قومی و بین الاقوامی ایشوز

نیا پاکستان میری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجاب

 

ضرب عضب کے بعد ابھرنے والا پاکستان یقیناً وہ نہیں ہو گا، جو اس سے پہلے تھا۔ آج ہماری قوم کے پاس واحد انتخاب اس کی کامیابی ہے۔ناکامی ہمارے لئے کوئی قابلِ قبول متبادل نہیں ہے۔ پاک فوج کی پیش قدمی سے یہ واضح ہے کہ ان شاء اﷲ ہمارے جوان سرخرو رہیں گے۔ تاہم یہ اس جنگ کا محض ایک مرحلہ ہے۔ اس کی حتمی کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی، جب فوج کے ساتھ حکومت، سماجی ادارے اور اہل دانش اپنے حصے کا کام کریں گے۔ ضرب عضب سے یہ ممکن ہو جائے گا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم ہو جائیں اور ان کے پاس کوئی محفوظ پناہ گاہ نہ رہے۔ان سے ہتھیارچھین لئے جائیں اوران کی تنظیم باقی نہ رہے۔ تاہم حتمی کامیابی کے لئے یہ کفایت نہیں کرتا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اس سوچ اور نظریے کو بھی استدلال کی دنیا میں شکست دی جائے جوطالبان یا اس طرح کے کرداروں کو جنم دیتا ہے۔ تاکہ جب آج مسلح افراد ختم ہو جائیں تو کل ان کی جگہ لینے والا کوئی نہ ہو۔ یہ کام حکومت اور سماجی اداروں کی تائید کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔اس کے لئے عوامی بیداری کی ایک لہراٹھانی ہوگی جو ملک، قوم اور فوج کے بارے میں پھیلائے جانے والے ابہام کا خاتمہ کرے۔ پاکستان ایک آزاد ملک ہے۔ یہ قبائلی معاشرت ہے اور نہ بادشاہت ہے۔ اس ملک کا ایک آئین ہے جس کے تحت ادارے قائم ہیں اور اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔ بایں ہمہ پاکستان ایک جغرافیے کا نام ہے۔ اس کی متعین سرحدیں ہیں جن کو عالمی توثیق حاصل ہے۔ ان سرحدوں کا دفاع پاکستان کا حق ہے اور ذمہ داری بھی۔ پاکستان کی سلامتی، بقا اور خود مختاری کا انحصار تین باتوں پر ہے۔ ایک یہ کہ ریاستی ادارے آئین کے مطابق اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ دوسرا یہ کہ ادارے مضبوط ہوں تاکہ اپنا کردار خوش اسلوبی سے ادا کر سکیں۔ تیسرا یہ کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کر سکتا ہو اور کسی کو یہ جرأت نہ ہو کہ وہ فرد ہو یا ملک، پاکستانی سرحدوں کے تقدس کو پامال کرے۔ افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی آمد کے بعد، بد قسمتی سے پاکستانی سرحدوں کا احترام مجروح ہوا۔ افغانستان کے ساتھ پھیلی 2611 کلو میٹر کی سرحد پر پہرا دینا کسی طور ممکن نہیں تھا۔ یوں افغانستان میں مصروف جنگجوؤں کو موقع ملا کہ وہ امریکی فوجوں کی تاخت سے بچنے کے لئے پاکستان کا رخ کریں۔ ان میں بہت سے ملکوں کے افراد شامل تھے۔ ابتداً ان کا ہدف امریکا اور دوسرے ممالک تھے، بعد میں انہوں نے پاکستان کو اپنا نشانہ بنا لیا اور اس کام میں انہیں تحریک طالبان پاکستان کی حمایت حاصل ہو گئی۔ تحریک طالبان پاکستان نے آئین، سیاسی نظام، اداروں اور سرحدوں سمیت ہر اس علامت کا انکار کیا، جس کا تعلق پاکستان کے وجود سے تھا۔ یوں ٹی ٹی پی اور غیر ملکی عناصر نے مل کر پاکستان، پاکستانی عوام اور پاکستانی فوج کو اپنا ہدف بنالیا۔پاکستان کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے کے لئے انہوں نے مذہب کا سہارا لیا۔ انہوں نے یہ تاثر دیا کہ وہ امریکا اور اپنے فہم کے مطابق اسلام دشمن طاقتوں سے نبرد آزما ہیں۔ انہوں نے اپنا مقدمہ ثابت کرنے کے لئے یہ دلیل بھی دی کہ ممالک کے مابین موجود سرحدیں غیر اسلامی ہیں جو دوسری جنگ کے بعد بالا دست قوتوں کی دَین ہیں اور ان کی پابندی ہم پر لازم نہیں۔اس طرح انہوں نے غیر ملکیوں کے پاکستان میں قیام کو دینی جواز دینے کی کوشش کی۔ پاکستان میں کچھ لوگ اس مقدمے کو درست سمجھنے لگے اور یوں طالبان کے ہمدرد اور خیر خواہ بن گئے۔انہیں یہ غلط فہمی ہو ئی کہ یہ فی الواقعہ کفر اور اسلام کا معرکہ ہے اور طالبان اسلام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ جب ان غیر ریاستی عناصر نے پاکستانی فوج، عوام اور قومی شخصیات کو نشانہ بنایا تو واضح ہو گیا کہ طالبان کا مقدمہ درست نہیں۔جو اسلام کے لئے لڑتا ہے، اس کے لئے کیسے ممکن ہے کہ وہ پاکستان کو نقصان پہنچائے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا؟ وہ پاکستانی عوام کو کیسے نشانہ بنا سکتا ہے جو 97 فی صد مسلمان آ بادی پر مشتمل ہے؟ ان سوالات پر غور کرنے سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ اس معرکے میں اگر اسلام کا مقدمہ کوئی لڑ رہا ہے وہ پاک فوج ہے جو ایک اسلامی ملک کی حفاظت کر رہی ہے۔اس کے با وصف، طالبان کے حامیوں نے قوم میں ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی اور یہ تأثر دیا کہ اس تشدد میں طالبان اور پاک فوج دونوں چو نکہ پاکستانی ہیں، اس لئے یہ ایک جیسے دوفریق ہیں۔یہ عقلِ عام کا سوال ہے کہ پاکستان کا دفاع کر نے والے اور اس کو نقصان پہنچانے والے، دونوں ایک جیسے فریق کیسے ہو سکتے ہیں؟ ان ہی لوگوں نے مذاکرات کی بات کرتے ہوئے یہ کہا کہ ’’دونوں فریق‘‘ ایک دوسرے کے خلاف طاقت استعمال نہ کریں۔ اس طرح فوج کی کارروائیوں اور ضرب عضب کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کی گئیں۔ یہ غلط فہمیاں کسی نہ کسی دائرے میں آج بھی موجود ہیں۔ ان کا ازالہ کرنا حکومت اور سماجی اداروں کا کام ہے۔ ضرب عضب سے یہ تو ممکن ہو گا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم ہو جائیں اور ہتھیار اٹھانے والوں کا یہ گروہ باقی نہ رہے۔ لیکن اس ضرب سے وہ غلط فہمیاں ختم نہیں ہو سکتیں جو طالبان کی سوچ کو تقویت پہنچا رہی ہیں۔ہمیں ان کو مخاطب بنانا ہو گا۔ یہ کام حکومت، سیاسی جماعتوں، میڈیا، محراب و منبر اور دوسرے اداروں کا ہے کہ وہ قوم میں یک سوئی پیدا کریں اور یہ بتائیں کہ محض غلط فہمیاں ہیں، جن کی کوئی شرعی بنیاد ہے نہ آئینی۔ اخلاقی بنیاد نہ قانونی۔ اس نظریاتی مہم میں چند نکات کو بطورِ خاص اساس بنانا چاہئے۔ 1۔فوج اور طالبان اس معرکے میں ایک طرح کے فریق نہیں ہیں۔ فوج کو ہتھیاراُٹھانے کا حق آئین دیتا ہے، اخلاق دیتا ہے اور مذہب بھی۔ اس کے برخلاف طالبان یا کسی مسلح گروہ کو یہ حق نہیں کہ وہ ریاست کی اجازت کے بغیر ہتھیار اُٹھائے۔ شریعت میں یہ اقدام بغاوت کہلاتا ہے۔ پاکستانی آئین اسے جرم قرار دیتا ہے۔ سماجی اخلاقیات اس کو رد کرتی ہیں کہ اس کانتیجہ صرف لاقانونیت ہی ہو سکتا ہے۔ اس لئے فوج اور طالبان کو کسی پیمانے سے بھی ایک معرکے کے دو فریق نہیں کہاجا سکتا۔ 2۔پاکستان ایک جغرافیے کا نام ہے۔ اس کی حفاظت کا حق پاکستان کی ریاست کو اﷲ کی شریعت دیتی ہے اور بین الاقوامی قانون بھی۔ اگر کوئی بغیر اجازت پاکستان میں داخل ہوتا ہے تو ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف اقدام کرے۔ فوج ریاست کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ کام کرتی ہے اور اس کا یہ حق آئین اور اخلاق کے عین مطابق ہے۔ 3۔سرحدوں کی حفاظت فوج کی آئینی ذمہ داری ہے۔ فوج جب اپنی سرزمین ان عناصر سے پاک کرتی ہے جو غیر قانونی طور پر پاکستان کا رخ کرتے ہیں تو در اصل اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرتی ہے۔ اس پر کوئی اخلاقی اعتراض وارد ہوتا ہے نہ آئینی۔ 4۔جب افواجِ پاکستان کے مراکز، ایئرپورٹس اور دوسرے مقامات پر حملے ہوتے ہیں تو اس سے پاکستان کمزور ہوتا ہے۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ جس کا آئین قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ ایسے ملک کو کمزورکرنا اسلام کی خدمت نہیں ، اسلام دشمنی ہے۔ ایسے اقدامات کو روکنا پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ فوج یا قومی سلامتی کے ادارے جب ان کے خلاف کوئی قدم اُٹھاتے ہیں تو ان کی تائید اور نصرت قوم کا اخلاقی، دینی اور قومی فریضہ ہے۔ 5۔ہتھیار اُٹھانا غیر قانونی ہے الّا یہ کہ قانون کسی کو اس کی اجازت دے۔ قانون فوج، پولیس یا سلامتی کے دوسرے اداروں کو ہتھیار رکھنے یا اُٹھانے کی اجازت دیتا ہے۔ اس کے علاوہ نجی حفاظت کے لئے بھی قانون کی اجازت سے ہتھیار رکھے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہتھیار اُٹھانا جرم ہے۔ اس کے لئے کوئی اخلاقی دلیل موجود ہے نہ قانونی۔ 6۔مسلمان علما اور فقہا اس پر متفق ہیں کہ اگر کسی دشمن کے خلاف تلوار اُٹھانا ضروری ہے تو اس کا فیصلہ کوئی فرد یا گروہ یا جماعت نہیں کرے گی بلکہ مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی یا ریاست کرے گی۔ اس بات کو ہمارے فقہا بیان کرتے ہیں کہ اسلام میں نجی جہاد کی اجازت نہیں ہے۔ پاکستان ایک ریاست ہے جہاں مسلمانوں کے مشورے سے ایک حکومت قائم ہے۔ اس کا فیصلہ صرف حکومت کر سکتی ہے کہ کسی دوسری قوت کے خلاف قتال یا جہاد کرنا ہے یا نہیں۔ اگر حکومت کوئی ایسا فیصلہ کرتی ہے تو اس کا حق صرف فوج کو ہے کہ وہ دشمن کے خلاف تلوار اٹھائے۔ ضربِ عضب کی حتمی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ حکومتی اور سماجی حلقوں میں ان غلط فہمیوں کے ازالے کے لئے ایک مہم چلائی جائے۔ ذرائع ابلاغ کی مدد سے ان خیالات کی اصلاح ہو جو فتنے کا باعث بن رہے ہیں۔ فوج اپنا کام خوش اسلوبی سے کر رہی ہے۔ اگر حکومت اور سماج کی سطح پر بھی یہی یک سوئی ہو تو یقیناً ضربِ عضب کے بعد ایک نیا پاکستان دیکھیں گے۔ پرامن پاکستان جہاں کسی کو کسی کا خوف نہیں ہوگا۔

[email protected]

یہ تحریر 59مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP