متفرقات

وادیٔ تیراہ میں دس روز

اکائونٹس گروپ سے تعلق رکھنے والے سول سرونٹ شاہ رُخ نیازی کے قلم سے ملٹری اٹیچ منٹ کے دوران فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ہمراہ تیراہ وادی میں تعیناتی کا دلچسپ احوال

مذکورہ تحریر قبائلی علاقہ جات کی خیبر ایجنسی اور دیگر علاقوں کے متعلق 2017 میں اُس وقت لکھی گئی جب یہ قبائلی اضلاع میں تبدیل نہیں ہوئے تھے ،  لہٰذا اس تحریر کو اسی تناظر میں پڑھا جائے

پاکستان کی شمال مغربی سرحد پر پشاور سے چند میل دور ، اونچے خشک بیابان اور دشوار گزار پہاڑوں میں گھرا ہوا درہ خیبر ہے جسے برصغیر کا دروازہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔ روئے زمین کی کسی پہاڑی شاہراہ نے تاریخ اقوام پر اتنا گہرا اثر نہیں چھوڑا جتنا درہ خیبر نے ۔اس کی تاریخی اور سیاسی اہمیت کا اندازہ اسی ایک بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر یہ درہ نہ ہوتا تو آج برصغیر پاک وہند کی تاریخ بالکل ہی مختلف ہوتی۔ بظاہر یہ وادی کوئی گل پوش ہے نہ دلکش سیر گاہ، اس میں گنگناتے آبشار اور چشمے ہیں نہ خو ش منظر باغات، تاہم دنیا کے کونے کونے سے سیاح درہ خیبر دیکھنے آتے ہیں۔ وہ اس دشوار گزار اور پرپیچ پہاڑی راستے کی سیاسی اور جغرافیائی اہمیت کو جانتے ہیں۔ یہ درہ ہمیں مہم جوئی پر اکساتا ہے ۔ہمارے خون کو حرارت اور دل کو ولولہ تازہ عطا کرتا ہے، درس عمل دیتا ہے اور کوئی کارنامہ کر گزرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ درہ خیبر نے تاریخ میں اتنے زیادہ حملے دیکھے اور برداشت کئے ہیں جو ایشیا کے کسی اور مقام بلکہ دنیا کے کسی اور علاقے نے ہر گز نہیں دیکھے۔ یہ پاکستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کے درمیان آمدو رفت اور تجارت کا سب سے بڑا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخی اہمیت کا بھی حامل ہے۔برصغیر میں جتنے بھی فاتحین آئے سب کی گزر گاہ یہی درہ رہا۔ قیام پاکستان کے بعد 1948 میں قائد اعظم بھی درہ خیبر آئے اور قبائلی عوام پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مقامی لوگوں کی تعریف کی۔اسی پہاڑی گزر گاہ کی وجہ سے ملحقہ  قبائلی وادی کا نام خیبر پڑا۔



خیبر عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی قلعہ ہے۔ مدینہ شریف سے 150کلو میٹر دور یہودیوں کا خیبر نام کا ایک قلعہ تھا جس میں موجود یہودی دیگر عناصرکے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔ اس قلعے کو مسلمانوں نے رسول اللہۖ کی سربراہی میں محرم سات ہجری میں فتح کیا۔تاہم اس خیبر نامی قلعے کا درہ خیبر سے کوئی تعلق نہیں۔
خیبر ایجنسی پاکستان کے شمال مغرب میں واقع ہے۔اس کے شمال میں  سفید پہاڑی سلسلہ، مشرق میں پشاور، جنوب میں  اورکزئی ایجنسی، مغرب میں کرم ایجنسی، شمال مشرق میں افغانستان اور شمال مغرب میں مہمند ایجنسی واقع ہے۔ایجنسی کا کل رقبہ 2576 مربع کلو میڑ ہے۔ اس کو مزید تین تحصیلوں لنڈی کوتل،جمرود اور باڑہ میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پہاڑوں میں گھری اس خوبصورت وادی میں زیادہ آبادی آفریدی قبائل کی ہے۔آفریدیوں کی ذیلی شاخیں بھی ہیں جن میں ککئی خیل، آدم خیل، ملک دین خیل،قمر خیل، ذکا خیل،قمبر خیل ،شپا اور آکا خیل شامل ہیں۔ آفریدی قبائل کے علاوہ ادھر شنواری، اورکزئی اور  ملغیریری قبائل بھی آباد ہیں۔
ملٹری اٹیچ منٹ
ملٹری اٹیچ منٹ، ہمارے ششماہی تربیتی پلان یعنی کامن ٹریننگ پروگرام کا آخری اہم  حصہ ہے۔اس سلسلے میں تمام افسران کو  دس سے بارہ دن کے لیے پاک فوج کی مختلف یونٹوں کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا  ۔ علاقہ غیر وہ طلسماتی علاقے ہیں جن کے بارے میں بچپن سے سنتے آئے تھے۔ میرے ماموں شفیق الرحمن خان نیازی نے جب موسیقی چھوڑ کر سیفیہ سلسلہ تصوف کو اپنا یا تو وہ میرا بچپن تھا۔میرے ماموں نے یہ کیاسلسلہ اپنا یا کہ کم و بیش میرا پورا ننھیال سیفی ہو گیا۔ میرے ماموں کی قیادت میں میرے سارے رشتہ دار ہر مہینے سپیشل ایک کوچ کیا کرتے تھے اور مجھے سننے کو ملتا تھا کہ سب لوگ پیر مبارک صاحب کے پاس حاضری دینے باڑہ گئے ہوئے ہیں۔ میرے کزن مجھے بتاتے تھے کہ ہم علاقہ غیر جاتے ہیں جہاں پولیس نہیں ہوتی، عدالتیں نہیں ہوتیں۔ میں اکثر پوچھا کرتا تھا کہ پھر وہاں کا نظام کیسے چلتا ہے اور مجھے بتایا جاتا کہ وہاں قبائلی نظام ہے  اور جرگہ کے ذریعے فیصلے ہوتے ہیں۔میں نے بھی سیفیہ سلسلہ اپنا لیا، گو کہ باڑہ، خیبر ایجنسی پیر صاحب کے پاس نہ جا سکا۔میرے سر پر سفید پگڑی ہوتی تھی، جیب میں مسواک، سفید کرتہ زیبِ تن کیے ہوئے۔ جوں جوں بڑا ہوتا گیا، یہ سننے کو ملا کہ پیر صاحب کی کسی اور فرقے کے مولوی سے لڑائی ہو گئی ہے اور انہوں نے سارے پاکستان سے اپنے مریدین کو بلایا ہے۔ میرے کزن بھی ، مجھے یاد ہے، لبیک کہتے ہوئے وہاں پہنچے تھے۔پھر وہاں فوج نے کارروائی کی دوسرے مولوی صاحب کو گرفتار کر لیا گیا اور پیر صاحب کو لاہور بھیج دیا گیا جہاں اب ان کا  لکھو ڈھیر، فقیر آباد کے علاقے میں مزار ہے۔
یہ باڑہ خیبر ایجنسی سے میرا پہلا تعارف تھا۔کیا معلوم تھا کہ سالوں بعد مجھے ملٹری اٹیچمنٹ پر اسی علاقے میں بھیجا جائے گا اور وہ دن آ پہنچا۔ہم پشاور میں تھے۔ ایف سی کا ہیڈ کوارٹر قلعہ بالاحصار میں قائم ہے۔ بالا حصار یعنی بلند فصیل یا بلند حفاظتی عمارت۔اس کی تاریخ بہت قدیم بتائی جاتی ہے لیکن میں اس کی گہرائی میں نہیں جائوں گا نہ ہی ایف سی کی تاریخ میں جائوں گا کہ یہ تفصیل طلب موضوعات ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ کو جلد از جلد، تیراہ میدان کی سیر پر لے جائوں اور اس علاقے کے بارے میں وہ کچھ حالات بیان کروں جو ان دس دنوں میں، میری آنکھوں نے دیکھے۔
پشاور سے خیبر ایجنسی تک
انیس مارچ کو مجھے پشاور کور میس سے لیفٹیننٹ معز نے رسیو کیا اور ہم کوہاٹ اور اورکزئی ایجنسی سے ہوتے ہوئے تیراہ میدان کو روانہ ہوئے۔کوہاٹ  ٹنل تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ انیس سو نناوے میں اس کی تعمیر شروع ہوئی اور دو ہزار تین میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی۔ دو ہزار آٹھ میں  چوبیس جنوری کو اس ٹنل پر طالبان نے قبضہ کر لیا اور اٹھائیس جنوری کو سخت لڑائی کے بعد اس ٹنل کا قبضہ سکیورٹی فورسز نے واپس لے لیا۔
درہ آدم خیل، آفریدی قبائل کے ان نو ذیلی قبائل میں سے ایک ہے جن کا ذکر آگے آئے گا۔ آفریدی قبائل اس علاقے میں رہائش پذیر ہیں اور اس علاقے کی مشہوری یا بدنامی، یہاں موجود اس بازار کی وجہ سے تھی جہاں اسلحہ کی سرِ عام خرید و فروخت ہوتی تھی۔یہ سب ماضی کی داستانیں ہیں۔ یہاں سے گزرتے ہوئے ہمیں اب ایسا کوئی بازار نظر نہیں آیا۔ٹنل کے آس پاس پہاڑوں سے کوئلہ نکالا جا رہا تھا اور حالات معمول پر تھے۔ہم کوہاٹ سے ہوتے ہوئے اورکزئی ایجنسی سے گزرے اور بالآخر خیبر ایجنسی کے بارڈر تک پہنچے۔
اورکزئی ایجنسی یہاں ختم ہوتی ہے، یہاں کبھی طالبان کی آزادانہ نقل و حرکت تھی ، آج پاک فوج کا مکمل کنٹرول ہے۔۔ یہ علاقہ آج لاہور اسلام آباد کی طرح محفوظ دکھائی دیتاہے۔۔۔بہت خوبصورت علاقے ہیں، زمین پر جنت جیسے۔
علاقہ غیر-افسانوی دنیا
خیبر ایجنسی سمیت فاٹا کی ہر ایک ایجنسی کا وزٹ کرنا ایک اعزاز ہے جس کا موقع خال خال ہی کسی کو ملتا ہے۔ مجھے''ایف سی''کے ساتھ اٹیچ کیا گیا تو یہ خدشہ تھا کہ شائد مجھے پشاور میں ہی رکھیں گے لیکن دلی خواہش تھی کہ مجھے فوج کے ساتھ آگے ایجنسیوں میں بھیجا جائے تاکہ ان علاقوں کو دیکھوں جن کو پاکستان کے لوگ ہمیشہ علاقہ غیر کے نام سے جانتے اور سنتے رہے ہیں اور جن کو ایک افسانوی حیثیت حاصل ہے۔
امیدبر آئی اور مجھے خیبر ایجنسی کی مشہور اور دل آویز وادی یعنی وادی تیراہ میں اٹیچ کیا گیا۔ وادی تیراہ کو تیراہ میدان بھی کہتے ہیں ۔ میدان اس لیے کہ بلندی سے دیکھنے پر یہ وادی ایک میدان کا نظارہ دیتی ہے۔اس کا ادراک مجھے تب ہوا جب میں کلاوچ کی بلند و بالا پوسٹ پر پہنچا۔ وہاں سے تیراہ میدان کا نظارہ دیدنی تھا ۔
باغ
باغ کاعلاقہ وادی تیراہ خیبر ایجنسی کا مرکز ہے ۔۔۔ یایوں کہیے کہ صدر مقام ہے۔اسے باغ اس لیے کہتے ہیں کہ یہاں اخروٹ کے بے شمارباغات ہیں۔باغ بازار یہاں کی معیشت کا گڑھ ہے۔کسی بھی گاؤں میں شائد ہی ایسابڑا بازار ہو جیسا میں نے یہاں دیکھا ہے۔کچھ عرصہ پہلے تک بازار تو کیا اس علاقے میں کوئی جانے کا سوچتا تک نہ تھا۔آج الحمد للہ حالات بہت بہتر ہیں۔اس علاقے یعنی خیبر ایجنسی کے گھر نوے فیصد کچے ہیں جبکہ مساجد اور مدرسے واحد ایسی تعمیرات ہیں جو پکی ہیں۔ ایک دلچسپ بات کہ باغ میں سکھ گھرانے بھی رہائش پذیر ہیں اور یہاں جب دو گروپوں یعنی لشکراسلام (منگل باغ)اور انصارالاسلام کے مابین جنگ ہوئی تو سکھ واحد گھرانے تھے جن کو دونوں جانب سے حفاظت مہیا کی گئی حتیٰ کہ یہاں کے لوگ ان کے گھروں میں قیمتی اشیاء رکھواتے تھے کہ وہ وہاں محفوظ رہیں گی۔باغ بازار میں میں نے دو سکھ دکانداروں سے بھی گفتگو کی۔ وہ پاک فوج کے آنے سے کافی مطمئن نظر آ رہے تھے۔
اورکزئی ایجنسی کی خاصیت
اورکزئی ایجنسی باقی ایجنسیوں سے اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کی باقی تمام ایجنسیوں کی طرح افغانستان سے براہِ راست سرحد نہیں ملتی۔ ہم جب یہاں سے گزر رہے تھے تو یہ بات قابل غور تھی کہ بیشتر گھر پکے تھے، بجلی کے کھمبے نصب تھے اور ڈبوری کے علاقے تک سگنل بھی آتے ہیں ۔ کافی سال پہلے ان علاقوں میں پاکستان کی سم نہیں چلتی تھی بلکہ یہ لوگ افغانستان کی سم استعمال کرتے تھے جسے بعد میں بند کر دیا گیا۔ اورکزئی ایجنسی میں تعلیم کی شرح بھی نسبتاً بہترہے اور اس علاقے کو کافی پہلے کلئیر کر لیا گیا تھا۔خیبر ایجنسی میں تو نہیں لیکن اورکزئی ایجنسی میں گندم کی فصلیں لہلہا رہی تھیں۔
خیبر کا ماضی اور حال
ہم انٹرنیٹ پر تصویریں دیکھتے تھے کہ ایک آدمی بکریاں چرا رہا ہوتا تھا اور اس نے بندوق لٹکائی ہوتی تھی اور ساتھ لکھا ہوتا تھا کہ قبائلی کلچر میں بندوق اٹھاناایک عام بات ہے لیکن اب ایسا کوئی منظر کم از کم مجھے نظر نہیں آیا۔ بندوق اٹھانا تو دور، بندوق رکھنا بھی  سختی سے منع ہے۔گویا پہلے والا بندوق قبائلی کلچر اب صرف تصویروں میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
تیراہ میدان میں یوم پاکستان کی تقریب:
چند سال پہلے جب دہشت گردی عام تھی تب عام شہروں میں بھی قومی دن کی تقریبات نہیں منائی جاتی تھیں، لیکن میں نے دیکھا کہ خیبر ایجنسی میںبھی تقریب ہوئی، ملی ترانے گائے گئے، پاکستان زندہ باد ، پاک فوج پائندہ باد کے نعرے لگائے گئے ، بچوں نے خاکے پیش کیے اور سول ملٹری فرینڈلی والی بال میچ بھی منعقد ہوا۔
دواتوئی:
دوا توئی ، پشتو میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں صاف پانی کے دو نالے آپس میں ملتے ہیں۔ یہاں پاک فوج کی چیک پوسٹ ہے۔ اس جگہ سے دور پیچھے ایک پہاڑ پر برف نظر آتی ہے اس سے پرے راجگال کی وادی ہے۔ یہ آخری علاقہ ہے جہاں ابھی آپریشن ہونا ہے، اس کے علاوہ کم و بیش تمام ایجنسیوں پر پاکستانی جھنڈے لہرا رہے ہیں۔گرم موسم شروع ہوتے ہی برف پگھلے گی اور پاک فوج آپریشن کرے گی۔
قدرتی حسن:
یہ سارا پہاڑی علاقہ ہے۔یہاں فضائی آلودگی نہیں ہے۔ اس لیے دن میں آسمان انتہائی نیلگوں نظر آتا ہے ایساکہ جیسے کسی نے نہایت خوبصورتی سے اور انتہائی صفائی سے رنگ بھرے ہوں۔ رات کو تارے ایسے چمکتے اور روشن نظر آتے ہیںکہ آپ ایک ایک تارے کوواضح طور پر ٹمٹماتا محسو س کر سکتے ہیں۔
اس علاقے میں سڑکیں نہ ہونے کے برابر تھیں چونکہ یہ چشموں اور ندیوں کی سر زمین ہے اس لیے پیدل چلنے کے لیے اکثر پل نظر آتے ہیں جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔اب پاک فوج نے کافی سڑکیں تعمیر کرائی ہیں اور پل بھی بن رہے ہیں۔ مختلف علاقوں کو آپس میں جوڑا جا رہا ہے۔ جس بھی سڑک سے گزریں ادھر ادھر سے ، پہاڑوں کے دامن سے ، کہیں اوپر کہیں نیچے چشمے نکلتے نظر آتے ہیں۔ یہ چشمے مل کر ندی نالوں کی صورت اختیار کرتے ہیں جوآگے چل کر پہلے دریائے باڑہ بناتے ہیں اور یہ دریا پھر دریائے کابل میں گرتا ہے جو دریائے سندھ میں جا ملتا ہے۔اورکزئی ایجنسی سے جب ہم آئے تو اڑنگا کے مقام پر تھوڑی دیر کے لیے رکے تھے ۔ اگر آپ کو یہ سمجھنا ہو کہ کہاں اورکزئی ایجنسی ختم اور خیبر شروع ہوتی ہے تو اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اورکزئی ایجنسی میں نالہ جنوب کی جانب بہہ رہاہوگالیکن جونہی آپ خیبر ایجنسی میں داخل ہوں گے، نالہ اب شمال کی سمت بہتا نظرآئے گا۔ ||
(جاری ہے.....)

یہ تحریر 258مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP