متفرقات

میں پھر قدم سے قدم ملا کر چلوں گا

پاکستان کی 67 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی اندرونی اور بیرونی دشمن نے وطن عزیز کو نقصان پہنچانا چاہا تو پاک فوج ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح اس کے سامنے ڈٹ گئی ۔ میدان جنگ میں ہر فوجی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسی جرأت مندی سے مد مقابل دشمن کا مقابلہ کرے کہ پوری قوم اس پر فخر کر سکے۔ جذبہ حب الوطنی اور دفاع وطن کے احساس سے سرشار کچھ جوانوں اور افسروں کو میدان جنگ میں شہادت کا درجہ نصیب ہوتا ہے اور کچھ میدان جنگ میں زخمی اور جسمانی معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ میدان جنگ یا شر پسندوں کے خلاف لڑتے ہوئے معذور ہونے والے فوجیوں کو راولپنڈی میں قائم آرمڈ فورسزانسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبلی ٹیشن میڈیسن (AFIRM) لایا جاتا ہے ۔یہ ادارہ جنگ یا حادثاتی طور پر جسمانی معذوری کی صورت میں انسان کو اس حد تک علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرتا ہے جس سے وہ اپنی زندگی کا بوجھ خود اٹھا سکیں۔ہم نے اپنے قارئین کے لئے ایک سلسلہ کا آغاز پچھلے چند ماہ سے شروع کر رکھا ہے جس سے ہمارے قارئین نا صرف اس ادارے کے بارے میں بہت کچھ جان چکے ہوں گے اور ان میں لائے ہوئے چند معذوراور زخمی نوجوان کے بارے میں ان کی کہانیاں ا ن کی زبانی پڑھ چکے ہو ں گئے ۔اس دفعہ اسی سلسلے کی نئی کہانی سپاہی محمدنوید کی ہے اس بہادر سپاہی نے ہلال کے چند سوالات کے جواب میں ہمیں اپنی کہانی کچھ اس طرح شروع او ر مکمل کی ۔
ہلال: کچھ اپنے بارے میں بتائیں اور یہ بھی ہلال کے قارئین سے شیئر کریں کہ آپ زخمی کیسے ہوئے تھے ؟
سپاہی نوید: میرا تعلق انجینئر بٹالین سے ہے اور میرا اصل کام راستہ کلیئر کرنا ہوتا ہے ۔ تاکہ موو کرنے والے ٹروپس کو کوئی نقصان نہ پہنچے ۔ یہ 22 مئی 2011 ء کا واقعہ ہے۔ مہمند ایجنسی میں دہشت گردوں نے وہاں اپنا تسلط قائم کر رکھا تھا جنہیں فوج او ر قوم نے باہم مل کر اس علاقے سے نکال باہر کیا۔ دہشت گردوں نے وہاں اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے راستوں کے اردگرد بارودی سرنگیں بچھا رکھی تھیں۔ جس کا مقصد وہاں سے گزرنے والے فوجی قافلے کو جانی نقصان پہنچانا تھا۔ ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے ہم اپنے صوبیدار صاحب کے ساتھ اس علاقے کو کلیئر کرنے کے مشن پرتھے ہم نے وہ ساری جگہ مبینہ دہشت گردی کے پیش نظر کلیئرکی اور واپس اپنے خیموں میں آ گئے۔ علاقے کو کلیئر کرنے کے بعد جب ہم اپنے خیمے میں واپس آئے تو میرے دماغ میں اس وقت بھی دہشت گردوں کے مذموم مقاصد کے خیالات منڈلا رہے تھے۔ میرا یہ اضطراب بڑھ رہا تھا اور اس رات مجھے کسی بھی پہر سکون نہیں ملا۔ آخر کار میں نے فیصلہ کیا کہ اپنے ساتھیوں کے جاگنے سے پہلے اس جگہ کا از خود تسلی بخش جائزہ لے آؤں۔ ابھی سحر پھوٹنے کے آثار نمودار ہی ہوئے تھے کہ میں نے وہاں جانے کا ارادہ کیا۔ میں جیسے ہی وہاں داخل ہوا تو میرا پاؤں ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا کیونکہ دہشت گردوں نے رات کے پچھلے پہر موقع پا کر وہاں دوبارہ بارودی سرنگ بچھا دی تھی۔ بارودی سرنگ کے پھٹنے سے میں شدید زخمی ہو کر بے ہوش ہو گیا۔ ہوش آنے پر مجھے معلوم ہوا کہ میرا ایک پاؤں ضائع ہو گیا ہے۔ مگر میرے پاؤں کی محرومی میرے خدشات کے درست ہونے کی دلیل تھی کہ دہشت گرد کوئی بھی موقع ہاتھ سے خالی نہیں جانے دیتے۔ تاہم میری اس قربانی سے بعد میں آنے والے فوجی قافلے محفوظ ہو گئے۔
ہلال: آپ AFIRMکب اور کیسے آئے؟
سپاہی نوید: اس حادثے کے بعد کچھ عرصہ میں CMHکراچی رہا کیونکہ میری یونٹ بھی وہاں پر تھی مگر میری چوٹ چونکہ بہت گہری تھی اور مطلوبہ علاج سے تسلی بخش نتائج نہیں مل رہے تھے۔ آخر کار وہاں کے ڈاکٹروں کے متفقہ مشورے سے یہ طے پایا کہ مجھے AFIRM راولپنڈی منتقل کیا جائے۔ ڈاکٹروں نے مجھے اس بات کی امید دلائی کہ یہ ادارہ میری زندگی کی رونق کو دوبارہ بحال کرے گا اور مجھے محروم پاؤں کی جگہ مصنوعی اعضاء کی فراہمی سے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرے گا۔
ہلال: آپ کا علاج تسلی بخش ہو رہا ہے؟
سپاہی نوید: جی بالکل تسلی بخش ہو رہا ہے ۔جب میں یہاں آیا تھا تو میرے پاؤں کا زخم بہت گہرا تھا ۔پھر یہاں کے ڈاکٹر وں نے جب میرے زخم کو پھیلتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے میرے والد سے اجازت لے کر میرا پاؤں کاٹ دیا۔جب میں نے اپنے پاؤں کی طرف دیکھا تو میں بہت رویا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں سار ی زندگی چل نہیں سکوں گااور معذورہی رہوں گا۔مگر جب ڈاکٹروں نے بتایا کہ کچھ عرصے کے بعد ہم آپ کو پاؤں لگا دیں گے تومیں بہت خو ش ہوا۔
ہلال: اپنے روز کے معمولات کے بارے میں کچھ بتائیں؟
سپاہی نوید: صبح ڈاکٹر صاحب آتے ہیں میرا حال احوال پوچھتے ہیں پھر مجھے ورزش کے لئے لے جاتے ہیں ۔ میں ورزش کلب میں جا کر دوسرے لوگوں کے ساتھ ورزش کرتا ہوں۔پھر مجھے چلنے کی ورزش کرائی جاتی ہے ۔ تاکہ جب مجھے مصنوعی پاؤں لگے تو چلنے میں آسانی رہے ۔آج میں زندگی سے مایوس نہیں ہوں۔ زندگی بہتر سے بہتر ہو رہی ہے ۔
ہلال: AFIRM کو ایک ادارے کے طور پرآپ نے کیسا پایا؟
سپاہی نوید: میں نے علاج کے ساتھ ساتھ یہاں پر ہنر بھی سیکھا ہے ۔کمپیوٹر ٹریننگ بھی حاصل کی ہے کپڑوں پرEmbroidery کا کام بھی سیکھا ہے۔ اس ادارے میں ووکیشنل ٹریننگ سنٹر کی بدولت ہم وقت ضائع کئے بغیر ہنر سیکھتے ہیں اور ہماری توجہ زخموں سے ہٹ کر ہنر کی طرف ہوجاتی ہے جس سے کافی فائدہ ہوا ہے۔ 
ہلال: ٹھیک ہونے کے بعد آپ کیا کرنا چاہیں گے؟
سپاہی نوید: ٹھیک ہونے کے بعد میں اپنی یونٹ میں واپس کراچی جاؤں گا۔ اگرچہ میرا پاؤں مصنوعی ہے مگر میر ا عزم آج بھی جواں ہے اور مجھے امید ہے کہ میں ایک عام انسان کی طرح زندگی بسر کروں گا ۔میرا سینہ اور میرے بازو آج بھی ہر طرح سے اپنے وطن کی حفاظت کے لئے تیار ہیں ۔میں آج بھی واپس اپنی ڈیوٹی پر جا کر اپنے ملک کی حفاظت کے مقدس فریضے میں اپناحصہ ڈالنے کے لئے تیار ہوں۔ میرا یہ جذبہ بھی ہے اور ایمان بھی ہے۔ جب تک پاکستانی فوج کا ایک سپاہی بھی زندہ و سلامت ہے کوئی بھی دشمن ،دہشت گرد اس وطن کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ ہم نے تو وطن کی حفاظت کا عہد کیا ہوا ہے اور خون کے آخری قطرے تک اس کا دفاع کرتے رہیں گے۔
ہلال: آپ اتنے عرصے سے یہاں زیر علاج ہیں ۔ چیف آف آرمی سٹاف بھی یہاں زخمیوں کی عیادت کرنے اکثر آتے ہیں، انہوں نے آپ سے بھی ملاقات کی؟
سپاہی نوید: ہمیں فخر ہے کہ ہماری اعلیٰ قیادت کو اپنے زخمی افسروں اور جوانوں کا بہت زیادہ خیال ہے۔ بہت سے سینئر افسر ہماری عیادت کے لئے آتے ہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے بھی یہاں زخمیوں کی عیادت کی۔ میرا حال احوال بھی انہوں نے پوچھا۔ جنرل راحیل نے ہماری خیریت کے دریافت کرتے ہوئے یہ امید دلائی کہ’’ تم سب بہت جلد ٹھیک ہوکر اپنی اپنی ڈیوٹی پر جاؤ گے ۔فوج آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گی ۔‘‘اس کے علاوہ میں ذاتی طور پر بھی AFIRM کا بہت شکر گزار ہوں کہ اس نے ہمارا بہت خیال رکھا۔ میرے یہاں قیام کے دوران ایک اور یاد گار لمحہ یوم شہداء میں شرکت کرنا بھی تھا۔ میں نے ایسا خوبصورت شو اپنی 11 سالہ فوجی زندگی میں پہلی بار اس شو کا حصہ بن کر اسے دیکھا اور اپنے بہادروں کے جذبات اور کارناموں کو دیکھا ، سنا اور محسوس بھی کیا۔AFIRM نہ صرف ہماری معذوری ختم کرتا ہے بلکہ حوصلہ دیتا ہے اور زندگی سے لڑنے کی نئی امید بھی جگاتا ہے ۔ انشاء اللہ میں یہاں سے صحت یاب ہوکر پھر سے قدم سے قدم ملانے کے قابل ہوجاؤں گا۔

یہ تحریر 43مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP