اداریہ

وباء کا خاتمہ باہم مل کر

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی ان دنوں کووڈ- 19 کی تیسری اور شدید ترین لہر کا سامنا ہے۔ کرونا وباء مختلف ممالک میں مختلف انداز سے اثر انداز ہوئی ہے۔ جن ممالک میں کرونا وباء سے نمٹنے کے لئے ایس او پیز پر عمل درآمد کیاگیا وہاں اس انداز سے نقصان نہیں پہنچا ، بہ نسبت ان ممالک کے جہاں کرونا وباء کی شدت اور خطرے کوایک چیلنج کے طور پر نہیں لیاگیا۔
وطنِ عزیز پاکستان کا شمار، بہر طور ان ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے کرونا کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران قومی سطح پر ایسے اقدامات اُٹھائے جس سے پاکستان میں کرونا سے اموات دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہوئیں۔ جہاں کہیں ضروری ہوا، لاک ڈائون اور جزوی لاک ڈائون اور ایس او پیز کے ذریعے عملدرآمد یقینی بنا کر وباء سے نمٹا گیا جس سے پاکستان قدرے محفوظ رہا لیکن کرونا وباء کی تیسری لہر زیادہ شدت اور خطرناک انداز سے حملہ آور ہوئی ہے۔ کرونا کے مثبت کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیاہے۔ ساتھ ہی عوام  کے رویوں میں تھوڑا غیر ذمہ داری کا عنصر بھی دکھائی دیا کہ پہلی اور دوسری لہر سے بفضل تعالیٰ نکل آئے تھے تو انہوں نے تیسری لہر کو اس طرح سے نہیں لیا۔بہرطوربین الاقوامی اداروں کی رپورٹس اور قومی سطح پر ڈیٹا کو مدِ نظر رکھتے ہوئے  حکومتِ پاکستان نے اس چیلنج کی شدّت کو محسوس کرتے ہوئے افواجِ پاکستان کو سول اداروں کی معاونت کے لئے بھی طلب کیا ہے اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے26 اپریل2021کو کرونا سے نمٹنے کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ' 'وباء کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عوام کی حفاظت اور صحتِ عامہ کے تحفظ کے لئے وفاقی حکومت کے احکامات کے مطابق ملک بھر میں پاکستان آرمی کو آرٹیکل245 کے تحت سول اداروں کی معاونت کے لئے طلب کیاگیا ہے۔''  انہوں نے مزید بتایا کہ کرونا کے بہت زیادہ کیسز سامنے آنے کی صورت میں دیگر صوبوں ، آزاد کشمیر اور اسلام آباد سمیت کل 16 شہروں میں پاکستان آرمی کی ڈپلائمنٹ کی گئی ہے تاکہ ان ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے  اس جان لیوا وباء کے پھیلائو کو حد درجہ روکا جا سکے اور پاکستان کے عوام کو محفوظ رکھا جاسکے۔
یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ملکی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ایسا نہیں ہوا کہ افواجِ پاکستان کو سول حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کے لئے بلایاگیا ہے۔ ماضی میں بھی جب جب قوم اور وطنِ عزیز کو قدرتی آفات اور چیلنجز کا سامنا ہوا افواجِ پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت اور مدد کے لئے ہراول دستے کے طور پر موجود رہی ہیں۔یاد رہے کہ پاک فوج صرف کرونا کی تیسری لہر ہی نہیں پہلی اور دوسری لہر کے دوران بھی سکیورٹی کے فرائض سرانجام دیتی رہی ہے۔ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور اپنی قوم و ملک کی رضاکارانہ خدمت کے جذبے کے تحت پاکستانی فوج نے پچھلی مرتبہ کی طرح اس بار بھی انٹرنل سکیورٹی (IS) الائونس نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
بہر کیف کرونا وباء بین الاقوامی سطح پر ایک خطرناک اور جان لیوا  وباء کے طور پر سامنے آئی ہے جس سے نمٹنے کے لئے عوام کو قومی سطح پر کئے گئے اقدامات اور وضع کردہ ایس او پیز پر عمل درآمد کرکے اپنا حصہ ڈالنا ہے اور پاکستان کو محفوظ بنانا ہے کہ محفوظ پاکستان ہی مضبوط و خوشحال قوم کی ضمانت ہے۔
 

یہ تحریر 67مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP