گوشہ عساکر

وادیٔ تیراہ میں دس روز

آڈٹ اینڈاکائونٹس گروپ سے تعلق رکھنے والے سول سرونٹ شاہ رُخ نیازی کے قلم سے ملٹری اٹیچ منٹ کے دوران
فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ہمراہ تیراہ وادی میں تعیناتی کا دلچسپ احوال
 (دوسری قسط)

مذکورہ تحریر قبائلی علاقہ جات کی خیبر ایجنسی اور دیگر علاقوں کے متعلق 2017 میں اُس وقت لکھی گئی جب یہ قبائلی اضلاع میں تبدیل نہیں ہوئے تھے ،  لہٰذا اس تحریر کو اسی تناظر میں پڑھا جائے


روز رات سات بجے منگل باغ افغانستان سے بذریعہ ایف ایم ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر کرتا ہے۔ یہ تقریر ملحقہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں بھی سنی جا سکتی ہے لیکن پاک فوج اسے جیم کر کے اچھے مثبت اور تعمیری پروگرام نشر کر دیتی ہے۔ ہاں بعض اوقات ایک آدھ دن اسے جیم نہیں کیا جاتا اور اسے ریکارڈ کیا جاتا ہے تاکہ اس کی موجودہ سوچ کو پرکھا جا سکے۔ یہ تقریر گو کہ پشتو میں ہوتی ہے لیکن ایک مترجم کی مدد سے میں نے ایک تقریر سنی ہے۔
اس علاقے میں پشاور ریڈیو سنا جاتا ہے۔ نیچے باغ کے بازار میں جب میں گیا تو وہاں سی ڈی کی دکانیں تھیں ۔ دکاندار نے بتایا کہ نوجوان آتے ہیں اور ہم انہیں 40/50 روپے میں کارڈ بھر دیتے ہیں۔ بڑے بوڑھے تو وہی ہیں جو روس کی جنگ کے بعد بڑے ہوئے لیکن نئی نسل اب سکول کے نام سے آشنا ہوگی اور تعلیم کے حصول کے بعد یہاں نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔ بہر حال اس میں دس سے پندرہ سال کا عرصہ درکار ہے۔
چرس کے میدان:
تیراہ میدان میں آپ کو جہاں کہیں زمین لیول ہوئی نظر آئے سمجھ جائیں کہ چرس کی کاشت کے لیے زمین تیار کی گئی ہے۔ چرس اس علاقے کے لوگوں کی آمدنی کا واحد ذریعہ ہے۔ کم و بیش تیراہ میدان کا ہر گھر اس میں شریک ہے اور یہاں کھانے کے بعد لوگ ایسے ہی چرس پھونکتے ہیں جیسے ہمارے شہروں میں نوجوان سگریٹ پیتے ہیں۔ اس جیسی خالص چرس شاید کہیں اور نہ ملتی ہو۔ ہر جمعہ کو یہاں چرس کی منڈی لگتی ہے جس میں لاکھوں کی چرس کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔



یہ ساری کارروائی پاک آرمی کی نظر میں ہے اور فوج سختی سے اس کا سدِ باب کر رہی ہے۔علاقے کے لوگوں کو متبادل روزگار دینے کے لیے یہاں زعفران اور سیب کی کاشتکاری کو فروغ دینے کے لیے تیز رفتاری سے کام کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کو نیا روزگار بروقت مہیا کیا جا سکے۔ اسی لیے چرس کی کاشت کو آہستہ آہستہ کم کیا جا رہا ہے۔
خیبر ایجنسی کی معاشرتی رسوم:
ہمارے ہاں تو نکاح رخصتی سے پہلے کیا جاتا ہے لیکن ایک خاص بات یہاں یہ دیکھنے کو ملتی ہے کہ شادی پر لڑکی کو لڑکے والے گھر لے جاتے ہیں اور وہاں اس کا نکاح لڑکے کے گھر پر پڑھایا جاتا ہے۔ یہاں بھی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ مناسب نہیں ہے لیکن بہر الحال یہ یہاں کا کلچر ہے۔ جیسا کہ باقی پاکستان میں بھی عموماً لڑکی کو جائیداد میں حصہ نہیں دیا جاتا کم و بیش یہی سلسلہ یہاں بھی ہے لیکن مال مویشی میں بیٹی کا حصہ کیا جاتا ہے اور جو مویشی اسے پسند ہوں اسے دے دیے جاتے ہیں۔  بچوں کی اوسط تعداد  پانچ سے دس کے درمیان ہے۔ جس کے بیٹے سب سے زیادہ ہوں وہ سب سے طاقتور تصور کیا جاتا ہے اور جس کی بیٹیاں زیادہ ہوں وہ کمزور سمجھا جاتا ہے۔
چونکہ پہاڑی سلسلہ ہے اس لیے قبرستان ہر قبیلے نے پاس پاس بنا رکھے ہیں اور کوئی اجتماعی بڑا قبرستان دیکھنے کو نہیں ملتا۔ بہادر لوگ ہیں اس لیے کہتے ہیں کہ موت دنیا کی واحد ایسی چیز ہے جس سے بھاگنا نا ممکن ہے اور لوگ سب سے زیادہ اسی چیز سے بھاگتے ہیں۔ ایسی ہی کچھ باتیں دہشت گرد ان خود کش حملہ آوروں کو بتاتے ہیں جو شہروں میں آ کر خود تو موت کو گلے سے لگاتے ہی ہیں مگر ان لوگوں کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں جو جینا چاہتے ہیں۔
طالبان سے پاکستان تک:
شروع شروع میں جب فوج یہاں آئی تو حالات ساز گار نہیں تھے اور فوج مخالف جذبات تھے، اب حالات مختلف ہیں۔ ہماری گاڑی جہاں جہاں سے گزرتی ہے بچے پاک فوج کو سلیوٹ کرتے ہیں اور مسکراتے ہیں۔ ہر فوجی کو اس بات کی تاکید کی جاتی ہے کہ عوام میں سے جب بھی کوئی بچہ یا بڑا سلیوٹ کرے اس کا جواب سلیوٹ سے دیا جائے۔ ایک دن تو دور سے ہماری گاڑی آتے دیکھ کر کم و بیش پانچ سال کا بچہ ہوگا، اس نے دور سے ہی ٹھیٹھ فوجیوں والا سلام کیا۔ پہلے ٹانگ کو بلند کیا اور کھڑاک سے زمین پر مارا اور پھر سلیوٹ کر کے کھڑا رہا یہاں تک کہ ساری گاڑیاں گزر گئیں۔ تمام جوانوں نے اس کے سلیوٹ کا جواب بھرپور سلیوٹ سے دیا۔ بازار میںلوگ بہت پیار سے ملتے ہیں۔
کلاچ پوسٹ:        
کلاچ پوسٹ، تیراہ میدان میں پاک فوج کی بلند ترین پوسٹ ہے جہاں بیٹھ کر میں یہ تحریر حوالہ قرطاس کر رہا ہوں۔ سامنے پہاڑوں پر بلوچ رجمنٹ کی ایک یونٹ تعینات ہے جہاں میرا دوست شرجیل وٹو بیٹھا ہے۔ اس کی ساتھ والی پوسٹ پر آج طالبان سنائپر نے ایک جوان کو ہٹ کیا اور افسوس کہ وہ شہید ہو گیا۔ 
منگل باغ:
منگل باغ اسی علاقے سے تھا، خیبرایجنسی کی "سب ڈویژن" باڑہ کے علاقے سپاہ سے۔ وہ کنڈکٹر تھا لیکن اچھا خطیب تھا۔ پہلے پہل اسلام کی تبلیغ شروع کی۔ یہاں کے لوگوں میں تعلیم کی کمی ہے اس لیے جو بھی انہیں دین کے نام پر بلاتا ہے وہ اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں ۔ یہی منگل باغ کے ساتھ بھی انہوں نے کیا۔ تبلیغ بڑھی تو افرادی قوت بھی بڑھی اب منگل باغ نے مکمل تیراہ کو کنٹرول کرنے کا سوچا اور علاقے میں اعلان کیا کہ ہر گھر سے ایک بندہ ہمیں چاہیے کیوں کہ ہمیں آگے بڑھنے کے لیے افرادی قوت چاہیے۔ جن لوگوں نے مزاحمت کی ان کے گلے کاٹے گئے، قتل کیے گئے۔ اس کی جماعت کا نام لشکر اسلام تھا۔علاقے میں کمانڈر محبوب بھی رہتا تھا اور جو انصارالاسلام کا کمانڈر تھا۔ میںنے اس کا گھر دیکھا ہے یہ وہی گھر تھا کہ جب طالبان آئے توانہوں نے اس کاانتہائی خوبصورت بنا ہوا گھر بم سے اڑا دیا۔ شاید اس کی وڈیو یو ٹیوب پر بھی موجود ہے۔ کمانڈرمحبوب، کمانڈر معتبر اور اس کے لوگوں کی بہت شہادتیں ہیں تیراہ میدان میں۔انہوں نے فوج کا بہت ساتھ دیا۔
عجب خان: 
یہ1923ء کی بات ہے۔ انگریز فوج کے ایک افسرنے خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ کی ایک خوبصورت خاتون مہ جبین کو کوہاٹ کینٹ کے کسی علاقے میں تنگ کرنے کی کوشش کی۔ اس نے واپس تیراہ آ کر یہ بات اپنے شوہر کو بتائی۔ پٹھان کا خون کھول اٹھا۔ اس نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا سوچا۔ انگریز کی حکومت تھی اور ہر طرف انہی کا طوطی بولتا تھا۔ اس پٹھان نے اپنے قبیلے کا جرگہ بلایا، خود ہی داستان سنائی، خود ہی مدعی بنا، خود ہی وکیل، خود ہی جج بنا اور بالآخر فیصلہ بھی سنا دیا۔ جوانوں کواکٹھا کیا گیا، ہتھیار اکٹھے کیے گئے اور ایک رات کوہاٹ کینٹ پر چڑھائی کردی گئی۔ وہاں کے اس آفیسر کے گھر ہلہ بولا گیا اور اس کی بیٹی مس ایلس کو اغوا کر لیا گیا۔ اسے اپنے علاقے یعنی وہیں تیراہ میدان (جہاں اس عاجز پکھی واس نے زندگی کے خوبصورت ترین دس دن گزارے)لے جایا گیا۔ 
 اس کارروائی نے انگریز حکومت کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ کاروائی میں ایلس کی ماں ماری گئی۔ اس انگریز افسر نے بولنا چھوڑ دیا۔ انگریزحکومت جتنی بھی طاقتور تھی لیکن آج تک کسی نے تیراہ میں قدم رکھنے کی ہمت نہیں کی تھی۔ یہ سارا واقعہ لیفٹینینٹ جنرل علی قلی خان لکھتے ہیں۔ مزیدوہ بتاتے ہیں کہ ان دنوں مہمند ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ میرے والد تھے۔ چیف کمشنر نے ان سے مداخلت کرنے کی درخواست کی۔ وہ تیراہ میدان گئے اور قبائل کے پیر کے مہمان بنے۔ بہت کوشش کے بعد ، معافی اور منت سماجت کے بعد اس مرد میدان تیراہ نے اس خاتون کو بغیرکسی نقصان کے واپس بھجوا دیا۔
دنیا آج بھی اس شخص کو عجب خان آفریدی کے نام سے جانتی ہے اور آفریدی قوم اپنے اس ہیرو کوآج بھی یاد کر کے سینہ فخرسے پھلاتی ہے۔ عجب خان آفریدی پر پاکستان میں پشتو زبان میں ایک فلم بھی بنی ہے۔
 میں جب تیراہ میدان، اس کی گلیوں اور بازاروں میں گھومتا ہوں تو مجھے عجب خان آفریدی ابھی بھی ادھر اُدھر فخر سے مٹر گشت کرتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ جہاں سے گزرتا ہے یہاں کے لوگ اسے جھک کر سلام کرتے ہیں۔ وہ پکھی واس کے ساتھ بیٹھ کر نمکین گوشت کھاتا ہے، چپل کباب کھاتا ہے اور قہوہ پی کر یہ قصہ مجھے بار بار سناتا ہے۔انسان اپنے نام و نسب سے نہیں چھاتی کے زور سے جانا جاتا ہے۔کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مس ایلس عجب خان آفریدی کی مردانہ وجاہت پر مر مٹی تھی۔ 
آفریدی قبائل:
آفریدی قبیلہ کے ذیلی قبائل کی تعداد نو کے قریب پہنچتی ہے۔ ان کے نام کچھ یوں ہیں ملک دین خیل، قمبر خیل، برقمبرخیل، ذکا خیل، اکا خیل، کوکی خیل، آدم خیل ، سپاہ اور سرمست خیل۔ ان میں سے تعداد کے لحاظ سے ملک دین خیل سب سے بڑا قبیلہ ہے اور کرکٹر عمر گل اسی قبیلہ ملک دین خیل کا آفریدی ہے۔ شاہد آفریدی ذکا خیل قبیلہ سے ہیں۔ 
جیسے میدانی علاقوں میں لوگوں کی زمینیں ہوتی ہیں یہاں کے قبائل کے اپنے اپنے پہاڑ ہوتے ہیں اور اس پہاڑ کی لکڑ، اس کے پتھر ، اس کا سب کچھ اس قبیلہ کی ملکیت ہوتا ہے اور نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ یہاں تحریری ریکارڈ اور پٹواری والا حساب کتاب نہیں ہوتا۔ جہاں کہیں اختلاف ہوتا ہے، جرگہ مسئلہ حل کرتا تھا ۔آج کل یہ کام فوج کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ میرے سامنے اکاخیل قبیلہ کے تین لوگوں کو لڑائی جھگڑا کرنے پر فوج پکڑ کر لائی اوران کا مسئلہ حل کیا۔ یہاں کے لڑائی جھگڑے زیادہ تر زمین اور پیسہ پر ہوتے ہیں۔ پہلے قتل بہت ہوتے تھے اب اس کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ لوگ جب چرس بیچتے ہیں تو کافی پیسے گھر رکھتے ہیں ۔ایسے میں چوری کی وارداتیں اکثر ہو جاتی ہیں۔ ملک دین خیل قبیلے والے قدرے امن پسند ہیں اورفوج کے ساتھ ہیں۔ باقی قبائل والے بھی ساتھ ہیں۔ سروزئی کے علاقے میں اکا خیل قبیلہ منگل باغ سے ہمدردی رکھتا ہے اس لیے وہاں کچھ نہ کچھ ہلچل رہتی ہے۔ میں نے وہاں جانا تھالیکن مجھے منع کر دیا گیا۔ وہاں ہمارا ایک جوان بھی شہید ہوا تھا وہ کیسے، اس کی داستان پھر کبھی۔
لیفٹینینٹ معز:
مجھے 20 مارچ کو پشاور سے تیراہ میدان لانے کے لیے میری یونٹ نے ایک کپتان کی سربراہی میں تین فوجی گاڑیاں بھیجی تھیں۔ صبح بریگیڈئیر صاحب سے میٹنگ کے بعد ہمیں فوجی انداز میں کہا گیا کہ 10 منٹ میں گاڑیاں خیبر ایجنسی کے لیے نکل جائیں گی۔ اور فوجی جب دس منٹ کہتے ہیں تو پھر آٹھ منٹ بعد ہی کہتے ہیں کہ دس منٹ پورے ہو گئے۔جب کہ ہم سویلینز کے لیے دس منٹ کا مطلب کم سے کم آدھا گھنٹا ہوتا ہے۔گو کہ ہم نے پشاور کور میس میں صرف ایک ہی رات گزاری تھی لیکن پھر بھی سامان کافی باہر پڑا تھا۔ میں نے جلدی سے پیکنگ کی اور اسی دوران ایک افسر کمرے میں داخل ہوا۔ کہنے لگے آپ میں سے شاہ رخ کون ہیں؟ میں نے اپنا تعارف کروایا۔ کہنے لگے کہ میں آپ کو لینے آیا ہوں۔ 
کیپٹن معیذ  کے ساتھ سفر بہت اچھا گزرا ۔ وہ کسی بھی فوجی گفتگو پر مکمل عبور رکھتے تھے اور علاقے کے بارے میں ساتھ ساتھ گائیڈ کرتے تھے۔ ہم درہ آدم خیل سے گزرے، پھر کوہاٹ سے ہوتے اورکزئی ایجنسی اور پھر آخرکار خیبر ایجنسی۔ ان علاقوں کے بارے میں بے بہا معلومات ان سے حاصل ہوئیں۔ 
 ان کے علاوہ کمانڈنگ آفیسرلیفٹیننٹ کرنل خضر حیات، ٹو آئی سی میجر آصف، ایڈجوٹنٹ کیپٹین معین اور لیفٹیننٹ عاصم کے ساتھ بھی بہت اچھا گزرا۔ ||
(جاری ہے)



 

یہ تحریر 96مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP