قومی و بین الاقوامی ایشوز

ندا آ رہی ہے

یہ جو اونچے اونچے فخر مند پہاڑ ہیں۔ جن کی کھوج میں دنیا کے کوہ پیما اس طرف آ جاتے ہیں۔ آسمان کے بادل ان پہاڑوں کی ردا ہیں۔ اپنے پَر پھیلائے ان پر سایہ فگن رہتے ہیں۔۔۔ مگر تم نے سمجھ رکھا تھا کہ ان پہاڑوں میں پہنائی نہیں ہے۔ اس لئے تم ان کے پست اندھیروں میں چھپ کر بیٹھ جاؤ گے۔اور چپکے چپکے پست ترین کام کرنے لگ جاؤ گے۔۔۔ کیونکہ تم پست ارادوں سے آئے تھے۔ اور مکروہ کام کرنے کا ایجنڈا لائے تھے۔ تم نے سوچ رکھا تھا ۔ ان چوٹیوں کو تسخیر کرلو گے۔ ان مسکراتی اٹھلاتی ہواؤں کو زنجیر کر لو گے۔ فضائے بسیط میں چہچہاتے پرندوں کے گیت اسیر کر لو گے۔ اور اس زمین کے باسیوں کو دل گیر کر لو گے۔۔۔ تمہیں یقین تھا امن کی اس زمین کا سکون گروی رکھ لو گے؟ تم ان کی خوشیاں اچک لو گے۔راحت لُوٹ کر بے بسی کے جراثیم تقسیم کرو گے؟ تم ۔۔۔ کہ کسی کی بھیجی ہوئی بددعا ہو جو آسمانوں سے ٹھکرائے جانے کے بعد زمینوں پر رینگتی رہتی ہے۔ تم سرکش انسانوں کی خباثتوں کے پیغامبر ہو۔۔۔ تم کوئی بھی حلیہ بنا کر رہو۔۔۔ تم ہر حلیے میں پہچان لئے جاتے ہو۔۔۔ کیونکہ تم نے سانپوں کا زہر پیا ہے۔ ماؤں کا دودھ پینے والے‘ خودکش جیکٹوں کا بیوپار نہیں کرتے۔ سوئے ہوئے معصوم لوگوں پر وار نہیں کرتے۔ تم نے حلیہ بدل کر اس پاک زمین پر قدم جمائے۔ متقی اور پرہیزگار ماؤں کا سکون لوٹا۔ اپنی منحوس انگلیوں پر گن گن کر حساب لگاؤ۔ کتنے معصوم جسموں کے تم نے پرخچے اڑا دیئے۔ سکولوں میں پڑھنے والے کتنے معصوموں کی انگلیوں کو قلم کیا۔ کتنی سہاگنوں کی سیج قبروں میں سجائی۔ کتنے ضعیف باپوں نے نوخیز جنازے اٹھائے۔ تم نے مسجدوں کو نہ بخشا۔۔۔ کلیسا کو نہ معاف کیا۔۔۔ مندر اور گرودوارہ نہ چھوڑا۔ مقدس مزاروں پر چڑھی چادریں بھل بھل جلائیں۔ ارے تم ہو کون۔۔۔؟ تمہارا مذہب کیا ہے؟ تمہارا خدا تو پیسہ ہے۔ تمہارا ایمان بربریت ہے۔ تمہاری پہچان وحشت ہے۔ جو ساکت پہاڑوں پر کھل چکی ہے۔ اور پاک سرزمین کے باسی جاگ چکے ہیں۔ تمہیں پہچان چکے ہیں اور جن کے بوٹوں کی دھمک تمہیں ان پہاڑوں پر سنائی دے رہی ہے‘ یہ اﷲ کے سپاہی ہیں جن کے ولولے آج فضاؤں میں پھڑ پھڑا رہے ہیں۔ یہ اﷲ کے شاہین ہیں۔ یہ فقر کے لباس میں کھوجی ہیں ۔ دنیا کہتی ہے یہ قابل ستائش ہیں انہوں نے ایک عرصہ تک زبان دانتوں تلے دبا کے تمہارے مکروہ ارادوں کو برداشت کیا ہے۔ ان وادیوں اور پہاڑوں کی آغوش میں بسنے والے تمہاری موت کے لئے آخری حد تک جائیں گے۔ بزدلو ! تم کیا جانو آخری حد کہاں پر ہوتی ہے۔ آخری حد تو افق کے زاویوں سے جا ملتی ہے۔ آخری حد تک تو کربلا کے شہیدوں سے جا ملتی ہے۔ امام حسینؓ کے گھوڑے کے سموں سے جا ملتی ہے۔ ارے تم ان سے بچ کر کہاں جاؤ گے؟ کدھر جاؤ گے؟ ان کی زندگی کا عنوان ہے۔ عشق دم مصطفیﷺ اور ان کی بندگی کا سرنامہ ہے شہادت اولیٰ تم نے ان کی للکار سے پہاڑوں کو دہلتے اور دھرتی کو کانپتے دیکھا ہو گا۔ جب ان کا سالار اعظم نعرہ تکبیر بلند کرتا ہے تو اﷲ اکبر کی دلدوز آواز پہاڑوں کا ماتھا چوم کر‘ دیر تک‘ دُور تک گونجتی رہتی ہے۔ مائیں جھولیاں پھیلا لیتی ہیں۔ بیٹیاں کلام پاک اٹھا لیتی ہیں۔ مسجدوں کے گنبد مناجات کرنے لگتے ہیں ساری قوم آمین آمین کہنے لگتی ہے۔ دھرتی کو پاک کرنے تک‘ اور آخری فتح تک ان کے بوٹوں کی دھمک دلوں سے دلوں تک سفر کرتی رہتی ہے۔ اور ہاں جاؤ۔۔۔ منادی کر ا دو۔۔۔ ندا آ رہی ہے۔۔۔ندا آ رہی ہے۔۔۔ کہ یہ قوم کے اٹل ارادوں والے سپوت تمہارا نشان تک مٹا کر دم لیں گے۔ اس پاک وادی کو تمہارے ناپاک وجود سے پاک کر کے رہیں گے۔ تمہاری تلاش میں اپنی پیاری زمین کا ذرہ ذرہ کھوجیں گے۔ تمہارے گمراہ کن ارادوں کو میٹھے چشموں کے پانیوں سے دھو کر دم لیں گے۔ یہ تھکنے والے مجاہد نہیں ہیں۔ یہ بکنے والے رہائشی نہیں ہیں۔ یہ حلیے بنا کر رہنے والے فرمائشی نہیں ہے۔۔۔ آج پورا پاکستان‘ بزرگ‘ جوان‘ عورتیں‘ بچے‘ اپنے عسکری نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آسمان سے برکتوں کا مینہ برس رہا ہے۔ لیلۃ القدر جشن آزادی کا علم لہرا رہی ہے۔ اور سنو! ندا آ رہی ہے۔ ہم اپنی زمین کو تمہارے وجود سے پاک کر کے رہیں گے۔ پہاڑوں کا سینہ چاک کر کے رہیں گے۔ باطل قوتوں کوخس و خاشاک کر کے رہیں گے۔ اللّٰٰھم آمین

یہ تحریر 30مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP