متفرقات

نظر کرم

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کمپنی میں سیکڑوں ملازمین کام کرتے تھے۔ ایک روز صبح سویرے جب وہ کام پر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ کمپنی کے دروازے پر ایک جہازی سائز پوسٹر چسپاں ہے جس پر جلی حروف میں کوئی عبارت درج ہے۔ ملازمین نے جب وہ عبارت پڑھی تو حیران ہو کر دوسرے کی شکل دیکھنے لگے،لکھا تھا :’’وہ شخص جو اس کمپنی میں آپ کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا،گزشتہ روز قضائے الٰہی سے اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کا جنازہ جمنیزیم میں رکھا ہے ،آپ سب سے درخواست ہے کہ جنازے میں شرکت فرما کرثواب دارین حاصل کریں۔ ‘‘سب لوگوں نے یہ بیان پڑھ کر افسوس کا اظہار کیا کہ ان کا ایک کولیگ اللہ کو پیارا ہو گیا تاہم انہیں خیال آیا کہ آخر وہ کون تھا جو ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھا ؟یہ سوچ آتے ہی سب لوگوں کا رخ فوراً جیمنیزیم کی طرف ہو گیا۔ ہر کسی کی کوشش تھی کہ وہ جلد از جلدمرنے والے کا چہرہ دیکھے تاکہ پتہ تو چلے کہ آخر ان کی راہ میں روڑے اٹکانے والا شخص کون تھا جو یوں اچانک فوت بھی ہو گیا۔ بالآخر تمام ملازمین اس تابوت کے قریب پہنچے تاکہ اس شخص کا آخری دیدار کر سکیں لیکن جونہی ان کی نظر تابوت پر پڑ ی وہ دم بخود رہ گئے اور ان کی زبانیں گنگ ہو گئیں۔ انہیں ایسا لگا جیسے کسی نے ان کی روح کو اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہو۔ تابوت میں کوئی مردہ نہیں تھا بلکہ ایک آئینہ تھا جس میں دیکھنے والے ہر شخص کو اپنا چہرہ دکھائی دے رہا تھا۔اس آئینے کے ساتھ ہی کاغذ پر نوٹ لکھا تھا ’’آپ کی زندگی اس وقت تبدیل نہیں ہوتی جب آپ کے باس کی زندگی بدلتی ہے ، یا آپ کے دوست کی زندگی بدلتی ہے ،یا آپ کے والدین کی زندگی بدلتی ہے ،یا پھر آ پ کی کمپنی بدلتی ہے۔ آپ کی زندگی اس وقت بدلتی ہے جب آپ خود تبدیل ہوتے ہیں،جب آپ اپنے محدود تصورات سے باہر نکل کر سوچتے ہیں اور جب آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ فقط آپ ہی اپنی زندگی میں تبدیلی لانے کے ذمہ دار ہیں،کوئی دوسرا نہیں !‘‘ جب میں نے یہ ماڈرن حکایت پڑھی توبہت خوش ہوا،سوچا کہ بیان کرنے والے نے کامیابی کا کس قدر آسان اور سہل نسخہ بیان کر دیا ہے ،یعنی محض اپنے آپ کو بدل لیں، زندگی خود بخود بہتری میں تبدیل ہو جائے گی۔ اس خوشی کے عالم میں یہ حکایت میں نے اپنے ایک ایسے دوست کو بھی بیان کر ڈالی جس کے چہرے پر سرکاری افسروں والی وہ بیزاری رہتی ہے جو کسی سائل سے گفتگو کے دوران ان افسران کے منہ پر نمایاں ہو جاتی ہے۔ حکایت سنتے ہی اس نے پکا سا منہ بنا لیااورپھر اپنے تئیں چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ سجا کر بولا ’’یہ سب بیکار کی باتیں ہیں، میں نے اس ٹائپ کی جذبے جگانے والی نام نہاد کہانیاں بہت پڑھی ہیں ،سب بکواس ہیں ،کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ ‘‘ ’’وہ کیسے ؟‘‘ اب طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجانے کی باری میری تھی۔ ’’وہ ایسے کہ سیلف ہیلپ کی کتابوں میں درج اس قسم کے سارے قصے میری حتمی رائے میں خرافات ہیں۔ ‘‘ ’’اعلیٰ حضرت!آپ کی حتمی رائے سر آنکھوں پر مگر یہ تو فرما دیجئے کہ آخر آپ اس دو ٹوک نتیجے پر پہنچے کیسے؟‘‘ ’’جان برادر! میں تمہارے طنز کا برا نہیں مناتا۔۔۔پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ تمام ٹوٹکے بظاہر بہت سادہ لگتے ہیں لیکن در حقیقت ان پر عمل کرنا مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ اور اگر کہیں کوئی جواں مرد ہمت کر کے ان پر عمل شروع بھی کر دے تو بہت جلد فرسٹریٹ ہو جاتا ہے کیونکہ جس کامیابی کی خواہش میں اس نے یہ کام شروع کیا ہوتا ہے ،اس کا دور دور تک پتہ نہیں چلتا۔‘‘اس موقع پر میں نے اپنے دوست کو ٹوکنا مناسب نہیں سمجھا۔اس نے بات جاری رکھی ’’جو حکایت تم نے سنائی ہے ،اسی کی مثال لے لو۔ایک ایسا شخص جس کے پاس ایک چھوٹی موٹی ملازمت اور تھوڑی بہت سیونگ کے سوا کچھ بھی نہیں ۔۔۔آخر وہ کیا بدلے کہ اس کی زندگی سیدھی ہو جائے ؟ کپڑے بدلے ،دوست بدلے یا پھر اپنی زندگی ہی کسی کے ساتھ بدل لے؟‘‘آخری جملہ بولتے ہوئے میرا دوست کسی قدر جذباتی ہو گیا۔اس کی بات میں بہرحال وزن تھا کیونکہ کسی ایسے شخص کی زندگی بدلنا(اور وہ بھی صرف باتوں سے) واقعی جان جوکھوں کا کام تھا جس کے پلے کچھ بھی نہ ہو۔ اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا ،میں نے اپنے دوست سے سوال کیا ’’ عزیز من! یہ بتاؤ کہ کیا کبھی تم نے وہ ٹوٹکے پڑھے ہیں جو اکثرسنڈے میگزین میں چھپتے ہیں،جن میں سر کے بالوں کی خشکی کا علاج،چہرے کی شادابی کا نسخہ یا پھر پھٹی ہوئی ایڑھیوں کو ملائم کرنے کا گر بتایا جاتا ہے؟‘‘ میرے دوست نے اس دفعہ کچھ زیادہ ہی برا منہ بنایا۔’’پہلی بات تو یہ ہے کہ جو گفتگو ہم کر رہے تھے ،اس کا اس بات سے کیا تعلق؟ اور بائی دی وے کیا میں تمہیں شکل سے آپا زبیدہ لگتا ہوں جو اس قسم کے ٹوٹکوں کو پڑھ کے کتاب لکھ ماروں گا؟‘‘ ’’غصہ کیوں کرتے ہو یار،میرا مطلب وہ نہیں تھا۔ میں تو فقط تمہیں یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ یہ ٹوٹکے بڑے کام کی چیز ہیں ،ان کا استعمال تھوڑا مشکل اور کبھی کبھار صبر آزما ہوتا ہے مگر ان کا رزلٹ ضرور آتا ہے۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ان ٹوٹکوں پر یقین تو رکھتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے بالکل اسی طرح جیسے ہم ڈاکٹر کو فیس دے کر نسخہ تو لکھوا لیتے ہیں مگر دوا اپنی مرضی سے کھاتے ہیں اور پھر گرمبل کرتے ہیں کہ آرام نہیں آیا۔‘‘ ’’اوہو،پران ٹوٹکوں کا زندگی میں کامیابی حاصل کرنے سے کیا تعلق ہے حضرت جی؟‘‘میرے دوست نے چڑچڑاہٹ سے پوچھاکیونکہ اب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔ ’’بتاتا ہوں عزیز من۔۔۔تعلق بڑا سیدھا ہے ۔۔۔زندگی میں تبدیلی یا کامیابی لانے کے جتنے گر بھی سیلف ہیلپ کی کتابوں میں درج ہوتے ہیں ،کم و بیش وہ سب ہی ٹھیک ہیں ،بس انداز بیان کا فرق ہے۔ کتاب نپولئن ہل کی ہو یاڈیل کارنیگی کی ،انتھونی رابنزکی ہو یاسٹیفن کووی کی ۔۔۔شرط ان میں درج ٹوٹکوں پر عمل کرنے کی ہے۔ اگر دس میں سے دو پر بھی عمل کر لیا جائے تو زندگی میں تبدیلی کی گارنٹی ہے۔ ‘‘ ’’لیکن تم تو ہمیشہ یہ کہتے ہو کہ ذہین اور جینئس لوگ گاڈ گفٹڈ ہوتے ہیں، انہیں کامیابی کے لئے کسی قسم کے فارمولوں کی ضرورت نہیں ہوتی ؟‘‘ ’’بے شک میرا یہی تھیسس ہے اور میں اس پر قائم ہوں لیکن ساتھ ہی میں اس بات پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ دنیا میں ترقی کے جو گر ان کتابوں میں بتائے گئے ہیں، وہ ایک اوسط اور عام آدمی کے لئے ہیں جن کی تعداد کروڑوں میں ہے اور وہ سب ان پر عمل کرکے یقیناًکامیاب ہو سکتے ہیں۔۔۔لیکن یہ بات یاد رکھنا کہ ہر کوئی جینئس ہوتا ہے اور نہ ہی ہر کسی پر خدا اپنی نظر کرم ڈالتا ہے۔ ‘‘ ’’ہوں۔۔۔شائد تم ٹھیک کہہ رہے ہو‘ ‘ میرے دوست نے کچھ سوچتے ہوئے سر ہلایا’’مگر وہ کون لوگ ہوتے ہیں جن پر خدا اپنی نظر کرم ڈالتا ہے ؟‘‘ ’’یہ بات تو آج تک کوئی بھی نہیں جان سکا کہ خدا کی نظر کرم کے حقدار کون لوگ ٹھہرتے ہیں ۔۔۔مگر ایک بات طے ہے کہ جس پر اس کی نظر کرم ہو جاتی ہے، اسے کسی ٹوٹکے ،کسی کتاب اور کسی فارمولے کی ضرورت نہیں رہتی۔ ‘‘اس دفعہ میرا لہجہ دو ٹوک تھا۔

یہ تحریر 93مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP