یوم دفاع

نشان ِ حیدر۔ پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز 

پاکستان کی 75سالہ تاریخ میں یہ جنگی اعزاز 11شہیدوں کو دیاجا چکا ہے۔
جنگ ستمبر 65میں غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہید ہونے والے میجر عزیز بھٹی کو یہ اعزاز دیا گیا

''نشان حیدر''پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے جو ان فوجیوں کو دیاجاتا ہے جنہوں نے جنگ کے دوران غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیاہو۔نشان حیدر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لقب''حیدر''سے منسوب ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بے مثال بہادری کی وجہ سے اس اعزا ز کو ان سے منسوب کیا گیاہے۔ نشان حیدر پانچ کونوں والا ستارہ ہوتا ہے ،یہ جنگ میں دشمن سے حاصل ہونے والے اسلحے کو پگھلا کر بنایا جاتا ہے۔ اس کاربن' Ribon'ڈیڑھ انچ چوڑا اور گہرے سبز ریشم کا ہوتا ہے۔



پاکستان کی 75سالہ تاریخ میں یہ اعزا ز 11شہیدوں کے حصے میں آیا ہے ۔ان کے نام یہ ہیں:کیپٹن محمد سرور شہید، میجر طفیل محمد شہید، میجر راجہ عزیز بھٹی شہید، میجر محمد اکرم شہید،پائیلٹ آفیسر راشد منہاس شہید، میجر شبیر شریف شہید ،سوار محمد حسین شہید ، لانس نائیک محمد محفوظ شہید، کیپٹن کرنل شیر خان شہید، حوالدار لالک جان شہیداور 11ویںجانباز کا نام نائیک سیف علی جنجوعہ شہیدہے جنہیں ''ہلالِ کشمیر'' دیا گیا۔ ہلال کشمیر کو حکومت پاکستان نے نشان حیدر کے برابر درجہ دیاہے۔



کیپٹن محمد سرور سب سے پہلے نشان حیدر پانے والے بہادر ہیں۔ان  کا تعلق راولپنڈی کے علاقے سنگھوڑی سے تھا ۔وہ 10نومبر1910ء کو پیدا ہوئے۔انہوں نے 27جولائی 1948ء کوتل پترا اوڑی سیکٹرکشمیر میں مردانہ وار لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔جب انہوں نے دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا تو معلوم ہوا کہ دشمن نے اپنے مورچوں کو خار دار تاروں سے محفوظ کیا ہوا ہے۔کیپٹن سرور  نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر شدید گولیوں کی بوچھاڑ میں ان خار دار تاروں کو کاٹ دیااورآگے بڑھنے لگے۔انہوں نے اسی معرکہ میں جام شہادت نوش کیا ۔کیپٹن محمد سرور شہید کا تعلق پاک فوج کی 2پنجاب رجمنٹ سے تھا۔


 طفیل محمدپاک فوج کی 13پنجا ب رجمنٹ کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔وہ مشرقی پاکستان میں ایسٹ پاکستان رائفلز میں فرائض کی انجام دہی کے دوران لکشمی پورسیکٹر میں شہید ہوئے۔لکشمی پورکے علاقے میں بھارت نے قبضہ کر لیا تھا ،میجر طفیل کو یہ علاقہ واگزار کروانے کاایک مشکل ترین ٹاسک سونپا گیا ۔میجر طفیل نے 7اگست 1958ء کو اپنے جانبازوں کے ہمراہ دشمن پر اچانک ہلہ بول کر اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔اسی دوران انہیں مشین گن کا فائر لگا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے ہینڈ گرنیڈ سے دشمنوں کی مشین گنوں کو خاموش کروایا۔ اسی دوران انہیںمحسوس ہوا کہ انڈین آفیسر میجر دیوبرہمن حملہ کرنے کی تیاری میں ہے، انہوں نے رینگتے ہوئے میجر دیو کو اپنی ٹانگوں سے قابوکیا اور جنگی قیدی کے طور پر اپنے سپاہیوں کے حوالے کیا۔ اسی معرکہ میں انہوں نے جام شہادت نوش کیا ۔


جنگ ستمبر65ء میں فرنٹ مورچوں پر لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے پاک فوج کے مایہ ناز افسر میجر عزیز بھٹی شہید کو یہ اعلیٰ ترین اعزاز دیا گیا۔میجر عزیز بھٹی6جنوری1928ء کو لادیاں گجرات میں پیدا ہوئے۔اُن کا تعلق  ''17پنجاب رجمنٹ''سے تھا۔ جنگ کے وقت وہ  واہگہ بارڈر کے قریب برکی کے علاقہ میں بطور کمپنی کمانڈر تعینات تھے۔ انہوں نے 6ستمبرسے 12ستمبر تک مسلسل جنگ کا سامنا کیا ۔عزیز بھٹی نے دشمن پر مسلسل نظر رکھی اور اسے بھاری نقصان پہنچایا۔وہ 12 ستمبر کی صبح دشمن کی نقل وحرکت کا دوربین سے مشاہدہ کررہے تھے کہ ٹینک کا ایک گولہ ان کے سینے کو چیرتا ہوا پار ہوگیا۔انہوں نے بڑی جرأت اور غیر معمولی بہادر ی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہادت کو گلے لگایا۔بلاشبہ میجر راجہ عزیز بھٹی کی بہادری وطن کے دفاع کے عزم کو مزید تقویت دیتی ہے۔قوم آج بھی انہیں سلام پیش کرتی ہے اور ان کی قربانی کو سراہتی ہے۔ وطن کی خدمت کا جذبہ میجر عزیزبھٹی میں بدرجہ اتم موجود تھا۔ وہ بہت دلیر اور نڈر آفیسر تھے جو اگلی صفوں میں رہتے ہوئے دشمن پر وار کرنے پر یقین رکھتے جس کا ثبوت اْن کے جنگ ستمبر کے کارناموں سے ملتا ہے۔


  راشد منہاس پاکستان ایئرفورس میں پائیلٹ آفیسر تھے۔وہ 17فروری 1951 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔  20اگست1971ء کو وہ ایک ٹرینر جیٹ طیارے میں سوار تھے۔ جب وہ ٹیک آف کرنے کے لیے رن وے پر آئے تو ان کا بنگالی انسٹرکٹر پائلٹ مطیع الرحمن کاک پٹ میں داخل ہو گیااور جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا۔اب اس جہاز کارخ بھارت کی جانب تھا۔دراصل مطیع الرحمن اس جہاز کو اغواء کر کے بھارت لے جانا چاہتا تھا۔ راشد منہاس نے جب دیکھا کہ بھارت صرف چالیس کلومیٹر کی دور ی پر ہے توآپ نے زبردست مزاحمت شروع کی اورآخر کار اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے جہاز کا رخ زبردستی زمین کی جانب موڑ کر دشمن کا ناپاک منصوبہ خاک میں ملا دیا۔ انہوں نے صرف بیس سال کی عمر میں جام شہادت نوش کیا۔ اس جرأت رندانہ پرانہیں نشان حیدر عطا کیا گیا۔وہ سب سے کم عمر افسرہیں جنہیں  یہ اعزاز دیا گیا۔


 میجر محمد اکرم چار اپریل 1938کو جہلم میں پیدا ہوئے۔ان کا تعلق اعوان قبیلے سے تھا۔ ممتاز دانش ور اور مصنف پروفیسر سعید راشد نے اپنی ضخیم تصنیف ''میجر محمد اکرم شہید ''میں ان کے حالات زندگی اور عسکری کارنامے بیان کیے ہیں۔میجر محمداکرم کاتعلق4فرنٹیر فورس رجمنٹ سے تھا۔ وہ1971ء کی جنگ میں مشرقی پاکستان میں ہلی کے مقام پر اپنی کمپنی کی قیادت کررہے تھے۔ان کی کمپنی نے بے سروسامانی کے عالم میں بھارت کی ایک بریگیڈ فوج کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔5 دسمبر1971 کو جب وہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ تنہا رہ گئے تو انہوں نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ ایمونیشن کو احتیاط سے رکھو اور جب دشمن بالکل قریب پہنچ جائے تو حملہ کرنا ہے۔ وہ ایک انتہائی مشکل لڑائی میں چاروں طرف دشمن کے گھیرے میں ہونے کے باوجود عزم و ہمت کے کوہ گراں ثابت ہوئے ، دشمن کو بھاری نقصان پہنچایااور شہادت کارتبہ پایا۔ان کی بہادری کا اعتراف بھارت کی اعلیٰ عسکری قیادت نے بھی کیا تھا۔ 


میجر شبیر شریف گجرات کے ایک خطہ مردم خیز '' کنجاہ'' میں28اپریل1948ء کو پیدا ہوئے۔ان کا تعلق ''6فرنٹیئر فورس رجمنٹ''سے تھا۔انہیں مورخہ تین دسمبر1971ء کو سلیمانکی ہیڈورکس کے مقام پر ایک بلند ٹیلے پر قبضہ کرنے کا حکم ملا۔میجر شبیر شریف اپنے جاںنثاروں کے ہمراہ آگ برساتی مشین گنوں کے درمیان سبونہ نہر کے پار جا پہنچے ۔انہوں نے متعدد انڈین سپاہیوں کو موت کے گھاٹ اُتارا، تقریباً38 بھارتی فوجیوں کو جنگی قیدی بنایا اور چار ٹینک تباہ کیے۔5اور6 دسمبر کی درمیانی شب میجر شبیر شریف نے میجر نریاں سنگھ کمپنی کمانڈرکودُوبدُو لڑائی میں جہنم واصل کیا۔ ان کی ضرب کاری سے دشمن اپنے مضبوط بنکرز چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے دشمن کے خلاف ایک چومکھی جنگ لڑی اور آخر کار شہادت کے رتبے پر فائز ہو گئے۔انہوں نے سبونہ نہر کے مقام پر دشمن کو شکست فاش سے دوچار کر دیا تھا۔ اس لیے انہیں فاتح سبونہ بھی کہاجاتا ہے۔ 


  سوار محمد حسین 1949ء میں ڈھوک پیر بخش راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق پاک فوج کی 20لانسرز یونٹ سے تھا ۔ وہ پاک فوج میں ڈرائیور تھے۔ محمد حسین  10دسمبر1971ء کو شکر گڑھ کے محاذ پر اپنی جان کی پروا  نہ کرتے مورچوں پر جنگی ساز وسامان پہنچاتے رہے۔اسی دوران انہیں دشمنوں کی کچھ معلومات ملیں جو انہوں نے اپنے افسران تک پہچائیں جس کا پاکستانی فوج کو کافی فائدہ ہوا۔ 10 دسمبر 1971 کو ان کی معلومات کی وجہ سے سولہ انڈین ٹینک افواج ِ پاکستان نے تباہ کیے، وہ ڈرائیورتھے لیکن کئی مرتبہ رضاکارانہ طور پر بھی باقاعدہ لڑائی میں شامل ہوئے اور جرأت کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔


 لانس نائیک محمد محفوظ راولپنڈی کے گا ئوں پنڈ ملکاں میں25اکتوبر1944ء کو پیدا ہوئے۔ 1971ء کی جنگ میں وہ واہگہ اٹاری سیکٹر محاذ پر تعینات تھے۔انہوں نے ''پل کنجری آپریشن ''میں حصہ لیا اور دادِ شجاعت دیتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔17دسمبر کی شب ان کی کمپنی کو دشمن کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا تھا۔ دشمن کی پوزیشن ان سے صرف 70میٹر کی دوری پر تھی۔دشمن کی شدید فائرنگ سے ان کی مشین گن تباہ ہوگئی۔انہوں نے ایک شہید کی گن سنبھالی اور بھارتی فوج کو نشانے پر رکھ کرآگے بڑھنے لگے، آخر کار وہ ایک بھارتی مورچے میں گھس گئے اور بھارتی گنر کو گلے سے دبوچ کر ہلاک کردیا۔اسی دوران دشمن سپاہیوں نے اُن پر پے درپے وار کر کے انہیں شہید کر دیا۔ بتایا جاتاہے کہ ان  کی شجاعت کا ذکر ایک بھارتی کرنل نے ان الفاظ میں کیا تھا کہ :''میں نے اپنی عسکری زندگی میں آج تک ایسا بہادر جوان نہیں دیکھا۔اگر وہ میری فوج کا حصہ ہوتا تو میں اس کانام اعلیٰ ترین اعزاز کے لیے تجویز کرتا''۔یہ تو دشمن کے الفاظ تھے لیکن پاک فوج اور حکومت پاکستان نے بھی اپنے اس قومی ہیرو کو فراموش نہ کیا اور اس کی جرأت اور بہادری کا بھرپور اعتراف کرتے ہوئے اسے سب سے بڑے اعزاز ''نشان حیدر''سے نوازا۔


کیپٹن کرنل شیر خان شہید ضلع صوابی کے ایک گائوں میں پیدا ہوئے۔انہوں نے  پانچ جولائی 1999ء کو کارگل جنگ کے دوران گلتری سیکٹر میں جام شہادت نوش کیا۔اس جنگ کے دوران انہوں نے متعدد چھاپہ مار کاررائیوں کی قیادت کی اوراپنے مشنز میں کامیاب رہے۔ پانچ جولائی99ء کوانہیں پاک فوج کی دو پوسٹوں کے درمیان دشمن کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مشکل ٹاسک سونپا گیا۔اس مشن میں ان کے ساتھ 14دیگر جاںنثار بھی شامل تھے۔وہ بڑی جرأت کے ساتھ آگے بڑھے۔ اس دوران انہیں دشمن فوجیوں کی ایک بڑی تعداد نظرآئی، انہوں نے اپنے جاںنثار ساتھیوں کے ہمراہ دشمن سپاہ پر ہلہ بول دیا اورا سے بھاری جانی نقصان پہنچایا۔ اس معرکہ میں کیپٹن کرنل شیر خان نے سات ساتھیوں کے ہمراہ جام شہادت نوش کیا۔وہ بڑی بے جگر ی سے لڑے تھے ، اس پروہ نشان حیدر کے مستحق ٹھہرے۔


حوالدار لالک جان یکم اپریل1967ء کو پیداہوئے۔ ان  کا تعلق وادی یاسین گلگت سے تھا۔12نادرن لائن انفنٹری کا حصہ تھے۔سات جولائی 1999ء کو انہوں نے کارگل جنگ میں جام شہادت نوش کیا۔انہوں نے جنگ کے دوران اگلے محاذ پر جانے کے لیے رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کیں۔لالک جان نے اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ اپنے مورچے کا دفاع کیا اور دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ان کی پوسٹ کو تین جانب سے دشمن کے شدید حملوں کا سامنا تھا، شدید زخمی ہونے کے باوجودانہوں نے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا اور اسی دوران جام شہادت نوش کیا۔


سیف علی جنجوعہ 25اپریل 1922ء کو موضع کھنڈ ہار تحصیل مینڈھر کشمیر میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان سے قبل وہ برطانوی فوج کا حصہ رہ چکے تھے۔بعدا زاں وہ کشمیر کی آزادی کے لیے بنائی گئی حیدری فورس 18آزاد کشمیر رجمنٹ کا حصہ بنے۔ وہ کشمیر میں مینڈھر سیکٹر میں پیرکلیواکے مقام پر 26اکتوبر1948ء کو اپنی ایک پلاٹون کی نامکمل اور مختصر نفری کی قیادت کررہے تھے ۔ پیرا کلیوا پر دشمن نے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ ایک بریگیڈ انفنٹری جسے توپ خانہ ، بکتر بند اور فضائی فوج کی مدد حاصل تھی، پر ایک بڑا حملہ کیا ۔ اس انتہائی مشکل لڑائی میں نائیک سیف علی جنجوعہ نے دشمن کی منصوبہ بندی کو خاک میں ملاتے ہوئے پیر کلیواکا دفاع ناقابل تسخیر بنادیا۔ کمال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیف علی نے اپنے جوانوں کا حوصلہ بلند رکھا اور دشمن کوآگے نہ بڑھنے دیا۔ اسی معرکہ میں وہ  شہادت کے رتبے پر سرفراز ہوئے۔ انہیں ''ہلال کشمیر ''عطاء کیا گیا ۔ ہلال کشمیر کو حکومت پاکستان نے ''نشان حیدر ''کے مساوی اعزاز قرار دیا ہے۔  


   مضمون نگار صحافت کے شعبے سے منسلک ہیں اور ایک اخبارمیں کالم لکھتے ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 116مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP