متفرقات

وزن گھٹایئے صحت بڑھایئے

میرے اکثر و بیشتر مریضوں کے سوال و جواب یوں ہوتے ہیں میں نے UNمشن پر جانا ہے‘ دو ہفتے میں 15کلووزن کم کرا دیں۔

 

میری شادی میں صرف ایک مہینہ ہے میں نے 15-20کلووزن کم کرنا ہے۔

 

میرا شوہر مجھے طلاق دے دے گا اگر میرا وزن کم نہ ہوا؟

 

میرا منگیتر منگنی ختم کر دے گا اگر میں سلم نہ ہوئی؟

 

لوگ مجھے دیکھ کر ہنستے ہیں آوازیں کستے ہیں کیا میں سلم ہو سکتا/ سکتی ہوں۔

 

میرے بچے نہیں ہیں۔ گائنا کالوجسٹ کہتی ہیں پہلے وزن کم کرو۔

 

بھائی کی شادی ہے میں نے سب سے نمایاں نظر آنا ہے۔ وزن کم کرا دیں

 

اور

میرا جواب ہمیشہ یہ ہی ہوتا ہے کہ میں قصائی نہیں کہ جگہ جگہ سے گوشت کے پارچے کم کر دوں

 

نہ ہی

 

جادو کی چھڑی میرے پاس ہے جو جسم پر پھیرنے سے وزن ہماری خواہش کے مطابق ہو جائے

 

اور نہ ہی

 

میرے ڈائٹ پلان تعویز کا اثر رکھتے ہیں کہ گلے میں لٹکا لینے یا روزانہ زیارت کر لینے سے وزن میں کمی واقع ہو جائے گی۔

وزن کی زیادتی اور موٹاپا ایک گھمبیر مسئلہ کی شکل اختیار کر چکا ہے نہ صرف سماجی مسائل بلکہ وزن کی زیادتی کی بدولت ہونے والی بیماریوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ WHOکے مطابق پاکستان میں تقریباً 26فیصد خواتین اور 19فیصد مرد موٹاپے کا شکار ہیں۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں رہنے والے لوگ بہ نسبت گاؤں اور قصبے میں رہنے والوں کے وزن کی زیادتی کا زیادہ شکار ہیں۔ وزن کی زیادتی اور موٹاپا پوری دنیا کے لئے بہت بڑا پبلک ہیلتھ مسئلہ بنتا جا رہاہے جس کا تعلق ہر عمر‘ جنس اور Socio-Economic حالات سے ہے لیکن اس کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ جن میں شوگر‘ ذیابیطس‘ ہائی بلڈ پریشر ‘کولیسٹرول کی زیادتی‘ ہارٹ اٹیک ‘ شریانوں کا تنگ ہو جانا‘ فالج‘ مختلف قسم کے کینسر جن میں بریسٹ کینسر‘آنتوں کا کینسر‘ جگر کا کینسر‘ خوراک کی نالی کا کینسر اور پروسٹیٹ کینسر وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سانس لینے میں دشواری‘ بانجھ پن‘ ماہانہ ایام میں بے قاعدگی‘ شرمندگی اور تنہائی وغیرہ شامل ہیں۔ موٹاپے کو ناپنے کا طریقہ کار: (BMI) Body Mass Index وہ طریقہ کار ہے جس کی مدد سے آپ جان سکتے ہیں کہ آپ موٹاپے کا شکار ہیں یا نہیں۔ اگر کسی شخص کا (BMI) 25یا اس سے زیادہ ہے تو وہ موٹاپے کا شکار ہے۔ موٹاپے کی وجوہات: وزن کی زیادتی کی سب سے بڑی وجہ توانائی یا کیلوریز کا زیادہ حصول اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی کے باعث فالتو کیلوریز کا جسم میں چربی کی صورت میں جمع ہونا شامل ہے۔ یعنی imbalance of energy intake & Output ایسی غذاؤں کا انتخاب جو زائد مقدار میں توانائی یا کیلوریز پہنچاتی ہوں (مٹھائی‘ کولڈ ڈرنکس‘ تلی ہوئی اشیاء) جسمانی سرگرمیوں کا انتہائی کم ہونا‘ (بیٹھ کر پڑھنا‘ لکھنا‘ ٹی وی دیکھنا‘ کمپیوٹر پر کام کرنا) یا کسی بیماری کے باعث کم چلنا پھرنا۔ بعض اوقات بہت زیادہ سماجی سرگرمیاں اور ملنا ملانا بھی وزن کی زیادتی کا باعث بنتا ہے۔ مختلف پارٹیز‘ پکنک پر کھانے پینے کااہتمام بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ ایسی خوراک جو غذائیت میں کم اور کیلوریز میں زیادہ ہو جیسے مشروبات کا بے جا استعمال‘ حمل کے دوران وزن کا بے تحاشہ بڑھ جانا‘ بعض اوقات حمل کو ایک بڑا مسئلہ سمجھ کر لیا جاتا ہے۔ حمل کے آغاز سے ہی خوراک میں بے جا اضافہ زیادہ کیلوریز والی خوراک کا بے حد اضافہ کم جسمانی سرگرمی بھی وزن میں بے تحاشہ زیادتی کا باعث بنتی ہے جس کی بدولت پیچیدگیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ جبکہ دوران حمل 300 کیلوری روزانہ کی اضافی ضرورت ہے اس کے برعکس مفروضہ یہ ہوتا ہے کہ کھانا دگنا کر دیں۔ سونے جاگنے کے اوقات میں بے قاعدگی: قدرت نے رات آرام اور دن کام کے لئے بنایا اور اسی بنیاد پر ہمارے جسم میں ہارمونز کا اخراج بھی ہوتا ہے۔ بعض اوقات دیر سے سونے اور دیر سے جاگنے سے ہارمونل بے قاعدگی کے باعث بھی وزن کی زیادتی ممکن ہے۔ رات کو جاگنے والے وقفے وقفے سے کچھ نہ کچھ کھاتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات ہارمونل imbalanceکی وجہ سے میٹھا کھانے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔ مختلف قسم کی ادویات کی بدولت وزن کی زیادتی: بعض اوقات شوگر کی ادویات جن میں انسولین Antidepresant Steroids,Birth control pills کے باعث بھی وزن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ موروثیت: وزن کی زیادتی میں موروثیت کا بھی بہت حد تک عمل دخل ہے لیکن بعض اوقات موروثیت تنہا نہیں بلکہ بہت سے دیگر عوامل جن میں زیادہ خوش خوراک بھی شامل ہے۔یا پھر بعض اوقات جسم توانائی کو خرچ کم کر رہا ہوتا ہے اور چربی کی صورت میں جمع زیادہ کر رہا ہوتا ہے۔ عمر: موٹاپا کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے۔ لیکن جوانی میں ہارمونل تبدیلی اور کم جسمانی سرگرمیاں اس کا سبب بنتی ہیں۔ عمر کے ساتھ ساتھ جسم میں Muscullar Tissues کم ہو جاتے ہیں اور کم مسلز کے باعث میٹابولزم آہستہ ہو جاتا ہے۔ سماجی اور معاشی محرکات ایسی جگہیں کم ہونا یا نہ ہونا جہاں جسمانی سرگرمیاں مثلا کھیل کود‘ جاگنگ وغیرہ کی جا سکے۔ ایسی خوراک کا انتخاب کرنا جو غذائیت سے زیادہ آپ کو تسکین فراہم کرے۔ یہ بھی ایک Leading Causeہے۔ بہت زیادہ میل جول‘ پارٹیوں کے اہتمام سے اور وہ لوگ جن کی قوت خرید بہت اچھی ہوتی ہے ان کے لئے چیزوں کا حصول مشکل نہیں ہوتا غذائی بے قاعدگیاں اور بے اعتدالیاں بھی موٹاپے کا سبب بنتی ہیں۔ تنہائی: بعض لوگ جب تنہا ہوتے ہیں تو کھاتے رہتے ہیں اور بعض اوقات وزن کی زیادتی کے شکار افراد معاشرتی طور پر بہت تنہا ہو جاتے ہیں میل جول کم کر دیتے ہیں زیادہ لوگوں میں جانا پسند نہیں کرتے۔ اور نتیجتاً کھانے میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ ڈپریشن: بعض لوگ ڈپریشن میں بالکل نہیں کھا سکتے۔ اس کے برعکس کچھ لوگوں کی کھانے کی مقدار ڈپریشن میں بہت بڑھ جاتی ہے۔ Anxity or depressionکی صورت میں Antidepresant سے نیند زیادہ آتی ہے اور جسمانی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہیں۔ پچھلے ہفتے میرے پاس کلینک میں ایک خاتون آئیں جن کا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا اور وزن تقریباً 141kg تھا‘ بات کرنے میں دشواری اور وزن کی زیادتی کے باعث بار بار آنسو نکل رہے تھے۔ گزشتہ تین سالوں سے Antidepresant ادویات کے باعث یا کھاتی تھیں یا ٹی وی دیکھتی تھیں یا سوتی تھیں۔ اور چلنا پھرنا صرف باتھ روم تک محدود تھا۔ اس حد تک کہ والدہ اس کاخیال رکھ رہی تھیں۔ ایک Care Taker ہر وقت بوتل کے جن کی طرح ان کی فرمائش پر ’’چیز حاضر ہے جناب‘‘ کی تصویر تھیں ان خاتون کو مجھ تک لانے والی ان کی سات سالہ بیٹی تھی۔ دوسروں کی مثال ہی ہمارے لئے کافی ہونی چاہئے نہ کو خود کو ایسی مثال بنائیں۔ وزن کم کیسے کیا جائے؟

خوراک میں ردوبدل کے ذریعے

 

جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ

 

ادویات

 

سرجری

خوراک میں ردوبدل دنیا کی کوئی سائنس ایسی نہیں کہ آپ خوراک میں ردوبدل کے بغیر وزن کم کر لیں۔ مارکیٹ میں مختلف قسم کے معجون‘ پھکیاں‘ کیپسول‘ عرقیات کے بنانے والے دعویدار ہیں کہ آپ سب کچھ کھائیں اور ان کے معجون پھکی کے استعمال سے وزن کم ہو جائے گا۔ یقین جانیے وزن کم کرنے کا انتہائی سادہ اور آسان نسخہ ہے۔\" \"Eat & Consume (کھائیں اور توانائی خرچ کریں) جب بھی آپ زندگی میں شارٹ کٹ میں جاتے ہیں کامیابی مشکوک ہوتی ہے۔ کیونکہ اکثر شارٹ کٹس کے آگے ’’راستہ بند ہے‘‘ کا بورڈ لگا ہوتا ہے۔ آج ہر گلی‘ محلہ چوک ٹی وی انٹرنیٹ ہر جگہ آپ کو وزن کم کرنے کے دعویدار ملیں گے انٹرنیٹ پر مختلف Fad Dietsجن میں Atkin\'s diet, Seven day\'s diet plan, Bouana dietاورGrape fruit diet شامل ہیں۔ یہ ڈائٹ اور وہ ڈائٹ لیکن نتیجہ کیا ہوتا ہے ہم اپنے جسم کا صحت مند وزن جو Musclesہیں یعنی ہم مسلز کم کر دیتے ہیں اور چربی جسم میں ہی storeرہتی ہے۔ ایک اصول بنائیے صحت کے ساتھ وزن کم کرنا ہے آہستہ آہستہ ۔ خوراک منتخب کرتے وقت خیال رکھیں کہ خوراک مناسب ہو۔ اناج میں جو گندم‘ مکئی‘ چھلکوں یا چھان سمیت استعمال کریں۔ خالص گندم کا آٹا چھان سمیت +اضافی چھان شامل کریں۔ اس کی بدولت پیٹ بھرنے کا احساس جلد اور دیر تک رہے گا اور Branمیں شامل وٹامنز آپ کے لئے بہترین ہیں۔ چھلکوں والی دالیں منتخب کیجئے اس سے کیلوریز کی آدھی مقدار رہ جائے گی جبکہ غذائیت دگنی ہو جائے گی۔ کچی سبزیاں بطور سلاد ضرور استعمال کریں۔ اپنی پلیٹ کا بڑا حصہ سلاد اور باقی سالن کے لئے رکھیں۔ بار بار تھوڑا کھانا لینے کے بجائے ایک ہی بار کھانا لیجئے۔ تاکہ پیٹ بھرنے کا احساس ہو ۔ پھل قدرتی طور پر وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے مختلف موسموں میں مختلف رنگ اور ذائقے کے پھل دیئے ہیں جن میں وٹامنز پیک (Pack) ہوتے ہیں اور کم سے کم ضائع ہوتے ہیں۔ ایک ہی پھل کا زائد استعمال آپ کو ایک جیسے وٹامنز دے گا۔ موسمی پھلوں کو ردوبدل کے ساتھ استعمال کرنے سے مختلف قسم کی غذائیت ملتی ہے۔ گرمیاں اکثر لوگوں کے وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہیں کیونکہ وہ بقول غالب ’’آم ہوں اور عام ہوں‘‘ پر عمل کر رہے ہوتے ہیں۔ تربوز وزن کم کرنے میں معاون ہے۔ گرمیوں میں ناشتہ یا دوپہر کا کھانا تربوز کی صورت میں کریں یہ کم کیلوریز کے ساتھ زیادہ غذائیت دیتا ہے۔ پانی اور Fibreبھی زیادہ ہیں۔ چکنائی اور چینی کا استعمال کم سے کم کریں۔ یقین جانئے اگر ہم صرف چینی اور چکنائی کو کنٹرول کریں تو نہ صرف وزن بہت تیزی سے کم ہوتا ہے۔ بلکہ ہمارا بجٹ بھی بہت متوازن ہو جاتا ہے۔ چکنائی کے ایک گرام میں پروٹین اور کاربوہائیڈریٹ سے دگنی مقدار سے زیادہ کیلوریز ہیں یعنی 9کیلوریز فی گرام شربت‘ تلی اور فرائی کی ہوئی چیزیں یعنی پکوڑے‘ سموسے‘ مٹھائیاں وغیرہ کبھی کبھار کھائی جانے والی خوراک میں شامل کریں۔ گوشت مرغی مچھلی انڈے گوشت میں بغیر چربی کا گوشت منتخب کیجئے۔ گوشت تین سے پانچ اونس روزانہ کھایا جا سکتا ہے۔ اس سے تجاوز نہ کریں۔ ہم نے جہاں ہر چیز کے شارٹ کٹس رکھے ہیں وہاں مرغیوں کو جلد پال پوس کر جوان کرنے کا فارمولا ہمارے ہاتھ آ گیا ہے۔ ہارمونز لگائیں اور دو سے ڈھائی ہفتے میں چوزے سے مرغی تیار اس سے ہمارے بچوں میں ہارمونل بے قاعدگی(Harmonal disorder) کے مسائل بہت بڑھ گئے ہیں‘ چہرے پر بالوں میں اضافہ‘ ماہانہ ایام میں بے قاعدگی اور بانجھ پن بہت بڑھ گیا ہے۔ مارکیٹ میں تیار چکن کے کباب‘ نگٹس اور چپل کباب وغیرہ نے زندگی آسان کرنے کے ساتھ ساتھ کٹھن بھی کر دی ہے۔ خدا کے واسطے ان کمرشل کھانوں کا استعمال کم سے کم کیجئے۔ تاکہ آپ کو اور اپنے بچوں کو ان کی بدولت ہونے والی مشکلات سے بچا سکیں۔ بیکری کی اشیاء پیزا‘ پیسٹری‘ نمکو‘ مٹھائیاں: ان تمام چیزوں کو کبھی کبھار کی خوراک کی کیٹیگری میں ڈالیں۔ یقین جانیے مٹھائیوں میں میدہ‘ چینی اور آئل کاCombination (امتزاج) اتنی Saturated Caloriesکا کمبی نیشنبنتا ہے کہ ایک گلاب جامن ہمیں ایک کھانے پر بھاری پڑتی ہے۔ گلاب جامن جس کے کھانے سے داڑھ بھی گیلی نہیں ہوتی اور خرابی صحت کا باعث بنتی ہے۔ مشروبات: فوڈ کلرز‘ چینی اور Syntheticکے مجموعے کو ہم جوسز کا نام دیتے ہیں کبھی ایک لیٹر والے جوس کی قیمت میں جس سے 4گلاس جوس نکلتا ہے‘ کو کیلکولیٹ کریں۔ ایک کلو سیب سے جو دو سے ڈھائی سو روپے کلو ہے ایک گلاس کے لئے تقریباً 4-5سیب درکار ہوتے ہیں اور ایک کلو سیب سے ڈیڑھ سے پونے دو گلاس جوس نکلتا ہے۔ کمرشل جوسز کی مینوفیکچرنگ پیکنگ‘ ایڈورٹائزمنٹ‘ پھر ہم تک پہنچتا ہے۔ ایک گلاس تازہ جوس کی قیمت میں 4گلاس ڈبے والے جوسز۔ خدارا صحت کا خیال رکھیں یہ خدا کی اتنی بڑی دولت ہے جسے زبان کے ذرا سے ذائقے کی تسکین نہیں چڑھایا جا سکتا۔ میری ہسپتال کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں سے تین ICU اور تین سرجیکل وارڈ شامل ہیں۔ میں روزانہ زندگی ‘ موت اور موت اور زندگی کے دوران سلگتی زندگی دیکھتی ہوں۔ وزن کی زیادتی کے باعث ذیابیطس کے شکار لوگ جو فالج زدہ ہو کر ہل بھی نہیں سکتے‘ ان کے اپنے بھی انہیں کروٹ تک نہیں دلا سکتے۔ بعض اوقات شوگر کی بدولت گینگرین ہو جاتی ہے اور پاؤں اور ٹانگ تک کٹوانی پڑتی ہے۔ مقصد آپ کو خوفزدہ کرنا نہیں حقیقت بتانا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جابجا دنیا کی چیزوں کی جنت اور دوزخ سے مثال دی ہے۔ جیسے جنت کی خوراک میں دودھ‘ شہد‘ انگور‘ کھجور ‘ زیتون وغیرہ اور دوزخ کی مثال آگ سے دی ہے۔ تاکہ ہم ان ذائقوں سے آشنائی کی بدولت جنت کی اہمیت اور آگ کی تپش کی بدولت دوزخ کا تصور سمجھ سکیں۔ سارا فلسفہ اسی میں ہے۔ میں یہ حدیث پہلے بھی لکھ چکی ہوں کہ اپنے معدے کو تین حصوں میں تقسیم کرو۔ ایک حصہ کھانا‘ ایک حصہ پانی‘ ایک حصہ سانس کے لئے۔ جس دن اس پر عمل ہو گیا ہم وزن کی زیادتی اور اس سے ہونے والی بیماریوں سے بچ سکیں گے۔ سب کچھ کھائیں مگر اعتدال کے ساتھ۔ کسی بھی چیز سے مکمل کنارہ کشی اس کی خواہش کو بڑھا دیتی ہے۔ اگر آپ جسمانی سرگرمیاں بڑھا کر ان کیلوریز کو خرچ کر دیں توبہت تھوڑی مقدار میں لینے میں قطعاً حرج نہیں۔ جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ: اپنے Work Out کو بڑھا کر ہم BMRیا میٹابولزم کو تیز کر سکتے ہیں۔ روزانہ 35سے 40منٹ چہل قدمی کیجئے۔ کوشش کیجئے روزمرہ کے کام اپنے ہاتھ سے انجام دیں۔ ٹی وی کم سے کم دیکھیں۔ ہمارا مسئلہ تو یہ ہے کہ ہم ایکسرسائز کا پروگرام بھی صوفے پر لیٹ کر دیکھتے ہیں۔ کوشش کریں کہ اپنے آپ کو زیادہ جسمانی طور پر مصروف رکھیں تاکہ آپ کی کیلوریز بھی خرچ ہوں۔ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی بدولت اطمینان بھی رہے اور تھکاوٹ کے باعث نیند اچھی آئے گی۔ پانی کا استعمال بہت زیادہ کیجئے: اس کے کئی فائدے ہیں جن میں جسم سے فاسد مادوں کا اخراج ہے جس کے باعث ہمارے Organsزیادہ اچھا کام کرتے ہیں۔ پانی کے استعمال سے پیٹ بھرنے کا احساس بھی رہتا ہے اور کیلوریز بھی نہیں ملتیں۔ کھانا پکانے کے طریقوں میں Modification کیجئے تاکہ غذائیت کو بچا سکیں۔ کھانا Steamکر کے یا بہت کم تیل کے ساتھ پکائیں۔ تلی ہوئی اشیاء‘ نمکو‘ مٹھائیاں کم کریں۔ اس کی جگہ پھل اور سبزیاں منتخب کیجئے۔ اپنے کام خود کریں: اپنے کام اپنے ہاتھ سے کریں۔ کوشش کریں ریموٹ کنٹرول کے بجائے خود اٹھ کر سوئچ آف کریں۔ لفٹ کے بجائے سیڑھیاں استعمال کریں۔ روزانہ 40منٹ چہل قدمی کریں اور آہستہ آہستہ ایک گھنٹے تک لے جائیں۔ یوگا یا Aerobicsکریں تاکہ Portional Obesity کو کنٹرول کریں۔ اگر Swimmingکی سہولت ہو تو ضرور کریں۔ یہ واحد ایکسرسائز ہے جس میں سارے جسم کے مسلز involveہوتے ہیں۔ اگر آپ خاتون خانہ ہیں تو گھریلو کاموں کی انجام دہی اپنے ہاتھ سے کریں۔ فالتو اوقات میں ٹیلیفون پر گپ شپ کے بجائے کوئی مثبت جسمانی سرگرمی یعنی واک وغیرہ کریں۔ بازار سے سوداسلف خود لے کر آئیں۔ سیڑھیاں چڑھنا اترنا بھی بہترین ایکسرسائز ہے۔ ادویات مختلف قسم کی ادویات کی بدولت بھوک کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یا ایسی ادویات موجود ہیں جن کے استعمال سے کھائی ہوئی خوراک کی چکنائی کا کچھ حصہ فضلہ کے ذریعے خارج ہو جاتا ہے۔ لیکن ادویات کے اپنے Side Effectsموجود ہیں۔ سرجری مختلف قسم کیSurgical Intervention( بھی وزن کم کرانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں لیکن یہ طریقہ کار مہنگے بھی ہیں اور ان کی کچھ پیچیدگیاں بھی ہیں۔ وزن کم کرنا نہایت آسان ہے: اگر آپ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ آپ واقعی موٹے ہیں اپنے آپ کو آئینہ میں بغور دیکھیں۔ ہر زاویہ سے اپنے آپ کو جانچیں اور اس بات کو مان لیں کہ نظر آنے والا عکس آپ کا ہے۔ اپنے ماہر غذائیات سے مل کر اپنے لئے غذائی چارٹ مرتب کروائیں اور اس کا تعویز بنانے کے بجائے اس پر عمل کریں۔ اپنے آپ پر رحم نہ کھائیں نہ چڑچڑاپن دکھائیں۔ کھانے میں ذائقے سے زیادہ صحت کو فوقیت دیں ۔ وزن کم کرنے کے Short Goals رکھیں۔ اگر ایک دم 40کلو کم کرنے کا ٹارگٹ رکھیں گے تو ایک کلو کم ہونے پرخوش نہ ہوں گے۔ ہر مہینے دو سے ڈھائی کلو وزن کا ٹارگٹ رکھئے۔ جسمانی سرگرمیوں کو بڑھائیں۔ سبز قہوہ آپ کا میٹابولزم تیز کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اپنے کھانے کی مقدار کو پانچ سے چھے کھانوں میں تقسیم کریں۔ پانی بہت پیءں‘ سبزی‘ پھل‘ گوشت‘ اناج‘ بالائی نکلا ہوا دودھ سب استعمال کریں لیکن مناسب مقدار میں۔ ہر مہینے اپنا ٹارگٹ پورا ہونے پر اپنے آپ کو کوئی گفٹ دیں۔ میری ایک کلائنٹ کو ان کے شوہر نے وزن کم کرنے پر سونے کے کنگن بنوانے کا وعدہ کیا اور انہوں نے 32کلو وزن کم کر کے کنگن لے لئے۔ آپ کا سب سے قیمتی تحفہ آپ کی صحت سے بھرپور زندگی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی نعمتوں کو اعتدال کے ساتھ کھائیں۔سونے جاگنے کے اوقات میں باقاعدگی لائیں۔ یاد رکھیں بسیار خوری اﷲ کو ناپسند ہے۔ ہر ہفتے اپنا وزن کریں ۔ ہائی کیلوریز والے مزیدار کھانے مہینے دو مہینے میں ایک آدھ بار لینے میں حرج نہیں ۔ بس مقدار کم لیں۔ یاد رکھیں نفس کا گھوڑا اگر آپ کے قابو میں آ گیا تو زندگی آسان ہو جائے گی۔

یہ تحریر 56مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP