متفرقات

میں اور پاکستان

امریکہ کی ایک قدامت پرست ریاست کنیکٹی کٹ (Connecticut) کے ایک مشہور شہر سٹورز(Stores) کے ایک دلآویز ڈیپارٹمنٹل سٹور کے اندر گھومتے ہوئے میری بہو اچانک رک گئی اور بولی: بچیوں کی چھٹی کا وقت ہوگیا ہے۔ سکول یہاں سے پانچ منٹ کی ڈرائیوپر ہے۔ آپ ونڈو شاپنگ کریں۔ تھک جائیں تو سامنے لکڑی کے بنچ پر بیٹھ جائیں۔ میں بچیوں کو لے کر یہاں آجاؤں گی۔ ونڈو شاپنگ میرے لئے تضیعِ اوقات ہے۔ شیشے کے شوکیسوں میں لٹکی ہوئی بنی سنوری خواہشات نے کبھی میری توجہ کو کاش کی سولی پرنہیں چڑھایا۔ میں دھیرے دھیرے چلتی ہوئی سامنے والے لکڑی کے بنچ پر جا کر بیٹھ گئی۔ مجھے چیزوں سے زیادہ اﷲ کی مخلوق کو دیکھنے میں لطف آتا ہے۔ گوشت پوست کے کھلونے۔۔۔ ایجادات کی منڈی میں‘ اضطراب کا کاسہ تھامے۔۔۔ رواں دواں۔۔۔ بھاگتے دوڑتے ہوئے۔۔۔ عورتیں‘ مرد‘ بچے‘ بوڑھے۔۔۔ کیا دلربا نظارہ ہے؟ تھوڑی دیر بعد ساڑھی میں ملبوس تقریباً میری ہی عمرکی عورت آکر اس بنچ پر بیٹھ گئی۔ اس نے مجھے ہیلو کہا اور پھر سرسے پاؤں تک مجھے دیکھا۔ میں پاکستانی لباس میں ملبوس تھی۔ (شلوار قمیض اور دوپٹہ) اردو میں بولی: ’’آپ بھارت سے ہیں؟‘‘ میں نے فوراً کہا’’ نہیں۔ میں پاکستان سے ہوں۔‘‘ بولی۔ ایک ہی بات ہے۔۔۔ میرا مغز گھوم گیا۔ میں نے جلدی جلدی کہنا شروع کیا ایک بات نہیں ہے۔ پاکستان ایک علیحدہ ملک ہے۔ بڑا ملک ہے‘ طاقتور ملک ہے۔ نیوکلیئر پاور ہے۔ اس کا اپنا مذہب ہے۔ اس کی اپنی تاریخ ہے‘ اپنا جغرافیہ ہے۔ فرق سے کیا ہوتا ہے؟ وہ بولی۔ فرق سے دو قومی نظریہ بنتا ہے۔ دو قومی نظریہ سے دو ملک بن جاتے ہیں۔ فرق ہے زبان کا۔۔۔ آداب کا‘ ثقافت کا‘ ایک جیسی سبزیاں اُگتی ہیں مگر اپنے اپنے ذائقے سے پکائی جاتی ہیں۔ ایک جیسی زبان ہے مگر اپنے اپنے محاوراتی کلچر میں گندھی ہوئی ہے۔ ایک جیسے ملبوسات ہیں مگر اپنی اپنی روایات کی کتر بیونت سے تیار ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں مسجدوں سے پانچ وقت اذانیں ابھرتی ہیں۔ آپ کے ہاں مندروں میں گھنٹیاں بجائی جاتی ہیں۔ آپ کے ہاں چھوت چھات ہے۔ ہمارے ہاں سب برابر ہوتے ہیں۔ یورپ کے بہت سے ملکوں میں انگریزی بولی جاتی ہے۔ سکرٹ اور کوٹ پتلون پہنے جاتے ہیں۔ ایک جیسے کھانے کھائے جاتے ہیں۔ پھر بھی وہ علیحدہ اور آزاد مانے جاتے ہیں۔ پاکستان اپنی طرز کا انوکھا اور آزاد ملک ہے۔ شاید آپ کو امریکہ میں بستے ہوئے زمانہ ہوگیا ہے۔ اس لئے آپ کو پتہ نہیں چلا کہ پاکستان تو ساری دنیا سے اپنی اہمیت تسلیم بھی کروا چکا ہے۔ یہ بات اپنے ملک کے لوگوں سے بھی پوچھ کر تسلی کرلیں۔ وہ ہکاّ بکاّ مجھے دیکھ رہی تھی۔ میں فوراً اٹھ کر اپنی بہو کی طرف لپکی جو سامنے سے آرہی تھی۔ کیا ہوا؟ وہ میرا لا ل بھبھوکا چہرہ دیکھ کر بولی ابھی تو کچھ نہیں ہوا لیکن اگر وہ عورت ایک لفظ بھی اور کہتی تو میں سارا امریکہ اٹھاکے اس کے سر پر دے مارتی۔۔۔! واہگہ بارڈر سے چلتے چلتے میں پورے وفد کے ساتھ اٹاری پہنچ گئی۔ گھاس پہ لگی پلاسٹک کی کرسیوں پہ ہمیں بٹھا دیا گیا۔ سردار جی آئے۔ ہر نام کے بعد بولے۔۔۔ ایک جیسا ہے نا ادھر ادھر کا ماحول؟ کوئی فرق نہیں ہے نا؟ پھر ان خار دار تاروں کا کیا فائدہ۔۔۔ وفد کے سارے لوگ بت بن گئے۔ میں کھڑی ہوگئی۔ ’’ بہت فرق ہے سردار جی۔ واہگہ کی ہوا میں ٹھنڈک‘ مٹھاس‘ خوشبو‘ شانتی‘ آس‘ ممتا‘ محبت‘ اپنا پن اور دوام ہے۔ آپ کی ہوا تو آتے ہی چبھنے لگی ہے۔ لو دے رہی ہے۔ یہ خار دار تاریں ہیں بیچ میں تو ہم دوستی نبھا رہے ہیں۔ ورنہ ملنے کی ضرورت بھی نہ سمجھتے۔۔۔‘‘ لدھیانہ میں انٹر نیشنل مشاعرہ ختم ہوا تو میزبان بولے: قومی اخبار کے دفتر میں کچھ اخبارنویس آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ ایک مکالمہ ہوگا۔ چلئے۔۔۔ ہم نے کہا۔۔۔ وہاں ایک لمبے بالوں والا مسلمان صحافی چہرے پہ رقت طاری کرکے بولا۔۔۔ یہ جو سانحہ 1947 میں گزرا ۔۔۔ یہ ہمارے بزرگوں کی غلطی کی وجہ سے ہوا۔۔۔ کیا فرمایا؟‘‘ میں نے فقرہ اچک لیا۔ غلطی آپ کے بزرگوں سے ہوئی ہوگی۔ بزرگوں کو مطعون کرنے کی رسم آپ کے سماج میں ہوگی کیونکہ اندرا گاندھی نے بھی اس بات کے لئے اکثر کہا کہ میں اپنے پتا جی کو کبھی معاف نہ کروں گی۔مگر ہم اپنے بزرگوں کے احسان مند ہیں۔ انہوں نے پاکستان بنا کے ہمیں اپنے خوابوں کی تعبیر دے دی۔ ہماری آنے والی نسلوں کو تقدیر دے دی۔۔۔ ہمارے رت جگوں کو تفسیر دے دی اور ہمارے حواسوں کو جاگیر دے دی۔ ہمیں دنیا میں سربلند کردیا۔ ارجمند کردیا۔ ہمیں زندہ رہنے کا سلیقہ سکھا دیا۔ فخر و آگہی کا راستہ دکھادیا۔ ہمیں اپنی شناخت عطا کی‘ قومی حمیت عطا کی‘ آرزو کی سربلندی عطا کی۔۔۔ جب ہمارے بابائے قوم قائدِاعظم محمدعلی جناحؒ کا نام لیا جاتا ہے۔ ہم احتراماً کھڑے ہو جاتے ہیں۔ صدیوں کی غلامی سے اپنوں نے ہمیں آزاد کرایا۔ جب ہمارا قومی ترانہ بجتا ہے ہم سرنگوں ہوجاتے ہیں سایۂ خدائے ذوالجلال کے حضور۔۔۔ تمہارے دلوں سے تعصب کی کسک جاتی کیوں نہیں۔۔۔ ہمیں مہمان بنا کر اپنے خُبثِ باطن کا اظہار کرتے ہو۔ ایک ہی بات کی تکرار کرتے ہو۔ کبھی ذہنوں پر ہتھوڑے برساتے ہو‘ کبھی سرحدوں پر بے گناہوں کا لہو بہاتے ہو۔کبھی دوستی کا مذاق اڑاتے ہو۔ کبھی اعتماد باہم کی دھجیاں بکھیرد یتے ہو۔ یاد رکھنا: ہر پاکستانی کے اندر پاکستان پیدا ہو جاتا ہے۔ ہر پاکستانی اپنے دل میں پاکستان لئے پھرتا ہے۔ ہر پاکستانی‘ پاکستان کے لئے کٹ مرنے کو تیار رہتا ہے۔ ہم پاکستان کی ساری مائیں۔۔۔ سرحدوں کی بنیادوں میں اپنا دودھ اور اپنا لہو ڈال کے اسے سیسہ پلائی فصیل بناتی رہتی ہیں۔ لہو اور دودھ۔۔۔؟ ہاں یہ خاکی وردیوں والے ماؤں کا لہو اور دودھ ہوتے ہیں۔ پوتر چاند کی طرح دودھیا! ہمارے ہاتھوں کے پالے‘ برکتوں والے‘ زمانے سے نرالے‘ رحمتوں والے۔۔۔ سرحدیں ہاتھ اٹھا اٹھا کر انہیں دعائیں دیتی رہتی ہیں۔ سارا جہاں ان کے ساتھ قدم ملا کے چلتا ہے۔ موسم ان کے تیور دیکھ کر اپنا چولا بدلتا ہے۔۔۔ میں اور پاکستان ان کی محافظت میں بیٹھے ہیں۔ میں اور پاکستان۔۔۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہیں۔ دیں گے!!
ہم پاکستان کی ساری مائیں۔۔۔ سرحدوں کی بنیادوں میں اپنا دودھ اور اپنا لہو ڈال کے اسے سیسہ پلائی فصیل بناتی رہتی ہیں۔ لہو اور دودھ۔۔۔؟ ہاں یہ خاکی وردیوں والے ماؤں کا لہو اور دودھ ہوتے ہیں۔ پوتر چاند کی طرح دودھیا! ہمارے ہاتھوں کے پالے‘ برکتوں والے‘ زمانے سے نرالے‘ رحمتوں والے۔ سرحدیں ہاتھ اٹھا اٹھا کر انہیں دعائیں دیتی رہتی ہیں۔ سارا جہاں ان کے ساتھ قدم ملا کے چلتا ہے۔ موسم ان کے تیور دیکھ کر اپنا چولا بدلتا ہے۔ میں اور پاکستان ان کی محافظت میں بیٹھے ہیں۔ میں اور پاکستان۔اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہیں۔دیں گے

یہ تحریر 37مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP