متفرقات

نویدِ سحر

ابلاغ عامہ کی طالبہ زینب ماہ نور کے قلم سے شمالی وزیرستان میں بھرپور زندگی کا احوال ہلال کے قارئین کے لئے

بابا نور حسین پتھر سے ٹیک لگائے گہری سوچ میں گم تھے۔ آج کئی مہینوں بعد اُنہوں نے اپنی داڑھی کو مہندی لگائی تھی۔ دریائے ٹوچی کے کنارے آباد گاؤں عیدِک‘ تحصیل میر علی‘ شمالی وزیرستان کے چند خوبصورت اور گنجان آباد دیہاتوں میں سے ایک ہے۔
بابا نور حسین کے آباء واجداد صدیوں سے یہاںآباد تھے۔ کئی سالوں بعد مجھے آج بابا نور حسین کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ اور خوشی کے آثار دکھائی دیئے۔ 
گاؤں کے لوگ اُنہیں ’بابا جی‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ میں نے بابا جی کو سلام کیا اور اُن کے پاس بیٹھ گئی۔


موقع جان کر بابا جی سے اُن کے چہرے پر خوشی کی وجہ پوچھی۔ باباجی نے شفقت سے میرے سرہاتھ رکھا اور کچھ بولنے سے پہلے اُن کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی بہنے لگی۔ بابا جی نے فوراً اپنی پگڑی سے آنسو صاف کردیئے۔ مجھے لگا جیسے میرے سوال نے باباجی کا دل ہی توڑ دیا ہو۔ میں نے معذرت کرنے کے لئے لب کشائی کرنا چاہی تھی کہ انہوں نے جھٹ سے جواب دیا کہ یہ غم اور خوشی کے ملے جلے آنسو ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے شمالی وزیرستان میں ایک عشرے زائد سے لگی دہشت گردی کی آگ اور پھرآپریشن ضربِ عضب کے ثمرات کا ذکر کرنا شروع کردیا۔ بحیثیت ابلاغ عامہ کی طالبہ میں نے غور سے بابا جی کی باتیں سُنناشروع کردیں۔ ایک سرد آہ بھرنے کے بعد‘ باباجی نے کچھ توقف کیا اور پھر بتانا شروع کیا’9/11 کے بعد امریکہ اور اُس کی اتحادی افواج نے جب افغانستان پر حملہ کیا تو اُس کے اثرات ملحقہ پاکستانی قبائلی علاقوں پر بھی پڑنا شروع ہوئے۔2002 کے اوائل میں شمالی وزیرستان بھی اس خوفناک صورت حال کی زد میں آنا شروع ہوگیا ۔ میران شاہ اور میرعلی کے پُر رونق بازاروں میں ملکی و غیر ملکی دہشت گرد نظر آنے لگے۔ آغاز میں تومقامی آبادی نے اُنہیں مسلمان سمجھ کر خوش آمدید کہا۔ لیکن رفتہ رفتہ انہوں نے مقامی امن پسند آبادی کو اپنے سفاکانہ رویے اور کارروائیوں سے خوفزدہ کرنا شروع کردیا۔
بابا نور حسین کی نگاہ سامنے کچے مکان پر مرکوز تھی اور حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے وہ بے اختیار رو پڑے۔ تھوڑی حالت سنبھلی تو بتایا کہ اُنہیں وہ دن بھلائے نہیں بھولتا جب چند دہشت گرد رات کو ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کے بڑے بیٹے کو تعاون نہ کرنے کی پاداش میں اُن کی آنکھوں کے سامنے شہید کردیا گیا۔ وہ گھر کا واحد کفیل اور تین بچوں کا باپ تھا۔ اُس کے جانے کے بعد ہمارا گھر اُجڑ گیاہے۔ یہ کہتے ہوئے بابا جی مسلسل دہشت گردوں اور اُن کے حمایتیوں کو بُرا بھلا کہے جا رہے تھے۔ بابا جی نے چاروں اطراف اپنی نظر دوڑاتے ہوئے بتایا کہ یہاں ہر طرف دہشت و وحشت کا راج رہا ہے۔

شاید ہی کوئی خاندن ایسا ہو گا جن کے افراد کو دہشت گردوں نے قتل اور خواتین کی عصمت دری نہ کی ہو۔ ان حالات میں مقامی انتظامیہ بے بس نظر آنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے پر دہشت گردوں کا راج ہوگیا۔ معصوم لوگوں کا قتل تو گویا کوئی مسئلہ ہی نہ تھا۔ سرکاری اہل کاروں کو اغوا کرنے کے بعد ذبح کرنا معمول کی بات تھی۔ لوگوں کی املاک پر قبضہ کرکے دہشت گردوں نے اپنے لئے ٹھکانے بنا لئے تھے۔ جگہ جگہ چوکیاں قائم کرکے مقامی لوگوں سے بھتہ وصول کیا جاتا تھا۔ سکولوں کو بند کردیا گیا اور سکول جانے والے بچوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں سرعام ملنے لگیں۔ اکثر و بیشتر رات کو اُٹھ کر تہجد پڑھنے کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اُٹھا کر دعائیں مانگتا کہ’ ’اے آسمانوں کے رب! ہمیں اس اذیت ناک زندگی سے آزادی دے ‘ اے ربِ کعبہ! یہاں ایسی قوت بھیج جو ان سفاک درندوں کا خاتمہ کرکے زندگی کی رونقیں بحال کردے۔‘‘ یہ کہہ کر بابا جی کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا اور والہانہ انداز میں بتانے لگے کہ اﷲنے ان کی دعا قبول کی اور پاک فوج نے جون2014 میں آپریشن ضربِ عضب شروع کیا اور دو سال کے قلیل عرصے میں نہ صرف دہشت گردوں کو عبرت ناک شکست ہوئی بلکہ اُن کے ٹھکانوں کو بھی مکمل طور پر تباہ کردیا۔ بارود بنانے والی فیکٹریاں‘ دہشت گردوں کے تربیتی مراکز اور رسد کے ذخیروں کو تہس نہس کردیا۔


الحمد ﷲ ! آج سارا شمالی وزیرستان امن کا گہوارہ بن چکا ہے۔ پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے بے پناہ قربانیاں دے کر امن قائم کرنے کے ساتھ ساتھ بحالی کے کاموں کو بھی انتہائی سُرعت سے مکمل کیا۔ بابا جی کی آنکھوں میں خوشی جھلک رہی تھی۔ وہ بہت فخریہ انداز میں بتانا شروع ہوگئے کہ پاک فوج نے میرعلی کے گاؤں خدی میں ایک بہت خوبصورت مارکیٹ بنائی ہے جہاں علاقے کے مستحق لوگوں کو دکانیں دی گئی ہیں۔ رات گئے تک وہاں کاروباری سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کا انہوں نے ذکر کرتے ہوئے پاک فوج کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔ ہسپتال میں جدید طرز کی، علاج معالجے کی، سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔


میر علی کے مضافاتی علاقوں میں مزید مارکیٹیں بھی تعمیر ہو رہی ہیں جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ان منصوبوں سے علاقے کے لوگوں کو روزگار کے مواقعے میسر آئیں گے اور تجارتی سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ بھی ہوگا۔ بابا جی سے بات چیت کے دوران گاؤں کے مزید لوگ جس میں نوجوانوں اور بچوں کی بھی خاصی تعداد تھی، وہاں جمع ہوگئے۔ نوجوان بہت پُرامید اور جذبۂ حب الوطنی سے سر شار نظر آرہے تھے۔ وہ مسلسل پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ ان میں سے چند نوجوان ایسے بھی تھے جو پاکستان کے دیگر شہروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے تھے اور ان دنوں گرمیوں کی چھٹیاں منانے اپنے علاقے میں آئے ہوئے تھے۔ پاک فوج نے تعلیمی معیار کے فروغ کے لئے بھی بہت کام کیا۔ درجنوں سکولوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ تین ہائی سکول اپنے وسائل سے تعمیر کئے۔ ان سکولوں کا معیار دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اسلام آباد یا راولپنڈی کے کسی علاقے میں موجود ہوں۔ ان سکولوں میں بچوں کی بڑی تعداد زیرِ تعلیم ہے جنہیں تمام ضروری سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔


سکول دیکھنے کے بعد ہم لوگ بوبلی گاؤں پہنچے جہاں ایک خوبصورت کرکٹ گراؤنڈمیں مقامی ٹیموں کے مابین میچ کھیلاجارہا تھا اور تماشائیوں کی بڑی تعداد لطف اندوز ہو رہی تھی‘نوجوان علاقائی رقص کررہے تھے اور بزرگ بیٹھے محظوظ ہو رہے تھے۔ میری آنکھیں یہ مناظر دیکھ کر حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ شمالی وزیرستان کے ان پسماندہ علاقوں میں اس قدر بھرپور زندگی کے مناظر کسی طلسماتی دنیا کے رنگوں سے کم نہ تھے۔ وہاں موجود نوجوانوں سے بات کرکے اندازہ ہوا کہ شمالی وزیرستان اَب پاکستان کے کسی بھی علاقے سے امن اور سکیورٹی کی صورت حال میں بہت بہتر ہے۔ میں کچھ دیر کے لئے ماضی میں کھو گئی اور میرے ذہن میں سیکڑوں افسروں اور جوانوں کی شہادتوں اور اس سے کہیں بڑی تعداد میں زخمی بہادر سپوتوں کا خیال آیا۔ جن کی قربانیوں کی بدولت آج وزیرستان کے عوام امن کی زندگی کی طرف لوٹ چکے ہیں۔

یہ تحریر 33مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP