متفرقات

وزیرستان کے ایک بزرگ شہری کی آخری خواہش

جناب جنرل راحیل شریف صاحب

میری عمر تقریباً 98 سال ہے۔ زندگی میں بہت نشیب و فراز دیکھے۔ جوان بیٹوں اور نواسوں کی غیرفطری موت سے لے کر پاکستان بنتے بھی دیکھا اور ایک بازو ٹوٹتے ہوئے بھی دیکھا۔ میں عمر کے اس حصے میں ہوں کہ اب موت کے علاوہ کسی چیز کی خواہش نہیں رہی۔ میں ابھی بھی دیکھ سکتا ہوں‘ سُن سکتا ہوں‘ مگر نہ لکھ پڑھ سکتا ہوں اور نہ چل پھر سکتا ہوں۔ میں بی بی سی ریڈیو اور ریڈیو پاکستان کو سن کر ملک کے حالات سے آگاہی حاصل کرتا ہوں۔ اپنے نواسے کے ہاتھ میں افواجِ پاکستان کے رسالے (ہلال) میں اپنے نئے سپہ سالار کی تصویر دیکھی‘ خوشی بھی ہوئی اور رویا بھی۔ وجہ یہ تھی کہ آپ ہی کے قد کاٹھ اور دبنگ شخصیت کے مالک اپنے بیٹے کی یاد آئی جو سعودی عرب میں ایک حادثے میں جاں بحق ہوئے۔ میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ آپ سے بات کروں ۔ لہٰذا اپنے نواسے جو کہ بنوں میں زیرِ ملازمت ہے سے حالِ دل بیان کررہا ہوں تاکہ وہ زیرِ قلم لا کر آپ تک پہنچا سکے۔ شاید اُس وقت آپ کی پیدائش نہیں ہوئی ہوگی جب میں کاروبار کے سلسلے میں افغانستان کے صوبے غزنی جایا کرتا تھا۔ میں افغانیوں کے بہت قریب رہاہوں۔ یہ اچھے دوست بھی ہیں اور خطرناک دشمن بھی۔ لیکن وہ زیادہ عرصے تک کسی کے دوست نہیں رہ سکتے۔ البتہ دشمن رہ سکتے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اپنے پڑوسیوں سے دوستی کم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانیوں کی دشمنیاں پڑوس میں زیادہ ہوتی ہیں۔ میں نے افغانستان میں رہ کر ایک بات بڑی شدت سے محسوس کی کہ وہ پاکستان دشمنی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔آپریشن ضربِ عضب میں جہاں اہلِ وزیرستان کو کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہاں کچھ لوگوں نے آپریشن کی وجہ سے گھروں میں آنے کے لئے خوست کے راستے کو اختیار کیا۔ شمالی وزیرستان ‘ رزمک اور اس کے گردونواح کے کچھ رہائشی عید کے لئے میرعلی میں جاری آپریشن کی وجہ سے خوست کے راستے دوبارہ پاکستان میں کرم ایجنسی سے داخل ہوئے۔ یہ انہوں نے اپنی سہولت اور حفاظت کو زمین میں رکھ کر کیا۔تاہم اصل بات یہ ہے کہ افغانی حسبِ توقع اُن کو پاکستان کے خلاف متنفر کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ ان کو بتایا جا رہا ہے کہ ہم پختونستان بنا کر دنیا کو فتح کرسکتے ہیں اور یہ کہ پنجاب کو درمیان سے نکال کر ہم اچھے پڑوسی ہو سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ‘ ان میں میرے چند رشتہ داروں نے یہ بھی بتایا کہ اس علاقے میں حال ہی میں کچھ بھارتی باشندے بھی دیکھے گئے ہیں۔میرے تجربے کی روشنی میں یہ لوگ وزیرستان میں جاری آپریشن کا ناجائز فائدہ اٹھا کرمعصوم قبائلیوں کے ذہنوں میں زہر بھرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ دہشت گردوں کے خلاف لڑائی کوقبائلیوں یا پشتونوں کے خلاف لڑائی کا رنگ دیا جاسکے۔ آپ ایک عظیم فوج کے عظیم سپہ سالار ہیں۔ اس وقت افواجِ پاکستان ملکی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ باپ اصلاح کے لئے جہاں بیٹوں پرغصہ کرسکتا ہے وہاں وہ بڑا شفیق بھی ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ وقت محبت بانٹنے کا ہے۔ گزشتہ دنوں مجھے بھی میرے نواسے علاج کے لئے براستہ جنوبی وزیرستان ڈیرہ اسماعیل خان لے گئے۔ راستے میں پاک فوج کے جوانوں نے بے پناہ احترام و محبت کا سلوک کیا۔ چیکنگ بھی ہوئی مگر شائستگی کے ساتھ۔ تاہم بہت ساری چیک پوسٹیں ہونے کی وجہ سے کافی دیر لگی۔میری تجویز ہے کہ جب تک میرعلی اور میران شاہ کے گردونواح میں آپریشن جاری ہے۔ شمالی وزیرستان کے وہ لوگ جو رزمک اور ملحقہ علاقوں میں رہتے ہیں ان کو پاک فوج کے بندوبست میں ڈیرہ اسماعیل خان لایا جائے۔ ان لوگوں کی واپسی بھی اسی راستے سے فوج کی حفاظت میں ہو۔ موجودہ حالات میں یہ کام مشکل ضرور ہو گا مگر شاید ناممکن نہیں۔ ویسے بھی پاک فوج نے ہمیشہ ہر کڑے وقت میں اپنے عوام کا ساتھ دیا ہے اور ہم قبائلی تو اپنے ملک اور اپنی فوج پر ہمیشہ فخر کرتے ہیں۔ میری گزارش ہے کہ ہمارے لوگوں کی جنوبی وزیرستان اور دیگر پاکستانی راستوں پر سفر کرنے کے لئے مزید حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔ یہ وقت کا بھی تقاضا ہے اور اس طرح دشمن کی چالوں کو بھی ناکام بنایا جاسکتا ہے میں حالات سے مایوس ہوں مگر ناامید نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی زیرقیادت پاک فوج تمام ملک دشمنوں کو شکست فاش دے گی۔ ہم سب قبائلی آپ کے ساتھ تھے‘ ہیں اور رہیں گے۔ پس تحریر۔ میں یہ خط اپنے نانا جان کی آخری خواہش کے احترام میں ہلال کو بھیج رہا ہوں۔ عید کے تیسرے دن پاکستان اور وزیرستان کا یہ قابل فخر سپوت ایک طویل بیماری کے بعد خالق حقیقی سے جا ملا۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

یہ تحریر 39مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP