متفرقات

نالائق ارب پتی

آپ نے اکثر ایسی دلچسپ کہانیاں سنی ہوں گی جن میں بتایا جاتا ہے کہ کیسے ریاضی میں فیل ہونے والا بچہ دنیا کا سب سے ذہین سائنس دان بن گیا،  یا ایک کالج سے نکالا جانے والا نالائق طالب علم ارب پتی بن گیا، یا ایک     اَن پڑھ شخص نہایت کامیاب حکمران بن گیا وغیر ہ وغیرہ۔یہ کہانیاں ہمیں بہت بھاتی ہیں۔ کیونکہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ریاضی پڑھے بغیر دنیا ہمیں     آئن سٹائن تسلیم کر لے اورکالج سے نکالے جانے کے باوجود ہم بل گیٹس کی طرح''نالائق ارب پتی'' بن جائیں۔اپنی اس خواہش کے زیر اثر ہم نت نئی مثالیں بھی تلاش کرتے رہتے ہیں ۔جن سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ صرف بل گیٹس ہی نہیں بلکہ فیس بک کا خالق مارک زوکر برگ اور ایپل کمپنی کا مالک سٹیو جابز بھی کالج سے نکالے گئے طالب علموں میں شمار ہوتے ہیں ۔اسی طرح آئن سٹائن کے بارے میں بھی ہماری اطلاعات یہی ہیں کہ صاحب بہادر ریاضی میں فیل ہوا کرتے تھے لیکن اس کے باوجود دنیا انہیں اس صدی کا سب سے بڑا سائنس دان تسلیم کرتی ہے ۔حالانکہ یہ بات درست نہیں کیونکہ خود آئن سٹائن کا کہنا ہے کہ انہوں نے پندرہ برس کی عمر تک پہنچنے سے قبل ہی

Differential

اور 

Integral Calculas



میں دسترس حاصل کر لی تھی ۔آئن سٹائن صاحب صرف ایک انٹرنس امتحان میں ناکام ہوئے تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ امتحان دیتے وقت حضرت کی عمر مقررہ حد سے دو برس کم تھی ۔ اس کے باوجود اس امتحان میں ریاضی اورسائنس میں ان کی کارکردگی ضرورت سے زیادہ عمدہ رہی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں ایسی کہانیاں لطف کیوں دیتی ہیں؟ جوا ب بڑا سیدھا ہے کہ ہم محنت نہیں کرنا چاہتے ۔ہمیں بل گیٹس کے65بلین ڈالر تو نظر آتے ہیں مگر یہ پتہ نہیں چلتا کہ ان ڈالروں کو کمانے کے لئے اس نے کتنی محنت کی اور ''ہوم پی سی '' ایجاد کرکے دنیا میں انقلاب ہی برپا کر دیا ۔ہمیں آئن سٹائن کا فیل ہونا تو یاد رہ گیا، پر اس کی

Special Theory of Relativity

کا اصل متن پڑھنے کی کبھی زحمت گوارا نہیں کی جو اس نے فقط چھبیس برس کی عمر میں تحریر کیا تھا اور جس نے دنیا میں تہلکہ مچا دیا تھا ۔آئن سٹائن ہو یا نیوٹن ،بل گیٹس ہو یا وارن بوفے ،عا م لوگوں کو دیو قامت شخصیات کی مثالیں سنا کر کامیابی حاصل کرنے کے لئے

motivate

کرنا درست نہیںہے اور اس کی دو وجوہات ہیں ۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ ہر بندہ آئن سٹائن نہیں بن سکتا ،کیونکہ ہر بندے کے پاس آئن سٹائن جیسی ذہانت نہیں ہے،اس قسم کی ذہانت خدا داد ہوتی ہے ۔لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ عام انسانوں کی ذہانت میں فرق ہوتا ہے ۔ہر انسان برابر پیدا ہوتا ہے اور اس کی ذہنی صلاحیتیں بھی برابر ہوتی ہیں۔ لیکن ان میں سے کچھ انسان قدرتاً خوش قسمت ہوتے ہیں جو ایسے گھرانوں یا معاشروں میں پیدا ہو جاتے ہیں جہاں انہیں ذہانت یا علم کے حصول کے لئے وہ محنت نہیں کرنی پڑتی جو شائد بنگلہ دیش میں بسنے والے ایک غریب مچھیرے کے بیٹے کو کرنی پڑتی ہے ۔اس مچھیرے کا بیٹا بھی پیدائشی طور پراتنا ہی ذہین ہوگا جتنا بل گیٹس کا بیٹا مگر اپنی ذہنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے جو سہولیات ابن بل گیٹس کو میسر آئیں گی وہ اس غریب بنگالی کے تصور میں بھی نہیں سما سکتیں۔ لہٰذ ا قرین قیاس یہی ہے کہ وہ بیچارہ بھی مچھیرا ہی بنے گا ۔لیکن جو لوگ گاڈ گفٹڈ ہوتے ہیں ان کا کوئی مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ۔اگر کسی کا خیال ہے کہ ہر بچہ پڑھ لکھ کر نیوٹن بن سکتا ہے تو پھر ہر بچے کو نیوٹن بن جانا چاہئے لیکن وہ بچہ انسان کا بچہ تو بن نہیں پاتا نیوٹن کیا خاک بنے گا ۔لیکن کیا کریں ،یار لوگ کامیابی کا گر بتاتے وقت نیوٹن کی مثال دینا نہیں بھولتے ۔انہوں نے صرف نیوٹن کی

Principia Mathematica

کا نام سنا ہوتا ہے ،یہ نہیں پتہ ہوتا کہ اس قسم کی جناتی کتاب کوئی عام آدمی تو دور کی بات اچھا خاصا ''ثمر مبارک مند'' نہیں سمجھ سکتا۔ یہ کتاب نیوٹن کے ان لاتعداد عظیم الشان کارناموں میں سے فقط ایک کام ہے اور ایسا کام جسے سائنس کی تاریخ کے اہم ترین کارناموں میں سے ایک مانا جاتا ہے (یہاں ہمیں کوئی مسلمان سائنس دان یاد آنا چاہئے جس نے نیوٹن سے چار سو سال قبل ہی یہ کام کر لیا تھا لیکن پھر انگریزوں کی سازش نے اسے نیوٹن کے کھاتے میں ڈال دیا )!

کامیابی کی ترغیب دینے کے لئے ان افلاطونی ہستیوں کی غلط مثالیں دینے کی دوسری وجہ بھی نہایت دلچسپ ہے۔ہم جب بھی ایسے کسی کامیاب انسان کا قصہ سنتے ہیں تو ہمیں یہ جان کر بہت مزا آتا ہے کہ کامیاب شخص زندگی میں بیسیوں مرتبہ ناکام ہوا اور پھر

Try Try Again

کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے اس نے دشمنوں کے چھکے چھڑا دئیے ۔اس فارمولے کو ہم بچپن سے پڑھتے آرہے ہیں مگر اس میں دو خامیاں ہیں ۔اول،ایک کام کو کرنے کے بعد ناکام ہونا اور پھر دوبارہ وہی کام اسی طریقے سے کرنے کے بعد سوچنا کہ نتیجہ مختلف ہوگا،پرلے درجے کی حماقت ہے ۔یہ بات غالباً آئن سٹائن نے بھی کہی تھی ۔یہ جو کہا جاتا ہے کہ ناکامی سے گھبرانا نہیں چاہئے ،بار بار کوشش کرنے سے کامیابی آپ کے قدم چومتی ہے ،خاصا گمراہ کن بیان ہے ۔ جو بات ایڈیسن سے منسوب کی جاتی ہے کہ ''میں نے ایسے ایک ہزار طریقوں کا پتہ چلایا جن سے بلب نہیں بن سکتا '' خاصی مخولیا بات ہے جو ایڈیسن جیسا عظیم سائنس دان نہیں کہہ سکتا اور اگر اس نے کہی ہے تو خاصی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے کیونکہ ایسے طریقے جن سے بلب ایجاد نہیں ہو سکتا،ایک ہزار نہیں ایک لاکھ ہو سکتے ہیں ۔مثلاً تالاب میں چھلانگ لگانے سے بلب ایجاد نہیں ہوسکتا،دیوار میں ٹکر مارنے سے بلب ایجاد نہیں ہوسکتا ،سی این جی بند کرنے سے بلب ایجاد نہیں ہوسکتا ،طاہر القادری کوشیخ الاسلام مان لینے سے بلب ایجاد نہیں ہوسکتاوغیرہ وغیرہ۔با الفاظ دیگر ،

Try Try Again

والا فارمولا اندھا دھند استعمال کرنے سے بد ہضمی اور ناکامی دونوں کا قوی امکان ہے لہٰذا اس سے اجتناب برتنا چاہئے ۔

اس فارمولے کی دوسری خامی بھی نہایت اہم ہے ۔جو لوگ تاریخ میں کامیاب ٹھہرتے ہیں ،ہمیں ان کے حالات زندگی تو پڑھنے کو مل جاتے ہیں چاہے وہ لوگ غیر معمولی ذہین ہوں یا اوسط درجے کے، مگر ان ناکام لوگوں کے حالات کبھی پتہ نہیں چلتے جنہوں نے کامیابی کے ان سارے فارمولوں پر عمل کیا مگر ناکام رہے ! دنیا میں ناکام لوگوں کی تعداد کامیاب لوگوں سے کہیں زیادہ ہے ۔ہمارا تمام تر فوکس چونکہ کامیاب لوگوں کا ڈیٹا اکٹھاکر نے میں ہوتا ہے لہٰذا ہمیں پتہ ہی نہیں چل پاتا کہ ناکامی کی اصل وجوہات کیا ہو سکتی ہیں !

کامیاب ہونے کے لئے تاریخ کے عظیم لوگوں کو رول ماڈل بنانا غلط نہیں البتہ یہ سوچنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے کہ اگر بل گیٹس کالج سے نکلنے کے باوجود ارب پتی بن سکتا ہے تو مجھ جیسا بی اے فیل (انگریزی میں) کیوں نہیں بن سکتا ؟ بل گیٹس کالج میں نکالے جانے کی وجہ سے ارب پتی نہیں بنا وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کی بنیاد پر بنا ہے ۔اگر آپ بھی آئن سٹائن کی طرح ذہین ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت آ پ کو عظیم سائنس دان بننے سے نہیں روک سکتی۔ لیکن اگر آپ آئن سٹائن نہیں ہیں تو پھر کامیاب انسانوں کو فالو کرنے کے بجائے ناکام انسانوں کا مشاہدہ کیجئے اور ان کی ناکامی کی وجوہات تلاش کرکے کوشش کیجئے کہ آپ کی زندگی میں وہ وجوہات ناکامی کا باعث نہ بن سکیں ۔اگر آپ ایک کامیاب ریستوران چلانا چاہتے ہیں تو کے ایف سی کے بابے کی مثال کے پیچھے مت لگیں۔یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آپ کے شہر میں کتنے ریستوران نہیں چل پائے ؟ان کی وجوہات کیا تھیں؟پھرآپ کا ریستوران کامیاب ہو جائے گا !


مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

 [email protected]

یہ تحریر 129مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP