قومی و بین الاقوامی ایشوز

نظام حکومت آخر کیا ہے

کھلی کئی کئی رویہ شاہراہیں‘گاڑیاں ،ٹرک،سب اپنی اپنی لائنوں میں دوڑتے ہوئے ،آگے کہیں ٹریفک پھنسی ہوئی ہے تو کئی کلومیٹر پہلے سے خبردار کرتے سائن بورڈ ۔صاف ستھرے گھر‘سبزے میں گھری گلیاں، ہر محلے کے لئے اپنا پارک‘بچوں کے لئے جھولے‘لائبریری‘کمیونٹی مراکز‘ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قوانین کی مکمل پابندی۔کچرا جمع کرنے اور لے جانے کا باقاعدہ نظام ۔گاڑیوں میں چھوٹے بچوں کے لئے بڑوں کی گودوں کی بجائے محفوظ سیٹیں، دور دور تک کسی رکاوٹ کے بغیر ہریالی کے حاشیوں میں سجے فٹ پاتھ۔وقفے وقفے سے جاگنگ‘ واک کرتے مرد و خواتین۔ سٹاپ کی پیلی لائن پر رات دن کسی بھی لمحے لازمی رکتی گاڑیاں۔

یہ ٹورنٹو کینیڈا کے مناظرہیں جہاں میں اور میری بیگم اپنے صاحبزادوں، پوتے اور پوتی کے ساتھ خوشگوار موسم اور دلکش اطراف سے لطف اندوز ہو رہے ہیں‘ ویسے تو ہر سال ہی یہاں آنا ہوتا ہے۔ اس بار پاکستان قونصلیٹ ٹورنٹواورادبی و ثقافتی تنظیم ’’اظہار‘‘ کی دعوت پر ایک مشاعرے میں شرکت بھی مقصود تھی۔ پاکستان کے قونصل جنرل نفیس ذکریا اچھے مہتمم‘ خوش اخلاق اورصاحبِ ذوق شخص ہیں ،مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ کے یوم وفات کی مناسبت سے انہوں نے مشہور شاعرہ ذکیہ غزل کی تنظیم ’’اظہار ‘‘کے تعاون سے پہلی بار مشاعرے کا انعقاد کیا۔ ڈاکٹرپیرزادہ‘ قاسم رضا صدیقی ،امجد اسلام امجد بھی پاکستان سے آئے۔ امریکہ سے وکیل انصاری،رفیع راز اور خالد عرفان شریک ہوئے ۔کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں نے بڑی تعداد میں مشاعرہ سنا اور ہر اچھے شعر پر داد بھی دی۔ بیرون ملک پاکستانیوں میں ملک کا درد‘ اپنی زبان سے محبت دیدنی ہوتی ہے ۔ترتیب سے بسے شہروں میں ،یہاں کے نظم و ضبط کا خیال رکھتے اپنے پسماندہ علاقوں کو یاد رکھنا بہت اچھا لگتا ہے‘سب کے دل میں یہ آرزوتڑپتی رہتی ہے کہ ہمارے وطن میں بھی ایسی سہولتیں کیوں نہ ہوں ، کینیڈا کو بھی قدرت نے وسائل سے اسی طرح نوازا ہے جیسے ہمارے پاکستان کو۔یہاں رہنے والے ان سے بہرہ ور ہونے کی دھن میں لگے رہتے ہیں۔ جب بھی آنا ہوتا ہے تو انسانوں کے لئے نئی آسانیاں اور سہولتیں مرکزِ نگاہ بنتی ہیں ۔

تاریخ کے اوراق میرے سامنے ازخود کھلتے جارہے ہیں۔ مختلف تہذیبیں ابھر رہی ہیں‘ گزر رہی ہیں۔ صدیاں اپنے مناظر سر پر اٹھائے سلام کر رہی ہیں ،مجھ پر یہ حقیقت آشکار ہو رہی ہے کہ جمہوریت تو بہت بعد کی بات ہے ۔مملکت کا قیام بھی عمل میں اسی لئے لایا گیا تھا کہ قبائلی طرز معاشرت میں انسان کو ایک جیسی سہولتیں اور مواقع نہیں میسر آتے تھے۔ اکثرانسان اپنی صلاحیتوں کا اظہار نہیں کر پاتے تھے ،اس لئے انسان نے صدیوں کے غورو فکر کے بعد اس اندازِ رہائش کو ترک کیااور یہ طے کیا کہ ایک مخصوص علاقے کی حدود میں آباد انسانوں کی زندگی کو زیادہ سے زیادہ محفوظ اور سہل بنایا جائے۔ایسا صاف ستھرا۔ خوشگوار، صحت مندماحول تخلیق کیا جائے جہاں آنکھ کھولنے والا ہر بچہ اس مملکت کی ذمہ داری ہو،پیدائش سے لے کر دم آخر تک کے سارے مراحل مملکت کی کفالت میں پورے ہوں۔

یہاں بھی پارلیمانی جمہوریت ہے ،یہ بھی دولت مشترکہ کا حصہ ہے۔ برطانیہ کے زیر نگیں یہ بھی رہ چکا ہے بلکہ گورنر جنرل کا عہدہ یہاں اب بھی موجود ہے ۔جو ہمارے ہاں 1956 میں ختم کر دیا گیا تھا۔ انٹاریو کے صوبے میں حکومت بجٹ منظور نہ کرواسکنے پرمستعفی ہوگئی ہے۔ نئے الیکشن کی تیاریاں ہو رہی ہیں مگر کہیں جلسے جلوس نہیں ہیں۔ شور و غل‘ نہ سڑکوں پر ریلیوں کی وجہ سے ٹریفک جام ۔کہیں بینر نہ پوسٹر ۔صرف زمیں میں پودوں کے ساتھ چھوٹے بورڈ گڑے ہوئے۔ جس پر امیدوار کی تصویر ،نام ،پارٹی کا حوالہ۔یہاں جیسے چپکے چپکے بہار آتی ہے۔ الیکشن بھی اسی طرح خاموشی سے ہو جاتے ہیں۔شاہراہیں رواں دواں رہتی ہیں، دفتر اسی طرح 9 بجے سے5 بجے تک۔ ٹی وی کے معمول کے پروگرام اسی طرح۔۔اینکر پرسن اسی سنجیدگی سے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے۔چیخنے‘ چلانے‘ چنگھاڑنے کو ہم تو ترس رہے ہیں ۔

برف کتنی زیادہ پڑ جائے‘ بارشیں جتنی بھی موسلادھار ہوں‘ زندگی نہیں رکتی۔طوفان ، آندھی‘ سیلاب، ہر آفت ،ہر بحران کے لئے ایک سسٹم وضع کردیا ہے‘ اس پر عمل درآمد ہوتا رہتا ہے۔ سیاست‘تعلیم‘صحت ، ثقافت‘ تہذیب، انجینئرنگ، فیشن‘مذہب ہر ایک کا محور انسان ہے۔ زمین پر خدائے بزرگ و برتر کے نائب کو سہولت اور تحفظ کی فراہمی مقصود و مطلوب ہے۔ یہاں پارلیمانی نظام ہے جبکہ پڑوس امریکہ میں صدارتی۔ ہمارے ہاں کوئی شعبہ ہو‘ جمہوریت، عدالت، صحافت‘ تعلیم یا میڈیا پڑوسی انڈیا کی مثال دی جاتی ہے۔ اٹھتے بیٹھتے، یہاں کوئی امریکہ کی بات نہیں کرتا۔کوشش ہوتی ہے کہ اپنا جو بھی سسٹم ہے‘ اس کی بھرپور انداز میں تعمیل ہو۔ اس سے جو نتائج مطلوب ہیں وہ حاصل کئے جائیں ۔بلکہ میرا عملی مشاہدہ یہ ہے کہ کینیڈا میں زندگی کی سہولتیں زیادہ ہیں اور جینے میں عمدگی بھی برتر ہے۔سڑک سے سرحد پار کرکے شکاگو جانے کا پروگرام بنا تو امریکہ میں داخل ہوتے ہی سڑکوں میں ٹوٹ پھوٹ دیکھی جو کینیڈا میں نظر نہیں آتی۔جبکہ امریکہ والے قدم قدم پر کچھ نہ کچھ ٹول ٹیکس بھی لے رہے تھے۔

لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ سسٹم یعنی عام لوگوں کو آسانیاں فراہم کرنے کی سوچ فوج کے زیر اختیار علاقوں میں نظر آتی ہے۔ چھاؤنیوں میں یا فوج کے قائم کردہ اداروں میں ایسے تعلیمی ادارے بھی ہیں‘ ہسپتال بھی‘ رہائش‘ ٹرانسپورٹ کے انتظامات جو آج کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ اسے بہت سے حلقے منفی انداز سے دیکھتے ہیں۔ مگر میرا نقطہ نظر ہے کہ فوج نے اپنے طور پر کوشش کی اور یہ کرکے دکھادیا کہ ایک نظام قائم کیا جا سکتا ہے جہاں نظم و ضبط ہو ۔بجٹ کی حد میں رہ کرمطلوبہ مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں ۔منزل نظر میں رکھی جائے تو منزل مل سکتی ہے۔بجٹ تو سارے سرکاری محکموں کے لئے اسی طرح مختص کئے جاتے ہیں ۔لیکن فوجی اداروں میں ڈسپلن ہے۔ نگرانی ہے تشکیل کے بعد تعمیل اور تکمیل کے مراحل بھی طے ہوتے ہیں۔

یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد میں انتہائی سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور ہوں کہ جمہوریت‘ جس محبوبہ کے عشق میں ہم ہلکان ہوئے جاتے ہیں‘ آخر کیا ہے ۔اس کا مقصد کیا ہے ۔انسانوں کو مذہب، فرقے،ذا ت پات‘ رنگ،نسل اور زبان کے امتیاز کے بغیر حقیقی سہولتیں فراہم کرنا یا صرف آئینی امور اور صوبائی خود مختاری پر بحث مباحثے کرنا، خطابت کے جوہر دکھانا‘ جلسے جلوس کرکے دوسروں کی زندگی کے معمولات متاثر کرنا۔ تاریخ کے اوراق میرے سامنے ازخود کھلتے جارہے ہیں۔ مختلف تہذیبیں ابھر رہی ہیں‘ گزر رہی ہیں۔ صدیاں اپنے مناظر سر پر اٹھائے سلام کر رہی ہیں ،مجھ پر یہ حقیقت آشکار ہو رہی ہے کہ جمہوریت تو بہت بعد کی بات ہے ۔مملکت کا قیام بھی عمل میں اسی لئے لایا گیا تھا کہ قبائلی طرز معاشرت میں انسان کو ایک جیسی سہولتیں اور مواقع میسر نہیں آتے تھے۔ اکثرانسان اپنی صلاحیتوں کا اظہار نہیں کر پاتے تھے ،اس لئے انسان نے صدیوں کے غورو فکر کے بعد اس اندازِ رہائش کو ترک کیااور یہ طے کیا کہ ایک مخصوص علاقے کی حدود میں آباد انسانوں کی زندگی کو زیادہ سے زیادہ محفوظ اور سہل بنایا جائے۔ایسا صاف ستھرا‘ خوشگوار، صحت مندماحول تخلیق کیا جائے جہاں آنکھ کھولنے والا ہر بچہ اس مملکت کی ذمہ داری ہو،پیدائش سے لے کر دم آخر تک کے سارے مراحل مملکت کی کفالت میں پورے ہوں۔ انسانی تاریخ کا مطالعہ رہنمائی کرتا ہے کہ مختلف ادوار میں مفکروں نے کس کس طرح کے نظام تشکیل دیئے اور کیا کیا ایجادات کیں‘ کیا کیا افکار پیش کئے جس سے انسان حادثات اور مشکلات کے مقابلے کا اہل ہوتا۔بنیادی سوچ یہی رہی کہ انسان دوسرے انسانوں کا درد محسوس کرے اور اپنے اپنے شعبے میں اس طرح آگے بڑھے کہ مشکلیں آسان ہوتی جائیں ۔ اب جغرافیہ مجھے اپنے وطن میں لے آیا ہے۔ دنیا کے انتہائی اہم محل وقوع پر موجود پاکستان‘ مشرق بعید میں جانا ہو‘ جنوبی ایشیا میں‘ مشرق وسطیٰ میں‘ وسط ایشیائی ممالک میںیا چین کا رخ کرنا ہو تو پاکستان سے گزرنا لازمی ہے ۔کتنے خزانوں کے لئے دروازہ پاکستان سے کھلتا ہے ۔پھر پاکستان کے اندر پروردگار نے کتنی نعمتیں اتاری ہیں ۔ ہمارے پاس سمندر ہے۔ میلوں طویل ساحل وہ بھی قدرتی۔دریاپورے ملک سے گزرتے‘ سر سبز کوہستانی سلسلے‘ خشک بنجر پہاڑ جن میں سونا‘ تانبا‘ تیل اور جانے کیا کچھ ۔گیس اور تیل گود میں لئے ریگزار۔قیمتی فصلیں اگاتے کھیت،صلاحیتوں‘ ذہانتوں سے مالا مال افرادی طاقت۔ یہ سب کچھ 1947 سے موجود تھا اور اب بھی میسر ہے، لیکن کیا یہ ہماری بدقسمتی ہے‘ نا اہلی یاکوتاہی کہ ہم ان وسائل سے اپنے مسائل حل کرنے، ہر انسان کی جان اور مال محفوظ کرنے میں اب تک کامیاب نہیں ہوسکے،جمہوریت ہمارے کس کام آئی،وسائل بھی تھے اور جان لگادینے والی افرادی قوت بھی،قیادت کے دعویدار بھی جنہیں عوام باقاعدہ منتخب بھی کرتے رہے ہیں۔سوال وہی ہے کہ نظام حکومت کا تصور آخر ہمارے نزدیک کیا ہے ۔ہم انسانوں کیلئے سہولتیں حاصل کرنے میں آگے بڑھے ہیں یا پیچھے ہٹے ہیں۔ تاریخ مجھے جھنجوڑ رہی ہے ۔1947 سے 2014 تک 67 سال کا سفر ۔ پورے ملک میں لوگوں کو جو آسانیاں اور فائدے ملنے چاہئیں تھے‘ کیوں نہیں مل سکے۔ امریکہ‘ کینیڈا‘یورپ تو بہت زیادہ ترقی کرچکے ہیں ۔وہ صدیوں کے تجربوں سے گزرے ہیں‘ پسماندگی،جہالت کے اندھیروں سے لڑتے رہے ہیں۔ ان کے ہاں زندگی جتنی پر سکون اور خطرات سے ماورا ہے وہ معیار نہ سہی‘ دوبئی‘ بحرین‘ کویت‘ سعودی عرب والی سہولتیں بھی نہیں ہیں ہمارے ہاں۔ اپنی اس پسماندگی کے اسباب عام طور پر ہم غربت اور جہالت کو قرار دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں، یا پھر مارشل لاؤں کو ذمہ دارٹھہراکر قناعت کر لیتے ہیں۔ علما ء کرام کی تحقیق یہ ہوتی ہے کہ ہم قرآن اور سنت سے دور ہوگئے ہیں اس لئے یہ ابتلائیں ہمارا مقدر بن رہی ہیں۔ بہت سوں کا خیال یہ ہے کہ ہمارے پاس اتنا سرمایہ نہیں ہے کہ سب انسانوں کو ضروری چیزیں فراہم کر سکیں ۔غور سے دیکھیں تو یہ تاویلات محض حقیقت کا سامنا کرنے سے فرار کی ایک کیفیت ہے ۔پاکستان کا ہم عمر ہونے‘ واقعات کو انتہائی قریب سے دیکھنے اور عالمی ارتقا کے طالب علم ہونے کے ناتے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسانی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنا‘ اپنی ہر سوچ‘ ہرکوشش‘ ہر منصوبے کا محور انسان کو سمجھنا ہماری ترجیح ہمارا کلچر ہماری روایت نہیں رہی ہے۔مغلیہ دور کو دیکھ لیں جسے ہم اپنا سنہرا ماضی کہتے ہیں ۔آسمان کی آنکھ وہاں مقبرے‘ قلعے‘ مساجد اور باغات بنتے تودیکھتی ہے۔ سکول‘کالج‘ یونیورسٹیاں اور ہسپتال تعمیر ہوتے نظر نہیں آتے۔ رعایا کی آسانی کے لئے کوئی پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم وجود میں آتا دکھائی نہیں دیتا۔اس کے بعد قبائلی سرداری نظام‘ جاگیر دارانہ معاشرت اور تمن داریاں ہیں۔

یہاں بھی ہر فرد کے لئے بہترماحول اور تحفظ کا احساس نہیں ہے۔بلکہ اسے اپنے تمدن‘ اپنی روایات اور اپنی شان اور بعض اوقات اپنی غیرت کو چیلنج سمجھا جاتا ہے ۔یہ با اثر اور بہرہ ور طبقہ اپنے لئے تو زندگی کی مثالی سہولتیں ہر قیمت پر حاصل کرتا ہے‘ عام لوگوں کو اس کا ہزارواں حصہ بھی نہیں دیتا۔ ہمیں اپنی صحافتی زندگی میں سرداروں اور جاگیرداروں کے عظیم الشان محلات میں جانے کا اتفاق ہوا ہے‘ امریکہ یورپ میں بھی بڑے بڑے روساء کو یہ شوکت یہ سطوت نصیب نہیں ہے۔ لوگ ٹھیک کہتے ہیں کہ پاکستان میں افراد امیر ہیں ملک غریب ہے۔ سہولتوں کے اعتبار سے بڑے شہروں میں بھی برا حال ہے چھوٹے شہروں‘ قصبوں اور دیہات کا ذکر تو کیا کریں‘ وقت گزرنے‘ دنیا میں انسان کے لئے حالات خوب سے خوب تر ہونے‘ نئی نئی ایجادات‘ ٹیکنالوجی آنے کے ساتھ ہمارے ہاں زیادہ فرق نہیں آیا ،انسان اب بھی سوچ کا محور نہیں ہے ۔جاگیر دار ،سردار تو وہیں کھڑے ہیں ،دیہی علاقوں میں وقت ٹھہرا ہوا ہے، یہ کلچر تاریخ کے پہیوں کو کسی گزشتہ صدی میں روکنے میں کامیاب ہے۔علما ئے دین بھی اس نیک کام میں ان کے ہمراہ ہیں۔ وہ بھی منبر و محراب میں وقت کو آگے بڑھنے سے منع کرتے رہتے ہیں۔ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ مسجدوں، مدرسوں‘ جاگیروں اور قبیلوں کے خیموں سے باہر وقت کئی صدیاں آگے نکل چکا ہے۔ یہ طبقے تو خیر رجعت کے قائل رہے ہیں۔ اپنی فرسودہ روایات کی بقاء اسی سوچ میں خیال کرتے ہیں اس لئے ان کی فکر پر ماتم کرنے کو بھی دل آمادہ نہیں ہوتا لیکن جب ہم ان طبقوں پر نظر ڈالتے ہیں جو اپنے اظہار کے لئے نئی ٹیکنالوجی،نئی ایجادات‘ نئے علوم کا سہارا لے رہے ہیں، صنعتکار‘ سیاسی لیڈر‘ دانشور‘ تعلیم،معیشت،صحت کے ماہرین،انجینئر،اخبار نویس، ٹیٰ وی اینکرپرسن،ان میں بھی اکثر انسانی زندگی میں آسانیوں کو اولین ترجیح اور بنیادی اہمیت نہیں دیتے‘ ان کے لیکچرز، ٹاک شوز ،اس محور کے گرد نہیں گھومتے۔حالانکہ کوئی بھی حکومتی نظام ہو پارلیمانی‘ صدارتی‘ شراکتی‘ کمیونسٹ‘ سوشلسٹ ہر ایک کا مرکزی تصور حضرت انسان کو محفوظ ماحول کی فراہمی ہونا چاہئے۔ ساری کوششیں اسی سمت ہونی چاہئیں۔ تعلیم، تربیت ،تحقیق،تدریس ،سب کا مقصود یہی ہونا چاہیے کہ قدرت نے جتنی نعمتیں اور وسائل عطا کئے ہیں ان کو اپنی صلاحیتوں اور آلات کے ذریعے اپنے تحفظ، آرام‘سکون اور آگے بڑھنے میں مدد کے لئے استعمال میں لایا جائے۔قومی آزادی ہو یا اظہار و افکارکی‘ عدلیہ‘ اجتماع،جماعتوں‘ تنظیموں کے قیام کی، یہ سب راستے ہیں جو آسانیوں بھری انسانی زندگی کی منزل کی جانب جاتے ہیں‘ یہ آزادیاں خود منزل نہیں ہیں۔ہمارا المیہ یہ ہوا ہے کہ ان راستوں کومنزل سمجھ کر یہیں قیام کر لیا گیا ہے، اصل منزل سے ہم کنار ہونے کے لئے آگے بڑھنے کو فراموش کر دیا گیا ہے۔ یہ ہمارا قومی سانحہ ہے بلکہ ایک جرم ہے جو ہم سے من حیث القوم سر زد ہو رہا ہے۔ جمہوریت کی بنیاد اور طاقت قومی سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں جن پر جمہوری اداروں کی مختلف عمارتیں استوار کی جاتی ہیں ۔اصولی طور پر ان کے ہاں یہ وژن زیر بحث نظر آنا چاہئے کہ مختلف علاقوں میں کیسی سہولتیں درکار ہیں۔ زیادہ تر پارٹیوں میں ہمیں ایسے ادارے،کمیٹیاں یا شعبے نہیں ملتے جو اس حوالے سے ریسرچ کرنے پر مامور ہوں ۔جہاں یہ تحقیق ہوتی ہو کہ متعلقہ حلقے میں دستیاب وسائل‘ انسانی صلاحیتیں اور میسر افراد ی طاقت سے کیا کیا سہولتیں وضع کی جا سکتی ہیں ۔ زندگی کا معیار کیسے بلند کیا جاسکتا ہے ۔بچوں کی پیدائش‘ پرورش کتنے محفوظ انداز میں کی جاسکتی ہے، بچوں سے لاڈ پیار جذباتی محبت تو ہمارے ہاں بے مثال اور لا زوال ہے‘ انہیں چاند، شیر، تارا،گلاب نہ جانے کیا کچھ کہا جاتاہے ۔لیکن کیا کبھی ہم نے غور کیا کہ ترقی یافتہ اقوام میں بچوں کے تحفظ اور پرورش و تربیت کے لئے جتنے قوانین ہیں‘ قواعد و ضوابط ہیں ان کے تعلق سے ہمارے ہاں کبھی کچھ سوچا بھی جاتا ہے ۔کیا ہمارے بچوں کو بھی وہ سہولتیں نہیں ملنی چاہئیں‘ کیا ان کی تربیت اسی انداز میں نہیں ہونی چاہئے۔غیر محفوظ ماحول میں کتنے چاند سے بچے زخمی ہو جاتے ہیں‘ معذور ہو کر رہ جاتے ہیں اور کتنی کلیاں بن کھلے مرجھا جاتی ہیں۔ ترقی یافتہ قوموں نے بڑی محنت کی ۔برسوں لگے یہاں تک پہنچنے میں۔ ہمیں تو یہ برتری حاصل ہے کہ ہم ان کی تحقیق سے فائدہ اٹھائیں‘ ہمیں خود ان مراحل‘ ان لمبے تجربات سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہے‘ ہمیں اپنی سوچ کا محور درست کرنا ہوگا۔ آگے بڑھنا ہمارا شوق اور ولولہ ہونا چاہئے۔ہم ان امور پر بھی بحث میں الجھتے رہتے ہیں جو دوسری قومیں بہت پہلے غورو خوض کرنے کے بعد طے کر چکیں ۔اور تو اور ایسے معاملات پر بھی مباحثے دنوں جاری رہتے ہیں جن کا تصفیہ ہمارے اپنے اکابرین کرچکے یاقوانین کی شکل میں موجود ہیں۔ ان پر بحث نہیں عمل درآمد درکار ہے ۔ اس وقت اگر کوئی بحث ناگزیر ہے ،کوئی ٹاک شو لمحہ موجود کا تقاضا ہے تو یہ کہ ہم زندگی کی آسانیوں میں اپنی ضرورت سے کتنے پیچھے ہیں ۔آئندہ دس سے پندرہ سال کے دوران ہمیں پینے کے لئے کتنا پانی چاہئے اور یہ کیسے مل سکے گا۔کیا ہماری شاہراہیں ہماری ضرورت کے مطابق ہیں۔کھانے پینے کی اشیاء کا معیار کیسا ہے۔شہروں میں عام لوگوں کو ٹرانسپورٹ میسر ہے یا نہیں۔ محفوط زندگی ہماری ترجیح رہنی چاہئے سب سے زیادہ ذمہ داری میڈیا کی ہے۔ اسے عوام کی سوچ کے زاویے اس بنیادی جہت کی جانب موڑنے چاہئیں لیکن ریٹنگ کے لالچ نے انہیں بھٹکنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ بہت عرصے سے اظہار کی آزادیوں سے سرشار قوموں کے ذرائع ابلاغ کو دیکھیں کہ وہ قوم کے ذہنوں کو کس رخ پر لے جاتے ہیں ۔

آج کے دور میں ذہن سازی کا سب سے مؤثر ذریعہ ٹیلی وژن ہے۔ پاکستان کے سرکاری اور نجی ٹی وی کیسے ذہن بنا رہے ہیں۔ہمارے سیاستدان برسوں سے لوگوں کے جذبات سے جس انداز سے کھیلتے آرہے تھے اور جس سے ملک آگے نہیں بڑھ رہا تھا‘ وہی راستہ میڈیا نے اختیار کیا ہے۔ آسان ہے‘کم خرچ ہے‘ہینگ لگے نہ پھٹکڑی رنگ بھی چوکھا ہو۔جو ہونا تھا ہو چکا ۔ہمارے بزرگ‘ مائیں‘ بہنیں بہت کٹھن جیون گزارنے پر مجبور رہے۔ کچھ اپنی غلطیاں کچھ لیڈروں کی‘ کچھ میڈیا کی۔ اب تو بیٹھ کر سنجیدگی سے طے کریں کہ ہمیں پاکستان کو کیسا ملک‘ کیسا معاشرہ بناناہے ۔یہ فیصلہ بھی ہمیں ہی کرنا ہے‘ پھر اس پر عمل درآمد بھی ہماری ہی ذمے داری ہے۔ اس کی ترتیب تاریخ میں کچھ اس انداز سے رہی ہے کہ ہر مملکت حکومت کی مختلف سطحوں کے ذریعے ایک سمت کا تعین کرتی ہے،وفاق یا مرکز قومی اسمبلی‘ سینیٹ میں اس حوالے سے قانون سازی کرتے ہیں۔ صوبے اپنی خود مختاری کی حدود میں رہتے ہوئے قانون بناتے ہیں۔ اپنے وسائل پر تحقیق کر کے تعلیم ،صحت کی پالیسیاں مرتب کرتے ہیں۔ ان تمام وفاقی صوبائی پالیسیوں پر عمل مقامی حکومتیںیعنی بلدیاتی ادارے کرتے ہیں، روزگار، رہائش‘ ٹرانسپورٹ، خوراک‘ صحت ‘تعلیم‘ انسانوں کی ا ن انتہائی، ابتدائی بنیادی سہولتوں کی فراہمی مقامی اداروں کا فرض ہے۔کینیڈا،امریکہ، یورپ میں اگر ایک قابل رشک معاشرہ موجود ہے تو یہ انسان کی اپنی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔انہوں نے جو سسٹم قائم کر لیا ہے‘ وہ ان کے مفکروں، ماہروں ،تھنک ٹینکوں‘یونیورسٹیوں اور سائنسدانوں کے افکار تھے جن کی روشنی میں قومی اسمبلیوں، کانگریس ،سینیٹ نے پالیسیاں تشکیل دیں ۔ان کو عملی جامہ مقامی حکومتیں پہنا رہی ہیں۔ سارے انسان کسی امتیاز کے بغیر فیضیاب ہورہے ہیں۔ ایک سسٹم بن گیا ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ تحقیق کے ذریعے مزید اصلاحات ہوتی رہتی ہیں۔ معاف کیجئے! بات لمبی ہورہی ہے لیکن ہے اہم ۔یہ میرے آپ کے بیٹوں‘ بیٹیوں‘ پوتوں‘ پوتیوں‘ نواسوں‘ نواسیوں کے مستقبل کا معاملہ ہے ۔ان کی جانوں کو لاحق خطرات کی تشویش ہے۔ سوچنا یہ ہے کہ ہم ایسا سسٹم کیوں نہیں بنا سکے۔ میں تو یہی عرض کروں گا کہ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ جاگیردار اور سردار ہیں۔ ان کی ذہنی ساخت ہے ۔ بدقسمتی یہ بھی ہے کہ ہمارے سرمایہ دار‘ صنعتکار بھی کم و بیش ایسی ہی سوچ رکھتے ہیں جسے کسی صورت آج کے صنعتی یا انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زمانے کی سوچ نہیں کہہ سکتے۔ ہمارے جمہوریت پسند دوست ناراض ہونگے لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ سسٹم یعنی عام لوگوں کو آسانیاں فراہم کرنے کی سوچ فوج کے زیر اختیار علاقوں میں نظر آتی ہے ۔ چھاؤنیوں میں یا فوج کے قائم کردہ اداروں میں ایسے تعلیمی ادارے بھی ہیں‘ ہسپتال بھی‘ رہائش‘ ٹرانسپورٹ کے انتظامات جو آج کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ اسے بہت سے حلقے منفی انداز سے دیکھتے ہیں۔ مگر میرا نقطہ نظر ہے کہ فوج نے اپنے طور پر کوشش کی اور یہ کرکے دکھادیا کہ ایک نظام قائم کیا جا سکتا ہے جہاں نظم و ضبط ہو۔ بجٹ کی حد میں رہ کرمطلوبہ مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ منزل نظر میں رکھی جائے تو منزل مل سکتی ہے۔بجٹ تو سارے سرکاری محکموں کے لئے اسی طرح مختص کئے جاتے ہیں ۔لیکن فوجی اداروں میں ڈسپلن ہے۔ نگرانی ہے تشکیل کے بعد تعمیل اور تکمیل کے مراحل بھی طے ہوتے ہیں۔ایک تاریخی سند یہ بھی ہے کہ بنیادی سہولتیں جن مقامی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ان کے الیکشن سیاسی حکمرانوں نے کبھی نہیں کروائے۔ زیادہ تر یہ فوجی دورمیں ہی ہوئے ہیں۔ یعنی سیاسی قیادت اسے اولیت نہیں دیتی جو ایک بنیادی فکری مغالطہ ہے۔ فوج اگر اسے بجا طور پر فوقیت دیتی ہے تو اس پر تنقید کی بجائے اس کی تقلید ہونی چاہئے۔سول حلقے میں جہاں کوشش ہوئی ہے نتیجہ اچھا نکلا ہے ۔موٹر وے کی تعمیر پھر اس پر قانون کا یکساں نفاذ بہترین مثال ہے ۔اسی طرح پرایؤیٹ سیکٹر میں سٹیزن فاؤنڈیشن ،انڈس ہسپتال ، لاہور یونی ورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز‘ سرکاری شعبے میں سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی‘ آئی بی اے(انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن) شامل ہیں۔اصل ضرورت توجہ اور ترجیح کی ہے۔ جمہوریت ہر شخص کو میسر روزگار‘اچھی ٹرانسپورٹ،گھروں‘ محلوں میں صفائی، خوراک کے عمدہ معیار‘صحت کی سہولتوں‘جان مال کے تحفظ میں نظر آنی چاہئے۔صرف جلسے جلوس ریلیوں دھرنوں میں نہیں۔ اگر سارے انجینئرز‘ ڈاکٹر‘ دانشور علمائے دین‘ سکالرز صرف باتیں کرتے دکھائی دیں گے تو زندگی آسان کرنے کے لئے کام کون کرے گا۔ آئیے سنجیدگی سے طے کریں کہ نظام حکومت آخر ہے کیا ۔صرف بحث مباحثے جلسے جلوس یا وہ محفوظ و مامون ماحول جس کی کشش ہمارے نوجوانوں کو غیر ممالک کی شہریت اختیار کرنے پر مجبور کر رہی ہے ۔ماں باپ بڑھاپا اکیلے بسر کر رہے ہیں ۔ ہماری افرادی قوت اپنے شہروں کی ترقی کی بجائے غیروں کے آگے بڑھنے میں خرچ ہو رہی ہے ۔ میرا اور آپ کا پاکستان پیچھے جارہا ہے۔یہ ہمارا مقدر نہیں ہے۔ کیا اپنے بیٹوں‘ بیٹیوں‘ پوتوں‘ پوتیوں نواسوں‘ نواسیوں کو ہم اپنے سے بھی زیادہ غیرمحفوظ اور خطرناک گھروں ‘ گلیوں‘محلوں اور شہروں میں چھوڑکر جائیں گے ۔؟

یہ تحریر 81مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP