عید کے رنگ

میٹھی عید کی میٹھی خوشیاں

 تہوارکسی بھی قوم کی پہچان ہوا کرتے ہیںاور ہر قوم اپنے تہوار اپنے مذہبی عقیدے اورطورطریقوں سے مناتی ہے جس سے اُن کی ثقافت کا رنگ جھلکتا ہے۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہونے کے ناتے ایک جُداگانہ ثقافتی رنگوں میں ڈوبا نظر آتا ہے۔ جہاں ہمارے ملک کے مختلف رنگ نظر آتے ہیں وہیں ماہِ رمضان کے آتے ہی معاشرہ ایک پُرفضا اور مقدس ماحول میں ڈھلنے لگتا ہے، عبادتوں اور سعادتوں سے بھرپور اس مہینے کی برکتوں کو سمیٹتے ہوئے ہر دل آنے والی میٹھی میٹھی خوشیوں کا منتظر ہوتا ہے۔



عید الفطر مسلمان معاشرے کے لئے خداتعالیٰ کا وہ انعام ہے جو اس کو رمضان المبارک کی برکتوں اور حمتوں کے بعد عطا ہوا۔ طاق راتوں کی عبادتوں کا ثمر لیتے ہوئے آخر کار مسلمان اُس رات کو پہنچ جاتے ہیں جس کا ہر بچے بڑے کو بے حد انتظار ہوتا ہے، یعنی 'چاند رات' ۔۔۔ جی ہاں رمضان المبارک کے بعد عید الفطر یعنی میٹھی عید کی خوشی ایک اسلامی معاشرے کا ایک ایسا عنصر ہے جسے صرف ایک اسلامی معاشرہ ہی سمجھ سکتا ہے۔29 ویں روزے کی شام کو چاند دیکھنے کی رسم سے لے کر صبح نمازِ عید تک ہمارا یہ تہوار رنگارنگ خوشیوں سے بھرپور ہے۔ چاند رات کو بازاروں کا رُخ کریں تو لاکھوںکی تعداد میں لوگ خریداری میں مگن نظر آتے ہیں۔ عید کی شاپنگ اگر چاند رات کو نہ کی جائے تو گویا آپ نے شاپنگ کی ہی نہیں۔ روشنیوں سے جگمگاتی دکانیں، چوڑیوں سے سجے سٹال، مہندی لگوانے کے لئے لڑکیوں کی لمبی قطاریں، جوتوں اور گارمنٹس کی خریداری کرنے والوں کا تانتا بندھا ہونا، یہ وہ رونقیں ہیں جو صرف چاند رات کو ہی دیکھنے کوملتی ہیں۔ ماں باپ چھوٹے چھوٹے بچوں کو لئے بازاروں، گلی کوچوں کی رونقیں دکھاتے نظر آتے ہیں۔ رنگا رنگ چوڑیوں اور مہندی سے سجے سٹال کئی دہائیوں سے ہماری ثقافت کا حصہ ہیں ۔
عید آئی ہے زمانے میں
میری سہیلی گر گئی غسل خانے میں
اور
چاول چُنتے چُنتے نیند آگئی
صبح اُٹھ کر دیکھا تو عید آگئی
یہ دوشعر آج بھی پڑھ کر چہرے پر وہی مسکراہٹ کھِل اٹھتی ہے جو برسوںپہلے دوستوں کے عید کارڈ کو دیکھ کر آتی تھی۔ چاندرات پر بازاروں میں بہترین سے بہترین کارڈ کی تلاش میں ہر سٹال کو ٹٹولنا اور پھر اپنی سہیلیوں کے لئے محبت بھرے جملے لکھ کر کارڈ کو سجانا، یہ تمام یادیں ماضی بعید کا حصہ ضرور ہیں لیکن حسین لمحات کی یادیںدلوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ عید کارڈ بنانا خریدنا اور لکھنا بچوںاور بڑوں سب میں بے حد مقبول اور ایک روائتی انداز ہے جوکہ دورِ جدید میں موبائل فون کی مرہونِ منت میسجز اور واٹس ایپ میں تبدیل ہوگیاہے۔اب لوگ عیدکارڈ نہیں بلکہ واٹس ایپ پر Greetingدیا کرتے ہیں۔مٹھائی کے ٹوکرے اور پھیونیاں لے کر رشتہ داروں کے گھر لے جانے کی روایت آج بھی قائم ہے۔ گھر کے بزرگوں سے عیدی وصول کرنے کا لطف وہی جان سکتے ہیں جن کے گھر اس نعمت سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ سارا سال عید الفطر کا انتظار کرنا اور پھر عید کے دن سب سے عیدی لینے کا اپنا ہی مزہ ہے اور صرف مزہ ہی نہیں بلکہ اس عیدی کو سنبھال کر رکھنا اور' سب سے زیادہ عیدی کس کی ہوئی' ؟ یہ روایت بھی ہمیشہ سے قائم ہے کیونکہ عیدین کے تہوار خالص مذہبی اورروائتی ہیںاور ان کواسی انداز میں منانے کا لطف آتا ہے۔ چاند رات میں حلوائیوں کی دکان پر لگاہجوم، گلی محلوں میں 'چاند نظر آگیا' کی صدائیں اور لڑکیوں کا مہندی لگوانے جانا، ہماری خوشیوں خصوصاً عید کی خوشیوں کا وہ پہلو ہے جسے مغربی معاشرہ نہ صرف سراہتا ہے بلکہ تائیدکرتا نظر آتا ہے۔ بیرونِ ملک موجود مسلمانوں کی عید کی تیاریوں میںصرف مسلمان کمیونٹی ہی نہیںبلکہ غیر مسلم بھی انتہائی شوق کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ رنگوں سے بھر پور تہوار کس کو اچھا نہیں لگتا اور خوشیوں بھرے لمحات کون گنوانا چاہتا ہے۔ عیدکی صبح نماز کی ادئیگی کے بعد گھر کے بڑوں سے پیار اور عیدی لینے کی رسم اور خواتین کاعید کو شِیرخرمے کی مٹھاس سے میٹھا کرنے کی روایت میٹھی عید کا خاص حصہ ہے جس کا بچے تو بچے ، بڑوں کو بھی انتظار ہوتا ہے۔ بیرونِ ملک رشتہ داروں کو ٹیلی فون کرنے سے لے کر تحفے تحائف بھیجنے تک کا کلچر وہ نمایاں اور رنگین پہلو ہیں جس سے پیار و محبت اور ملنساری کا اظہارہوتا ہے۔ گو کہ آج کل یہ ٹیلیفونک رابطہ سکائپ میں تبدیل ہوگیا ہے جس سے مزید یہ آسانی ہوگئی کہ اب لوگ صرف مبارک باد نہیں دیتے بلکہ ہر لمحے کو سکائپ کے ذریعے شیئر کرتے ہیں۔ یہ وہ تہوار ہے جس پر مسلمان مذہبی عقیدت اور جوش و جذبے سے لبریز نظر آتے ہیں اور ایک دوسرے کی خوشیوںمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ تمام اختلافات اور تفرقات کو بھلا کر اہلِ ایمان عیدین کے تہوار پر خوشیوں بھرے انداز میں ایک پلیٹ فارم پرکھڑے خوشیوں کا استقبال کرتے ہیں، باہم گلے ملتے ہیں اور آپس میںمصافحہ کرکے اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے دلوں سے تمام کدورتوں اور نفرتوں کو جھٹک دیا ہے اور آج اس اہم دن کے موقع پرہم ایک دوسرے سے اظہارِ محبت کرکے اپنے اپنے دامن میںرحمتیں ،برکتیں اور دعائیں سمیٹ رہے ہیں ۔
جہاں پورا ملک اپنوں کے ساتھ عید کی رنگا رنگ خوشیوں میںڈوبا ہوا نظر آتا ہے وہیں ملک کی سرحدوں پر کھڑے جوان ملک و قوم کی سلامتی اور بقاء کی خاطر وطنِ عزیز کی رکھوالی کے لئے ڈیوٹی پر مامور نظر آتے ہیں۔ ہم اپنی خوشیوں میںان سپوتوں کو کیسے بھول سکتے ہیں جو اپنی خوشیاں ترک کرکے اس دھرتی کی ناموس اور ہم جیسے شہریوں کی حفاظت کے لئے ہمہ وقت چوکس رہتے ہیں۔ان کی مائوں بہنوں کو بھی ان کا ویسا ہی انتظار ہوتا ہے جیسے ایک عام انسان کی۔۔۔ لیکن جب فرض سب سے بڑھ کر ہو جائے اور وردی کی محبت اپنوں کی محبت پر غالب آجائے تو پھر یہ دل مضبوط ہو جایاکرتے ہیں اور تمام محبتیں ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔ ایک غیور قوم کی غیور افواج کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ وطن سے بڑھ کر کسی کو عزیزتر نہیں جانتیںاسی لئے ہم کہتے ہیں کہ خدا اس ارضِ پاک کو ایسے ہی جوانوں اور دلیروں سے قائم و دائم رکھے۔ ان کی مائیں ہماری مائیں، ان کے باپ ہمارے باپ اور اُن کی بہنیں ہماری بہنیں ہیں۔ہماری خوشیاں ہمارا غم، ہماری افواج کے ساتھ ہے کیونکہ یہی ہماری شان ہیں، یہی ہماری پہچان ہیں۔
خداتعالیٰ سے دُعا ہے کہ ہمارا یہ چمن انہی رنگا رنگ تہواروں اور خوشیوں سے سجتا رہے اور اس وطن کے مکین ایک گلدستے کی مانند آپس میں جڑے رہیں۔
تمام اہلِ وطن کو خوشیوں بھری میٹھی عیدمبارک ہو!!
 

یہ تحریر 71مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP