قومی و بین الاقوامی ایشوز

نیو کلئیر سپلائیرز گروپ میں پاک بھارت مقدمہ

نیو کلئیر سپلائیرز گروپ جوہری مواد کی تجارت کرنے والے 48ممالک کا گروپ ہے جو کہ جوہری عدم پھیلاؤکی خاطربین الاقوامی مارکیٹ میں ایسے جوہری مواد، سازو سامان اور ٹیکنالوجی، جو کہ پر امن سویلین مقاصد کے علاوہ نیوکلئیر ہتھیار بنانے میں بھی استعمال ہوسکتے ہوں‘ کی برآمدات کے عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔اس کے اصول و ضوابط عالمی سطح پرموجود جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدوں
Non-Proliferation Treaty,Treaty of Tlatelolco,Treaty of Pelindaba,Treaty of Bangkok, Treaty of Rarotonga
کے اصولوں کے مطابق بنائے گئے ہیں تاکہ سویلین مقاصد کے لئے سپلائی ہونے والا نیوکلئیر مواد ایٹمی ہتھیار اوردیگر ایٹمی دھماکہ خیز مواد بنانے میں استعمال ہونے سے روکا جاسکے اور اس شعبے میں ہونے والی بین الاقوامی تجارت پر منفی اثر نہ پڑے ۔اس گروپ کا قیام 1974 میں اس وقت عمل میں لایا گیاتھا جب بھارت نے سویلین نیو کلئیر ٹیکنالوجی جس میں ایٹمی ری ایکٹر کینیڈا اور اس میں استعمال ہونے والا فیول امریکہ سے حاصل کیا تھا، کو فوجی مقاصدیعنی ایٹم بم بنانے کے لئے استعمال کیا اور ایٹمی دھماکے کرکے خود کو ایک ایٹمی ملک ثابت کردیا۔ نیو کلئیر سپلائیرز گروپ کو اقوام متحدہ، نیٹو اور یورپی یونین کے بعد انتہائی اہم ادارہ سمجھا جاتا ہے جس کی اہمیّت اس بات سے عیاں ہے کہ نیوکلئیر شعبے میں دنیا کے تقریباً تمام سرکردہ ممالک اس گروپ کے رکن ہیں ۔ اس گروپ میں شامل ہونے والے ممالک کے لئے لازم ہے کہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں نیو کلئیر سپلائیرز گروپ کے راہنما اصول وضوابط میں شامل نیوکلئیر اشیاء مثلاً نیوکلئیر ری ایکٹرز، ری ایکٹرز میں استعمال ہونے والا غیر جوہری مواد، پلانٹس وغیرہ سپلائی کرنے کی اہلیّت رکھتے ہوں،گروپ کی رکنیت کے حصول کے خواہش مند ملک کے لئے لازم ہے کہ اس کے ہاں داخلی سطح پر برآمدات کنٹرول کرنے والا ایک قانونی نظام لاگو ہو جو اس ملک کی جانب سے نیو کلئیر سپلائیرز گروپ کی راہنما ہدایات پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائے، جبکہ
Non-proliferation Treaty 
یا جوہری عدم پھیلاو کے دیگر معاہدوں پر دستخط ، نیوکلئیر ہتھیاروں کی روک تھام کے لئے بین الاقوامی کوششوں کی مکمل حمایت کرنا اور نئے ملک کی شمولیت کے لئے گروپ کے تمام ارکان کی رضامندی حاصل کرنا بھی اس کی شرائط میں شامل ہے۔

 

23اور24 جون کو جنوبی کوریا کے دارالحکومت سےؤل میں نیوکلئیر سپلائیرز گروپ کا اجلاس منعقد ہوا جو کہ اس لحاظ سے انتہائی اہمیّت کا حامل رہا کہ اس سے قبل جنوبی ایشیا کے دو ایٹمی ممالک پاکستان اور بھارت نے گروپ کی رکنیت کے حصول کے لئے درخواستیں دائر کر رکھی تھیں‘ جس پر اجلاس کے دوران غور وخوض ہونا تھا۔لیکن یہ معاملہ انتہائی متنازعہ شکل اختیار کرگیا اور اس بار دونوں ممالک میں سے کسی کو بھی رکنیت نہیں دی گئی لیکن یہ بات ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور پاکستان اور بھارت دونوں ہی سفارتی سطح پر اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔واضح امکان ہے کہ اگلے اجلاس میں یہ معاملہ پھر زیر غور آسکتا ہے جس کی سب سے اہم مثال امریکی صدر بارک اوبامہ کی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکارکا یہ بیان ہے کہ بھارت اس سال کے آخر تک نیو کلئیر سپلائیرز گروپ کا رکن بن سکتا ہے۔بھارت دراصل ایک عشرے سے زائد عرصے سے اس مقصد کے حصول کے لئے کوشاں ہے اور اسے اس گروپ میں شامل چین، آئرلینڈ، ہالینڈ، ترکی اور سوئیٹزرلینڈ کے سوا امریکہ کی سرکردگی میں چار ایٹمی طاقت کے حامل ممالک سمیت تقریبا سبھی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ باوجود یہ کہ بھارت کی نیوکلئیر سلامتی کی صورتحال کے بارے میں وقتاً فوقتاً عالمی سطح پر خدشات کا اظہار کیا جاتا ہے، مثلاً معروف امریکی تنظیم
Nuclear Threat Initiative (NTI) 
نے جنوری 2014میں بھارت میں نیوکلئیر تنصیبات کی سکیورٹی کی صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا تھا اور اس نے نیوکلئیر تنصیبات رکھنے والے 25ممالک کی نیوکلئیر سکیورٹی کے حوالے سے بھارت کو 23ویں نمبر پر رکھا تھا،جبکہ حال ہی میں ہارورڈ کینیڈی سکول نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں بھارت کی نیوکلئیر سکیورٹی کے حوالے سے متعدد خدشات کا اظہار کیا ہے۔


بہر حال نیو کلئیر سپلائیرز گروپ کی رکنیت دونوں ممالک کے لئے انتہائی اہمیت رکھتی ہے ۔بھارت سمجھتا ہے کہ نیو کلئیر سپلائیرز گروپ کی رکنیت کے ذریعے اس کے لئے اعلیٰ درجے کی نیوکلئیر ٹیکنالوجی درآمد کرنے کی راہیں کھل جائیں گی جس کے ذریعے معیشت کو استحکام ملے گا اور ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔اس کے علاوہ بھارت اپنے ہاں موجود نیوکلئیر مواد بین الاقوامی مارکیٹ میں برآمد کرکے زیادہ سے زیادہ مالی فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس وقت بھارت میں بلگام ھبل دھرواد کے علاقے میں یورینیم کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور بھارتی پالیسی سازاسے ہر حالت میں بین الاقوامی مارکیٹ میں لانا چاہتے ہیں۔لیکن خطے پر بالادستی کے خواب دیکھنے والے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی اس گروپ کی رکنیت کے حصول کے لئے جاری انتہائی جارحانہ پالیسی کا سب سے بڑا مقصد گروپ کی گورننگ باڈی میں شامل ہوکربھارت کو ایک اہم فیصلہ ساز ملک بنانا ہے ۔اگر بھارت اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا ہے تو وہ خطے میں نیوکلئیر تجارت کی مارکیٹ کو ایشیا میں اپنی ایسی کئی پالیسیوں کو کامیاب کرانے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرے گا جو اس کے پڑوسی ممالک کے مفادات کے خلاف ہیں۔صرف بھارت کو نیو کلئیر سپلائیرز گروپ کی رکنیت ملنے کی صورت میں وہ مستقبل میں پاکستان کی رکنیت کو ویٹو کرے گا اور یہ بات بھی وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ رفتہ رفتہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بھی ناکام بنانے کی کوششیں کرے گا کیونکہ بھارت کی جانب سے عالمی سطح پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف کیاجانے والاپراپیگنڈا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ دوسری جانب پاکستان چاہتا ہے کہ نیوکلئیر سپلائیرز گروپ میں شامل ہو کر ترقی پذیر ممالک کے لئے اس کے اقتصادی و سماجی ترقی کے پروگرام سے فائدہ اٹھایا جائے، پاکستان کو اس وقت توانائی کی شدید قلّت کا سامنا ہے اوراس وقت پائیدار اقتصادی نمو اور صنعتی ترقی کے لئے سول نیوکلئیر توانائی کا حصول پاکستان کے لئے انتہائی اہم ہے۔اس لئے پاکستان سمجھتا ہے کہ وہ نیو کلئیر سپلائی گروپ میں شمولیت کے ذریعے اعلی درجے کی نیوکلئیر ٹیکنالوجی اور مواد‘بالخصوص نیو کلئیر پاور پلانٹس کے لئے نیوکلئیر فیول‘ تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔اس کے علاوہ پاکستان نیو کلئیر سپلائیرز گروپ کے ذریعے محفوظ اور پرامن نیوکلئیر تجارت کو فروغ دینے اور جوہری عدم پھیلاو کے لئے کی جانے والی عالمی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرکے اپنی ساکھ بین الاقوامی برادری میں مزید بہتر کرنا چاہتا ہے۔جبکہ پاکستان کے لئے سب سے بڑھ کر جیو اسٹریٹجک لحاظ سے اس گروپ کی رکنیّت اہم ہے کیونکہ صرف بھارت کی کامیابی کی صورت میں خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا اور اسے پاکستان کے خلاف جاری ریشہ دوانیوں کے لئے ایک اور مضبوط پلیٹ فارم مل جائے گا جو کہ پاکستان کی سلامتی اور خطّے میں اس کے مفادات کے لئے انتہائی نقصان دہ ہوگا۔
لیکن اس وقت دونوں ممالک کے لئے اس گروپ میں شمولیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ دونوں جانب سے نیوکلئیر سپلائیرزگروپ کی رکنیت کے لئے انتہائی اہم شرط
Non-proliferation Treaty
کے رکن ہونے کی شرط پر پورا نہ اترناہے(جس کا مستقبل قریب میں بھی کوئی امکان نہیں ہے )۔جنوبی کوریا کے دارالحکومت سئیول میں ہونے والے گروپ کے آخری اجلاس میں اس وقت انتہائی دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب امریکہ نے
Non-proliferation Treaty 
کا رکن نہ ہونے کے باوجود بھارت کو نیوکلئیر سپلائیرزگروپ کی رکنیت دینے کی نہ صرف حمایت کی بلکہ اس کے لئے گروپ میں شامل دیگر ممالک کی بھی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی حالانکہ یہ شرط 1997میں امریکہ ہی کی ایماء پر شامل کی گئی تھی۔پاکستان کے دوست ملک چین نے اس معاملے پر واضح موقف اپنایا اور صاف لفظوں میں امریکہ کو بتا دیا کہ بھارت جب تک

Non-proliferation Treaty
پر دستخط نہیں کرے گا تب تک وہ اس کی شمولیت کے فیصلے کو ویٹو کرے گا۔چین کا موقف ہے کہ ایسی صورتحال میں بھارت کے ساتھ امتیازی سلوک نہ برتا جائے اور اسے رکنیت دینے کی صورت میں پاکستان بھی (پاکستان بھی

Non-proliferation Treaty
کا رکن نہیں ہے) گروپ کی رکنیت کا حقدار ہوگا۔ اب یہ امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگلے اجلاس میں یا مستقبل قریب میں کسی دوسرے موقع پر بھارت اورپاکستان دونوں یا صرف بھارت کو 
Non-proliferation Treaty
پر دستخط کئے بغیر نیو کلئیر سپلائیرز گروپ کی رکنیت دی جاسکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ دونوں جانب امیدیں ابھی زندہ ہیں اور دونوں ممالک کے سفارتکار اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔لیکن اس امکان پرغور کرنے کے لئے ہمیں مفروضوں کی بجائے تھوڑا سائنسی اندازفکر اختیار کرنا ہوگا،ہمارے پالیسی سازوں کوکچھ نہایت اہم سوالوں کے جواب ڈھونڈ کر ہی آگے بڑھنا ہوگا اور اگر ان سوالوں کے جوابات تسلّی بخش نہ ہوں تو پھر انھیں وقت برباد کرنے کے بجائے دوسرے امکانات تلاش کرنے چاہئیں ۔پہلی بات یہ ہے کہ 
Non-proliferation Treaty
ایک انتہائی اہم معاہدہ ہے یہ معاہدہ نیوکلئیر مواد سپلائی کرنے والے ممالک کو قانونی طور پر پابند بناتا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ نیو کلئیر سپلائیرز گروپ کے راہنما اصولوں کے تحت سپلائی کیا جانے والا نیوکلئیر مواد ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری یا پھیلاؤ میں تو استعمال نہیں ہورہا؟ اسی معاہدے کے تحت ہی نیو کلئیر سپلائیرز گروپ میں شامل ان ممالک جو کہ ایٹمی ہتھیار نہیں رکھتے‘ کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ پر امن مقاصد کے حصول کے لئے کی جانے والی تمام سرگرمیوں کو International Atomic Energy Agency 
کے فراہم کردہ اصول و ضوابط کے دائرے میں جاری رکھیں تاکہ ان سرگرمیوں کے غلط استعمال (ایٹمی ہتھیاربنانے ) سے بچا جا سکے۔جبکہ این پی ٹی رکن ممالک پرتخفیف جوہری اسلحہ
(Nuclear Weapons Disarmament) 
کے لئے کوششیں کرنے پر بھی زور دیتا ہے ،یاد رہے کہ بین الاقوامی سیاست میں امن و امان کی خوشگوار صورتحال برقرار رکھنے کے لئے ایسے اقدامات کی اہمیّت بہت زیادہ ہوتی ہے۔این پی ٹی کی اس اہمیت کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ معاہدہ نیوکلئیر سپلائیرز گروپ کے بنیادی مقاصد کے حصول میں ریڑھ کی ہڈّی کی حیثیت رکھتا ہے۔اگر گروپ میں شمولیت کی اس شرط کو سائیڈ پر رکھ کر اس میں نئے رکن ممالک کو شامل کیا جاتا ہے تو کیا اس کے بنیادی اغراض و مقاصد متاثر نہیں ہوں گے؟ کیا اس کے لئے کوئی لائحہ عمل موجود ہے ؟ کیا گروپ میں موجود ایسے ممالک جو پاکستان اور بھارت کو این پی ٹی کی شرط سے استثنی دے کر انہیں رکنیت دینے کی حمایت کرتے ہیں‘ ان کے پاس گروپ کے استحکام اور اس کے اغراض و مقاصد کی سالمیّت برقرار رکھنے کے لئے این پی ٹی کی شرط کا کوئی متبادل نظام موجود ہے؟گروپ کے تمام ارکان کو یہ یقین دلانے کا کیا طریقہ کار ہے کہ این پی ٹی پر دستخط کرنے والے ممالک کسی قسم کا خطرہ بننے کی بجائے افادیت اور کس قسم کی افادیت کا باعث بن سکتے ہیں؟کیاگروپ میں شامل پالیسی ساز این پی ٹی کی حیثیّت نئے سرے سے واضح کرنے کا کوئی پروگرام رکھتے ہیں؟اگر ان سوالوں کا جواب ہاں میں ہے تو پھر یہ بات واضح ہے کہ نیوکلئیر سپلائیرزگروپ کے قواعد و ضوابط میں تبدیلیوں کے عمل کا آغاز ہونے کو ہے اور پاکستان اور بھارت مستقبل قریب میں اس گروپ کے رکن بن سکتے ہیں، اور اگر ایسا نہیں ہے اور دونوں میں سے صرف ایک ملک کو رکنیت دی جاتی ہے تو پھر یہ تبدیلی کا عمل نہیں بلکہ ’’ہاتھیوں کی لڑائی‘‘ کا ایک حصّہ ہے جو عرصے سے جاری ہے اور ایک عرصے تک جاری رہے گی۔


مضمون نگار ایک معروف صحافتی ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 75مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP