قومی و بین الاقوامی ایشوز

ورلڈ اکنامک فورم ۔ خدشات بڑھ رہے ہیں

سوئٹزرلینڈ کے سرمائی تفریحی مقام ڈیووس میں باہر منفی درجہ ء حرارت کے ہوتے ہوئے بھی ورلڈ اکنامک فورم میں ہونے والی زیادہ تر باتوں کی گرمی کا یہ عالم تھا کہ پسینہ چھوٹ جائے۔ اس بار اجلاس کا بنیادی خیال تھا، 
Responsive and Responsible Leadership 
گزشتہ سال کے بنیادی خیال چوتھے صنعتی انقلاب کا لبِ لباب یہ تھا کہ ٹیکنالوجی نے جو انقلاب برپا کیا ہے اس نے لیبر، وسائل اور مارکیٹ سسٹم میں ایسی بنیادی اور کچھ ان چاہی تبدیلیاں برپا کر دی ہیں کہ اب معاشرے اور نظام کی ترتیبِ نو کی ضرورت ہے۔ اس بار کا مرکزی خیال اسی سوچ کا اگلا قدم تھا کہ موجودہ معاشی نظام نے امیر اور غریب کے درمیان فرق کو خوفناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس پر غور کیا جائے اور اس معاشی عدم مساوات اور اقتصادی نا ہمواری کو قابو میں لایا جائے ورنہ محروم طبقات کی بے چینی اور غصہ اس گلوبلائزیشن اور جمہوریت کے نظام کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے۔


ورلڈ اکنامک فورم کا یہ 47 واں اجلاس تھا۔ 1971 میں پروفیسر کلوس شواب نے اس فورم کی بنیاد ایک غیر منافع بخش ادارے کے طور پر رکھی۔ ابتداءً اُس ادارے کا مقصد ایک یورپین مینجمنٹ فورم کا قیام تھا جہاں ان موضوعات پر گفتگو ہو کہ کس طرح یورپی فرمز اپنے سے برتر اور بہتر امریکی اندازِ نظامت اپنا سکیں۔ ستر کی دہائی کے بعد عالمی معاشی نظام میں اس قدر تواتر کے ساتھ ٹیکنالوجی اورتجارت میں تبدیلیاں آئی ہیں کہ نقشہ بدلتا چلا گیا۔ کہاں یہ کہ مغرب سرمایہ دارانہ نظام کی برکتوں اور فیوض پر دنیا بھر کو لیکچر دیتے نہیں تھکتا تھا اور کہاں یہ وقت کہ دنیا کی سب سے بڑی سوشلسٹ حکومت چین کے سربراہ اہلِ مغرب کو عالمی تجارت کے فضائل اور عالمی تجارتی چپقلش سے گریز کے مشورے دے رہے تھے۔ چین کی سب سے بڑی ای کامرس کمپنی علی بابا کے سربراہ جیک ماء کا اصرار تھا کہ امریکہ کو اپنے ہاں جاب لاسز کا الزام دوسروں پر لگانے کی بجائے اپنی اداؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنی کمپنی اور دنیا کی سب سے بڑی آن لائن کمپنی امازون کا موازنہ کیا کہ کس طرح وہ کمپنی ہر چیز پر ملکیت قائم کرنے کے بزنس ماڈل پر عمل پیرا ہے جبکہ ان کی کمپنی اپنے کاروباری تعلق داروں کی مدد سے آگے بڑھنے پر یقین رکھتی ہے۔


اس ورلڈ اکنامک فورم میں ایک سالانہ رپورٹ بھی پیش کی گئی ۔ اس رپورٹ میں پانچ ایسے نمایاں خدشات کی نشاندہی کی گئی جن سے عالمی معاشی نظام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اول: بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات۔ دوم: گلوبلائزیشن اور ٹیکنالوجی کے اس نئے ماحول میں بنیادی سماجی تبدیلیوں کی ضرورت۔ سوم: ٹیکنالوجی کے انقلاب سے رائج روایتی نظام میں ان چاہے رخنوں کا سد باب ۔ چہارم: عالمی سطح پر تجارتی مڈبھیڑکی بجائے باہمی تعاون کا فروغ اور پنجم: ماحولیاتی تبدیلیوں سے ممکنہ خطرات ۔


بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات اور عوامی بے چینی کی یوں تو کئی جہتیں ہیں لیکن اس کی ایک جہت ‘دہشت گردی‘ نے دنیا کو گزشتہ کئی دہائیوں سے پریشان کر رکھا ہے ۔ دہشت گردی نے پوری دنیا کے عالمی اور سیاسی نظام کو اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ اس ضمن میں ایک سیشن
Terrorism in Digital Age 
میں پاکستان کے سابق آرمی چیف راحیل شریف بھی خصوصی طور پر مدعو کئے گئے۔ انہوں نے دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے اپنے تلخ تجربات کا ذکر کیا اور دہشت گردی کی سرکوبی میں حائل مشکلات اور کامیابیوں کا ذکر کیا۔ مسلسل دہشت گردی سے ہزاروں جانیں گئیں لیکن آرمی پبلک سکول پر ہونے والے وحشیانہ حملے نے قوم کو متحد کر دیا، یوں ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردوں کی بیخ کنی کی جنگ شروع کی گئی۔ دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ دہشت گردی کی راہ میں کئی رکاوٹیں ہیں جن میں سے ایک پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحد ہے جس کی مکمل نگرانی مشکل ہے۔ سرحد کے دونوں طرف موجود دہشت گرد اس مشکل کا فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ ان کے خلاف جب کارروائی ہوتی ہے تو وہ سرحدپار پناہ لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے دونوں ممالک اور دیگر ممالک کے مابین بہتر انٹیلی جنس شیئر نگ کی ضرورت ہے۔ پاک فوج کی اس مسلسل جدو جہد نے پاکستان اور خطے کو پُر امن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کی ایک دنیا اب معترف ہے۔


ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں عالمی سطح پر ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کا ذکر نمایا ں رہا۔ گزشتہ سال برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدگی کا
it Brex 
کے ذریعے فیصلہ کیا تو اس فیصلے کے دور رس اثرات محسوس کئے گئے۔ یورپ میں انتہا پسند دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں اچانک اضافے نے یورپی یونین کے وجود کے لئے خطرہ کھڑا کر دیا ہے۔ انتہائی دائیں بازو کی اس سیاست میں بارڈرز کو ایک بار پھر کنٹرول میں لانا ایک بنیادی نعرہ ہے۔ مزید یہ کہ بڑھتی ہوئی امیگریشن سے مقامی لوگوں کے لئے ملازمتوں کے کم ہوتے مواقع کو بنیاد بنا کر امیگریشن کے خلاف ایک رد عمل پیدا ہو رہا ہے۔ امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بار ڈر کنٹرول اور امیگریشن کو ایک بنیادی نعرہ بنایا۔ ان کی کامیابی میں مڈل کلاس میں پائی جانے والی بے روزگاری کے خلاف عوامی رد عمل کے ساتھ ساتھ گلوبلائزیشن کے خلاف جذبات کا بھی دخل رہا۔ اپنی حلف برداری پر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی تقریر میں
America First 
کو اپنا بنیادی طرز نظامت بنا کر دنیا کو متوحش کر دیا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی جس مارکیٹ اکونومی اور گلوبلائزیشن کے کئی دہائیوں سے چیمپئن رہے اب اسی مارکیٹ اکونومی اور گلوبلائزیشن کے خلاف ان کے ہاں پیدا ہونے والے ردعمل نے عالمی نظام کے خوشہ چینوں کو اندیشوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ 
ان ہی خدشات کو چین کے صدر زی جن پنگ نے اپنی ایک گھنٹے کی طویل اور مرکزی تقریر میں موضوع بنایا۔ ان کے خیال میں ٹریڈ وار یعنی تجارتی جنگ کسی ایک فریق کے حق میں نہیں۔ امریکہ میں نئے امریکی صدر کی جانب سے عالمی معاہدوں میں سے تازہ ترین معاہدے ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ سے مکمل دستبرداری ،
NAFTA
، میکسیکو اور چین کے ساتھ تجارتی تعلقات پر نظرثانی کے اصرارنے عالمی تجارتی نظام کو ایک نئی بے یقینی سے روشناس کر دیا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم بنیادی طور پر دنیا کی امیر ترین کمپنیوں، عالمی اداروں، حکومتی نمائندوں اور اکیڈیمک شخصیات کا اجتماع ہوتا ہے جہاں یہ باہمی دلچسپی کے امور پر سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں۔ ایک ہزار سے زائد دنیا بھر کی نمایاں کمپنیاں، جی 20ممالک کے سرکردہ سیاسی اور پالیسی سازوں سمیت دنیا کے دیگر ممالک سے آنے والے عالمی اقتصادی اور تجارتی امور پر ایک دوسرے کی سنتے ہیں، میل ملاقات کے ذریعے کاروبار اور تعاون کی نئی راہیں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم بھی اس فورم میں شریک ہوئے اور اس اجتماع میں اہم ملاقاتیں کیں۔ 
ظاہر ہے ایسے ماحول اور شرکاء کے ہوتے ہوئے غربت اور معاشی ناہمواری کا ذکر شوق سے نہیں ہوتا۔ اس خدشے کی بناء پر ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے عالمی تجارت اور مارکیٹ اکونومی کے موجودہ توازن کو نقصان پہنچنے کا واہمہ اب ایسا اندیشہ بنتا جا رہا ہے جس سے آنکھیں چرانا زیادہ دیر ممکن نہیں رہا۔ گزشتہ کچھ سالوں سے ایک معروف این جی او
Oxfam
کے فورم کے سالانہ اجلاس پر دنیا میں دولت کے ارتکاز پر ایک سالانہ رپورٹ جاری کرتی ہے۔ ہر سال کی طرح اس رپورٹ کے مندرجات بھی چونکا دینے والے تھے ۔ اس عالمی تجارتی اور اقتصادی نظام کا کیا دھرا ہے کہ عالمی سطح پر ترقی اور خوشحالی کے باوجود ارتکاز دولت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اب یہ عالم ہے کہ دنیا کے صرف آٹھ اشخاص کے پاس دنیا کی اقتصادی اعتبار سے نچلی نصف آبادی یعنی 3.6 ارب کے برابر دولت ہے۔ رپورٹ کو بجا طور پر ننانوے فی صد کی رپورٹ کہا گیا۔ سرمایہ دارانہ نظام کے اس تانے بانے میں انتہائی امیر اشخاص اور کمپنیاں امیر اور غریب کے فرق کو یوں بڑھاؤ دے رہے ہیں کہ یہ ٹیکس بچانے کے سو حیلے بہانے ڈھونڈ لیتے ہیں۔ لیبر کی اُجرتیں کم سے کم رکھنے کی ان کی کوششیں کامیاب ہیں۔ اپنے تسلط کو قائم رکھنے کے لئے یہ سیاسی نظام اور پالیسی سازی پر ایک منظم انداز میں اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اس رپورٹ کے اپنے جائزے کے مطابق ہر گزرتے سال یہ معاشی ناہمواری اور تفاوت بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ یہ تفاوت اب ان حدوں کو پہنچ رہا ہے جہاں یہ موجودہ عالمی اقتصادی اور سیاسی نظام کے لئے تباہ کن ہو سکتا ہے۔ بس یہی ایک مجبوری اور اندیشہ ہے جس کی وجہ سے ان امیر ترین لوگوں کو طوعاً کرہاً غربت کی بات بھی کرنا پڑ جاتی ہے لیکن اب تک کا مشاہدہ یہی ہے کہ یہ تذکرہ نشستند گفتند برخاستند تک ہی محدود ہے۔


دو سال قبل اسی فورم نے ایک نئے انڈکس کی بنیاد ڈالی جس میں دنیا کے ممالک کی اس بناء پر رینکنگ کی کو شش کی گئی کہ ان کے ہاں اقتصادی نمو اور ترقی کس قدر ہمہ گیر تھی۔ اس انڈکس کا نام 
Inclusive Development Index 
رکھا گیا۔ اس انڈکس سے ایک خوش گوار حیرت یہ سامنے آئی کہ پاکستان کی رینکنگ خطے میں قدرے بہتر سامنے آئی۔ 79 ممالک کے اس انڈکس کے مطابق چین پندرہویں، بنگلہ دیش 36 ویں، پاکستان 52 ویں اور بھارت 60 ویں نمبر پر جانچا گیا۔ 
اس اکنامک فورم میں جن خدشات کا بار بار ذکر رہا ، ملکوں اور عالمی اداروں کو ان خدشات کا سامنا کرنا پڑے گا ورنہ یورپ اور امریکہ سے اٹھنے والی حالیہ سیاسی لہر اپنے اپنے تعصبات اور تنگ نظری کے ساتھ نہ جانے کہاں کہاں اور کن کن ممالک میں ابھر کر سامنے آئے۔ پاکستان کے لئے بھی ضروری ہے کہ سی پیک کی سرمایہ کاری اور دیگر پالیسی اقدامات سے اقتصادی نظام میں بہتر اور مسلسل شرح نمو اور ایسی ہمہ گیر معاشی ترقی کی بنیاد ڈالے جہاں ترقی کے ثمرات زیادہ سے زیادہ آبادی تک کچھ یوں پہنچیں کہ علاقائی تفاوت اور معاشی ناہمواری میں کمی آ سکے۔


مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ‘ سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 129مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP