قومی و بین الاقوامی ایشوز

وسطی اور جنوبی ایشیا کا ملا پ

 وسطی ایشیائی ملکوں کو آزاد ہوئے 3دہائیاں گزرچکی ہیں مگر شدید خواہش کے باوجود وہ پاکستان تک رسائی نہیں کرسکے وزیر اعظم عمران خان اور ازبک صدر کی مشترکہ سوچ  دونوں خطوں کے دیگر ممالک کے عوام کی بھی تقدیر بدل سکتی ہے آرمی چیف جنرل باجوہ نے اپریل کے آخر میں ازبکستان کا دورہ کیا یعنی دونوں ملک دفاع  میں بھی  تعاون رکھتے ہیں تاشقند کانفرنس''وسطی ایشیا،جنوبی ایشیا میں رابطے،چیلنجز اور مواقع''16-15جولائی2021 کا آنکھوں دیکھا حال


پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایو (Shavkat Mirziyoyev)کے درمیان وسطی اور جنوبی ایشیا کو ملانے کی مشترکہ سوچ نہ صرف دونوں ملکوں کے عوام بلکہ دونوں خطوں کے دیگر ممالک کے عوام کی بھی تقدیر بدل سکتی ہے جن میں بھارت اور افغانستان کے عوام بھی شامل ہیں۔شرط یہ ہے کہ باقی سب ملکوں کی قیادت بھی اسی طرح سوچے جس طرح یہ دونوں لیڈر سوچتے ہیں اور نہ صرف سوچتے ہیں بلکہ اس پر بہت آگے پیشرفت بھی کرچکے ہیں جیسا کہ14اپریل2021کی پہلی پاک ازبک ورچوئل سمٹ میں ہم نے دیکھا اور جیسا کہ16-15جولائی2021کی تاشقند کانفرنس میں ہم نے مشاہدہ کیا جس کی کوریج کے لئے ہم وہاں موجود تھے۔



وسطی ایشیائی ملکوں کو سوویت یونین سے آزاد ہوئے 3دہائیاں گزرچکی ہیں مگر وہ اپنی شدید خواہش کے باوجود پاکستان تک براہ راست رسائی حاصل نہیں کرسکے۔یہ تمام ممالک وسائل،پیداوار اور ٹیکنالوجی سے مالا مال ہیں مگر معروف اور مصروف تجارتی سمندری گزرگاہوں سے دور ہونے کی وجہ سے آزادی کے وہ مقاصد اب تک حاصل نہیں کرپائے جو باقی دنیا سے تعلقات وتعاون وتجارت کو فروغ دے کر وہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔یہ تمام ممالک لینڈ لاکڈ ہیں اور ان نزدیک ترین وسطی ایشیائی ملکوں کی یہ انتہائی کوشش رہتی ہے کہ پاکستان کے ساتھ زمینی ربط استوار ہوجائے مگر اس میں افغانستان کے اندر عدم استحکام سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور جنوبی ایشیا یعنی بھارت کو ساتھ شامل کرکے وسطی جنوبی ایشیا رابطے کی بات ہو تو بھارت کی یہ کوشش رہتی ہے کہ بندر عباس اور چاہ بہار کو کراچی، گوادر کے متبادل بنا کر پیش کیا جائے۔ 16-15جولائی کی کانفرنس میں بھی یہ کوشش ہوئی مگر ناکام بنادی گئی۔
وسطی ایشیا میں ازبکستان کی مرکزی حیثیت اس طرح بن جاتی ہے کہ اس کے ساتھ پاکستان سمیت برصغیر جنوبی ایشیا کا قریبی تعلق صدیوں تک رہا ہے۔امیر تیمور کا تعلق ازبکستان ہی سے تھا اور بعد میں مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھنے والے ظہیر الدین بابر کی آمد بھی تاشقند کے نزدیک واقع وادی فرغانہ سے ہوئی اور پھر مغلوں نے برصغیر پر3سو سال تک حکومت کی۔بہادر شاہ ظفر آخری مغل تاجدار تھے۔اب بھی پاکستان میں مغلوں کی بہت بڑی تعداد رہتی ہے۔امام بخاری کا تعلق بھی ازبکستان سے ہے جہاں بخارا کا تاریخی شہر موجود ہے۔یہ اور دیگر بہت سے حوالے ایسے ہیں جن کوذہن میں رکھتے ہوئے ازبک صدر نے دونوں خطوں میں رابطے قائم کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور اس کی ابتداء پاکستان سے کی جوکہ اس مقصد کے حصول میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔دونوں ملکوں کی لیڈر شپ کے درمیان رابطے،معاہدے تو پہلے بھی ہورہے تھے مگر اپریل کی آن لائن سربراہ کانفرنس اس کا نقطہ عروج ثابت ہوئی۔14اپریل کو دونوں لیڈروں نے اپنی اپنی ٹیموں سمیت دو طرفہ تعلقات اور تعاون کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لیا جبکہ16-15جولائی2021کی انٹرنیشنل کانفرنس میں بڑی پیشرفت کرتے ہوئے معاہدوں پر دستخط کرکے باہمی تعاون کو مزید مضبوط کردیا۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وسط اپریل کی سربراہ کانفرنس کے بعدپاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپریل کے آخر میں ازبکستان کا دورہ کیا جہاں صدر شوکت سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔یعنی باقی شعبوں کے علاوہ دفاع اور دفاعی پیداوار میں بھی دونوں ملک قریبی تعاون رکھتے ہیں اور اس حوالے سے صدر ازبکستان نے کانفرنس کے شرکاء سے خطاب میں دفاعی تعاون کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہماری سلامتی مشترکہ ہے اور ہمیں مل کر دہشتگردی اورانتہا پسندی کے چیلنجوں سے نمٹنا ہے۔یہ بات دنیا تسلیم کرتی ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے اور اس کے خاتمے میں جو تجربات اور مشاہدات پاکستان کے پاس ہیں وہ شاید ہی کسی اور ملک کے پاس ہوں اس لئے دیگر ممالک اس شعبے میں پاکستان کے ساتھ شراکت کے خواہشمند ہیں۔
ازبکستان اور پاکستان کے درمیان زمینی فاصلہ بہت زیادہ نہیں۔ فروری 2021 میں ازبکستان، پاکستان اور افغانستان نے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت ازبکستان کے شہر ترمذ سے مزار شریف افغانستان تک آنے والی ٹرین کابل اور پشاور تک چلائی جائے گی۔اس سفر کا دورانیہ تقریباً اتنا ہی بنتا ہے جتنا لاہور سے کراچی کا ہے۔اسی طرح پاکستان سے تجارتی سامان لے کر افغانستان کے ذریعے ازبکستان تک ٹرکوں کے ذریعے پہنچانے کا بھی کامیاب تجربہ ہوچکا ہے ۔مزید یہ کہ ازبکستان ایئر، لاہور سے تاشقند ہفتے میں ایک براہ راست پرواز چلارہی ہے اور اس سفر کا دورانیہ بھی بہت کم یعنی 2گھنٹے ہے۔پی آئی اے بھی ایک پرواز چلانے پر غور کررہی ہے۔ گویا دونوں ملکوں کے درمیان ہر قسم کے رابطوں کے لئے زمین ہموار ہوچکی ہے اور ان دونوں ملکوں کی جغرافیائی پوزیشن ایسی ہے کہ پاکستان وسطی ایشیا کے لئے جنوبی ایشیا کے دروازے کھول سکتا ہے جبکہ ازبکستان جنوبی ایشیا کو پورے وسطی ایشیا اور اس سے آگے روس اور یوریشیا تک رسائی دے سکتا ہے۔یہی وہ سوچ اور نظریہ ہے جس کو لے کر ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایو اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان باقی ملکوں کو قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔یہ بات ظاہر ہے کہ اس میں ان دوملکوں کا ہی نہیں سب ملکوں کا فائدہ ہے اور اسی لئے16-15جولائی کو تاشقند میں تمام متعلقہ ملکوں کی کانفرنس منعقد ہوئی جس کا مرکزی خیال تھا ''وسطی ایشیا،جنوبی ایشیا میں روابط،چیلنجز اور مواقع''۔
16جولائی کو کانفرنس کے موقع پر مرکزی سٹیج پر4شخصیات موجود تھیں جن میں ایک پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان تھے۔ان کے علاوہ میزبان صدر شوکت، افغانستان کے صدر اشرف غنی اور یورپی کمیشن کے نائب صدر جوزف بورلا تشریف فرما تھے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتریس نے آن لائن شرکت کی اور اپنے خطاب میں کانفرنس کے مقاصد کی حمایت کا یقین دلایا۔کانفرنس اس لحاظ سے انتہائی اہم انٹرنیشنل فورم تھا کہ بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر کے علاوہ وسطی ایشیائی ریاستوں قازغستان،کرغزستان،تاجکستان،ترکمانستان کے وزرائے خارجہ بھی موجود تھے۔ان کے علاوہ امریکہ کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان زلمے خلیل زاد،روس کے وزیر خارجہ سرگئی لادوو،چین کے وزیر خارجہ نے بھی شرکت کی۔دیگر کئی اہم ملکوں کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام،اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے نمائندے اور مالیاتی اداروں کے سربراہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔پاکستان سے اس کانفرنس میں وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ مشیر تجارت عبدالرزاق دائود،وزیر داخلہ شیخ رشید،وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی اور وزیر بحری امور علی زیدی نے شرکت کی۔ 15جولائی کو دو طرفہ امور پر بات ہوئی جس میں صدر شوکت کے ساتھ ملاقات،وفد کی سطح پر مذاکرات،معاہدوں پر دستخط اور مشترکہ پریس کانفرنس ہوئی۔
صدر ازبکستان شوکت مرزیایونے کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اسلامی جمہوریہ افغانستان کے صدر جناب اشرف غنی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم جناب عمران خان کو اس ہال میں موجود دیکھ کر بہت خوش ہوں اور ان کے لئے اپنے گہرے احترام کا اظہار کرتا ہوں۔
وسطی،جنوبی ایشیا ہمیشہ معتبر تجارتی راستوں کے ذریعے منسلک رہے ہیں۔یہ مشرق وسطیٰ،یورپ ،چین کے لئے پل تھے۔ماضی میں دوسری تیسری ہزاروی قبل مسیح میں ان دو خطوں کو ملانے والے راستے درہ خیبر اور درہ بولان سے گزرتے تھے۔ہمارے لوگوں کے درمیان قریبی تعلقات نے تیز علمی وروحانی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ا س سے دنیا کو غیر معمولی سائنسدان اور مفکر دستیاب ہوئے۔بدقسمتی سے19ویں صدی میں تاریخی حالات کے باعث دو ہمسایہ خطوںمیں رابطہ ٹوٹ گیا۔وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان بہت سی رکاوٹیں حائل ہوگئیں۔سرحدیں بند ہوگئیں،تضادات سنگین ہوگئے جو اکثر اوقات جھگڑوں میں تبدیل ہوتے رہے۔ تعاون اور باہمی مفاہمت کے زمانے کی جگہ تصادم اور بداعتمادی کے دور نے لے لی۔ ہم اب بھی اس کے منفی نتائج محسوس کرتے ہیں۔یہاں سرحدوں سے پار کوئی تجارتی راستے نہیں۔تجارتی اور اقتصادی تعلقات بہت کم ہیں جبکہ ثقافتی اور انسانی رشتوں کے امکانات سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔آج دنیا عالمی جیوپولیٹیکل تبدیلیوں کے دور میں داخل ہوچکی ہے جہاں چیلنج اور مواقع دونوں موجود ہیں۔ان حالات میں وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان تعلقات کی بحالی،جہاں تقریباً 2ارب لوگ رہتے ہیں ،ایک بامقصد عمل اور پرزور مطالبہ بن چکی ہے۔میری رائے میں وقت آچکا ہے کہ ہمارے لوگوں کے مستحکم تاریخی،سائنسی ،روحانی اور ثقافتی ورثہ ،ایک دوسرے کو مکمل کرنے والی معیشتوں ،علمی اثاثے کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مشترکہ کوششوں کو منظم کیا جائے جو بلاشبہ ہم سب کے لئے مفید ثابت ہوں گی۔اس سب کے لئے ضروری ہے کہ ہم ایک طرف بین العلاقائی تعاون اور شراکت کو تشکیل دیں جو تنازعات اور سماجی ومعاشی جھٹکوں سے پاک ہو اور دوسری طرف سامان، خدمات، سرمایہ کاری اور نئے کاروباروں کے لئے وسیع مارکیٹ قائم کریں۔
ہم امن اور دوستی،اعتماد اور اچھی ہمسائیگی کو مضبوط بناتے ہوئے دو طرفہ تعاون کو وسعت دیتے ہوئے،ایسی واضح تعمیری پالیسی بنائیں جو دونوں خطوں کی تمام ریاستوں کے مشترکہ مفادات کے مطابق ہو۔ہم مستحکم تجارتی،اقتصادی،ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی بندھن قائم کرنے کی حمایت کریں جو ہمارے ملکوں اور اس سارے وسیع خطے کی مزید ترقی کی راہ ہموار کرے۔ہم بامقصد ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ ہم معیشتوں کی ڈیجیٹلائزیشن،ای کامرس کے فروغ اور نئی چیزیں متعارف کرواکر اپنا تعاون مضبوط بنائیں۔
صدر ازبکستان نے کہا کہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان عملی رابطے کے لئے اسلامی جمہوریہ افغانستان مرکزی رستوں میں سے ایک ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری بین العلاقائی شراکت اس ملک میں امن واستحکام کے قیام اور معیشت کی بحالی کا اہم سبب ہوگی۔افغانستان آج اپنی حالیہ تاریخ کے اہم موڑ پر ہے۔ہمیں یقین ہے کہ عقلمند افغان عوام قومی اتفاق رائے کے حصول کی خاطر سمجھوتے کے لئے اپنی آمادگی ظاہر کریں گے۔افغان سرزمین پر دیرینہ مطلوب امن کے نام پر تنازعے کے سیاسی حل کے لئے عالمی برادری کی جامع حمایت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔اس سے افغانستان کی علاقائی سرگرمیوں میں شرکت کے نئے امکانات پیدا ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔ہمارے خطوں کی دیرپا ترقی اور شراکت کی مضبوطی کے لئے سکیورٹی اور استحکام مرکزی شرط ہے۔ہماری سکیورٹی ناقابل تقسیم ہے اور یہ تعمیری مکالمہ اور مشترکہ کوششوں ہی سے یقینی بنائی جاسکتی ہے۔
ہمارا ترجیحی ہدف تجارتی،اقتصادی تعلقات اور دوطرفہ سرمایہ کاریوں کے فروغ کے لیے موافق حالات کارپیدا کرنا ہے۔وسطی اور جنوبی ایشیا میں جدید،مؤثر اور محفوظ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس انفراسٹرکچر قائم کرنا ہے۔ترمذ،مزار شریف،کابل،پشاور ریلوے ہمارے علاقوں کے مکمل رابطے کے نظام میں مرکزی عنصر ہوگا۔اس ریلوے کی تعمیر یقینی بنائے گی کہ دونوں خطوں کے مکمل پوٹینشل سے استفادہ کیا جاسکے اور یہ مختصر ترین روٹ ہوگا جس سے کم وقت اور اخراجات میں جنوبی ایشیا سے تجارتی اشیاء وسطی ایشیا کے ذریعے یورپ اور آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ کے ممالک تک پہنچائی جاسکیں گی اور اس سے دونوں خطوں میں مجموعی طور پر معاشی ترقی ہوگی۔
صدر ازبکستان نے کہا کہ استحکام وسلامتی کو درپیش مشترکہ چیلنجوں اور خطرات سے نمٹنے کی کوششیں مربوط کرنا ہیں۔ہم مل کر دہشتگردی،انتہا پسندی ،بین الملکی جرائم بشمول سائبر سپیس کا زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کرسکتے ہیں۔پہلے قدم کے طور پر ،ہم مشترکہ انسداد منشیات ایکشن پلان تیار کرنے کی تجویز دیتے ہیں جس میں اقوام متحدہ کا منشیات وجرائم سے متعلق دفتر بھی شامل ہو۔ایک اور شعبہ جس میں مربوط کوششیں ضروری ہیں،وہ دہشتگردی کے خطرات کا مقابلہ ہے۔ہم دونوں خطوں کے ماہرین کو لے کر اس پر ایک اجلاس منعقد کرنے کے لئے تیار ہیں۔یہ اجلاس نومبر میں تاشقند میں ہونے والی انٹرنیشنل کانفرنس کی سائیڈ لائن پر ہوسکتا ہے۔یہ کانفرنس وسطی ایشیا میں اقوام متحدہ کی عالمی کائونٹر ٹیرازم سٹریٹیجی پر عملدرآمد کے لئے مشترکہ ایکشن پلان اختیار کیے جانے کے10ویں یوم تاسیس کے موقع پر منعقد ہوگی۔وسطی وجنوبی ایشیا کا تاریخی،تہذیبی معاشرہ،ہمارے ملکوں اور عوام کے ملتے جلتے مفادات وہ مضبوط بنیادیں ہیں جن پر ہم اپنا خوشحال مستقبل تعمیر کرسکتے ہیں۔وقت آگیا ہے کہ یہ محسوس کیا جائے کہ تعاون مضبوط بنائے اور موثر علاقائی رابطوں کے بغیر ہم اپنے ملکوں کو درپیش مسائل پر قابو نہیں پاسکیں گے۔ہمیں مشترکہ پائیدار ترقی اور خوشحالی کے امکانات کے بارے میں واضح بصیرت اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں مل کر وسطی،جنوبی ایشیا اور سارے یوریشیا کو مستحکم ،معاشی طور پر ترقی یافتہ اور خوشحال خطہ بنانا ہے۔
صدراشرف غنی کا خطاب الگ نوعیت کا تھا۔وہ پاکستان کے بارے میں اپنی گلے شکوئوں کی عادت سے یہاں بھی باہر نہیں نکل سکے۔انہوں نے اپنے خطاب میں اچھی ہمسائیگی،تعاون،اعتماد ،رابطہ کاری اور عوام کی خوشحالی کے تمام مقاصد کو سائڈ پر رکھتے ہوئے پاکستان پر الزام تراشی شروع کردی کہ حالیہ دنوں میں10ہزار طالبان پاکستان اور دیگر ملکوں سے افغانستان میں داخل ہوئے ہیں اور یہ کہ پاکستان طالبان کو حملوں سے باز رکھے۔انہوں نے پاکستان کے علاوہ دیگر کسی ملک کا نام نہیں لیا۔انسان جتنی بھی وضع داری اور تحمل کا مظاہرہ کرے ایسے موقع پر خاموش نہیں رہا جاسکتا اس لئے وزیر اعظم عمران خان نے وہیں افغان صدر کو مناسب جواب دے دیا جس کی تفصیلات قومی میڈیا میں آچکی ہیں۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا بجا تھا کہ افغانستان میں بدامنی سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا ہے۔طالبان اپنی مرضی کے مالک ہیں۔ابھی جب ان کو کامیابیاں مل رہی ہیں، امریکہ نیٹو نکل چکے ہیں تو اس موقع پر وہ ہماری بات کیوں سنیں گے؟اس کے علاوہ پاکستان40سال سے30لاکھ افغان مہاجرین کو برداشت کررہا ہے۔صدر اشرف غنی کے پاس ان باتوں کا کوئی جواب نہ تھا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ گلے شکوے اور الزام تراشیاں کرنے والے اپنے شہریوں کو واپس لینے کی بات پر خاموشی اختیار کرجاتے ہیں۔ بہرحال افغان صدر کی طرف سے اس طرح کی باتیں پاکستان کے لئے تو تکلیف دہ تھیں ہی ساتھ ہی انہوں نے میزبان ملک کی قیادت کو بھی امتحان میں ڈال دیا۔ازبک صدر شوکت افغان صدر کو ساتھ لے کر وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ بیٹھے تھے مگر افغان صدر نے موقع دیکھا نہ ازبک صدر کی دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت کی خواہش کا کوئی احترام کیا۔بعد میں ہم نے کوریج کے لئے آئے غیر ملکی صحافیوں سے تبادلہ خیال کیا تو ان کی رائے بھی یہی تھی کہ یہ موقع ایسی باتوں کا نہیں تھا۔
افغانستان کے صدر اشرف غنی کی طرف سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں شورش سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور اس کے نتیجے میں گزشتہ 15سال میں پاکستان میں دہشت گردی سے70 ہزار سے زیادہ افراد شہید ہوئے، پاکستان کی معیشت متاثر ہوئی جو اب بحال ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے پاکستان سے زیادہ کوشش کسی نے نہیں کی، افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرنا غیرمنصفانہ ہے، میں نے کابل کا دورہ کیا، اگر میری امن میں دلچسپی نہ ہوتی تو میں کابل کا دورہ کیوں کرتا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال 2 دہائیوں کا تنازعہ اور گہری تقسیم کا نتیجہ ہے، افسوس کی بات ہے کہ امریکا نے اس کا فوجی حل تلاش کرنے کی کوشش کی جو اس کا حل نہیں تھا۔ افغانستان میں ایک لاکھ 50 ہزار نیٹو فوجیوں کی موجودگی وہ وقت تھا جب طالبان کو مذاکراتی میز پر آنے کی دعوت دی جاتی، اب وہ ہماری بات کیوں مانیں گے جب طالبان سمجھتے ہیں کہ انہیں کامیابی ملی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں امن اور سیاسی عمل کو تقویت دینے کے لئے پاکستان، ازبکستان اور تاجکستان مل کر کام کریں گے اور اس مقصد کے لئے انہوں نے ازبکستان کے صدر سے تبادلہ خیال کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں پہلے ہی تین ملین افغان پناہ گزین ہیں اور وہ افغانستان کی کسی صورتحال کے نتیجے میں مزید مہاجرین کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔
وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی میڈیا کے ایک سوال کا جواب بھی انہی پر الٹ دیا ۔بھارتی صحافی نے سوال کیا کہ جہاد اور مذاکرات ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟کیا یہ دو طرفہ اعتماد سازی میں رکاوٹ نہیں؟اس پر وزیر اعظم نے صحافی کو یہ کہہ کر خاموش کروادیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ آر ایس ایس کا مائنڈ سیٹ ہے۔بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر بھی کانفرنس میں شریک تھے۔ان کے ساتھ راقم الحروف نے بات کی اور چونکہ جنوبی ایشیا کے ساتھ رابطے میں بھارت کا بھی اہم کردار ہے تو ان سے پوچھا کہ آپ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں رابطے کے متعلق کیا سوچتے ہیں؟اس پر جے شنکر نے کوئی جواب دینے کی بجائے دریافت کیا کہ آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟راقم الحروف نے جواب دیا پاکستان سے۔یہ سنتے ہی جے شنکر کے لبوں پر موجود ہلکی سے مسکراہٹ غائب ہوگئی اور اس کی جگہ سردمہری نے لے لی اور وہ یہ کہتے ہوئے دوسری طرف نکل گئے کہ میں کانفرنس میں تقریر کروں گا وہ آپ سن لیجئے گا۔جے شنکر نے کانفرنس کی سائڈ لائنز پر اشرف غنی کے ساتھ ملاقات کی اور انہیں بھارت کی طرف سے حمایت کا یقین دلایا۔حالات وواقعات سے صاف ظاہر ہوچکا ہے کہ یہ دونوں ملک وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان رابطے کی پاکستانی اور ازبکستانی کوششوں میں رخنہ ڈالنے کے لئے کمربستہ ہیں۔کانفرنس 16جولائی کو ہوئی اور افغانستان نے اس سے دو دن پہلے اور ایک دن فوراً بعد ایسے اقدامات کیے جن سے ثابت ہوا کہ اشرف غنی کھلے دل اور دماغ کے ساتھ کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے۔پاکستان افغانستان پر امن کانفرنس کی تیاری کررہا تھا جس کو افغان حکومت نے ملتوی کرنے کا مطالبہ کردیا جبکہ کانفرنس کے اگلے ہی روز افغان سفیر کی بیٹی کی گمشدگی والا معاملہ سامنے آگیا جس کے بعد افغانستان نے سفارتی عملہ واپس بلالیا۔دونوں خطوں میں رابطہ صرف پاکستان اور ازبکستان کے مفاد میں نہیں خود افغانستان اور بھارت بھی اس سے بہت زیادہ مستفید ہوسکتے ہیں لہٰذامناسب ہوگا کہ یہ دونوں ملک مشترکہ مفاد والے کام میں ہاتھ بٹائیں۔ ||


مضمون نگار ایک اردو اخبار کے ایڈیٹر ہیں اور ایک انگریزی میگزین بھی شائع کرتے ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 142مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP