گوشہ عساکر

وادیٔ تیراہ میں دس روز

آڈٹ اینڈاکائونٹس گروپ سے تعلق رکھنے والے سول سرونٹ شاہ رُخ نیازی کے قلم سے ملٹری اٹیچ منٹ کے دوران
فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ہمراہ تیراہ وادی میں تعیناتی کا دلچسپ احوال
(آخری قسط)

مذکورہ تحریر قبائلی علاقہ جات کی خیبر ایجنسی اور دیگر علاقوں کے متعلق 2017 میں اُس وقت لکھی گئی جب یہ قبائلی اضلاع میں تبدیل نہیں ہوئے تھے ،  لہٰذا اس تحریر کو اسی تناظر میں پڑھا جائے


 جوان ہمیشہ خالص رہتا ہے۔ میں روز تیراہ بٹالین ہیڈکوارٹر میں رات کو جوانوں کی کینٹین میں چائے پینے جاتا تھا۔ وہیں ٹی وی بھی لگا  ہوتا ہے۔ میرے لیے وہ منع کرنے کے باوجودالگ سے چائے بنواتے جسے محبت کی چاشنی میں کاڑھا جاتا۔ پھر جوان میرے پاس بیٹھ جاتے اور ہم گپیں لگاتے۔اب کچھ ذکر ایک دوست کا ہو جائے۔
وحید الدین
وحید الدین وحید کا تعلق مردان سے ہے۔ میرے سارے معاملات کو، میرے سامان کو، میرے کمرے میں ہیٹر لگانا الغرض ہر ایک کام وہی کرتا تھا۔ اس کا انداز اتنا محبت بھراکہ انسان چاہتے ہوئے بھی نظر انداز نہ کر سکے۔ پھر جب بھی وہ کمرے میں آتا مجھے کہتا کہ آپ کینٹین آئیں، آپ جوانوں کے ساتھ والی بال کھیلیں ، آپ اس علاقے میں یہ یہ چیزیں دیکھیں۔ میرے ساتھ بازاروں میں گھومتا، پشتو میں چیزوں کے ریٹ کے لیے دکانداروں سے بحث کرتا اورباغ بازار میں میرے لیے عمدہ اور لذیذ کھانوں کا انتظام کرتا۔ وحید جیسے مخلص جوانوں سے فوج بھری ہوئی ہے۔صرف دو دن میں وحید اور میں نے پورا باغ بازار گھوما۔ ایک ایک دکان پر رکے، ایک ایک ہوٹل پر گئے، ایک ایک چیز کے ریٹ پوچھے۔ایک دکان پر گئے تو کہنے لگا کہ سر آپ کے لیے ایک تحفہ لینے لگا ہوں۔ میں نے کہا ، تمہارا یہ کہنااور مجھے تحفہ دینے کی تمہاری یہ سوچ ہی میرے لیے سب سے بڑا تحفہ ہے۔ رہنے دو اور سلامت رہو۔ ہم دونوں اچھے دوست ہیں، مخلص۔



جب میں آنے لگا تو وحید نہیں تھا اور میں سب سے مل کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔اچانک کسی نے ہاتھ سے کھڑکی کھٹکھٹائی۔ دیکھا تو وحید تھا۔ اس نے ملانے کو ہاتھ بڑھایا۔ میں اترنے لگا تو اس نے کہا سر بیٹھے رہیں۔لیکن میں اترا اور اسے گلے سے لگایا، اس کے وقت کا، اس کے خیال کا شکریہ ادا کیا اور بوجھل دل سے گاڑی میں بیٹھ گیا۔
باغ بازار سے خریداری:  
مجھے چھوٹے الیکٹرانک آلہ جات کا بہت شوق ہے۔ ہمیشہ سے سنتے بھی آئے تھے کہ پشاور اور ملحقہ قبائلی علاقوں سے الیکٹرانک کی اشیا سستی اور معیاری مل جاتی ہیں۔ بس اسی شوق میں، وحید اور میں باغ بازار گھومتے رہے اور چھوٹی موٹی الیکٹرونکس کی اشیا لیتے رہے۔ خیبر ایجنسی میں بجلی نہیں پہنچی اس لیے لوگوں کا دارومدار شمسی توانائی(سولر انرجی) پر ہے۔
یہاں سے میں نے موبائل چارج کرنے کے لیے چھوٹا سا سولر پینل لیا، سولر پر چلنے والی تین ٹارچیں، موبائل چارجر کے طور سولر سے چارج ہونے والا پاوربنک، کثیر الامور ریڈیو، سولر لائٹ، چار سیر اخروٹ(جو کہ اس علاقے باغ کی وجہ تسمیہ بھی ہے)۔۔۔۔یہ تمام اشیا یہاں لاہور سے بھی مل جاتیں لیکن شاید اس قیمت پر نہیں۔۔۔دوسرا، تیراہ میدان سے خریدی گئی اشیا اس لیے بھی بیش قیمت ہیں کہ یہ چیزیں ہمیشہ مجھے تیراہ میدان کی یاد دلاتی رہیں گی، وہاں کی خوشبو سمائی ہے ان اشیاء میں۔۔۔۔
رومال تووہی ہوتا ہے لیکن محبوب کا دیا گیا رومال جان سے عزیز تر ہوتا ہے۔۔بس دنیا میں کچھ ہے تو محبت ہے، عشق ہے۔ باقی فریب ہے۔
'سب مایہ ہے' ۔۔۔۔
پاک فوج کی قربانیاں:
سب سے اہم بات جو اس داستان کا مرکز بھی ہے، وہ فوجی جوانوں کی ان مشکلات کا تذکرہ ہے جو شاید عام پاکستانیوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ مجھے تین دن آگے کلاوچ چیک Forward Line of Own Troops(FLOT) پوسٹ پر جوانوں کے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ فلاٹ سے آگے دشمن کا علاقہ ہوتا ہے۔ فلاٹ کو فلاٹ برقرار رکھنے میں ان جوانوں کا مرکزی کردار ہوتاہے۔


جی یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے ہم کہتے ہیں کہ' 'بھئی کون سا کمال کرتے ہیں ، اسی بات کے تو انہیں پیسے ملتے ہیں۔'' جی بالکل صحیح'سعد شہید' کو اسی بات کے اکیس ہزار دو سو روپے ماہانہ ملتے تھے کہ وہ یوں کسی چیک پوسٹ پر رات کو سرحدوں کا پہرہ دے رہا ہو اور بجلی گرے اور وہ اس لڑکی کی آنکھوں میں جھلملاتے امیدوں کے ان چراغوں کو ہمیشہ کے لیے بجھا کر چلتا بنے جس کے ساتھ ایک مہینے بعد اس کی شادی طے پائی تھی۔'حبیب'کو اسی بات کے انیس ہزار پانچ سو روپے ماہانہ ملتے تھے کہ وہ اپنے بوڑھے ماں باپ سے دور تیراہ میدان خیبر ایجنسی کے پرخطر علاقے میں ساتھی فوجیوں کے لیے پانی ڈھونڈتا جب ایک بنجر اور ویران گھر میں داخل ہو تو آئی ای ڈی پر پاؤں پڑتے ہی اس کا نچلا دھڑ ایسے غائب ہو جائے جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔( لیکن ہمیں کیا ضرورت ہے ان کے بارے میں بات کرنے کی کہ انہیں تو اپنی جان دینے کے کم و بیش بیس ہزار روپے بھی تو ملتے تھے۔) میں بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں لیکن اب میرے آنسو مجھے مزید لکھنے نہیں دے رہے۔  


تپتی دھوپ ہو، گرجتے بادل ہوں، چمکتی بجلیاں ہوں بلکہ یوں کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ 'گرتی بجلیاں'ہوں کہ کلاوچ اور تیراہ کے آس پاس کی پہاڑیاں اس لیے خطرناک تصور کی جاتی ہیں کہ یہاں خراب موسم میں بجلی گرتی رہتی ہے۔ میں جب بھی کوئی جملہ لکھتا ہوں اک نئی بات یاد آ جاتی ہی اور دل کرتا ہے پہلے وہ لکھ لوں کہ کہیں وہ بات رہ نہ جائے، وہ لکھنے لگتا ہوں تو اک نئی دلدوز بات یاد آ جاتی ہے۔ بجلیاں گرتی رہتی ہیں اور جوان شہید ہوتے رہتے ہیں۔ آنکھیں اشکبار ہیں یہ الفاظ لکھتے ہوئے، لیکن سعد شہید کا تذکرہ کیسے نہ کروں۔ کلاوچ پہاڑی پر پاکستانی فوج کی چیک پوسٹ پر پہنچنے کے لیے دو اڑھائی گھنٹے کی چڑھائی تھی اور ظاہر ہے لازمی طور پر پیدل یہ سفر طے کرنا تھا کہ گاڑیاں ایک مقررہ جگہ سے آگے نہیں جا سکتیں۔ اسی پتھریلے رستے پر چڑھتے ہوئے ایک جگہ سعد شہید کے نام کی تختی نظر آئی۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں اس جوان نے دم توڑا تھا۔
ایسی تختیاں ہمیں اورکزئی ایجنسی اور خیبر ایجنسی میں جگہ جگہ پہاڑوں پر، سڑکوں کے آس پاس جا بجا نظر آتی ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں جو گھر سے دور، ان علاقوں میں شہید ہوئے، کبھی کسی پہاڑ پر، کبھی سڑک کنارے جان رب کے سپرد کر بیٹھے۔ جی یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے ہم کہتے ہیں کہ' 'بھئی کون سا کمال کرتے ہیں ، اسی بات کے تو انہیں پیسے ملتے ہیں۔'' جی بالکل صحیح'سعد شہید' کو اسی بات کے اکیس ہزار دو سو روپے ماہانہ ملتے تھے کہ وہ یوں کسی چیک پوسٹ پر رات کو سرحدوں کا پہرہ دے رہا ہو اور بجلی گرے اور وہ اس لڑکی کی آنکھوں میں جھلملاتے امیدوں کے ان چراغوں کو ہمیشہ کے لیے بجھا کر چلتا بنے جس کے ساتھ ایک مہینے بعد اس کی شادی طے پائی تھی۔'حبیب'کو اسی بات کے انیس ہزار پانچ سو روپے ماہانہ ملتے تھے کہ وہ اپنے بوڑھے ماں باپ سے دور تیراہ میدان خیبر ایجنسی کے پرخطر علاقے میں ساتھی فوجیوں کے لیے پانی ڈھونڈتا جب ایک بنجر اور ویران گھر میں داخل ہو تو آئی ای ڈی پر پاؤں پڑتے ہی اس کا نچلا دھڑ ایسے غائب ہو جائے جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔( لیکن ہمیں کیا ضرورت ہے ان کے بارے میں بات کرنے کی کہ انہیں تو اپنی جان دینے کے کم و بیش بیس ہزار روپے بھی تو ملتے تھے۔) میں بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں لیکن اب میرے آنسو مجھے مزید لکھنے نہیں دے رہے۔  
فوج کا ڈسپلن:
فوج میں یونٹس ہوتی ہیں۔ ہر یونٹ میں ضرورت کا ہر بندہ موجود ہوتا ہے۔ سنتری ، کک، سگنلز والے حتیٰ کہ مستری تک یونٹ کا حصہ ہوتے ہیں۔دواتوئی میں ایک قلعہ بن رہاہے جسے دواتوئی فورٹ کانام دیا گیا ہے جب ہم وہاں گئے تو فوجی جوان پتھرتوڑ توڑ کر لا رہے تھے اور ایک فوجی مستری کاکام کر رہا تھا۔ میں اپنی سادہ لوحی سے پوچھ بیٹھا کہ مستری والا تو ایک انتہائی ٹیکنیکل کام ہے ایک فوجی یہ کام کیسے کر سکتا ہے تب مجھے بتایا گیا کہ فوج میں تمام پوزیشنز پر بھرتیاں ہوتی ہیں حتیٰ کہ مستری بھی ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آپ فوج کو کسی بھی جگہ بھیج دیں بنجر ویران صحرا میں خواہ کسی جنگل بیابان میں، خواہ خیبر ایجنسی کے گھنے جنگلات سے سجے اور کہیں پتھریلے کوہساروں میں، فوج کی یونٹ جلد ہی وہاں پر ایک پورا سیٹ اپ کھڑا کر لے گی۔ لیکن ظاہر ہے اس کے لیے سخت محنت درکار ہوتی ہے اور یہ محنت ہمارے جوان بخوشی کرتے ہیں۔۔میں جتنے دن ان کے ساتھ رہا، ان کے چہرے سخت روٹین کے باوجود ہشاش بشاش دیکھے۔ افسر اگر رات کو تین بجے بھی آرڈر کرتا ہے کہ نیچے جنگل کا راؤنڈ لگا کر آئیں تو توانائی سے بھرپور 'سر'کا جواب سننے کو ملتا ہے اور پلک جھپکنے سے پہلے جوان ریڈی ہوتا ہے۔۔فوج کا ڈسپلن قابل تحسین ہے اور ہمیں پاک فوج پر فخر ہے۔۔۔
میرے سفر کے ہمراہی:
ہم لوگ لاہور سے نکلے تو چودہ ''خدام العوام'' تھے۔ رانا عمر کی سربراہی میں ضیااللہ، قاسم ملک، رضوان نذیر، شرجیل وٹو، تنویراحمد ااعتزاز عالم، طلال صغیر، سلمان جاوید، زین العابدین قسمانی، سرفراز بریرو، عمر سعید ، زاہد رند اور یہ راقم پکھی و اس۔
پشاور سے آگے ہم تمام لوگ جداہو گئے تھے۔ تین دوست قاسم ، عمر سعید اور تنویر سوات چلے گئے۔رضوان نذیر، سرفراز ، زین ، سلمان اور اعتزاز جنوبی وزیرستان جبکہ ضیا اللہ ، زاہد، طلال اور رانا عمر کے حصے میں شمالی وزیرستان کی ایجنسی آئی تھی۔ پیچھے بچ گئے دو لوگ میں اور شرجیل وٹو۔ ہمیں اس یادگار سفر میں تیراہ میدان خیبر ایجنسی میں شب و روز گزارنے کا موقع ملا۔ ||


 

یہ تحریر 96مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP