ماحولیات

وسائل کا انتہائی محتاط استعمال اور زیرو ویسٹ سسٹم

زیرو ویسٹ مینجمنٹ درحقیقت ایک ماحول دوست سسٹم ہے جس کا مقصد اپنے سیارے کے لیے ایک صحتمندانہ ماحول پیدا کرنا ہے۔ اور اس مقصد کے حصول کے لیے نہ صرف بیکار اشیا کی مقدار کو کم کرنا ہے بلکہ قدرتی وسائل کا استعمال انتہائی محتاط انداز سے کرنا ہے تاکہ قدرتی وسائل کو ختم ہونے سے بچایا جا سکے۔ اگر قدرتی وسائل ختم ہو جائیں تو ہماری زندگیاں مصنوعی وسائل پر منحصر ہو کر رہ جائیں گی ، جن کے ماحول دشمن ہونے میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے۔ مصنوعی وسائل پیدا کرنے کے لیے بھی قدرتی وسائل کا استعمال ضروری ہوتا ہے۔ لہٰذا اپنی زمین اور قدرتی وسائل کا استعمال انتہائی محتاط انداز سے کرنا بہت ضروری ہے۔
قدرتی وسائل وہ وسائل ہیں جو فطرت میں بغیر کسی انسان کی مدد کے پائے جاتے ہیں۔  قدرتی طور پر پائے جانے والا کوئی بھی مادہ قدرتی وسائل کے طور پرجاناجاتا ہے، بشمول جانور، پودے، پانی، تیل، کوئلہ، معدنیات، لکڑی، زمین، روشنی، مٹی اور توانائی۔قدرتی وسائل قابل تجدید (Renewable)یا ناقابل تجدید (Non-Renewable)ہوسکتے ہیں:
 قابل تجدید(Renewable) وسائل سے مراد ناقابلِ کمی مادہ ہے، جیسے شمسی اور ہوا کی توانائی، بائیوماس توانائی، اور پانی سے پیدا کی جانے والی بجلی۔
 غیر قابل تجدید وسائل(Non-Renewable )سے مراد وہ وسائل ہیں جو قدرتی طور پر بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مناسب رفتار سے دوبارہ نہیں مل سکتے۔  غیر قابل تجدید وسائل میں پانی، فوسل فیولز، قدرتی گیسز، معدنیات اور جوہری توانائی شامل ہیں۔
قدرتی وسائل کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟
انسان اپنی بقا کے لیے قدرتی وسائل پر انحصار کرتے ہیں، لیکن تمام قدرتی وسائل قابل تجدید نہیں ہوتے۔ ہم جو خوراک کھاتے ہیں، ہوا جس میں ہم سانس لیتے ہیں، اور جو پناہ گاہ ہم بناتے ہیں وہ سب قدرتی وسائل سے حاصل ہوتے ہیں، لہٰذا ہمیں زمین اور انسانیت دونوں کی صحت اور لمبی عمر کی حوصلہ افزائی کے لیے جو کچھ ہمارے پاس ہے اسے بچانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ انسانی سرگرمیاں بنیادی طور پر غیر قابل تجدید وسائل جیسے فوسلز فیول کا استعمال، موسمیاتی تبدیلی میں بڑے پیمانے پر اضافے کی ذمہ دارہیں۔ اپنے قدرتی وسائل کو محفوظ رکھ کر ہم گرین ہائوس گیسزکے اخراج کو کم کر سکتے ہیں اور اپنے قدرتی ماحول پر زیادہ مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔
  وسائل کا محتاط استعمال کرنے  کے لیے ہمیں زیرو ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کو اپنانا ہوگا جو کہ اس سیارے پہ رہنے والے ہر انسان پہ فرض ہے تاکہ یہ دنیا رہنے کے لیے ایک بہترین جگہ بن سکے ۔ زیرو ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کو بروئے کار لانے کے لییبہت سے طریقے ہیں لیکن اگر ہم مندرجہ بالا تین اصولوں پر عمل پیرا ہو جائیں تو ہم اپنے ماحول کو بہتر بنا سکتے ہیں ۔
-کم کرنا (Reduce)
-بار بار استعمال کرنا (Reuse)
-استعمال شدہ اشیاء سے تخلیق کرنا(Recycle)
کم کرنا (Reduce)
کم کرنے سے مراد ہے کہ اپنی ضروریات کو کم کرنا تاکہ کم سے کم چیزیں ضائع ہوں پوری دنیا میں پلاسٹک کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے اور کم قیمت ہونے کی وجہ سے اس کا بلاجھجک اور بے دریغ استعمال ہو رہا ہے اور یہ ماحول کے لییسب سے خطرناک میٹیریل ہے ۔ دیہات میں چولہے میں آگ جلانے سے لے کر ہر چیز کی پیکجنگ میں پلاسٹک استعمال ہو رہا ہے ، گھر ، دفاتر ، عوامی جگہوں غرض کہ ہر جگہ پلاسٹک کا استعمال ہے۔، سب سے پہلے تو پلاسٹک اور ایسے دوسرے نقصان دہ میٹیریلز کا استعمال کم کرنا چاہیے اور اس کی جگہ مضبوط اور دیرپا میٹیریل استعمال کرنے چاہیے تاکہ کم مگر معیاری خریداری کو ممکن بنایا جا سکے ۔ حکومتی اور صنعتی پیمانے پہ اس پر کام ہونا چاہیے ، اس کی پیداوار اور ڈیزائننگ کے لیے قانون سازی ہونی چاہیے تاکہ اس قسم کے مٹیریل کی مصنوعات کی ڈیزائننگ ایسی ہو جو استعمال کے بعد زیرو ویسٹ مینجمنٹ کے اصولوں پر پوری اتر سکے ۔ جس حد تک ممکن ہو ماحول دوست میٹیریلز کو زیرِ استعمال لایا جائے اور اتنی ہی خریداری کی جائے جتنی ایک وقت میں ضرورت ہو، ورائٹی کے نام پہ ضرورت سے زائد اشیا خرید کر ماحول پر اضافی ویسٹ کا بوجھ نہ لادا جائے ، ایسا کرنے سے نہ صرف ماحول پہ مثبت اثر پڑے گا بلکہ انفرادی طور پہ بھی لوگوں کی صحت پہ اچھا اثر پڑے گا ، کیونکہ یہ نقصان دہ  میٹیریلز مضرِ صحت گیسوں کا ماحول میں اخراج کرتے ہیں ۔
پانی کم استعمال کرنا
 اپنے دانتوں کو برش کرتے وقت نل کو بند کرنے سے آپ کے گھر میں پانی کا ضیاع کم ہو سکتا ہے۔ باورچی خانہ اوردھلائی  کے لیے مشینوں کا استعمال انتہائی ضرورت کے وقت کریں۔ توانائی بچانے والے آلات کا استعمال کریں۔
  غیر ضروری لائٹس بند کرنا
 کمرہ چھوڑنے کے بعد لائٹ، پنکھا ، اے سی اور ٹیلی ویژن بند کردیں۔  پورٹیبل ایئر کنڈیشنرز، ٹوسٹرز اور کافی بنانے والے آلات جب استعمال میں نہ ہوں تو ان کو اَن پلگ کریں کیونکہ وہ تھوڑی مقدار میں بجلی استعمال کرتے رہتے ہیں۔ مزید برآں، LED لائٹ بلب کو معیاری بلبوں کے مقابلے میں بہت کم واٹ کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے روشنی کے اس متبادل طریقے پر جانے سے وسائل کو بچانے میں بھی مدد مل سکتی ہے ۔ہیٹنگ اور ایئر کنڈیشنگ آپ کے توانائی کے بل کا تقریباً نصف حصہ بناتے ہیں لیکن سردیوں میں گرمی کو صرف دو ڈگری تک کم کرنے سے آپ کے گھر میں توانائی کو بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔ گرمیوں میں تھرموسٹیٹ کو دو ڈگری تک بڑھانے سے بھی توانائی کی بچت کے اثرات مرتب ہوں گے اور آپ کے ماہانہ بل کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
بار بار استعمال کرنا(Reuse)
 بار بار استعمال کرنے سے مراد زیرو ویسٹ مینجمنٹ کا وہ اصول ہے جس کے تحت اشیائے ضرورت کو ایسے ڈیزائن پہ تیار کرنا ہے جو ایک سے زیادہ کاموں کے لیے زیرِ استعمال  آسکیں یا ان کے life span کو اس طرح بڑھا دیا جائے کہ وہ ایک لمبے عرصے تک استعمال کی جا سکیں بجائے اس کہ انہیں ناکارہ بنا کر پھینک دیا جائے ، جیسا کہ  استعمال شدہ کپڑوں کو پھینکنے کے بجائے اسے کسی ضرورت مند کو دے دینا، یا سوڈا واٹر کی بوتلوں کو پانی بھرنے کے لیے استعمال کرنا، یا ان بوتلوں کو پودوں کو پانی دینے کے لیے استعمال کرنا، پرانے اخبار کو پیکجنگ کے لیے یا کسی اور کام کے لیے استعمال کرنا، پرانے کپڑوں کو فرش پہ بچھانے والی چٹائی (rug) کی صورت استعمال کرنا۔ یوں کسی ایک ہی چیز کے بار بار استعمال سے اس کا life cycle بڑھ جاتا ہے اور اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ recycling کی نسبت اس میں انرجی اور ریسورسز کا استعمال بہت ہی کم ہوتا ہے ۔یہ عمل زیرو ویسٹ سسٹم کو sustainable بناتا ہے یعنی ماحول کے لیے قابلِ برداشت اور موافق بناتا ہے ۔  
قابلِ تجدید توانائی کا استعمال
 قابل تجدید توانائی خود کو بھرتی ہے اور ہماری ضرورت کو کم کرتی ہے۔ سولر پینلز یا ونڈ انرجی کا استعمال قدرتی گیس پر ہمارے انحصار کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے اور وقت کے ساتھ وسائل کی کمی کوبھی کم کر سکتا ہے۔
 اس طریقے سے حاصل ہونے والی معاشی ترقی کی وجہ سے قدرتی وسائل کی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ایک سوتی ٹی شرٹ بنانے میں 600 گیلن سے زیادہ پانی لگ سکتا ہے۔  سیکنڈ ہینڈ کپڑے خریدنا، کپڑوں کی مقدار کو کم کر سکتا ہے جو اس کے لائف سائیکل کو بڑھا کر لینڈ فلز میں ختم ہوتا ہے جس سے ضرورت سے زیادہ پیداوار اور مینوفیکچرنگ کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔
استعمال شدہ اشیاء سے دوبارہ تخلیق کرنا(Recycle)
استعمال شدہ اشیاء کو جب بار بار استعمال کرنے کے بعد ان کی زندگی ختم ہو جاتی ہے اور ان کو بالکل ناکارہ سمجھ کر پھینکنے کے بجائے ایک اور ماحول دوست عمل سے گزارا جا سکتا ہے جسے ری سائیکلنگ (recycling) کہا جاتا ہے۔ ری سائیکلنگ وہ عمل ہے جس میں ایک استعمال شدہ چیز کو پھر سے خام حالت میں تبدیل کر کے اس سے کوئی نئی چیز تخلیق کرنا ہے ، جیسا کہ پلاسٹک کی اور شیشے کی خالی بوتلوں اور ڈبوں کو توڑ پھوڑ کہ خام حالت میں لایا جاتا ہے اور ان سے پلاسٹک اور شیشے کی مختلف مصنوعات بنائی جاتی ہیں ، یہ عمل زیادہ تر صنعتی پیمانے پہ ہوتا ہے لیکن انفرادی سطح پہ بھی چیزوں کو ری سائیکل کرنے کے بہت سے طریقے موجود ہیں ۔ گو کہ یہ کافی محنت طلب کام ہے جس میں انرجی اور ریسورسز کو زیرِ عمل لایا جاتا ہے لیکن اگر ان اشیاء کو ری سائیکل نہیں کیا جائے گا تو ان کو زمین میں دبایا جائے گا یا پھر کسی ساحل کے کنارے یا پانی میں پھینکا جائے گا جو کئی جانداروں کی اموات کا سبب بنے گا اور اگر اسے جلایا جائے تواس سے ماحول میں کاربن مونو آکسائیڈ اور دیگر زہریلی گیسوں کا اخراج ہوگا جس کی وجہ سے فضا میں موجود اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچے گا اور ہمیں سموگ جیسی ناموافق اور نقصان دہ چیزوں کا سامنا کرنا پڑے گا جو ہمارے ماحول کو آلودہ کرنے میں پیش پیش ہو گی۔
  کھاد
 کھاد بنانا آپ کے کھانے کے سکریپ کو آپ کے گھر کے باغ کے لیے مفید مواد میں تبدیل کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ کھاد آپ کی مٹی کو افزودہ کرتی ہے اور بہائوکو بہتر بنا کر پانی کی ضرورت کو کم کرتی ہے، جس سے مٹی کا کٹائو کم ہوتا ہے۔  کمپوسٹنگ فائدہ مند حیاتیات کو بھی راغب کرتی ہے جو کیڑے مار ادویات یا نقصان دہ کیمیکلز کی ضرورت کو کم کرتی ہے۔  کمپوسٹنگ پائیداری کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور کھانے کے فضلے سے پیدا ہونے والے فضلہ اور آلودگی کی مقدار کو کم کر سکتی ہے-
  پس وسائل کو بچانے  کے لیے زیرو ویسٹ مینجمنٹ کے حتمی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکتا ہے اور اپنے سیارے کو ایک صحتمندانہ ماحول بھی مہیا کیا جا سکتا ہے۔


مضمون نگار مختلف موضوعات پر لکھتی ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 96مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP