اداریہ

نظم، اتحاد اورقومی یکجہتی

قوموں کی ترقی اور وقار میں جواوصاف کردار ادا کرتے ہیں ان میں نظم، اتحاد اور قومی یکجہتی وہ خصائل ہیں جو کسی بھی قوم کو دیگر اقوام سے ممتاز کرتے ہیں۔ پاکستانی قوم ایک نظریئے کی بنیاد پر وجود میں آئی۔ شاعرِ مشرق علامہ محمداقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے اور بانی ٔ پاکستان قائداعظم  محمدعلی جناح نے اپنے تدبر، فکر اور عملی طور پر اس نظریئے کو ترویج دی۔ یوں برصغیر کے مسلمانوں نے  صرف چند برسوں کے اندر اندر مصورِ پاکستان علامہ محمداقبال کے خواب کو قائداعظم محمدعلی جناح کی بصیرت افروز، قیادت میں سچ کردکھایا اور مسلمانوں کی وہ ریاست جس کا مطالبہ علامہ اقبال نے 1930 میںخطبہ  الٰہ آباد میں کیا تھا اُسے 1947میں منصہ شہود  پرلانے میں کامیاب ٹھہرے۔ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں میں اجتماعی سوچ اور فکر کو اُجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بقول شاعرِ مشرق:
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں، اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
یقیں افراد کا سرمایۂ ملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گرِ تقدیرِ ملت ہے
اقبال کی شاعری نے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے یقینا نئی راہیں متعین کیں اور ان کو ایک مقصدیت عطا ہوئی جس کو سامنے رکھتے ہوئے انہوںنے اُس وطن کے لئے کاوشیں کیں جس کا مطالبہ اقبال نے یوں کیا تھا کہ مسلم اکثریت والے علاقوں کو یکجا کرکے مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن قائم کیا جائے جہاں وہ اپنے ملی اور اسلامی شعار کے مطابق زندگی بسر کرسکیں۔ علامہ اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کے مستقبل کے لئے جو رہنما اصول متعین کئے ان میں اس مقدس سرزمین کی حفاظت کو اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ یقینی بنانے کا درس بھی شامل تھا۔ انہوں نے خطبہ الٰہ آباد میں کہا''میری قرارداد ایک ایسا معاشرتی ڈھانچہ ہے جس کا نظم و ضبط ایک مخصوص اخلاقی نصب العین اور نظامِ قانون کے تحت عمل میں آتا ہے۔ اسلام ہی نے وہ بنیادی جذبات اور وفا کشی فراہم کی جو منتشر انسانوں اور گروہوں کو بتدریج متحدہ کرتی ہے اور بالآخر انہیں ایک اپنا اخلاقی شعور رکھنے والی ممیز و معین قوم میں تبدیل کردیتی ہے۔'' گویا علامہ اقبال ہم آہنگی اور اندرونی اتحاد کے حامل ایک ایسے معاشرے کی تکمیل چاہتے تھے جس کے ذریعے ایک باوقار اور مضبوط ریاست اُبھر کر سامنے آئے۔
بانی ٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے بھی برصغیر کے مسلمانوں کوہمیشہ اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی ہدایت کی ۔ انہوںنے23 مارچ1940 کو اپنے خطاب میں کہا کہ ''اپنی تنظیم اس طور کیجئے کہ کسی پر بھروسہ کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ یہی آپ کا واحد اور بہترین تحفظ ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی کے خلاف بدخواہی یا عناد رکھیں۔ اپنے حقوق اور مفاد کے تحفظ کے لئے وہ طاقت پیدا کر لیجئے کہ آپ اپنی مدافعت کرسکیں۔''
قائداعظم محمدعلی جناح علامہ اقبال کے افکار اور بصیرت کے قائل تھے۔ مارچ1941 میں انہوںنے اپنے ایک خطاب میں کہا '' اقبال نے آپ کے سامنے ایک واضح اور صحیح راستہ رکھ دیا ہے جس سے بہتر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوسکتا۔ وہ دورِ حاضر میں اسلام کے بہتریں شارح تھے۔ کیونکہ اس زمانے میں اقبال سے بہتر اسلام کو کسی نے نہیں سمجھا۔ میں نے اس سے زیادہ وفادار رفیق اور اسلام کا شیدائی نہیں دیکھا۔''
 اقبال کی شاعری اور فکر کسی بھی قوم میں غیرت و حمیت پیدا کرنے کا درس دیتی ہے اور اپنا سفر وقار اورتمکنت کے ساتھ جاری رکھنے کی رمق پیداکرتی ہے۔ آج ہمیں بطورِ قوم اس امر کی ضرورت ہے ہم مصورِ پاکستان اور بانیٔ پاکستان کے افکار سے روشنی حاصل کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھیں کہ اسی میں ہماری فلاح پنہاں ہے۔۔۔۔  پاکستان ہمیشہ سلامت رہے۔
 

یہ تحریر 30مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP