہورہا ہے۔ ترقی کی تمام راہیں ایشیا کی طرف جاتی ہیں۔ آج اشتراکی جمہوریہ چین دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوت کے طور پر ابھرا ہے۔ جاپان‘ کوریا نے بھرپور ترقی کی منازل طے کی ہیں۔اب ایشیا دنیا کی پیداوار کا30فیصد ہے اور یہ شرح 2050ء تک 50 فی صد تک پہنچ جائے گی۔ اس وقت وسط ایشیا کے پانچ ممالک یعنی قازقستان‘ ازبکستان‘ ترکمانستان‘ تاجکستان اور کرغزستان دنیا کی توجہ کام مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ ان ممالک کے قدرتی وسائل اور محل وقوع ہے۔ توانائی کے وسیع ذرائع ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ سے ان ممالک کو مستقبل کا مرکز سمجھاجارہاہے۔ قازقستان‘ ترکمانستان اور تاجکستان کے توانائی کے وسائل دنیا کی توجہ مبذول کروائے ہوئے ہیں۔ وسط ایشیا کی کل آبادی 92 ملین کے قریب ہے۔ یہ آبادی99 فیصد کے قریب خواندہ ہے جو ایک اثاثہ ہے۔ ان ممالک کی مشترکہ قومی پیداوار412 (GDP)بلین ڈالر کے قریب ہے جس میں قازقستان کا کلیدی حصہ ہے جو224 بلین کے قریب ہے۔ ازبکستان کی قومی پیداوار ہے جو56 بلین کے قریب ہے۔ ترکمانستان کی قومی پیداوار42 بلین ڈالرز ہے (یہ اعداد وشمار ورلڈ بینک سے لئے گئے ہیں) بحیرۂ ارالAral Sea اور بحیرۂ قزوینCaspian Sea پانی کے اہم ذرائع ہیں۔ بحرِ قزوین دنیا کے چار فیصد تیل و گیس کے ذخائر سے مالامال ہے۔ سونا‘ یورینیم اور زِنک کے وسیع ذخائر بھی موجود ہیں۔ وسطِ ایشیا دنیا میں کپاس کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔ میوہ جات اور سبزیوں کی پیداوار معاش کا ایک اہم ذریعہ ہیں ان تمام خوبیوں کے باوجود وسط ایشیا کی اقتصادیات کا شمار غریب یا ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔ 1991ء میں سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد جو نئی ریاستیں معرضِ وجود میں آئی تھیں ان میں سے پانچ وسط ایشیا کی ریاستیں تھیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ یہ ریاستیں اپنے اندر قدیم تہذیبوں سے آراستہ تھیں۔ یہ آزادی برقرار رکھنا ان کے لئے ایک چیلنج تھا۔ غربت مٹانا اور اقتصادی بدحالی پر قابو پانا ایک اہم نکتہ بن گیا۔ اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث ان ریاستوں کو ’’ایشیا کا جیول‘‘ (Jewel of Asia) بھی کہا گیا۔ بہرحال گزشتہ 22 سال سے تمام وسط ایشیائی ریاستیں قومی ترقی(Nation Building) کی طرف مائل ہیں۔ چین کا مغربی حصہ ان ریاستوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ دوسری طرف روس ان ریاستوں کے لئے خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ ممالک شنگھائی تعاون کی تنظیم(SCO) میں شامل ہیں۔ یہ جغرافیائی تعاون کی ایک مشترکہ اقتصادی تنظیم ہے جو مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی ہے۔ چین اس وقت وسط ایشیائی پٹی (Central Asian Economic Belt) کے ایک تصور کے ساتھ ابھررہا ہے۔ اس وقت نئی شاہراہ ریشم کا لقب دیا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین پاکستان کے ساتھ اقتصادی راہداری کے ایک وسیع منصوبے پر کارفرما ہے جس کی بدولت خطے کے تمام ممالک ایک مشترکہ جامع اقتصادی منصوبہ بندی میں شامل ہو جائیں گے۔ جغرافیائی طور پر قازقستان دنیا کا نواں بڑا ملک ہے جو وسطی ایشیا کا دل ماناجاتا ہے۔ اس ملک کی سرحدیں ترکمانستان‘ کرغستان‘ ازبکستان ‘ روس اور چین سے ملتی ہیں۔ قازقستان معدنی وسائل سے مالامال ملک ہے جبکہ اس کی آبادی صرف15 ملین پر مشتمل ہے۔ ملک میں مختلف قوموں کے لوگ آباد ہیں۔ روس سے آزادی حاصل کرنے کے بعد قازقستان ایک بھرپور اقتصادی طاقت کے طور پر ابھررہا ہے۔ قازقستان ایک مرکزی اشتراکی اقتصادیات کو تبدیل کرتا ہوا ایک آزاد تجارت اور اقتصادی روابط کی طرف گامزن ہے۔ تیل‘ گیس اور دیگر قدرتی وسائل سے مالامال قازقستان اس وقت بھر پور تجارت کررہا ہے۔ ملکی آمدنی کا 70 فی صد حصہ تیل اور قدرتی وسائل کی فروخت پر مبنی ہے اور حکومت بھی قدرتی وسائل میں سرمایہ کاری پرخاص توجہ دیتی ہے۔ اقتصادی طور پر قازقستان وسطِ ایشیا میں انتہائی تیزی کے ساتھ ترقی کرتا ہوا ملک ہے۔ سیاسی استحکام اور وسائل کی فراوانی کے باعث بیرونی سرمایہ کار قازقستان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ 1993 سے2013 تک قازقستان 136 بلین ڈالر کے لگ بھگ سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ قومی پیداوار میں انتہائی اضافہ ہوا ہے۔ عالمی بنک کے مطابقCIS ممالک میں قازقستان سب سے زیادہ ترقی کرنے والا ملک ہے۔ 2012 میں اس میں فی کس آمدنی11 ہزار ڈالرز سے زیادہ تھی۔ ملک کا محلِ وقوع اس کو یورپ کے ساتھ منسلک کرتا ہے امید کی جاتی ہے کہ2050 تک قازقستان دنیا میں 30 ویں بڑی معاشی قوت کے طور پر ابھرے گا۔ جغرافیائی اعتبار سے تاجکستان پاکستان سے قریب ترین وسطِ ایشیائی ملک ہے۔ پاکستان ایک سرنگ کے ذریعے تاجکستان سے ملنا چاہتا ہے اور یہی راستہ دیگر وسطِ ایشیائی ممالک کے ساتھ رابطے کاذریعہ ہو سکتا ہے۔ یہ علاقہ واخان کے نام سے پہنچانا جاتا ہے اور یہ افغانستان کا حصہ ہے۔ افغانستان کے علاوہ ازبکستان کی سرحدیں کرغستان‘ ازبکستان اور چین سے جا کر ملتی ہیں۔ اس ملک کو قدرت نے پانی کے وسائل سے نوازا ہے یہ ملک 60 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس پر تکنیکی اور معاشی مجبوریاں حائل ہیں۔ ستمبر2014 میں پاکستان افغانستان اور تاجکستان نے بجلی فراہمی کے ایک منصوبے کی ایک قرارداد پر دستخط کئے ہیں۔ اس منصوبے کوKasa 1000 کہتے ہیں جس کے تحت بجلی کی ترسیل کی جائے گی جو پاکستان تک پہنچائی جائے گی۔ اس کے لئے ایک ڈیم دریائے آمور پر تعمیر کیا جائے گا۔ یہ پاکستان کے لئے بجلی کا انتہائی کارآمد منصوبہ ہوگا جس کے تحت بجلی صرف5 روپے یونٹ کے ساتھ پاکستان کو فروخت کی جائے گی۔ پاکستان کے علاوہ یہ بجلی افغانستان کو بھی فروخت کی جائے گی۔ پاکستان اور افغانستان دونوں تاجکستان کو راہداری کی مدمیں اخراجات ادا کریں گے جس سے تاجکستان کی اقتصادی زندگی میں بہتری آئے گی۔ یہ ایک انتہائی کارآمد‘ سستا اور جلدی تعمیر ہونے والا منصوبہ ہے۔ افغانستان کی دفاعی اور سیاسی صورت حال ایک رکاوٹ ہے اور امید ہے کہ امریکی فوج کے انخلاء اور نئی افغان حکومت کی تشکیل کے بعد یہ منصوبہ پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔ کرغستان کی سرحدیں قازقستان‘ ازبکستان‘ تاجکستان اور چین کے ساتھ ملتی ہیں دیگر وسط ایشیائی ریاستوں کی طرح کرغستان بھیCIS کا حصہ ہے۔ دیگر وسطِ ایشیا ریاستوں کی طرح کرغستان بھی کثیر القومی ملک ہے ملک کی مجموعی آبادی 5.7 ملین کے قریب ہے۔ سوویت یونین کے زمانے میں کرغستان وسطِ ایشیاء کے غریب ترین ممالک میں سے ایک تھا۔ آج بھی تاجکستان کے بعد یہ ایک غریب ترین ملک ہے روس سے آزادی حاصل کرنے کے بعد کرغستان نے ترقی کی راہ اپنا لی مگر روسی تسلط کے نشانات انمٹ تھے۔ مگر آزادقیادت کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔ حکومت نے لمبی مدت کی مستحکم اقتصادی منصوبہ بندی کی کیونکہ اشتراکی تعلقات کو ازسرِ نو استوار کرنا تھا۔1990 کی دہائی کے اختتام پر کافی مثبت تبدیلیاں رونما ہوئیں مگر اس کے باوجود سرمایہ ایک کٹھن مرحلہ رہا ہے جس کی وجہ سے معاشی سہولتوں میں ایک فقدان نمایاں رہا ہے۔ زراعت بانی ہی کرغستان کا ایک ضروری وسیلہ رہا ہے۔ زراعت کا حصہ قومی پیداوار کا 35 فیصد ہے اور آبادی کا آدھا حصہ زراعت سے منسلک ہے۔ چونکہ ملک کا زیادہ حصہ پہاڑی ہے اس لئے مویشی پالنا ایک منافع بخش کاروبار ہے اس لئے اُون‘ گوشت اور دودھ جیسی اشیاء زیادہ ہوتی ہیں۔ قدرتی وسائل بھی ہیں مگر تیل اور گیس کے وسائل میں خاصی کمی پائی جاتی ہے۔ کوئلے‘ یورینیم اور سونے کے ذخیرے بھی موجود ہیں۔ دھاتوں کی صنعت ایک اعلیٰ صنعت کے طور موجود ہے اور حکومت ان تمام وسائل میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دعوت دیتی ہے۔ اگرKasa 1000 منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو کرغستان کی اقتصادی ترقی میں ایک اہم تبدیلی آسکتی ہے۔ ازبکستان جغرافیائی طور پر دنیا میں56 ویں نمبر پر ہے اور آبادی کے لحاظ سے 42 نمبر پر۔ ازبکستان کی سرحدیں قازقستان اور بحیرہ ارال کے شمال‘ تاجکستان کے ساتھ جنوب مشرق‘ کرغستان کے ساتھ شمال مشرق‘ افغانستان کے ساتھ‘ جنوب ترکمانستان کے ساتھ جنوبی مغرب میں جاملتی ہیں۔ ازبکستان کی معیشت کا زیادہ تر انحصار کاٹن‘ سونا‘ یورینیم اور قدرتی گیس پر ہے۔ اس کی آبادی30,185000 اورگنجانی 61.4 مربع کلو میٹر پر مشتمل ہے۔ 1991 میں سوویت یونین سے آزادی حاصل کرنے کے بعد اسلام کریموف اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ ازبکستان کی معیشت سونے کے ذخائر کی بنا پر بہت اہمیت کی حامل ہے۔ دنیا میں سونے کے چوتھے بڑے ذخائر ازبکستان میں ہیں۔ کاپر کے ذخائر میں دنیا میں دسویں اور یورینیم کے ذخائر میں بارھویں نمبر پرہے۔ قیام سے پہلے سال اسے معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا جس پر1995 تک قاپو پالیا گیا۔اپنی بہتر معاشی پالیسیوں کی وجہ سے1998 سے2003 تکGDP 4 فیصد رہا جبکہ 2003 کے بعد فیصد 7 اور فیصد رہا۔ آئی ایم ایف کے مطابق2008 کا1995GDP سے دوگنا تھا۔ 2003 کے بعد یہاں سالانہ مہنگائی میں10 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ ازبکستان کا شمار کاٹن اور سونے کی برآمد کے بڑے ممالک میں کیا جاتا ہے۔ TAPIمنصوبے کی بنیاد قازقستان اور ترکمانستان میں انٹرنیشنل تیل کی کمپنیوں کے منصوبوں سے ہوتی ہے جو 1990میں شروع ہوئے۔ جب روس ان تمام ممالک کے منصوبوں میں حائل تھا۔ اس بنا پر اس نے ان تمام کمپنیوں کو پائپ لائن کے کام کی اجازت نہ دی۔ ان کمپنیوں کو ایسے بااختیار راستے کی ضرورت تھی جس میں دونوں ممالک ایران یا روس شامل نہ ہوں۔ اس منصوبے کا باقاعدہ آغاز 15مارچ 1995کو پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان معاہدہ طے پا جانے کے بعد ہوا۔ اس منصوبے کو ارجنٹائن کمپنی Bridas Coporation نے شروع کی۔ امریکی کمپنی Unocal نے سعودی تیل کمپنی ڈیلٹا کے تعاون سے Bridas کے متبادل منصوبے پر کام شروع کر دیا۔ 21اکتوبر 1995کو ان دو کمپنیوں نے ترکمانستان کے صدر سے الگ الگ معاہدے طے کئے۔ اگست 1996 کو Uncoal کی جانب سے گیس پائپ لائن کی تعمیر کے لئے سینٹرل ایشیا گیس پائپ لائن لمیٹڈ قائم کی گئی۔ 27اکتوبر 1997 کو CentGas نے دیگر عالمی تیل کمپنیوں کے اشتراک سے ترکمانستان حکومت کے ساتھ کئی رسمی معاہدے کئے۔ اس مرحلے کے بعد پائپ لائن نے افغانستان سے گزرنا تھا۔جس میں طالبان کا تعاون ضروری تھا۔ 1997میں پاکستان میں موجود امریکی سفیر Robert Oakley کو CentGas میں بھیج دیا گیا۔ جنوری 1998کو طالبان نے ارجنٹائن مدمقابل Bridas Corporation کی جگہ CentGasکو منتخب کر لیااور منصوبے کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے معاہدہ بھی کر لیا۔ جون 1998کو روس نے اس منصوبے میں شامل اپنے دس فیصد کی سرمایہ کاری واپس لے لی۔ 7اگست 1998کو نیروبی اور دارالسلام میں امریکی سفارت خانوں پر مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کے کہنے کے مطابق بمباری کی گئی۔ طالبان اور ملاعمر نے اس پائپ لائن منصوبے کو یہ کہہ کر ختم کر دیا کہ وہ اسامہ بن لادن کے حامی ہیں۔ اس کے بعد Uncoalکمپنی نے اس منصوبے کو 8دسمبر 1998کو پاکستان اور افغانستان میں بند کر دیا۔ 27دسمبر 2002میں افغانستان‘ پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان پھر سے نیا معاہدہ ہوا۔ اب اس معاہدے کو زبردست امریکی حمایت حاصل ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ سنٹرل ایشیا کی ریاستیں مغربی منڈی کو توانائی فراہم کریں اور ایسا راستہ اپنائیں جس میں روس پر انحصار نہ ہو۔ 24اپریل 2008کو پاکستان و بھارت اور افغانستان کے درمیان ایک باعمل معاہدہ طے پایا اور ان ممالک نے پیچیدہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے طے کرنے پر زور دیا اور بات کو یقینی بنانے کی کوشش بھی کی گئی کہ مستقبل میں ترکمانستان کی حکومت سے گیس خریداری کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔ TAPIمنصوبے کے مطابق ترکمانستان کے گیس کے مرکز دولت آباد سے گیس پائپ لائن افغانستان کے صوبے ہرات اور قندھار سے ہوتی ہوئی کوئٹہ اور ملتان پہنچ جائے گی۔ اور یہاں سے بھارت میں فاضلکا کے مقام پر اختتام پذیر ہوگی۔ یہ گیس پائپ لائن ایک ہزار آٹھ سو کلو میٹر طویل ہوگی جس پر10 بلین ڈالرز کے قریب لاگت آئے گی اور ان ممالک کی توانائی کی ضروریات پوری کرے گی۔ بین الاقوامی سیاست کی بناء پرگزشتہ ادوار میں مشتمل اس منصوبے پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ حالیہ دنوں میں ان چار ممالک یعنی ترکمانستان‘ افغانستان‘ پاکستان اور بھارت نے منصوبے کے کچھ پہلوؤں پر دستخط کئے ہیں تاکہ منصوبہ بندی کو جلدی پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔ افغانستان میں حالیہ انتخابات کے بعد بننے والی حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس منصوبے کو پایہ تکمیل پہنچانے میں مدد کرے گا۔ افغانستان اس منصوبے سے بے پناہ اقتصادی راہداری سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اپنی معیشت کو خوشحالی سے ہمکنارکرسکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت‘ جو توانائی کی کمی کا شکار ہیں۔ اپنی اقتصادی قوت میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ چین کے وسط ایشیا کے ساتھ تعاون کے وسیع امکانات میں ان ممالک کے درمیان اہم منصوبے زیرِ تکمیل ہیں۔ قازقستان کے چین کے ساتھ تجارتی روابط ایک خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ اگلے سال دونوں ممالک کی تجارت چالیس بلین تک پہنچنے کے امکانات ہیں۔ وسط ایشیا صدیوں سے مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت کا ایک وسیلہ بنا رہا ہے۔ یہ تہذیبوں کے درمیان ثقافتی رابطوں کا ایک مرکز بھی رہا ہے۔ آج تمام وسطِ ایشیائی ممالک امید اور مواقع کی تلاش میں سرگرداں ہیں یہ تمام ممالک مشترکہ نکتہ نظر کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔ گزشتہ کئی سال وسط ایشیا میں امریکی مفادات کی جنگ کی نذر ہوگئے افغانستان کے حالات نے خطے کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا‘ جسے محققین وسط ایشیا کی عظیم جنگ سے تعبیر کرتے رہے۔ اب امریکہ سال کے آخر میں افغانستان سے نکلنے کا منصوبہ بنا رہا ہے امید ہے افغانستان امن کی طرف گامزن ہوگا۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ چین اور روس مل کر امریکی مفادات کوخطے سے باہر نکال دیں گے اس لئے وہ امریکہ کے نکل جانے کا انتظار کررہے ہیں۔ روس اور چین نے 4002 بلین ڈالرز کی سائبیریا گیس کے منصوبے پر عمل درآمد شروع کردیا ہے تاکہ چین کی توانائی کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ عالمی طاقتیں تیل و گیس اور قدرتی وسائل کو بین الاقوامی سیاست کی نظر نہیں کریں گی۔ بلکہ قدرتی وسائل کو عوام کی خوشحالی اور فلاح و بہبود پر استعمال کریں گی تاکہ دنیا میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ امید ہے کہ تقسیم کرو اور علیحدہ کرو‘ کی عالمی پالیسی اب اختتام پذیر ہوگی اور موجودہ صدی وسطِ ایشیائی صدی ہوگی۔ علاوہ ازیں وسط ایشیائی ممالک کو بھی باہمی اختلافات اور چپقلش سے جان چھڑانا پڑے گی تاکہ کوئی عالمی قوت انہیں اپنے مفادات کے لئے استعمال نہ کرسکے۔

یہ تحریر 51مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP