خصوصی رپوٹ

نیشنل لوکسٹ کنٹرول سینٹر- آئیے مل کر ٹڈی دَل کا تدارک کریں

وطن عزیز کو اس وقت کرونا کے ساتھ ساتھ ٹِڈی دَل کے بڑے خطرے کا بھی سامنا ہے۔ حکومت پاکستان جنوری 2020 سے ٹِڈی دَل سے نمٹنے کے لئے نیشنل ایمرجنسی کا اعلان کرچکی ہے۔ ٹِڈی دَل کے حملے کا مربوط طریقے سے تدارک کرنے کے لئے نیشنل لوکسٹ کنٹرول سینٹر (NLCC) قائم کردیا گیا ہے۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور پاکستان آرمی کی مشترکہ ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ٹِڈی دَل کے خاتمے کے لئے بھرپور اور مؤثر آپریشن کررہی ہیں۔ تمام متعلقہ حکومتی اداروں کو ہدایات دی جاچکی ہیں کہ ٹڈی دَل کے حملے کی اطلاع پر تمام دستیاب مشینری کو متحرک کرکے بروقت ٹِڈی دَل کو تلف کریں۔ 




ٹڈی دَل (لوکسٹ) گراس ہاپر(ٹڈی) کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ یوں تو اس کیڑے کی بہت سی اقسام ہیں لیکن سب سے زیادہ خطرناک قسم جسے صحرائی ٹڈی کہا جاتا ہے زیادہ نقصان کا باعث ہے۔ یہ ٹڈیاں ہمیشہ گروہ کی شکل میں حملہ آور ہوتی ہیں اس لئے انہیں ٹڈی دَل کہتے ہیں۔ٹڈی دَل دو حالتوں میں مکڑی فصلات اور دیگر سبزیات اور باغات کانقصان کرتی ہے۔
1۔Solitary Phase(انفرادی حالت)
2۔Gregarous Phase(اجتماعی حالت)
انفرادی حالت میں مکڑی کے بچے ہلکے پیلے سبز اور پھر سیاہی مائل بھورے رنگ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مکمل کیڑے کی ٹانگیں مضبوط اور لمبی ہوتی ہیں اس کے پر لمبے اور رنگ بھورا ہوتا ہے جبکہ اجتماعی حالت میں مکمل کیڑے کا رنگ بھوسہ نما اور زرد ہو جاتاہے۔ اس حالت میں یہ دَل یعنی گروہوں کی شکل میں رہ کے کافی نقصان کرتی ہے۔ اس شکل میں آنے کے لئے اس کو ایک گھنٹہ ہی کافی ہے۔ مکمل نر کیڑا 40سے 50ملی میٹر لمبااور مادہ 50 سے 60ملی میٹر زرد یا بھورے رنگ کی ہوتی ہے۔ ایک سال میں مکڑی کی کئی نسلیں پروان چڑھتی ہیں۔


ایف اے او کے مطابق ٹڈی دَل کے صرف ایک مربع کلو میٹر بڑے جھنڈ میں 80کروڑ بالغ کیڑے ہو سکتے ہیں جو ایک دن میں 35ہزار انسانوں کی خوراک کے برابر فصلیں کھا جاتے ہیں۔اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت کے عالمی ادارے ایف اے او کے مطابق ٹڈی دل 90میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے یعنی ایک گھنٹے میں وہ 160کلو میٹر کا فاصلہ طے کر سکتا ہے۔ 


ایف اے او کے مطابق ٹڈی دَل کے صرف ایک مربع کلو میٹر بڑے جھنڈ میں 80کروڑ بالغ کیڑے ہو سکتے ہیں جو ایک دن میں 35ہزار انسانوں کی خوراک کے برابر فصلیں کھا جاتے ہیں۔اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت کے عالمی ادارے ایف اے او کے مطابق ٹڈی دل 90میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے یعنی ایک گھنٹے میں وہ 160کلو میٹر کا فاصلہ طے کر سکتا ہے۔ 
ٹڈی دَل انڈے سے بالغ بننے تک یہ چھ مختلف حالتوں سے گزرتی ہے۔ مادہ اپنی سوئی نما ساخت کی مدد سے ریت میں انڈے دیتی ہے۔ مادہ اس وقت تک انڈے نہیں دیتی جب تک ریت گہرائی میں 5سے10سنٹی میٹر نم نہ ہو۔ یہ گُچھوں کی شکل میں انڈے دیتی ہے جو کہ چاول کے دانوں کے برابر ہوتے ہیں۔ ایک مادہ 6سے 11دنوں میں 7سے 30گھنٹوں تک تقریباً 140کے قریب انڈے دیتی ہے۔ اگر موسم خوشگوار ہو تو انڈوں سے 10دن میں بچے نکل آتے ہیں۔ بچے اوسطً 30دنوں میں بالغ بنتے ہیں۔ بالغ کی اوسط عمر 8ہفتے ہوتی ہے۔ اگر موسم گرم اور دھوپ نکلی ہوئی ہو تو یہ پورا دن بھی سفر میں رہ سکتے ہیں۔ اگر موسم ابر آلود ہو تو یہ زیادہ دور نہیں جاتے۔ جس جگہ رات پڑ جائے وہاں اس کا جھنڈ نیچے اتر آتا ہے۔ سورج طلوع ہونے سے ایک گھنٹہ بعد یہ کھانا شروع کر دیتے ہیں اور سورج غروب ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے کھانا پینا چھوڑ کر آرام کی حالت میں آ جاتے ہیں۔ یہ اپنے راستے میں آنے والی تمام فصلوں، درختوں، جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کو کھا جاتی ہے۔
ٹڈی دَل کا پھیلائو
اے ایف او کے مطابق 2018 میں دو بڑے سمندری بگولوں کی وجہ سے ایمپٹی کوارٹر نامی صحرا میں معمول سے کہیں زیادہ بارشیں ہوئیں۔ یہ صحرا سعودی عرب، اومان، یمن اور کچھ دوسرے عرب ممالک کی سرحدوں سے ملتا ہے۔ ان بارشوں کے نتیجے میں ٹڈی دَل کی تین نسلیں ایمپٹی کوارٹر میں پروان چڑھیں اور اس کی تعداد میں آٹھ ہزار گنا اضافہ ہوا۔ یادر ہے کہ ٹڈی دل کی افزائش کے لئے نم زمین موزوں ہوتی ہے اور بارشوں میں اس کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایمپٹی کوارٹر میں جس جگہ اس کی افزائش ہوئی وہاں نگرانی نہیں کی جاسکتی تھی اور نہ ہی اس کی روک تھام۔ جب تک اس کا پتہ چلا ، ٹڈی دَل  کے جھنڈ وہاں سے نکل کر دوسرے ممالک کارخ کر چکے تھے جن میں انڈیا پاکستان کا سرحدی علاقہ، ہارن آف افریقہ، سعودی عرب ، ایران اور یمن شامل ہیں۔
براعظم افریقہ کے ملک کینیا میں گزشتہ برس ایک لشکر دیکھا گیا جس کا حجم سائنسی نیچر نامی جریدے کے مطابق امریکہ کے شہر نیو یارک سے تین گنا بڑا تھا۔ افریقہ میں ٹڈیوں کے اتنے بڑے جھنڈ بھی نکلے ہیں جن کی وجہ سے پروازیں معطل کرنا پڑیں۔ یہی ٹڈی دَل افریقہ سے اڑتا پاکستان بھی پہنچاہے۔
 ایک جھنڈ یا گروہ میں لاکھوں کیڑے ہوتے ہیں اور ایک دَل کئی میلوں تک پھیل سکتا ہے مون سون کی نسل کے مکمل کیڑے سردیوں کا موسم بھارت (راجستھان)میں گزارتے ہیں یا دوسرے شمال مغربی ممالک میںنقل مکانی (Migration) کر جاتے ہیں۔



ٹڈی دَل سے نقصان کی نوعیت



 یہ پودوں کے پتوں، شگوفوں اور پھولوں کو کتر کتر کر ضائع کرتی ہے۔ زیادہ تر گندم، جوار ، مکئی ، چارہ جات اور سبزیات کو نقصان پہنچاتی ہے جبکہ بڑے پودوں اور باغات کابھی کافی نقصان کرتی ہے شدیدنقصان کی صورت میں پودے ٹنڈ منڈ نظر آتے ہیں ۔ ایک مکڑی دو ماہ تک زندہ رہ سکتی ہے۔ 
پاکستان میں اس جھنڈ کا نشانہ خریف کی فصلیں ہوں گی جن میں گنا، چاول، کپاس اور مکئی نمایاں ہیں۔ پاکستان میں ٹڈی دَل اس وقت تقریباً آدھے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔ابھی تک لگ بھک 60اضلاع ٹڈی دَل سے متاثر ہیں جن میں صوبہ بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ آئندہ ماہ کے دوران ٹڈی دل کے مزید جھنڈ ہارن آف افریقہ، (یعنی افریقہ کے بالکل مشرقی کونے میں واقع پانچ ممالک) میں جون اور جولائی کے مہینے میں جبکہ ایران میں موجود جھنڈ دو سے تین ہفتے میں پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ایران میں اس وقت ٹڈی دَل کا ایک بہت بڑا حملہ جاری ہے۔ پاکستان کا مسئلہ دوہرا ہے جو ٹڈی دَل گزشتہ برس آیا تھا وہ بھی نہیں نکل پایا اور ملک کے اندر بھی مختلف مقامات پر اس کی افزائش اور حملے جاری ہیں۔ ٹڈی دَل کا یہ پاکستان میں 28برس کے بعد ایک بڑا حملہ ہے ۔
ٹڈی دَل کا تدارک
کاشتکار حضرات کو ضروری اور مؤثر ٹریننگ کے ساتھ ساتھ ہدایات دی جارہی ہیں کہ ٹِڈی دَل کے حملے کی صورت میں حکومتی ٹیموں کے پہنچنے تک روایتی طریقوں سے ٹِڈی کو فصلوں اور باغات سے دور بھگائیں اور اس کے ساتھ ساتھ ٹِڈی دَل کے حملے سے قبل اپنی فصلوں کے اردگرد احتیاطی طور پر ضروری کیمیائی سپرے کریںجس میں سب سے مؤثر پروفینوفاس ہے۔ اجتماعی طور پر بھی متاثرہ علاقوں میں اپنی مدد آپ کے تحت ٹریکٹر اور بڑے سپرئیرز تیار رکھیں اور ٹِڈی  کے حملے کی صورت میں Lambda Cyhalothsen کا سپرے کریں۔ بالغ ٹِڈی  کے حملے کے بعد بلاتاخیر متاثرہ زمین میں ہل چلا کر ہر صورت انڈے تلف کریں۔ غیر آباد اور صحرائی علاقوں میں ٹِڈی دَل کا غیر معمولی جھنڈ دیکھنے پر ہوائی سپرے کے لئے NLCC سے فوراً رابطہ کریں۔
ذیل میں مختلف اقدامات مختصراً درج ہیں
٭    ٹِڈی دَل کے مؤثر تدارک کے لئے زمینی آلات ( سپرے مشینز، ٹریکٹرز) کے ساتھ ساتھ ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے ایریل سپرے بھی کیا جارہا ہے۔
٭    ٹڈی دَل کی آمد اور حملے کی متعلق معلومات اپنے اردگرد کے کسانوں اور محکمہ زراعت کے عملے سے لیتے رہیں تاکہ اس کوبھگانے کے مناسب اقدامات کئے جاسکیں۔
٭    ٹڈی کے جھنڈ کو بھگانے کے لئے کھیتوں میں ٹین یا ڈبوں سے شور کریں۔
٭    رات کے وقت جھاڑیوں اور پودوں پر بیٹھی ہوئی ٹڈی کو شعلہ بردار مشینوں سے آگ لگا کر تلف کریں۔
٭    جس زمین میں ٹڈی کے انڈوں کی نشاندہی ہو جائے اس رقبے میں گہری اور ڈیڑھ تا اڑھائی فٹ چوڑی کھائیاں کھودی جائیں تاکہ نوزائیدہ بچے انڈوں سے نکلنے کے بعد میں خوراک کی تلاش میں ان کھائیوں میں جمع ہو جائیں ان کھائیوں میں کیڑے مار سپرے کریں۔
٭    ہیلی کاپٹر یا ہوائی جہاز کے ذریعے بھی سپرے کیا جاسکتا ہے۔



ٹڈی دَل سے بچائو کے لئے این ایل سی سی کے اقدامات
حکومت پاکستان ٹِڈی دَل کے خاتمے کے لئے مؤثر اقدامات کر رہی ہے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، تمام صوبائی محکمہ زراعت پاکستان آرمی اور کمیونٹی کی مشترکہ ٹیمیں ملک کے مختلف اضلاع میں ٹِڈی دَل کے خلاف بھرپور سروے اور کنٹرول آپریشن کررہی ہیں اور متاثرہ علاقوں میں 1150 مشترکہ ٹیمیں اس مہم میں حصہ لے رہی ہیں۔ملک بھر میں یکم جولائی 2020 تک سروے اور آپریشن کی مد میں جو خدمات عمل میں لائی گئی ہیں ان کی تفصیل کچھ یوں ہے!


اب تک وطن عزیز کے تقریباً 381852 مربع کلومیٹر  پر سروے ہوچکا ہے جبکہ تقریباً 9226 مربع کلومیٹر پر کنٹرول آپریشن کیا جاچکا ہے۔


 سروے
 اب تک 381852  اسکوائر کلومیٹر رقبے کا سروے کیا جاچکا ہے، جبکہ 9226 مربع کلومیٹر رقبے میں ٹِڈی دَل کی موجودگی پر آپریشن کیا جاچکا ہے۔
آپریشن 
بلوچستان میں 4596، پنجاب میں 3433، خیبر پختونخوا میں 625 اور سندھ میں 571 مربع کلومیٹر رقبہ میں کنٹرول آپریشن کیا جاچکا ہے۔ حکومت پاکستان نے بروقت اقدامات کئے اور انسداد ٹِڈی دَل کا نیشنل ایکشن پلان ترتیب دے کر تمام متعلقہ اداروں کو متحرک کیا۔ محکمہ فوڈ سکیورٹی، محکمہ زراعت، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز اور پاک آرمی کی مشترکہ ٹیموں نے انسداد ٹِڈی دَل آپریشن کا فوراً آغاز کرتے ہوئے ارض پاک کی لہلہاتی فصلوں کو بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصان سے بچایا۔ اب تک وطن عزیز کے تقریباً 381852 مربع کلومیٹر  پر سروے ہوچکا ہے جبکہ تقریباً 9226 مربع کلومیٹر پر کنٹرول آپریشن کیا جاچکا ہے۔
انفارمیشن ڈیسک



مشکل کی اس گھڑی میں حکومت پاکستان اپنے کسان بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان سے حوصلے اور تعاون کی امید بھی رکھتی ہے۔ ٹِڈی دَل کی موجودگی کی اطلاع دینے یا متعلقہ معلومات کے حصول کے لئے NLCC کے ہیلپ لائن نمبرز پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
PTCL- 051-9294980-2
Mobile- 0320-5800120-4
UAN- 051-111-222-999
 

یہ تحریر 197مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP